رضاءالجبار:اسکاربرو،کینیڈا

ڈاکٹر مہوش نور

پیدائش: 10مارچ1937

رضاء الجبار کا وطن حیدرآباد، دکن ہے اور وہ 10مارچ1937 میں پیداہوئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے 1960 میں ایم کام کیا۔ 1965میں بمبئی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔ 1974میں چار ٹرڈ اکاؤٹینسی کا امتحان پاس کیا۔ 1981 تک حکومت ہند کی شِپ  بلڈنگ کمپنی میں اکاؤنٹس آفیسر رہے۔

 لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ بمبئی کے برہانی کالج آف کامرس میں جزوقتی پروفیسر بھی رہے۔ 1981 کے اواخر میں کینیڈا چلے آئے۔ آج کل چارٹرڈ اکاؤنٹینسی کی اپنی کمپنی چلارہے ہیں۔ انکی ادبی زندگی کا آغاز 1954 سے ہوا۔ پہلی کہانی “لڑکیوں کا وارڈ” تھی جسے ایوارڈ ملا اس وقت ان کی عمر 17سال تھی۔

 اس ایوارڈ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور اس کے بعد ان کی تحریریں مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہونے لگیں۔ ان کی تخلیقات کو اکرام بریلوی، ظ انصاری اور کرشن چندر نے کافی پذیرائی کی ہے۔ جبار صاحب ایک کامیاب چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ ہیں۔ کامیاب افسانہ نگار ہیں۔

 ایک کامیاب انسان ہیں اور یہ سب کچھ انہیں ان کی ہمت اورمحنت سے ملی ہے۔ بچپن میں انھیں پولیوجیسا موذی مرض لگا اور ان کی ٹانگیں اتنی کمزور ہوگئیں کہ ان کے بدن کا بوجھ اٹھانے کے لائق نہیں رہیں پھر بھی جبار صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ اور ہاتھوں کی طاقت سے پیڈل چلانے والی تین پہیوں کی سائیکل کے سہارے زندگی گزارنے کا عزم کیا اور تعلیم جاری رکھی اور اسی سائیکل کا سہارا لے کر اعلیٰ تعلیم کی اس منزل تک پہنچے جہاں روشنی انسان کے آگے آگے چلتی ہے۔

 اس طرح ان کی ہمت وحوصلہ کو دیکھ کر ہونٹوں سے بے اختیار یہ الفاظ نکلتاہے کہ وہ عزم وہمت کے کوہسار ہیں۔ ان کی تخلیقات میں معذور لوگوں کے حالات وجذبات، ان کی سوچ وفکر کو جس انداز میں بیان کیاگیاہے وہ بہت حقیقت پسندانہ ہے۔ وہ اس درد کی کسک کو دیکھتے بھی ہیں، محسوس بھی کرتے ہیں۔ درد کی کسک کو دیکھنا صرف اسی کو آتاہے جو اس درد سے گزراہو۔ ان کی تصنیفات حسب ذیل ہیں۔

“روشنی کی کرن”افسانے 1971، “نئی دھڑکن”، “چاند کی کشتی کا اکیلا مسافر”، “نوہیرے بچوں کے لیے”(تالیف ) ہے، “رنگ برنگے پھول”(شمالی امریکہ میں آنے والے شاعروں کے کلام کا انتخاب) “روشنی کی کرن” پر حکومت مہاراشٹرا نے انعام دیاہے۔ “نئی دھڑکن” پر آندھرا پردیش اردو اکادمی نے بھی ایوارڈ سے نوازاہے۔ “چاند کی کشتی کا اکیلا مسافر” اس مجموعے کی ایک کہانی پر خالد سہیل نے تبصرہ کیاہے۔

Leave a Reply