ادبی دنیا کی سرگرمیاں سرگرمیاں

’دکنی شاعری کی جمالیات

شعبۂ اُردو جامعہ عثمانیہ کے زیر اہتمام

تیسرا بلقیس بیگم وقف توسیعی خطبہ بعنوان ’’دکنی شاعری کی جمالیات‘‘ کا کامیاب انعقاد

حیدرآباد۔22 اکتوبر(پریس نوٹ) شعبۂ اُردو ‘ جامعہ عثمانیہ کے زیر اہتمام تیسرا بلقیس بیگم وقف توسیعی خطبہ بعنوان’’ دکنی شاعری کی جمالیات‘‘بتاریخ 20؍ اکتوبر، 2022ء بمقام مانسیئر ارنسٹ جاسپر ’ای کلاس روم، آرٹس کالج میںمنعقد ہوا ۔اس توسیعی لکچر میں مہمان خصوصی پروفیسر ڈی رویندر، وائس چانسلر جامعہ عثمانیہ‘مہمانِ اعزازی ڈاکٹر ساجد علی صاحب، فرزند بلقیس بیگم‘خطیب پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین‘جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے۔این۔یو) نئی دہلی ،مہمان ذی وقار پروفیسر ایس اے شکور، سابق صدر شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ‘ کنوینر س ڈاکٹر انجم النساء (زیباؔ) ،ڈاکٹر محمدمشتاق احمد، اساتذۂ شعبہ اُردو جامعہ عثمانیہ و دیگر اسٹاف شامل تھے۔اس موقع پر طلباء و طالبات‘ریسرچ اسکالرس و دیگر سامعین کی کثیر تعداد موجود تھیں۔اجلاس کی شروعات میں ڈاکٹر زیبا انجم نے بلقیس بیگم کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہاارسطو یار جنگ کی چھوٹی دختر بلقیس بیگم ڈگری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ہمیشہ ہی طلباء و خواتین کو خودمکتفی بنانے کے لیے کوشاں رہیںاور بعد ازاں اپنے شوہر جناب عابد علی ،سابق پرنسپل کالج آ ف انجینئرنگ ‘جامعہ عثمانیہ کے ساتھ امریکہ منتقل ہوگئی۔آپ کے لواحقین جن میںقابلِ ذکر ڈاکٹر ساجد علی، ایم ڈی۔ (یو۔ایس۔اے) نے شعبہ ء اُردو‘جامعہ عثمانیہ کی میرٹ طالبات میں ہر سال اسکالر شب کی تقسیم عمل میں لانے اور توسیعی خطبہ منعقد کرنے کے لئے ایک خطیر رقم اعانت کی۔اس لکچر میں مہمان ذی وقار جناب پروفیسر ایس اے شکور نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس بیگم کے خاندان نے علمی وادبی خدمات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اس لکچر کے خطیب جناب خواجہ محمد اکرام الدین نے ’’دکنی شاعری کی جمالیات‘‘ کے تناظر میں شمال وجنوب کی شاعری میں دکنی پس منظر کو پیش کیا ۔پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کے پُر مغز و معلوماتی لکچر سے سامعین کافی محظوظ ہوئے۔ ڈاکٹر مشتاق احمد نے تمام مہمانان، شرکائے محفل اور سامعین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے محفل کی برخاستگی کا اعلان کیا۔