ادبی دنیا کی سرگرمیاں سرگرمیاں

“رسم اجرا “تعمیر بقا

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام نیرنگ سرحدی کے کلیات’تعمیر بقا‘ کا اجرا عمل میں آیا

نند لال نیرنگ سرحدی کی شاعری میں ہندوستان کی روح پوشیدہ ہے لہٰذا اس کو منظر عام پر لانا یقینا ایک اہم کام ہے: پروفیسر خواجہ اکرام

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام اور ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جے این یو کے اشتراک سے ڈاکٹر تقی عابدی کی مرتبہ کتاب ’تعمیر بقا‘ کا اجرا عمل میں آیا۔ ساتھ ہی اردو کے شاعر و ادیب ’نند لال نیرنگ سرحدی‘ کوان کی خدمات کے اعتراف میں ’’محب اردو‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا جسے ان کے صاحب زادے نریش نارنگ نے حاصل کیا۔ نیرنگ سرحدی اردو کے بہترین شاعر گزرے ہیں لیکن ایک زمانے تک ان کی شاعری گمنامی کے پردے میں رہی جسے تقی عابدی نے تلاش و تحقیق کے بعد بہت ہی اہتمام سے بیک وقت اردو اور ہندی میں شائع کیا۔ واضح رہے کہ اس کتاب کی تدوین و ترتیب میں تقی عابدی نے بہت ہی جاں فشانی سے کام کیا ہے۔

پروگرام کے آغاز میں ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے تمام مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے نیرنگ سرحدی کی خدمات پر مختصر روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی نریش نارنگ کی اردو دوستی کو سراہا۔ ڈاکٹر تقی عابدی نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ تعمیر بقا کوئی ایک مخطوطہ نہیں ہے بلکہ سات پرانی بیاضوں کا مجموعہ ہے۔ نیرنگ سرحدی کے اہل خانہ جب ہندوستان سے کنیڈا گئے تو اپنے ساتھ ساتھ ان بیاضوں کو لے کر گئے اور پینتالیس سال اپنے پاس محفوظ رکھا۔ اس کتاب میں دو درجن سے زائد مضامین نیرنگ سرحدی کی شاعری کے حوالے سے موجود ہیں۔ نیز اس ضخیم کلیات میں سوا تین ہزار اشعار ہیں۔

نریش نارنگ نے اپنے والد نیرنگ سرحدی کے عادات و اطوار اور اخلاق و کردار پر مختصر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ اپنے بچوں سے زیادہ نیرنگ سرحدی کو اردو سے محبت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی خدمت میں انھوںنے اپنی زندگی گزار دی۔ ایڈووکیٹ خلیل الرحمن نے ’تعمیر بقا‘ اور نیرنگ سرحدی کے حوالے سے گفتگو کی اور کہا کہ تقی عابدی جس طرح میڈیکل سائنس میں باریک نظر رکھتے ہیں اسی طرح ادب میں بھی ان کی نظر گہری ہے۔ محترمہ نیہا ٹھاکر داس نے کنیڈا سے آن لائن گفتگو کی۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر اطہر فاروقی ، ایڈووکیٹ ناصر عزیز اور محترمہ سنیتا نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیے۔ اس پروگرام میں کثیر تعداد میں اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی اور انتہائی کامیابی کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔