ادبی دنیا کی سرگرمیاں سرگرمیاں

فراق کی شخصیت اور شاعری پر توسیعی خطاب

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام فراق کی شخصیت اور شاعری پر توسیعی خطاب

فراق گورکھپوری ہندوستانی تہذیب اور جمالیات کا شاعر ہے ان پر کام کرنا وقت کی اہم ضرورت: پروفیسر مظہر آصف

فراق ارضیت کے ساتھ ساتھ آفاقیت کا شاعر ہے: ڈاکٹر تقی عابدی

پریس ریلیز، نئی دہلی

ورلڈ اردو ایسوسی ایشن با اشتراک ہندستانی زبانوں کا مرکز، اسکول آف لینگویجز، جواہرلال نہرو یونیورسٹی نئی دہلی میں ڈاکٹر سید تقی عابدی کے اعزاز میں ایک پرگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں ان کی تین کتابوں کا اجرا عمل میں آیا۔ ساتھ ہی ساتھ فراق کی شخصیت اور شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر تقی عابدی کا توسیعی خطاب بھی ہوا۔ پروگرام کے افتتاح میں پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے ڈاکٹر سید تقی عابدی کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر تقی عابدی پیشے کے اعتبار سے ایک ماہر ڈاکٹر ہیں لیکن اس کے باوجود تحقیق و تنقید کے حوالے سے ان کا بہت اہم کام ہے۔ انھوں نے غالب، فیض، حالی، انیس اور فراق کے علاوہ کئی مشاہیر ادب کی حیات و خدمات کے حوالے سے بہت اہم کام کیا ہے اور ان کی کلیات کو تحقیق و تدوین کے بعد شائع کیا۔ اسکول آف لینگویجز کے ڈین پروفیسر مظہر آصف کی خصوصی اجازت اور تعاون سے اس پروگرام کا انعقاد کمیٹی روم میں کیا گیا۔ انھوں نے اپنی مختصر گفتگو کے دوران مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنے خوب صورت کلمات سے سامعین کو محظوظ کیا۔

 ڈاکٹر سید تقی عابدی چوں کہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اس لیے انھوں نے ابتدا میں ضمنی طور پر کورونا کے مسائل اور احتیاطی تدابیر پر گفتگو کی۔ اس کے بعد ’فراق گورکھپوری شخصیت اور شاعری‘ کے موضوع پر بہت ہی معلوماتی تقریر کی اور فراق کو آفاقی شاعر بتایا۔ انھوں نے اس کی وضاحت کی کہ فراق نے پہلے روایتی غزل، پھر ترقی پسند غزل، پھر جدید غزل اور اس کے بعد مابعد جدید غزل کہی؛ گویا فراق کے یہاں تمام رجحانات شیر و شکر ہیں۔ کلیات فراق گورکھپوری کامل فراق فہمی کے باب میں بہت اہم کارنامہ ہے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ فراق گورکھپوری کی خانگی زندگی بہت پُر سکون نہیں تھی باوجود اس کے فراق نے اردو کی بہت خدمات انجام دیں۔ لہٰذا ان کے بند گوشوں پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اس پروگرام میں صدارت کے فرائض پروفیسر انور پاشا نے انجام دیے۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ تقی عابدی پوری دنیا میں علم کی روشنی بانٹتے ہیں اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں کوشاں رہتے ہیں۔  ایڈووکیٹ خلیل الرحمن نے فراق کی شخصیت اور شاعری پر مختصر اور بہت جامع گفتگو کی۔ ساتھ ہی ڈاکٹر تقی عابدی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد محض ادبی وراثت کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہے۔ انجمن ترقی اردو کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کلیات فراق کی ترتیب و تدوین پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور اس کام کو فراق فہمی کے باب میں سنگ میل قرار دیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ ناصر عزیز نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر خان مسعود سابق وائس چانسلر خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی لکھنؤ، ڈاکٹر شفیع ایوب، ڈاکٹر سمیع الرحمن، ڈاکٹر لیاقت علی، ڈاکٹر احمد علی جوہر، جلیل اقبال خاکی، مشتاق صدیقی، شہباز رضاکے علاوہ بہت سے اساتذہ اور ریسرچ اسکالروں نے شرکت کی۔ واضح رہے کہ پروگرام میں کورونا پروٹوکول کی پابندی بھی کی گئی۔