افسانہ

حق دار کون؟

حق دار کون؟

ڈاکٹر انیس رشید خان،

ڈاکٹر شازیہ خان، ماہر نفسیات ، کے نام کی تختی باہر لگی ہوئی تھی ۔ ہم دونوں نے شوز باہر ہی اُتاردیئے اور کلینک کے شیشہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے ۔ اندر کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے مسکراکر گویا  ہمارا استقبال کیا تھا۔  وہاں اور کوئی نہیں تھا۔  میں ایک جانب صوفے پر بیٹھ گیا اور ابو کاؤنٹر پر جاکر اُس لڑکی کو ہمارے اپوائنٹمنٹ ٹائم کے بارے میں بتانے لگے۔  لڑکی نے ابو کو پانچ منٹ انتظار کرنے کیلئے کہا تھا ۔ ابو میرے بغل میں بیٹھ گئے اور سامنے رکھا ہوا اخبار اُٹھا کر دیکھنے لگے۔  تقریباً دس منٹ بعد میڈم کے کیبن کادروازہ کھلاتھا اور ایک ادھڑ عمر آدمی اپنی بیوی اور جوان بیٹی کے ہمراہ باہر آئے تھے ۔  اُس لڑکی کے چہرے سے ہی ظاہر ہورہا تھا کہ وہ زبردست نفسیاتی دباؤ میں ہے۔  کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی نے اندر جاکر میڈم کو ہماری اطلاع دی اور باہر آکر ہمیں اندر جانے کیلئے کہا۔

“السلام علیکم ڈاکٹر صاحبہ !۔۔۔ ” کہتے ہوئے ابو اندر داخل ہوئے تھے۔ میں اُن کے پیچھے تھا۔   ڈاکٹر صاحبہ نے نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا تھا۔ وہ سیاہ و سفید بالوں والی کم از کم پچاس سالہ خاتون تھی۔  ابو نے میرا تعارف کروایا اور انہیں بتایا کہ میرے ہی علاج کے سلسلے میں ہم لوگ آئے ہوئے ہیں۔  تعارفی بات چیت ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحبہ نے ابو کو باہر بیٹھنے کیلئے کہا تھا کیونکہ وہ مجھ سے تنہائی میں بات چیت کرنا چاہتی تھی۔  ابو باہر چلے گئے تب میڈم نے مجھے اطمینان سے بیٹھنے کیلئے کہا تھا ۔ اور خود بھی قریب رکھی  ہوئی ایک آرام کرسی پر آکر بیٹھ گئی تھی۔

“دیکھو عمران! سب سے پہلے تو آپ اس بات کا یقین کریں کہ آپ اس وقت بالکل محفوظ ہاتھوں میں ہیں! آپ مجھ پر پورا بھروسہ کرسکتے ہیں۔۔۔ اورتمام باتیں شیئر کرسکتے ہیں۔۔”  ڈاکٹر صاحبہ نے نہایت اپنایت سے کہا تھا۔  اُن کی آواز اور انداز کچھ ایسا تھا کہ اُن پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا۔

“میڈم! ۔۔۔ بنیادی بات یہ ہے کہ مجھے ایسا لگتا ہے جیسے کہ میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ غداری کی ہو ۔۔۔جیسے میں نے اُسے کوئی بہت بڑا دھوکہ دیا ہو ۔۔۔ بس یہی بات مجھے سکون سے نہیں رہنے دیتی ۔۔۔ اور اسی لئے کسی سے  بھی بات کرنے کو نا تو دل چاہتا ہے اور نا ہی کوئی اچھا لگتا ہے کہ اُس سے بات کروں ۔۔۔” میں نےدھیرے دھیرے اپنی بات ختم کی۔  میڈم نے میری باتیں نوٹ کی تھیں،  اور شاید ریکارڈ بھی!  انہوں نے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔ “تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے ؟ ۔۔۔ کیا تم نے واقعی اُسے دھوکہ دیا تھا ؟ ۔۔۔مجھے ذرا تفصیل سے بتاؤ۔۔۔”

میں خاموش ہوگیا ۔  پھر سر اُٹھا کر ایک گہری سانس لے کر بتانے لگا  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‘بادشاہ خان ڈگری کالج آف سائنس’ کے میٹنگ ہال میں انٹرویو کے لئے آئے تمام کینڈیڈیٹس اپنی اپنی فائیل لئے ہوئےانتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔  کچھ کے ہاتھوں میں پی ایچ ڈی کے تھیسس بھی موجود تھے۔  اس کالج میں فزکس کے لئے اسسٹنٹ پروفیسر کی ایک جاب ویکنسی کے لئے چالیس کینڈیڈیٹس آئے ہوئے تھے ۔  میں نےاپنی انٹری کروائی اورکاؤنٹر کلرک کی ہدایت کے مطابق  سولہویں نمبر والی کرسی پر جاکر بیٹھ گیا اور باقی کینڈیڈیٹس پر ایک سرسری سی نظر ڈالی۔  مجھ سے تین  قطار آگے ایک شناسا چہرہ دکھائی دیا۔  دماغ پر تھوڑا سا دباؤ ڈالا تو یاد آگیا ،  وہ سلیم فاروقی  تھا !

سلیم اور میں پرائمری اسکول ہی سے ایک ساتھ تھے۔ وہ نہایت ذہین تھا۔  غریب ہونے کی وجہ سے اس کی کوئی ٹیوشن بھی نہیں ہوتی تھی لیکن پھر بھی  کلاس  میں ہمیشہ فرسٹ آتا تھا۔  کالج کے دنوں میں رات میں آٹو رکشہ چلاتا تھا۔  بی ایس سی میں اُس نے  یونیورسٹی میں پانچویں میرٹ پوزیشن حاصل کی تھی اور پھر ایم ایس سی میں تو وہ گولڈ میڈالسٹ بھی رہا تھا۔   اُس کے بعد پھر اُس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی!

ہماری نظریں ملیں تو وہ مسکرا دیا۔   جواباً میں بھی مسکرا دیا تھا۔  لیکن ہمارے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ تھا کہ بات نہیں کرسکتے تھے ۔  صرف اشاروں اشاروں میں سلام جواب ہوگیا تھا۔  انٹرویو شروع ہوگئے۔  پہلا کینڈیڈیٹ اندر گیا اور پانچ منٹ بعد پسینہ پوچھتا ہوا باہر آگیا ۔ دوسرے نمبر پر سلیم اندر گیا تھا۔   اُس  کا  انٹرویو بیس منٹ تک چلتا رہا۔  مجھے یقین تھا کہ اُس نے انٹرویو پینل کو بہت متاثر کیا ہوگا۔

تقریباً ایک گھنٹہ بعد میرا بھی انٹرویو ہوگیا۔   جب میں ڈیپارٹمنٹ بلڈنگ کے باہر آیا تو سلیم کو اپنا منتظر پایا ۔  میں نے نا چاہتے ہوئے بھی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا۔  ہم گلے لگے اور کینٹن میں چائے کے لئے چلے گئے۔  پرانی باتیں چل پڑی۔    اُس نے ایم ایس سی کے بعد سیٹ اور نیٹ دونوں امتحانات پاس کرلئے تھے۔  پی ایچ ڈی کا رجسٹریشن بھی ہوچکا تھا۔  یہ تمام کوالیفیکشن میرے پاس بھی موجود تھیں۔  چائے کے بعد ہم نے ایک دوسرے کو جاب کیلئے بیسٹ وشز کی  اور موبائیل نمبر شیئر کرکے اپنی اپنی راہ لی ۔  لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر وہ یہاں کی بجائے کسی اور جگہ پر ملتا تو مجھے بہت زیادہ خوشی ہوئی ہوتی!

تیسرے دن ، صبح ہی صبح امی اور ابو دونوں میرے کمرے میں آئے۔  وہ دونوں بہت زیادہ خوش دکھائی دے رہے تھے۔  ابو نے مجھے گلے لگایا اور میری پیشانی کو چومتے ہوئے بولنے لگے ۔۔”مبارک ہو بیٹا ! ۔۔۔ اب آپ اسسٹنٹ پروفیسر بن گئے ہو ۔۔۔!” خوشی کی ایک زبردست لہر پورے جسم میں دوڑ گئی تھی۔  امی نے بھی گلے لگاکر پُر نم آنکھوں کے ساتھ ڈھیر ساری دعائیں دی تھیں۔  شہر کے اتنے بڑے کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کی جاب مل جانا حقیقت میں ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔  سارا دن قریبی رشتہ داروں کے درمیان مبارکبادیوں اور مٹھائیوں کے ساتھ خوب گہماگہمی میں  گزر گیا۔   رات کے وقت جب اپنے کمرے میں آیا  تب کہیں جاکر تھوڑا سا سکون ملا تھا۔   بستر پر لیٹا اور موبائیل فون آن کیا  ۔  بہت سارے میسیج آئے ہوئے تھے ۔  میں ایک کے بعد ایک دیکھتا چلاگیا۔  ایک جگہ پر مجھے رُک جانا پڑا تھا۔     وہ میسیج سلیم فاروقی کا تھا ۔ لیکن خاص بات یہ تھی کہ اُس نے خود ہی اپنے میسیج کو ڈیلیٹ کیا ہوا تھا ! ۔۔۔ میں سوچنے لگا ،  ‘  اُس نے کیا میسیج کیا ہوگا؟  ‘ ۔۔۔  اور پھر اگر میسیج کیا بھی تھا تو ڈیلیٹ کیوں کردیا ؟ ۔۔۔اُس نے شاید جاب ملنے کی مبارکباد دی ہوگی ! ۔۔۔ تو پھر ڈیلیٹ کیوں کردیا ؟ ۔۔۔ میں کچھ دیر تک اُس کے بارے میں سوچتا رہا۔  ایک بار خیال بھی آیا کہ اُسے کال کرلوں لیکن پھر کچھ سوچ کر رُک گیا۔ کافی دیر تک نیند کے ساتھ جدوجہد کرنے کے بعد میں سویا تھا۔

دوسرے دن صبح ابو نے میری خاموشی کی وجہ پوچھ ہی لی ۔  پہلے تو میں نے  بات کو ٹالنے کی کوشش کی لیکن  پھر بھی اُن کی تجربہ کار  نظروں کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکا۔  میں نے آہستہ سے  ابو سے پوچھا ۔۔۔ “ابو! اس جاب کے لئے آپ کو کتنے روپئے دینے پڑے ؟ “

ابو نے ایک دم چونک کر مجھے دیکھا ۔۔۔ “یہ تم کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔؟ ” وہ گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔

” بس یوں ہی ! ۔۔۔۔ بتائیے تو صحیح ۔۔۔ ؟ ” میں نے اصرار کیا ۔

ابو نے نہایت آہستہ سے کہا تھا ۔۔۔ “پچاس لاکھ ۔۔۔!”

میں نے قدرے حیرت سے پوچھا ۔۔  ” اتنی بڑی رقم ۔۔۔۔  کا انتظام کیسے کیا آپ نے ۔۔۔؟”

“بیٹا ! ۔۔۔ ہم نے آج سے بیس سال پہلے شہر میں دس لاکھ روپئے میں جو  پلاٹ لیا تھا ،  وہ پلاٹ اب ایک کروڑ میں بک گیا! ۔۔۔ اُس میں سے پچاس میں آپ کی جاب  کنفرم ہوگئی اور باقی پچاس میں ان شاء اللہ باقی سارے کام بھی نمٹ جائیں گے ۔۔۔ اسے کہتے ہیں فائنین شیل پلاننگ! ۔۔۔ اب سمجھے ۔۔۔؟ ”  ابو نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔  وہ مجھے زندگی میں کامیابی کا ایک نسخہ سکھا رہے تھے کہ کس طرح سے مالی معاملات کی منصوبہ بندی زندگی میں کامیابی کے لئے لازمی ہوتی ہے! میں نے سر ہلا کر مسکراکر اُن کی طرف دیکھا  اور ۔۔۔ “تھینک یو ابو ۔۔۔ ” کہہ کر خاموش ہوگیا ۔

اگلے ہی دن میں  ‘بادشاہ خان ڈگری کالج آف سائنس’ میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر فزکس دیپارٹمنٹ میں جوائن کرلیا تھا۔   یہ تمام لمحات بہت خوبصورت تھے ۔  چھ مہینے پہلے ، نیلوفر کے ساتھ منگنی ہوئی تھی ۔  اس کالج میں تقرری کے فوراً بعد صرف ایک ماہ میں شادی کی تاریخ بھی نکال لی گئی تھی۔  چاروں طرف خوشیوں اور شادمانیوں کا ماحول تھا۔  سب کچھ بہت ہی شاندار چل رہا تھا۔  شادی اٹینڈ کرنے کیلئے دونوں بہنیں شارجہ سے اپنی اپنی فیملی کے ساتھ آگئیں تھیں۔ گھر میں ایک جشن کا ماحول تھا۔  دیوالی ویکشن کی شروعات میں ہی شادی کی تاریخ نکالی گئی تھی، تاکہ شادی کے بعد کم از کم ایک مہینہ پوری فیملی کے ساتھ ایک ایک پل انجوائے کیا جاسکے۔   سب کچھ بہت ہی بہترین انداز میں بالکل ویسے ہی ہوا تھا جیسا کہ پلاننگ کی گئی تھی۔  ایک مہینہ کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا !

دیوالی ویکشن ختم ہوئی ۔   کالج شروع ہوگیا ۔  چونکہ کالج شہر سے تقریباً دس کلومیٹر دور تھا اس لئے بہت سےخصوصاً  مسلم گھرانوں کی لڑکیاں آٹو رکشہ کرکے  گروپ کی شکل میں ایک ساتھ آیا کرتی تھیں۔   اس طرح سے آٹو رکشہ والوں کی بھی اچھی خاصی آمدنی ہوجاتی تھی۔   کالج کا کمپاؤنڈ کافی بڑا تھا ۔ ایک جانب آٹو رکشہ والوں کے لئے ایک پارکنگ بنا دیا گیا تھا جہاں وہ ایک ساتھ ایک قطار کی شکل میں  اسٹوڈنٹس کا انتظار کیا کرتے تھے۔   کالج بلڈنگ سے پارکنگ تک تمام لڑکیوں کو پیدل جانا ہوتا تھا ۔ آٹو رکشہ والوں کو کالج بلڈنگ کے قریب آٹو لانے کی اجازت نہیں تھی ۔

پیر کا دن تھا ۔ میں اپنی کار لیکر کالج کمپاؤنڈ میں داخل ہوا۔ گیٹ پر کھڑے گارڈ نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا تھا۔  میں اپنی کار کو پروفیسرس کے پارکنگ شیڈ میں لے گیا ۔ کار پارک کی اور باہر آیا ۔  اس طرف عام طور پر اسٹوڈنٹس نہیں ہوتے تھے اسی لئے یہاں آس پاس خاموشی تھی۔  مجھ سے پہلے  پروفیسر انجلی شریواستوا نے بھی کار پارک کی ۔ وہ بھی اپنا بیگ اُٹھائے مین بلڈنگ کی طرف جانے لگی ۔  میں نے دیکھا کہ خاکی یونیفارم میں ملبوس ایک آٹو رکشہ ڈرائیور تقریباً دوڑتا ہوا میڈم کے قریب پہونچا ۔  میڈم بھی رُک گئی اور اُس سے بات کرنے لگی۔  میں اپنا بیگ لئے ہوئے مین بلڈنگ کی جانب جانے لگا ۔  لیکن میری نظریں اُن دونوں پر ہی تھیں۔  قریب پہونچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ڈرائیور  ‘سلیم تھا  ۔۔۔ سلیم فاروقی ! ‘ میں نے حیرت سے کہا تھا ۔۔۔ “ارے سلیم تم ؟ ۔۔۔ یہاں کیا کررہے ہو ؟ ۔۔۔”  سلیم اور انجلی میڈم دونوں نے مجھے حیرت سے دیکھا تھا۔  پھر سلیم نے مسکراکر کر پہلے تو مجھے سلام کیا اور پھر کہنے لگا ۔۔”میڈم کے کچھ امپارٹنٹ کاغذات میرے پاس تھے۔  وہ ہی لوٹانے کیلئے آیا تھا۔”

میں نے میڈم کی طرف دیکھ کر ۔۔۔ “اچھا ” کہہ کر بات کو ختم کیا ۔ میں محسوس کررہا تھا کہ میڈم کچھ روہانسی سی ہوگئی تھی۔  میں نے سلیم سے پوچھا ۔۔”تم آٹو چلاتے ہو ۔۔۔؟ ”  اُس نے ہنس کر کہا ۔۔۔”ہاںسر ۔۔۔۔ کالج کے زمانے سے اپنا تو یہی روزگار ہے ۔۔۔!” اُس کے منہ سے اپنے لئے ۔۔۔ “سر” ۔۔۔ یہ لفظ مجھے اچھا نہیں لگا تھا لیکن میں نے کسی بھی قسم کا تاثر نہیں دیا ۔  ۔۔ “اچھا تو ۔۔۔پھر ملتے ہیں ۔۔لیکچر کا ٹائم ہورہا ہے ” یہ کہہ کر میں کالج بلڈنگ میں چلا گیا ۔ میرے پیچھے میڈم بھی آرہی تھی۔  اسٹاف روم میں اپنا  بیگ لاکر میں رکھ کر پلٹا ہی تھا تو پیچھے میڈم بھی اسٹاف روم میں آگئی۔ وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔ “آپ جانتے ہیں اُسے ۔۔۔؟ ”  میڈم نے سوال کیا ۔

    “ہاں ۔۔۔۔ وہ میرا کلاس میٹ ہے ۔۔۔ ہائی اسکول فرینڈ ۔۔۔!” میں نے مسکراکر کہا۔

    “ہاں کیا  سر؟ ۔۔۔  بہت  قابل انسان ہے وہ ! ۔۔۔  میری  پی  ایچ  ڈی  کا complete analysis کرکے دیا ہے  اُس نے ! ۔۔۔  اور بھی کئی لوگوں کی پی ایچ ڈی کے analysis  اُسی نے کرکے دیئے ہیں ! ” میڈم نے تعریفی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

“اچھا ۔۔۔ ؟” کہنے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی الفاظ نہیں تھے ۔  میں زبردست حیران تھا ۔  آج ایک بار پھر سلیم  سے اس طرح مل کر مجھے بالکل بھی خوشی نہیں ہوئی تھی!  انٹرویو والا دن  ۔۔۔  اُس کے بعد اس کالج میں سلیکشن والا دن  ۔۔۔۔   اور پھر سلیم کا وہ میسیج جو اس نے خود ہی ڈیلیٹ کر دیا تھا ۔۔۔۔ ایک کے بعد ایک تمام  باتیں  مجھے کسی فلم کی طرح یاد آنے لگی تھی۔  آج کا سارا دن بوجھل بوجھل سا ہوگیا تھا۔  وہ ایک آٹو رکشہ ڈرائیور تھا لیکن پی ایچ ڈی تھیسس کی analysis   کرنے میں ماہر کی حیثیت سے جاناجاتا تھا !

گھر پہونچا ۔  میری خاموشی اور ضرورت سے زیادہ سنجیدگی کو سب ہی نے محسوس کیا تھا۔  وجہ پوچھنے پر میں نے صرف اتنا کہا تھا ۔۔۔”کوئی خاص بات نہیں ہے ۔۔۔ بس تھوڑا سر میں درد ہے ۔۔” کمرے میں جاکر لیٹ گیا اور خاموشی سے سوچنے لگا ۔  مجھے پتہ نہیں کیوں ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میں نے سلیم کا حق مارا ہے ! ۔۔۔۔ کیا یہ احساس صحیح ہے ؟ ۔۔۔ کیا یہ عہدہ، جس پر میں شان سے زندگی گزار رہا ہوں ، اُس کا حقیقی حقدار سلیم ہے ؟  اس طرح کے سوالات دماغ میں گھومتے رہے ۔  رات کے کھانے کے بعد ابو نے مجھے ساتھ میں چہل قدمی کرنے کے لئے کہا ۔ ابو روزانہ اکیلے ہی چہل قدمی کیلئے جاتے تھے لیکن آج انہوں نے مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہا تھا ۔  جب ہم کچھ دور چلے گئے تب ابو نے آہستہ سے کہا تھا ۔۔۔”بیٹا ! میں دیکھ رہا ہوں کوئی بات ہے جس نے  تمہیں اندر ہی اندر پریشان کیا ہوا ہے ۔۔۔ مجھ سے شیئر کرو بیٹا ! ۔۔۔ اگر کوئی پرابلم ہے تو کھل کر بتاؤ ۔۔۔ ان شاء اللہ  میں تمہارے مسئلہ کو حل کردوں گا ۔۔۔ چھپاؤ مت ۔۔” ابو بہت اصرار کررہے تھے ۔  بالاآخر دل پر رکھا ہوا سارے  بوجھ کا اصل معاملہ  ابو کا سنا دیا ۔  ابو نہایت غور سے میری تمام باتیں سن رہے تھے ۔  میری باتیں مکمل ہونے کے بعد اُنہوں نے ایک گہری سانس لی ۔ پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے کہنے لگے ۔۔۔”بیٹا! تم نے اُسے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی اہمیت دے دی ہے ۔ تمہیں اُس کے بارے میں اتنا زیادہ نہیں سوچنا چاہیئے ۔   وہ اکیلا تو نہیں تھا نا وہاں؟ ۔۔۔ اور بھی کئی لوگ تھے ۔ تو کیا تم اب یہ سوچوگے کہ تم نے ان سب کا حق مارا ہے !  ۔۔۔ نہیں بیٹا ایسا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ تم بہت غلط سوچ رہے ہو ۔۔۔” ابو نے مجھے حتی الامکان سمجھانے کی کوشش کی تھی ۔ میں سر ہلاکر اُن کی باتوں کو سنتا رہا۔  پھر ہم لوگ گھر لوٹ آئے۔

اگلے دن بھی میری دماغی حالت ویسی ہی تھی ۔  ایک عجیب سا سناٹا لگ رہا تھا۔ آنکھیں بند کرتا تو سلیم مسکراتا ہوا سامنے آجاتا اور میں گھبراکر آنکھیں کھول دیتا تھا! دو دن بعد ابو نے ڈاکٹر شازیہ سے میرے لئے اپوانٹمنٹ لیا تھا اور اب میں ان کے کیبن میں بیٹھا یہ تمام داستان ان کو سنا رہا تھا۔  وہ میری تمام باتیں سنتی رہیں اور اہم نقاط نوٹ کرتی جارہی تھیں!

“بیٹا! ۔۔۔ تم بہت حساس ہو ! ۔۔۔ ” ڈاکٹر صاحبہ نے اپنائیت سے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔  “بات دراصل یہ ہے کہ تمہارا وہ دوست اُس مقام تک نہیں پہونچ سکا جہاں اُسے ہونا چاہیئے تھا ۔ ۔۔۔  وہ ایک قابل انسان ہے  ۔۔۔ لیکن اُس کی قابلیت نے اُسے وہ مقام نہیں دیا جو وہ  deserve  کرتا تھا ۔  یہ بات تمہارے ذہن میں بیٹھ گئی۔   دوسری طرف تم بھی اُتنے ہی  قابل تھے لیکن تمہاری قابلیت نے تمہیں وہ مقام دے دیا جو تم deserve   کرتے تھے۔  اگر وہ ناکام ہوا ہے تو تمہاری وجہ سے نہیں بلکہ ہمارے اس سماجی ڈھانچے کی وجہ سے۔  آج ہمارے سماج میں جس طرح کا competition  چل رہا ہے اُس میں کامیاب ہونے کے لئے بہت سارے factors  کام کرتے ہیں۔۔۔  اگر کوئی انسان کسی ایک بھی factor   میں پیچھے رہ جائے تو اُس کا زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا لازمی ہے۔ ” ڈاکٹر شازیہ خاموش ہوئیں اور پھر اُٹھ کر اپنے ٹیبل کے پیچھے جاکر اپنی روٹیٹنگ کرسی پر بیٹھ گئیں۔  پھر مجھے دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہنے لگی۔۔۔” دیکھو بیٹا! تمہارے دماغ سے یہ بھرم نکال دو کہ تمہاری یہ جاب کا اصل حقدار وہ ہے ۔  وہ اس جاب کو حاصل نہیں کرسکا یہ اس کی قسمت ہے ۔ یہ اُس کی تقدیر میں لکھا ہوا نہیں تھا اسی لئے اُسے نہیں ملا ۔   ہوسکتا ہے کہ اُسے اس سے بھی بہتر کچھ اور مل جائے ! ۔۔۔  لیکن یہ بات اپنےذہن سے نکال دو کہ تمہاری آج کی اس پوزیشن کا اصل حقدار وہ ہے ۔  تمہاری آج کی اس پوزیشن کا صرف ایک ہی انسان اصل  حقدار ہے اور وہ انسان تم خود ہو۔۔۔ سمجھے ؟ “

میں نے سر ہلادیا  تھا ۔ میڈم سے بات کرکے اور اپنے دل کی تمام بھڑاس نکل جانے کی وجہ سے میں کافی ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا۔  میڈم نے اپنے لیپ ٹاپ میں کچھ کیا اور اس کی اسکرین پرنظریں رکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔ ” عمران! ۔۔۔ میں آپ کو ایک چھوٹی سے فلم دکھاتی ہوں ۔۔۔ دیکھوگے؟ ”  میں نے سرہلا دیا تھا ۔  انہوں نے لیپ ٹاپ کی اسکرین میری طرف گھمادی اور خود بھی اُٹھ کر واپس آرام کرسی پر آگئیں تاکہ وہ بھی اسکرین کو دیکھ سکے۔  لیپ ٹاپ اسکرین پر ایک انگریز کچھ کہہ رہا تھا ۔  اُس کے ہاتھ میں ایک ہڈی تھی جس پر تھوڑا بہت گوشت بھی لگا ہوا تھا۔  اس انگریز نے اچانک وہ ہڈی ایک میدان کی طرف اچھال دی ۔ جیسے ہی وہ ہڈی میدان میں گری ، چاروں طرف سےاچانک  چار پانچ کتے اس پر لپک پڑے تھے۔  کتوں میں اُس ہڈی کے لئے جنگ شروع ہوچکی تھی ۔  وہ ایک دوسرے کو کاٹ رہے تھے۔  بُری بُری آوازوں کے ساتھ بھونک کر غرّا کر ایک دوسرے کو ڈرانے کی کوشش کررہے تھے۔  ان سب میں ایک بڑا سا کتا جو کافی مضبوط دکھائی دے رہا تھا ، اُس نے ہڈی پر قبضہ کرلیا اور مضبوطی سے پکڑ کر ایک جانب بھاگنے لگا۔  کچھ کتے اس کے پیچھے لپکے لیکن زیادہ دور تک نہیں گئے اور پلٹ گئے ۔۔۔ فلم ختم ہوگئی!

ڈاکٹر صاحبہ نے لیپ ٹاپ کو بند کیا اور میری جانب پلٹ کر مسکراتے ہوئے بولیں ۔۔ ” کیسی لگی آپ کو یہ فلم ؟ ۔۔ پسند آئی ؟۔۔”  میں نے مسکراکر سر ہلا دیا تھا۔   وہ واپس اپنی ٹیبل کے پیچھے والی کرسی پر بیٹھ گئیں اور مجھے مخاطب کیا ۔۔۔” عمران! ۔۔۔ ابھی آپ نے دیکھا کہ کس طرح سے اُن چار پانچ کتوں میں ۔۔۔۔    ایک ہڈی کے لئے جنگ ہوئی ۔۔۔ ! ان سب میں سے صرف ایک کو ہی ہڈی ملنے والی تھی!  ۔۔۔ جو ان سب میں سب سے زیادہ طاقتور تھا  اُس نے ہڈی حاصل کرلی ۔۔۔  دیکھو ! ۔۔ زندگی میں اسی طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں  ۔۔۔۔ اچھا!  ۔۔   تم ایک بات بتاؤ ۔۔۔ کیا وہ کتا جس نے ہڈی حاصل کرلیا وہ اُس ہڈی کا اصل حقدار تھا یا نہیں ؟  ۔۔۔ کیا تمہیں لگتا ہے کہ اس نے باقی کتوں کا حق مارا ہے ؟ ۔۔۔ ” وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے پوچھ  رہی تھیں۔  ۔۔  میرے دماغ کا سارا بوجھ اُتر گیا تھا !  بات تو واقعی بہت سیدھی اور صاف تھی ۔ جس کو جو کامیابی  ملی ہے  وہ ہی تو  اُس کا حقدار ہوتا ہے ۔۔۔ باقی لوگ جن کو وہ کامیابی نا مل سکی وہ اس کے اہل تھے ہی نہیں ! ۔۔۔اسی لئے وہ اسے حاصل نہیں کرسکے !  ڈاکٹر صاحبہ نے بٹن دبایا اور کاؤنٹر والی لڑکی کو بول کر ابو کو اندر بلوایا ۔  ابو آکر بیٹھ گئے ۔۔۔ابو خاموشی سے ڈاکٹر صاحبہ کو دیکھ رہے تھے۔  میڈم نے مسکراکر کہا ۔۔۔” سر ۔۔۔ عمران سے ساری باتیں ہوگئی ہیں ۔۔۔ اب ان شاء اللہ کوئی تکلیف نہیں ہوگی ۔۔۔ میں صرف ایک ٹیبلیٹ لکھ رہی ہوں جو ان کو رات میں سونے سے پہلے لینا ہے ، وہ بھی صرف دو دن ۔۔۔ او کے ؟ “

ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور باہر چلے گئے ۔  اب میں کافی ریلیکس ہوگیا تھا۔   مجھے اس بات کا شاید پہلی بار یقین ہوا تھا کہ میں اپنی جاب کے لئے خود ہی اصل حقدار ہوں ۔۔۔ میں نے سلیم کا حق نہیں مارا ہے !

اگلا دن اتوار تھا ۔ چھٹی کا سارا دن فیملی کے ساتھ گھر پر ہی  گزارا تھا ۔  رات میں ابو نے مجھے اپنے کمرے میں بلوائے اور مجھے ایک لفافہ دیتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔۔  “بیٹا ! جب تمہاری جاب کیلئے میں نے پرنسپل صاحب سے لین دین کی  بات کی تھی اُس وقت میرے بھی دماغ میں یہ بات آئی تھی کہ رشوت دے کر یہ جاب حاصل کرنا مناسب ہے یا نہیں؟۔۔۔  اسی لئے میں نے دارالعلوم کے مفتی صاحب سے فتویٰ منگوایا تھا کہ رشوت دیکر یہ جاب حاصل کرنے میں ہمارے لئے کوئی گناہ تو نہیں ہوگا ؟ ۔۔۔مفتی صاحب نے کیا جواب دیا تھا تم خود دیکھ لو ۔۔۔ تمہیں اطمینان ہوجائے گا ۔ ”  میں اپنے کمرے میں آیا اور لفافہ کھولا اور تحریر پڑھنے لگا ۔۔۔

”  السلامُ علیکم

مسئلہ یہ جاننا تھا کے جو اقلیتی ادارے مثلا اسکول اور کالج وغیرہ  ہیں۔ اس میں اکثر ادارے اساتذہ کی job کے لیے رشوت لیتے ہیں چاہے وہ استاد نہایت ہی قابل ہو۔ تو ایسی  صورت حال میں اس استاد کے لیے رشوت دینا کیسا ہونگا ؟  جب کے اُس نے رشوت نہ دی تو وہ  نوکری   اُس کے ہاتھ سے چلی جائینگی۔ آپ سے درخوست ہے کے مفصّل جواب عنایت فرمائیں۔

 

الجواب وباللہ التوفیق: اسلام کی پاکیزہ تعلیم میں رشوت دینا یا لینا دونوں کی سخت ممانعت آئی ہے اور ایسی آمدنی کو حرام قرار دیا گیا ہے اور ایسے شخص کے لئے جہنم کی وعید بھی وارد ہوئی ہے، لہٰذا جہاں تک ہو سکے اس سے بچنا چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود رشوت دئے بغیر اپنا حق حاصل نہ ہوتا ہو تو مجبوراً ایسی حالت میں رشوت دینے کی گنجائش ہے، ان شاء اللہ کوئی گناہ نہ ہوگا، اور اس طریقہ سے حاصل ہونے والی نوکری کی آمدنی میں کوئی کراہت نہیں آتی۔  البتہ  رشوت لینے والا سخت گنہگار ہوگا  (فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم)۔    “

اس تحریر کو کئی بار پڑھا ۔  دل کو سکون مل گیا تھا ۔  میں نے کاغذ کی فوٹو موبائیل فون میں لی ۔  ابو نے یہ فتویٰ منگواکر مجھ پر زبردست احسان کیا تھا ۔  دل کا سارا غبار دور ہوگیا تھا ۔   دوسرے دن صبح  ناجانے کیوں میں نے واٹس ایپ میں سلیم کا اکاؤنٹ نکالا ۔  اُس کی ڈی پی پر اس کی ایک تصویر تھی جس میں وہ مسکرا رہا تھا۔  نیچے اُس کا وہ ڈیلیٹ کیا ہوا میسیج ابھی تک موجود تھا ۔  میں نے مسکراکر فون بند کیا اور کالج کی تیاری میں لگ گیا۔  آج میں نے سوچا تھا کہ سلیم سے ملونگا اور اگر اُس کے دل میں کچھ ہوگا تو اُسے صاف کردوںگا ۔  کچھ دیر بعد سلیم کا آٹو پارکنگ میں آتا ہوا دکھائی دیا ۔  پارکنگ میں آٹو رُک گیا ۔ تمام لڑکیاں اُتر کر کالج بلڈنگ کی طرف جانے لگیں۔  سلیم واپس پلٹنے ہی والا تھا کہ میں نے اُسے کال کردیا۔ وہ رکا اور جیب سے موبائیل نکالا اور پھر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا ۔ پھر اس کی نظر مجھ پر پڑ ہی گئی ۔  “اِدھر آسکتے ہو ۔۔؟” میں نے پوچھا ۔۔۔ ” ہاں ۔۔ابھی آیا ۔۔۔” کہہ کر اس نے فون بند کیا اور آٹو رکشہ سے باہر نکل کر میری طرف آنے لگا ۔  قریب آکر اُس نے سلام کیا تھا ۔  میں نے سلام کا جواب دیا اور  پھر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔” سلیم ! مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی ۔۔۔! “

“ہاں! ۔۔۔ کہو نا ۔۔۔ کیا بات ہے ؟ ” اس نے روانی میں پوچھا

“سلیم تمہیں ایسا تو نہیں لگتا کہ یہ نوکری تمہارا حق تھی اور میں نے تمہارا یہ حق مارا ہے ؟”

سلیم حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا۔۔۔ ” آپ یہ سوال اب کیوں پوچھ رہے ہو ۔۔۔؟” اس نے پوچھا

“پہلے تم میرے سوال کا جواب دو ۔۔۔” میں نے اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہا

سلیم نے خاموشی سے سر ہلایا اور آہستہ سے کہنے لگا ۔۔۔ ” نہیں ! مجھے ایسا نہیں لگتا کہ آپ نے میرا حق مارا ہے ۔۔۔ “

“تو پھر تم نے موبائیل پر اُس دن مجھے میسیج کرکے کیوں ڈیلیٹ کیئے تھے ؟ ” میں نے قدرے تیز لہجے میں پوچھا ۔   پہلے تو وہ کچھ تذبذب میں نظر آیا ۔ لیکن پھر آہستہ سے کہنے لگا ۔۔۔ “دراصل انٹرویو کے بعد دوسرے دن کالج کے پرنسپل صاحب کے ایک ایجنٹ  نے آکر بتایا  تھا کہ  ایک کینڈیڈیٹ ہے جو ہمیں پچاس لاکھ روپیئے دے رہا ہے لیکن انٹرویو میں تم نے ہمیں بہت متاثر کیا ہے ، اسی لئے ہم لوگ ایک چانس تم کو دینا چاہتے ہیں۔۔۔ کیا تم پچاس لاکھ دے سکتے ہو؟۔۔۔۔ ظاہر ہے میرے پاس پچاس لاکھ تو کیا پچاس ہزار بھی نہیں تھے ۔۔۔ میں نے انکار کردیا ۔۔۔ بعد میں جب مجھے پتہ چلا کہ تمہارا سلیکشن ہوا ہے تو مجھے خوشی ہوئی کہ چلو میرا نا صحیح میرے دوست کا ہی صحیح ۔۔۔” وہ خاموش ہوگیا ۔

  اُس کے منہ سے پچاس لاکھ والی حقیقت سن کر ایک لمحہ کے لئے میں ڈگمگا گیا تھا۔  میں نے آہستہ سے اُسے کہا ۔۔۔ ” سلیم میں نے اس معاملہ میں فتویٰ بھی بلوایا ہے ۔۔۔ تم خود دیکھ لینا ۔۔۔ میں تمہارے موبائیل پر سینڈ کردوں گا ۔۔۔ او کے ۔۔۔ اور ہاں  ۔۔۔ دل میں کچھ غلط بات مت رکھنا ۔۔۔ ” میں نے یہ تمام باتیں کہی اور لیکچر کا ٹائم ہوجانے کی وجہ سے اس سے الوداع کہہ کر اندر چلا گیا ۔ میں نے دیکھا وہ کافی دھیرے دھیرے سر جھکائے واپس جارہا تھا ۔

شام کے وقت میں نے آرام کرسی پر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے موبائیل میں سلیم کا اکاؤنٹ کھولا ۔ وہ آن لائن تھا۔ شاید وہ بھی میرے میسیج کا ہی انتظار کررہا تھا ۔  میں نے فتویٰ کا فوٹو اُسے بھیج دیا ۔   وہ فوٹو فوراً ہی ریسیو کرلیا گیا تھا ۔  یعنی سلیم میرے میسیج کے انتظار میں ہی بیٹھا تھا۔

پندرہ منٹ بعد سلیم کا ایک میسیج آیا ۔۔۔ ” مفتی صاحب کا فتویٰ بالکل صحیح ہے ۔۔۔ لیکن یہ کون طے کرے گا ۔۔۔ کہ  حقیقت میں  ۔۔۔ حق دار ۔۔۔ کون ہے ؟ ۔۔۔”  میں نے میسیج پڑھا ۔   میرے پیشانی پر پسینے کی بوندیں نمودار ہوگئیں ! اُس کا سوال بہت نوکیلا تھا ۔   بہت زور سے دماغ میں چبھ سا گیا تھا ۔ اُس درد کو سہنے کے لئے میں نے آنکھیں موند لیں اور ہونٹ بھینچ لئے تھے!

 پھر دوبارہ موبائیل میں میسیج کی  رِنگ ٹون بجی ۔  میں نے آنکھیں کھولیں اور فون آن کیا ۔

اسکرین پر  کوئی نیا میسیج نہیں آیا تھا  ۔۔۔۔   بلکہ سلیم نے اپنا بھیجا ہوا یہ میسیج بھی ڈیلیٹ کردیا تھا!

ڈاکٹر انیس رشید خان،

پیراڈائیز کالونی،

امراؤتی ۔۔۔۔  مہاراشٹر 444604

موبائل۔ 9421740793

ای میل۔ ajmalanees@gmail.com

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment