سرگرمیاں

قراؔت شعر کی نزاکتیں 

قراؔت شعر کی نزاکتیں 

کے عنوان پر ایک روزہ سیمنار 

مشرقی نظریۂ شعر کے مطابق شعر بآواز بلند اور آہنگ کے ساتھ پڑھنے کی چیز ہے: ایڈووکیٹ خلیل الرحمن انڈیا انٹر نیشنل سینٹر میں قرأت شعر کی نزاکت پر پروفیسر خواجہ محمد اکرام اور پروفیسر سید اختر حسین نے بھی اظہار خیال کیا پریس ریلیز، نئی دہلی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر کے سیمینار ہال میں انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے اشتراک سے قرأت شعر کی نزاکت پر خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا جس میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی، پروفیسر انور پاشا، پروفیسر علیم اشرف ، پرفیسر مجیب الرحمن، ڈاکٹر اطہر فاروقی، ایڈووکیٹ ناصر عزیزوغیرہ نے شرکت کی۔پروگرام کا آغاز گیتا کی آواز میں گیتانجلی کے خوب صورت کلام کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین انسٹی ٹیوٹ کے چیئر مین اور اس پروگرام کے روح رواں پروفیسر سید اختر حسین نے تمام مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے استقبال کیا۔ ایڈووکیٹ خلیل الرحمن کا تفصیلی تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعریات کے تمام گوشوں پر اچھی گرفت اور انگریزی، عربی، فارسی اور اردو ادب پر انھیں دسترس حاصل ہے۔ پر وفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کی ادبی خدمات کا مختصر حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن نے کورونا کے عہد میں متعدد ادبی، علمی، تہذیبی اور ثقافتی پروگرا م آن لائن پلیٹ فارم پر پیش کیا۔ ہر چند کہ کورونائی عہد مایوسیوں کا عہد رہا لیکن ورلڈ اردو ایسوسی ایشن نے اپنی خالص علمی اور ادبی سرگرمیاں جاری رکھی۔ اب جب کہ حالات کچھ سازگار ہوئے تو ، فائدہ اٹھاتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف انڈو پرشین اسٹڈیز اور ورلڈ اردو ایسوسی ایشن نے ایک اہم اور منفرد موضوع پر لیکچر کا اہتمام کیا۔ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے سیمینار ہال میں موجود تمام سامعین اور خاص طور پر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم سے وابستہ ناظرین و سامعین کا استقبال کیا۔ خاص طورپر اس پروگرام کے روح رواں پروفیسر سید اختر حسین کا تعارف کراتے ہوئے اس پروگرام کے انعقاد کے اغراض و مقاصد پر انھوںنے روشنی ڈالی۔ ایڈووکیٹ خلیل الرحمن کے بارے میں کہا کہ جو لوگ اپنے سینے میں علم و تہذیب کا خزانہ لیے ہوئے ہیں، ان سے استفادہ کے لیے یہ پروگرام منعقد کیا گیا اور آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام منعقد کیے جاتے رہیں گے۔ نیز پروفیسر خواجہ اکرام نے شاعری پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمام فنون لطیفہ میں شعر کو بہت اہمیت حاصل ہے، اس میں نغمگی اور آہنگ موجود ہوتا ہے اور کیف و سرور کا ایک عجیب معاملہ ہوتا ہے جس سے انسان جذباتی طور پر بہت مسرور ہوتا ہے۔ شعر زندگی کے داخلی و خارجی معاملات کا ترجمان ہے اس لیے اس کے تمام پہلوئوں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ شعر کو سمجھنا ایک مسئلہ ہے اور اسے درست لب و لہجے میں پڑھنا ایک الگ مسئلہ ہے اور ان دونوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ جناب خلیل الرحمن سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے قرأت شعر کی نزاکت کے حوالے سے بہت علمی اور معلوماتی خطبہ پیش کیا۔انھوںنے اپنے خطاب میں شعر کی مختلف جہتوں اور گوشوں پر روشنی ڈالی، مشرقی نظریۂ شعر پر انھوںنے خوب توجہ مرکوز کی اور اشعار کی قرأت میں آہنگ پر خوب زور دیا۔ انھوںنے کہا کہ زبان کا ہر لفظ ایک آواز ہے ۔ منظوم کلام میں الفاظ ایک خاص طرح کی نغمگی اور آہنگ پیدا کرتے ہیں۔ دور جاہلیت سے ہی شعر کی بلند خوانی کا سلسلہ قائم ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لب و لہجے میں اتنی آہنگ اور ساز برقرار رہے کہ سامعین کو انبساط و سرور حاصل ہو، نہ کہ طبیعت مکدر ہوجائے۔اس پروگرام کو سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارم پر لائیو کیا گیا اور سامعین میںجناب شفیق الحسن، ڈاکٹر رکن الدین، ڈاکٹر ندیم احمد، ڈاکٹر ابرار احمد، امتیاز رومی، ثنا فاطمہ وغیرہ نے شرکت کی۔ پروگرام کے اخیر میں پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی نے اپنے خیال کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے لیکچر مزید منعقد ہونے چاہیے کیوں کہ ایسی گفتگو سے ہمارے علم میں بہت اضافہ ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ لیکچر کے بعد سوال و جواب کا طویل سلسلہ بھی چلا جس سے موضوع اور اس لیکچر کے مختلف گوشوں کی مزید وضاحت ہوئی اور کامیابی کے ساتھ پروگرام کا اختتام پذیر ہوا۔