تاثرات مضامین

شمس الرحمن فاروقی کی وفات ناقابل تلافی نقصان

شمس الرحمن فاروقی کی وفات ناقابل تلافی نقصان
گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی طبیعت علیل تھی۔ انھیں کورونا بھی ہوگیا تھا تاہم دہلی میں علاج کے بعد کورونا سے نجات مل گئی مگر اس کے ساتھ ہی ان کی صحت مزید بگڑنے لگی اور مکمل طور سے شفایاب نہ ہوسکے اور افسوس کہ آج 25 دسمبر 2020 کو اردو تنقید کا ایک مضبوط ستون ہمیشہ کے لیے گر گیا۔

شمس الرحمن فاروقی کی وفات ناقابل تلافی نقصان

اردو کے نامور ادیب اور نظریہ ساز نقاد شمس الرحمن فاروقی صاحب کا انتقال اردو دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان ہے

شمس الرحمن فاروقی کی ولادت 1935 کو ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی۔ روایتی انداز میں ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز ہوا۔ انٹر میڈیٹ کے بعد انھوں نے گورکھپور سے بی اے کیا اور پھر انگریزی ادب میں ایم اے کرنے کے لیے وہ الہ آباد آگئے اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔
1958 میں انھوں نے سول سروس کا امتحان پاس کرلیا اور انڈین پوسٹل سروس میں بحیثیت آفیسر کام کرنے لگے۔ اپنی ملازمت کے دوران وہ حکومت ہند کے اعلی ترین عہدوں پر فائز رہے۔ تاہم یہ سارے عہدے ان کے سامنے چھوٹے ہوگئے اور ان کا سب سے بڑا تعارف اردو نقاد کی حیثیت سے سامنے آیا۔
انھوں نے اردو زبان و ادب کی تقریبا نصف صدی سے زیادہ عرصے تک خدمت کی۔ تخلیق و تنقید دونوں میدانوں کو انھوں نے متاثر کیا۔ ترقی پسندی کے مقابلے جدیدیت کا تصور پیش کیا اور ایک بڑا حلقہ ان سے وابستہ ہوگیا۔
فاروقی نے اپنے تنقیدی افکار و نظریات کےذریعے کئی دہائیوں کو متاثر کیا۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے ادب سے خوب استفادہ کیا اور اپنے مطالعے سے اردو ادب کو مالا مال کیا۔ گویا ان کی پوری زندگی اردو زبان و ادب کی خدمت کے لیے وقف تھی۔

گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی طبیعت علیل تھی

گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی طبیعت علیل تھی۔ انھیں کورونا بھی ہوگیا تھا تاہم دہلی میں علاج کے بعد کورونا سے نجات مل گئی مگر اس کے ساتھ ہی ان کی صحت مزید بگڑنے لگی اور مکمل طور
سے شفایاب نہ ہوسکے اور افسوس کہ آج 25 دسمبر 2020 کو اردو تنقید کا ایک مضبوط ستون ہمیشہ کے لیے گر گیا۔
ورلڈ اردو ایسوسی ان کی بارگاہ میں خراج عقیدت اور ان کے لواحقین سے تعزیت پیش کرتا ہے۔