مضامین

غالب اور پوشکین
(روس میں غالب کا مطالعہ اور عظیم روسی شاعر الیکساندر پوشکین سے مشابہت)

تحریر: ارینا ماکسی مینکو

  شائد برصغیر میں مرزا غالب اسی طرح مشہور و معروف ہیں جس طر ح روس میں الیکساندر پوشکین۔ پوشکین کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ وہ “ہمارے سب کچھ” ہیں، “روسی شاعری کا آفتاب”۔ اور غالب بے شک برصغیر کی شاعری کے فلک پر درخشان ستارے کی مانند ہیں۔ اور خاص بات یہ ہے کہ وقت گزرنے پر ان دونوں کی شاعری کی کشش نہ صرف کم نہیں ہو رہی بلکہ بڑھتی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ معلوم رہے کہ مرزا غالب کی تخلیقات کے باقاعدہ مطالعہ کی بنیاد انیسویں صدی کے آغاز میں الطاف حسین حالی نے ڈالی تھی، اپنی نمایاں تصنیف “یادگار غالب” کے ذریعے۔ پھر یہ سلسلہ بہت سارے شاعروں اور ادبی نقادوں نے جاری رکھا، برصغیر میں۔ لیکن روس کی بات الگ ہے، حالانکہ بہت سارے روسی لوگوں، خاص طور پر شاعری کے شائقین نے کم از کم غالب کا نام تو سنا ہے۔

ہمارے ملک میں مرزا غالب کا پہلا تذکرہ سن 1924 میں ہوا تھا جب ان کے بارے میں ایک مضمون اور ان کی نظموں کا روسی میں نثری ترجمہ شا‏ئع کیا گیا۔ مضمون میں ان کی مختصر سوانح عمری پیش کی گئی اور خاص زور برصغیر میں ان کی شاعری کی مقبولیت پر دے دیا گیا۔ اس طرح ہمارے ملک میں اس عظیم شاعر کی تخلیقات کے مطالعہ کی راہ پر پہلا قدم اٹھایا گیا تھا۔ اور اس کے بعد جب ہی روسی ماہرین ادب نے برصغیر ہندوستان کے ادب کا مطالعہ کرتے ہوئے کوئی بھی مضمون یا کتاب لکھی، ان سب میں ضرور مرزا غالب کا تذکرہ کیا گیا۔ اس زمانے میں جب سوویت یونین موجود تھا، اس میں وسط ایشیا کا علاقہ بھی شامل تھا۔ تو وسط ایشیائی ری پبلکوں یعنی ازبکستان اور تاجکستان کے ماہرین شرقیات نے بھی غالب کی شاعری کے مطالعہ پر بڑا سا دھیان دیا۔ اور 1969 میں جب مرزا غالب کی صد سالہ برسی منائی جا رہی تھی، ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ روسی زبان میں نکلا تھا۔ اس کی بدولت بہت سارے روسی لوگ، شاعری کے شائقین اس عظیم شاعر کی تخلیقات سے واقف ہو سکے۔

پھر 1972 میں روسی زبان میں بڑی اچھی کتاب شائع کی گئی جس کا عنوان تھا “مرزا غالب، مشرق کے عظیم شاعر”۔ یہ نامور روسی ماہرین شرقیات کے مرزا غالب سے منسوب مضامین کا مجموعہ تھا۔ اور برصغیر کے نامور شاعروں اور مصنفین کے مضمون بھی اس مجموعے میں شامل تھے۔

خیر، سن 1980 میں مشہور ماہر ادب اور مترجم ظ انصاری نے غالب کی شاعری کا ایک مجموعہ روسی ترجمہ میں شائع کروایا۔ اور حالانکہ وہ ترجمے شاعری کے روپ میں نہیں بلکہ نثر کے روپ میں تھے پھر بھی ان میں مرزا غالب کے مجازی انوار کا عکس پایا جاتا ہے۔
روس میں مرزا غالب کی شاعری اور ان کی سوانح عمری کے مطالعہ کی راہ پر ایک نیا اہم قدم سن 1986 میں اٹھایا گیا، مشہور روسی ماہرہ ادب ناتالیا پری گارینا کی تصنیف کی اشاعت کے ساتھ، جس کا سیدھا سادہ سا نام ہے “مرزا غالب”۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ روس میں ان کی شاعری کا مطالعہ نئی منزل پر پہنچ گیا۔ نہ صرف کتاب میں غالب کی سوانح عمری کے اہم واقعات پر روشنی ڈالی گئی، بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس زمانے کے حالات کی بھی خوب تصویر کشی کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سے دراصل ناواقف روسی قارئین کے لیے یہ خاص طور پر دلچسپ اور اہم تھا۔ اسی مصنفہ کی ایک اور کتاب قابل ذکر ہے جو سن 2012 میں نکلی۔ یہ نامور مشرقی شاعروں کے بارے میں موصوفہ کے مضامین کا مجموعہ ہے باعنوان “شاعر اور شاعری کی دنیا”۔ ظاہرا” اس میں غالب کے بارے میں بھی ایک مضمون ہے۔ اس مضمون میں ایک بات کا ذکر ہے جو میرے خیال میں خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اور وہ یہ کہ مصنفہ نے مرزا غالب اور الیکساندر پوشکین کی زندگی اور تخلیقات کی کسی حد تک مشابہت پر توجہ دلائی حالانکہ موصوفہ نے ذکر کیا کہ پہلی بار اس مشابہت پر ظ انصاری نے توجہ دلائی تھی۔ مجھے یہ بات خاص طور پر دلچسپ لگی اور میں اس خیال کی تصدیق میں کچھ حقائق پیش کرنا چاہوں گی۔ آپ خود ہی دیکھئے اور فیصلہ کیجئے کہ یہ کہاں تک صحیح ہے۔

خیر، اس سے شروع کریں کہ وہ دونوں ہم عصر ہیں۔ پوشکین سن 1799 میں پیدا ہوئے جبکہ غالب سن 1797 میں۔ تقریبا” برابر عمر میں ان دونوں نے اپنی پہلی نظم لکھی یعنی جب وہ تیرہ چودہ برس کے تھے۔ دونوں کا فلسفانہ طرز خیال تھا اور یقین و بھروسہ دونوں کو تھا کہ ان کے گزر جانے پر ان کی شاعری دنیا میں گونجتی رہے گی۔ دونوں نے شاعری کرنے کے علاوہ تاریخ میں بہت دلچسپی لی اور تاریخی مقالے بھی لکھے۔

ان کی راہ زندگی کا معائنہ کریں تو اس میں بھی کچھ ملتی جلتی باتیں نظر آئیں گی۔ دیکھئے، مرزا غالب کو عظیم مغلوں کے دربار میں بلایا جاتا تھا اور نوکری بھی ملی۔ الیکساندر پوشکین کو روسی زار کے محل میں بلایا جاتا تھا اور وہ بھی ایک قسم کی ملازت کرتے تھے۔ کبھی کبھار دونوں کو مالیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مرزا غالب نے سن 1859-1857 کی بغاوت کی حمایت کی تھی جبکہ پوشکین نے زار کے اقتدار کے خلاف بغاوت کی۔ دونوں بغاوتوں کو کچل دیا گیا تو دونوں عظیم شاعروں کو بہت صدمہ پہنچ گیا۔
مرزا غالب اور الیکساندر پوشکین کی شاعری میں فلسفانہ گہرائی اور بے حد بڑا حسن پایا جاتا ہے۔ وہ حس طرح جذبات و احسانات کی ترجمان کرتے ہیں اپنی شاعری میں، اس کی قدر و منزلت کے لیے کچھ بھی الفاظ کافی نہیں ہیں۔ ہم پوشکین کو جدید ادبی روسی زبان کا بانی مانتے ہیں جبکہ غالب نے معیاری ادبی اردو زبان کی بنیاد ڈالنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اور یہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ مرزا غالب کا ادبی انعام رائج کیا گیا ہے۔ اور روس میں ورسی زبان اور ادب کے میدان میں نمایاں کامیابیوں کے صلے میں پوشکین انعام عطا کیا جاتا ہے۔

ایک اور بات جس کا میں پہلے ذکر کر چکی ہوں، یہ ان کی شاعری کی نہ ختم ہونے والی کشش ہے۔ شائد وہ دور حاضرہ سے ان کی ہم آہنگی سے منسلک ہے؟

ان دونوں کا خلوص اور احساس رواداری جو آج کے دور میں خاص طور پر اہم ہے، ان کی ایک اور مشابہت ہے۔ اور پھر دونوں کی شاعری بے پناہ پیار و محبت کے جذبے اور رومانیت سے بھری ہوئی ہے اور حالانکہ ہر ایک کا اپنی اپنی قوم سے ہی براہ راست گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے، روایات بہت مختلف ہیں، اور الگ الگ مذہب اور تہذیب سے تعلق ہے، پھر بھی صحیح معنوں میں قومی شاعر ہوتے ہوئے، وہ دونوں بین الاقوامی شاعر بھی ہیں جنہوں نے عالمی ثقافت کے خزانے میں نمایاں قیمتی دین دے دی ہے۔ اپنی اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے ان عظیم شاعروں کی تخلیقات تمام انسانیت کے لیے پرکشش ہیں۔ شائد اس لیے بھی کہ اپنی نظموں میں انہوں نے اپنے اپنے انداز میں انہی جذبات و احساسات کی ترجمان کی تھی جو کسی بھی دور میں رہنے والوں کے لیے اہم اور بے حد عزیز ہوتے ہیں۔

****