Uncategorized مضامین

لاک ڈائون میں آن لائن تعلیم وسائل اور مسائل

محمد محبوب ظہیرآباد

9440777782

لاک ڈائون میں آن لائن تعلیم وسائل اور مسائل

کرونا وائرس کی وباء نے سارے عالم کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ زند گی کا ہر شعبہ اور سماج کا ہر فرد بلا لحا ظ مذ ہب و ملت اس کرونا کی وباء سے بے انتہاء متا ثر ہوا ہے ۔ کرونا کی وجہہ سے جہاں شعبئہ حیات میں غیر متو قع تبد یلیاں رونما ہو ئی ہیں۔ انسان کی سماجی ، معاشی ، معا شرتی اور تعلیمی و طبی الغرض زند گی کے تمام شعبوں میں غیر متو قع تبد یلیاں رونما ہو ئی ہیں ۔ جہاں بر تھ ڈے پارٹی میں ہزاروں کی شر کت لازمی تھی ۔ محفل نکاح میں حاضرین کی تعداد محض سینکڑوں تک محدود ہو گئی ہے ۔ کرونا کا خوف یہ ہے کہ آ ج ہر بیمار شخص دواخا نے کو گئے بغیر ہی صحت یاب ہو رہا ہے ۔ کرو نا سے قبل ہر محلہ ، ہر گائوں میں کئی کئی دواخا نے ہو تے اور سب کے سب مصروف رہتے اسکے با وجود بھی تمام کا تمام محلہ بیمار رہتا تھالیکن کرو نا میں آ ج تما م خا نگی دو اخا نے بند ہو نے کے با وجود بھی تمام کا تمام محلہ و شہر صحتیاب ہے ۔لو گوں کے طر ز زند گی میں بھی نما یاں تبد یلیاں رو نما ہو ئی ہیں لو گ اب صرف بنیادی ضرو ر یات زند گی پر ہی اکتفا کر رہے ہیں جبکہ اس سے قبل آ رائش ، زیبایش اور نما ئش میں زرا بھی کمی کو بر داشت نہیں کر تے تھے تاہم اب یہ چیزیں زند گی سے نکل گئے ہیں ۔ کرونا نے انسانی زند گی کے جن شعبوں کو متاثر کیا ہے ان میں تعلیم اور روز گار کا شعبہ بے انتہا ء متا ثر ہوا ہے ۔ ملک میں مارچ ، اپریل اور مئی کے مہینے طلباء کے سا لانہ امتحا نات کے مہینے ہوتے ہیں اور ملک میں عین سا لانہ امتحانات سے قبل ہی لاک ڈائون شروع ہو گیا جس سے طلباء کی تعلیم متا ثر ہو ئی خا نگی تعلیمی اداروں کا بہت نقصان ہوا ۔ ما لیہ وصولی سے مکمل طور پر وہ لو گ قاصر رہے ۔اب بھی ملک میں غیر یقینی صو رتحال ہے ۔ مزدور طبقہ اور غر یب لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے ہنوز پر یشان ہیں ۔ اس پس منظر میں حکو مت نے یہ مشورہ دیا کہ کرونا وائرس اتنا جلدی ختم ہو نے والا نہیں ہے ۔ اس لئے کرو نا کے ساتھ جینے کا سلیقہ سیکھنا چا ہئے اور احتیاط علاج سے بہتر ہے کہ فار مو لے پر عمل کر تے ہو ئے احتیا طی اقدامات کے ساتھ زند گی گزاریں ۔ دوسری طر ف ملک میں خا نگی اداروں با لخصوص تجارتی اورصنعتی اداروں نے اپنے ملا زمین کے لئے ورک فرم ہوم یعنی گھر سے کام کر نے کی سہو لت فراہم کی ہے ۔ اسی طر یقے سے طلباء کی تعلیم متا ثرنہ ہو نے کے لئے حکو مت نے اعلی تعلیمی اداروں کے لیئے آن لائن تعلیم فراہم کر نے کو لا زمی قراد دیا ہے ۔ اور مختلف ایپ زوم، گو گل میٹ ، جیو میٹ ،ویبنار اور یو ٹیوب وغیرہ کے ذ ریعہ طلباء کا تعلیمی سلسلہ جا ری ہے ۔ اب حکومت نے تمام طلباء کو سالانہ امتحانات کے بغیر ہی پرو موٹ کر دیا ہے ۔ البتہ پرو فیشنل کو رسیس کے طلباء کے تعلق سے حکو مت اور طلباء دونوں بھی تذ بذ ب کا شکار ہیں ۔ اسی طر ح انٹر نس امتحانات کے معا ملہ میں بھی کوئی واضح فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے وائرس قابو میںآ جائے تو پرو فیشنل کورسیس کے سال آ خر اور مختلف کو رسیس میں داخلوں کے لئے منعقدہ اہلیتی امتحانا ت بھی منعقد ہو نگے ۔ ملک میں گذ شتہ چار ماہ سے مسلسل تعلیمی ادارے بند ہیں۔ جس کی وجہہ سے ملک کے تقر یباََ 24 کڑوڑ طلباء کی تعلیم متا ثر ہو رہی ہے ۔ اولیا ئے طلباء اپنے بچوں کی تعلیم کو لیکر پر یشان ہیں۔مستقبل قر یب میں بھی تعلیمی ادارے کھلنے کا کو ئی امکان نہیں ہے ۔ البتہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ملک میں سال کے اختتام تک ملک کرو نا پر قابو پالے گا اور اسکی دوائی بھی دستیاب ہو گی تاہم ملک میں کرونا کے دوران ما قبل تحتنانوی تعلیم سے لیکریو نیورسٹی سطح تک کی تعلیم اور ملک کے تعلیمی اداروں میں دستیاب سہولتوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ابھی مر کزی وزارت برا ئے فروغ انسانی وسائل نے ( پر گنیتا) ذہانت کے نام سے ملک کے تمام تعلیمی اداروں کے لئے رہنما یا نہ خطوط جاری کئے ہیں ۔ جس کے مطا بق تحتانوی اور و سطانوی سطح پر جماعت اول تا جماعت ہشتم کے لئے آن لائن تعلیم یو میہ دو مر حلوں میں ہو نا اور ہر مر حلہ 30 تا 45 منٹ سے زائد نہ ہو اور مر حلہ کے بعد 10 تا 15 منٹ کا وقفہ ہو نا لا زمی ہے ۔جبکہ فو قانوی و پر ی یو نیورسٹی کی سطح کی جماعتوں نویں جماعت تا با رہویں جماعت کے لئے کے لئے روز آنہ چار مر حلوں سے زائد آن لائن کلا سیس نہ ہوںجبکہ ما قبل تحتانوی تعلیم کے لئے یو میہ نصف گھنٹہ اور ایک سیشن کافی ہے۔البتہ مر کز نے ریاستوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اس رہنما یا نہ خطوط میں تر میم و اضا فہ کر سکیں ۔ تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ا داروں کے طلباء کے پاس دستیاب سہو لتوں مثلاََ ٹیلی ویژن، اسمارٹ فون،لیاب ٹیاپ اور دیگر ضروری اشیاء کی دستیابی کا جائزہ لے کر ان کو گروپس میں تقسیم کر نا اور مر کز نے وسائل کے اعتبار سے ڈیجیٹل تعلیم کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے ۔کمپیو ٹر یا اسمارٹ فون کے ساتھ انٹر نیٹ کے حا مل طلباء آن لائن کہلا ئیں گے ۔ کمپیو ٹر یا اسمارٹ فون رکھتے ہو ئے انٹر نیٹ کی مستقل سہو لت نہ ہو تو وہ طلباء جز وقتی آن لا ئن کہلا ئیں گے ۔جبکہ ٹیلی ویژن اور ریڈیو رکھتے ہو ئے انٹر نیٹ کی سہو لت نہ رکھیں تو وہ آ ف لائن کہلا ئیں گے ۔تا ہم اسا تذہ کو چا ہئے کہ وہ ان تینوں قسم کے طلباء کو ذ ہین میں رکھتے ہو ئے آ ن لائن نصاب کی تد وین کر یں اور صدر مدرس کو چا ہئے کہ وہ اساتذہ کو آ ن لان تد ریس کی فراہمی کے لئے کمپیو ٹر انٹر نیٹ ، ٹیب وغیرہ فراہم کر یں ۔اور آن لائن کی تد ریس کے دوران طلباء کو بھی بات کر نے کا مو قع فراہم کر یں ۔ مر کزی وزارت برا ئے فروغ انسانی وسائل نے تعلیمی اداروں کو یہ ہدا یت بھی دی کہ وہ مہا جر بچوں کے نام اسکو لس سے خا رج نہ کر یں بلکہ ان کے ناموں کے آ گے عا رضی طور پر عدم دستیاب لکھیں ۔اسی طر ح دوسرے علاقوں سے آ نے والے مہا جر بچوں کو بغیر کسی تعلیمی ریکارڈ یاسر ٹیفکیٹ کے صرف پیدا ئشی صدا قت نامہ کی بنیا د پر اسکول میں داخل کر لیں ۔ آج انٹر نیٹ زند گی کے ہر شعبہ میں اثر انداز ہو چکا ہے اور کرونا کی وباء نے تعلیمی شعبئہ میں انٹر نیٹ کی شمولیت میںمز ید اضا فہ کر دیا ہے ۔ اور آن لائن تد ریس کے جہاں بہت سارے فوائدہیں وہیں اس کے نقصانات بھی زیا دہ ہیں ْ۔ابھی یو نیسیف اور یو نیسکو جیسے عالمی ادارروں نے آن لا ئن تعلیم سے ہو نے والے نقصانات سے آ گاہ کر دیا ہے ۔ آن لائن تد ریس کی وجہہ سے خا نگی تعلیمی اداروں نے طلباء اور اولیا ئے طلباء کو فون کر تے ہو ئے تعلیمی فیس ادا کر تے ہو ئے پا س ورڈ حا صل کر کے آن لا ئن کلا سیس میں شا مل ہو نے کا مطا لبہ کر رہے ہیں ۔ تقر یباََ طلباء کے پاس ایک ہی فون یا کمپیو ٹر ہے جبکہ گھر میں تعلیم حا صل کر نے والے چا ر طلباء ہیں ۔ مسلسل آن لا ئن تعلیم کے نام پر طلباء گھنٹوں کمپیو ٹر ، ٹیب اور فون کے اسکر ین پر وقت گذا ر رہے ہیں جس سے انکی بصارت اور دیگر جسمانی عوارض پیدا ہو نے کا خد شہ ہے ۔ آن لائن تعلیم سے طلباء تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں ۔ آن لائن تعلیم کے لئے طلباء کو اسمارٹ فون ، کمپیو ٹر ، لیاب ٹیب اور اس میں انٹر نیٹ کنکشن کی فراہمی والدین کے لئے لا ک ڈاٗون میں ایک بو جھ بن گیا ہے ۔ اور دیہاتوں میں انٹر نیٹ کنکشن درست نہیں ہو تا جس سے طلباء کو آ ن لائن جماعت میں بلا وقفہ شامل ہو نا مشکل ہو تا ہے ۔ مختصراََ یہ کہا جا سکتا ہیکہ آن لائن تعلیم سے غر یب طلباء محروم ہو رہے ہیں جبکہ ابتدائی تعلیم ہر ہندوستانی شہری بچے کا بنیادی حق ہے ۔ اس کے علاوہ آف لائن طر ز تعلیم میں طلباء استاد کی نظروں کے سا منے رہتے ہیں اور وہ طلباء کو دیکھتے ہو ئے تعلیم فراہم کر تا ہے۔ اس طر ح استاد اور طا لب علم میں ایک تعلق پیدا ہو تا ہے ۔اس کے علاوہ استاد کو طلباء کی نفسیات کو سمجھتے ہو ئے تعلیم دینے کا مو قع میسر آ تا ہے ۔طلباء کے حر کات و سکنات کے مطابق اپنے درس میں دلچسپی کا سا مان فراہم کر سکتا ہے ۔اور استاد کا پڑ ھا یا ہوا سبق طلباء سمجھ رہے ہیں یا نہیں طلباء کے چہروں سے عیاں ہو جا تا ہے ۔جبکہ آن لا ئن میں ایسی سہو لت نہیں ہو تی بلکہ یہ ایک طر فہ گیم کے ما نند ہو تا ہے ۔ آف لائن اگر کو ئی طالب علم سبق میں جسمانی طور پر حا ضر ہو لیکن ذ ہنی طو ر حا ضر نہ ہو تو استاد اسکی دلچسپی اپنی طر ف مبذ ول کر واسکتا ہے ۔ اوریہ بھی حقیقت ہیکہ تد ریس درست سمت میں ہو تو طلباء کے اندر تحقیقی ،تخلیقی ،جما لیاتی صلا حیتیں فرو غ پاتی ہیں ۔تب ہی ان کی تعلیم کا مقصدمکمل ہو تا ہے ۔ دوسری طر ف یہ بھی سچ ہیکہ کو ڈ 19 کی وجہہ سے ملک میں نیا تعلیمی نظام آ ن لاین طر ز تعلیم متعارف ہو اہے ۔ گر چیکہ اس سے قبل بھی کئی یو نیور سٹیاں آن لاین ڈگر یاں فراہم کر رہے تھے ۔ان میں عا لمی سطح پر 8 ورچول یو نیور سٹیاں ہیں ۔اس کے علاوہ ہمارے کلا سروم میں ڈیجیٹل کلا سیس بھی چل رہی تھیں جہاں طلباء بلییک بو رڈ کے بجا ئے پرو جیکٹر ، سے کا م لیا جاتا ہے ۔اعلی تعلیم میں آن لائن کلا سیس تو بہت پہلے سے چل رہے ہیں لیکن پر ی میٹر اور پو سٹ میٹرک پر ی یو نیورسٹی کی سطح تک تعلیم آن لا ئن کرو نا کی بدو لت ہے ۔۔ آن لائن میں اگر 70% نصاب کی تد ریس ہو تو 30% طلباء کو اپنے خیا لات کے اظہار کا مو قع فراہم کر نا چا ہئے ۔آن لائن کلا س مکمل ریکار ڈ کر کے طلباء کے گروپ اور یو ٹیوب میں فراہم کر نا چا ہئے تا کہ طلباء اگر کلا س مقررہ وقت میں شامل نہ ہو سکیں تو انکی سہو لت کے وقت دیکھ سکیں ۔ بہر حال اکیسو یں صدی میں 2020 کا سال ایک یاد گار ہو گا کہ جس نے عالمی سطح پر انسانی زند گی میں ایک انقلابی تبد یلیاں لا ئی ۔ لو گوں کے طر ز زند گی میں اتنی اچا نک تبد یلی آ ئی کہ جس کا تصور بھی محال تھا ۔ تعلیمی شعبہ میں بھی مختلف تبد یلیاں رو نما ہو ئی ہیں ۔ روایتی اساتذہ یا قدامت پسند اساتذہ جو انٹر نیٹ کے استعمال کو اپنے لئے شجر ممنو عہ سمجھتے تھے وہ بھی آ ن لائن کلا سیس لینے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں ۔اور یہ بھی اتفاق ہیکہ طلباء اور اساتذہ کو نصاب اور کتاب سے ہٹ کر بھی مختلف اُمور سیکھنے کا مو قع فراہم ہو رہا ہے ۔ اور ہر دن نئی نئی چیزین سیکھ رہے ہیں ۔اور اس ذ ریعہ سے اپنے آ پ کو ٹکنا لو جی سے ہم آ ہنگ کر رہے ہیں ۔بد لتے وقت کے ساتھ زمانے کے تقاضوں کے مطا بق تعلیم فراہم کر نے کے لئے اساتذہ کو روز بروز ہو رہی ٹکنا لوجی سے واقف ہو نا ضروری ہے ۔ تب ہی وہ طلبا ء کو مکمل تعلیم فرا ہم کر سکتے ہیں ۔اور طلباء کو بھی چا ہئے کہ وہ صرف ڈگر ی اور مارکس کے حصول کے لئے تعلیم حا صل نہ کر یں بلکہ اس لحا ظ سے پڑ ھیں کہ وہ اپنی زندگی کے لئے ، سماج کے لئے اور اپنے ملک کی تر قی میں اہم کر دار ادا کر نے کے لئے تعلیم حا صل کر رہے ہیں ۔اب ملک میں ان لاک 2.0 جاری ہے ۔تقریباََ تجارتی، صنعتی اور تفر یحی ادارے کھل گئے ہیں البتہ تعلیمی ادارے بد ستور بند ہیں کیو نکہ تعلیمی اداروں کو کھلا جائے تو اس بات کی ضمانت نہیں کہ طلباء بحفا ظت کمر ے جماعت میں تعلیم حا صل کر سکیں اور ہندو ستانی کمر ے جماعت اتنے وسیع بھی نہیں کہ اس میں جسمانی فا صلے کے ساتھ تعلیم حا صل کر سکیں ۔ اس اعتبار سے طلباء کو نقصان سے بچا نے کے لئے آ ن لائن طر ز تعلیم ایک متبادل ہے ۔ لیکن یہ اپنے حدود میں ہو تو بہتر ہے ۔اس کے علاوہ آن لائن کلا سیس میں شمو لیت کے لئے طلباء کی ر ضا مندی کو بھی مد نظر رکھا جا ئے ان زبر دستی نہ کی جا ئے ۔ اس بات کو یقینی بنا یا جا ئے کہ خا نگی تعلیمی ادارے آ ن لا ئن تعلیم کے نام پر طلباء اولیا ئے طلباء کو زیر با ر نہ کر یں ۔

مضمون نگار محمد محبوب ۔ مکان نمبر 5-3-221 شا نتی نگر ۔ ظہیرآباد فون نمبر 9440777782