مضامین

اردو تنقید اور انقلابی ادب:ایک جائزہ

عثمان غنی رعدؔ

استاد شعبئہ اردو،نمل،اسلام آباد

اردو تنقید اور انقلابی ادب:ایک جائزہ

کوئی بھی شاعر  اور ادیب اپنے معاشرے اور زمانے کا نباض اور عکاس ہوتا ہے اور اس میں  قوتِ حاسہ باقی تمام لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔اسی لیے تواس کے جذبات،احساسات اور خیالات لفظوں کا جامہ پہنے ایک فشار سے یوں سامنے آتے ہیں کہ سننے اور پڑھنے والے اسی فشار کے بہتے دھارے میں بہتے چلے جاتے ہیں اور یہ دھارا اس وقت اور بھی شدت اور جولانی پر ہوتا ہے جب یہ دھارا زمانے کی فرسودہ رسومات اور کہنہ خیالات پر ضرب لگاتا ہے اور نت نئے زمانے کے سپنے اور مناظر ہماری آنکھوں میں سجاتا ہے۔معاشرے میں تبدیلی کی خواہش اور پرانے خیالات سے چھٹکارا کوئی عام اور معمولی بات نہیں شاید اسی لیے علامہ محمد اقبال نے اس  طرف اشارہ کیا تھا کیوں کہ انھیں بھی ایسے ہی مصائب کا سامنا تھا۔کہتے ہیں:

آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کُہن پہ اَڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

ہر شخص سائے میں بیٹھنا چاہتا ہے مگر شاید ہی کوئی شخص ہو جو درخت بھی لگانا چاہتا ہو۔ہر شخص اچھی،شاندار اور عیاشی و بے فکر پر مبنی زندگی گزارنا چاہتا ہے مگر ان سب چیزوں کے حصول کے لیے محنت کتنے لوگ کرتے ہیں۔اسی طرح ہر آدمی زمانے میں تبدیلی کا خواہاں اور تمنائی ہوتا ہے مگر کتنے ہی لوگ ہیں جو اس تبدیلی کے راستے کو ہموار کرنے اور اپنی جانوں کے نذرانے دینے کے لیے سر پہ کفن باندھ کے نکلتے ہیں۔مگر ایک شاعر اور ادیب کاکام تو صرف اشارہ کرنا اور راستہ سجھانا ہی ہوتا ہے مگر اردو ادب میں ایسے بھی   شاعر اور ادیب موجود ہیں جنھوں نے  پھانسی کے پھندوں کو چوما اور بخوشی دار پہ جھول گئے اور کبھی بھی جابر حکمران کے سامنے کلمہِ حق کہنے سے باز نہیں آئے۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب”ہندوستان کی تحریکِ آزادی اور اردو شاعری“ میں لکھا ہے کہ  1857ء کی جنگِ آزادی کے  وقت صرف دہلی میں 300 سے زائد شاعر موجود تھے۔تو کیا وہ سارے شاعر  محبوب کے لب و رخسار ،خمِ ابرو وکاکل ،مژگانِ چشمِ غزالاں،صراحی دار گردن،مخروطی انگلیوں اور کمرِ موُ سا کی بات کر رہے تھے۔یا پھر بقولِ فیض:

لوٹ جاتی ہے اُدھر کو بھی نظر کیا کیجے

اب بھی دل کش ہے ترا حسن مگر کیا کیجے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ

اور اس بات کا ثبوت داکٹر وحید قریشی  کے مضمون” اردو ادب میں عید الفطر،مشمولہ:اردو نثر کے  میلانات“ میں مل جاتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد غزل کا رخ کن موضوعات کی طرف  ہوا۔لکھتے ہیں:

”اردو کی غزلیہ شاعری میں عید،عید کا چاند،ہلال وابرو،محبوب سے روزِ عیدکی ملاقاتیں اور اس کے متعلقات ہی اہم رہے۔لیکن 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد جب اردو شاعری کی حدود میں وسعت پیدا ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوراردو شاعری کو 1857ء کے بعد ملی احساسات کی ترجمانی کا وسیلہ بھی بنایا گیا اور اس طرح مسلمانوں کی فکری زندگی کے خط و خال نے اردو ادب میں اسلامی اقدار اور روایات کی پاسداری کے عمل کو شدید سے شدید تر کر دیا۔“

اس اقتباس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ 1857ء کی جنگِ آزادی نے ہمارے اردو ادب کو کس حد تک متاثر کیا  تھا اور مستزاد اس پر یہ کہ یہ جنگ ہم ہار گئے تھے اور اسے بعد میں ”غدر“ کے نام سے پکار پکار کر ہمارے شہیدوں کے لہو کو بھی شرمندہ کیا اور بچ جانے والوں کے خون کو مزید بھڑکایا۔

اس جنگ میں  اردو ادب کے بہت سے  شاعر اور ادیب  کام آئے تھے۔امداد صابری اپنی کتاب”1857ء کے مجاہد شعراء“  کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ پچاس سے زیادہ شعرا اس ناکام جنگِ آزادی میں کام آئے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ”تذکرہِ گلستانِ سخن“(دو جلدیں) جو 1854ء کو تالیف ہوا ،میں صرف دہلی  کے شعرا کی تعداد 375 بتائی گئی ہے۔اور یہ ایسے شعرا ہیں جنھوں نے انگریز سامراج کے خلاف علمِ بغاوت ہمیشہ بلند رکھا اور کھل کر  انگریز کی استعماریت پر لکھا۔جن شعرا کے بارے میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ  اپنے ایک مضمون”1857ء اور اردو شعرا،مشمولہ:نگار،لکھنو،1975ء“میں کہتے ہیں:

”ان میں سے اکثر شعرا نے اپنے قلم سے تلوار کا کام لیا اور انگریزوں کے خلاف نظمیں لکھیں۔ ایسے شعرا بہت کم ہیں جو خاموش تماشائی بنے رہے۔“

اس کے علاوہ داکٹر گوپی چند نارنگ کی ہی  کتاب” ہندوستان کی تحریکِ آزادی اور اردو شاعری“ میں انتساب دیکھیے کہ وہ کن لوگوں کے نام کر رہے ہیں۔جس سے اندازہ ہوگا کہ واقعی میں انقلابی شعرا،ادبا اور صحافیوں نے انقلاب کی خاطر نہ صرف ادب تخلیق کیا بل کہ اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا۔

”شمعِ آزادی کے پروانوں ،شاعروں،ادیبوں،دانشوروں،فنکاروں اور صحافیوں کے نام جنھوں نے وطنیت کے احساس کو عام کرنے،سامراج دشمنی کی فضا تیار کرنے اور حریت وآزادی کے جذبات کو بیدار کرنے  میں بیش از بیش کردار انجام دیا۔نیز ضرورت پڑنے پرجان کی بازی بھی لگا دی اور بڑی سے بڑی قربانی سے بھی گریز نہیں کیا۔“

یہ تو میں نے اپنے مقالے کے عنوان  کی تفہیم کے لیے  تمہید باندھی ہے کہ اردو ادب میں کافی انقلابی شاعر اور ادیب موجود ہیں جن کی بدولت اردو ادب میں کافی انقلابی ادب پیدا ہوا۔مگر افسوس ہے کہ آج تک ان پر تنقیدی کام برائے نام ہوا اور ان کا اگر کہیں ذکر بھی آیا تو آزادی کے شعرا کے طور پر آیا اور نقادوں نے انقلابی ادب کا کہیں ذکر ہی نہیں کیا تو  انقلابی ادب پر نقد کہاں سے ہوتا۔اس لیے  میں اپنے مقالے میں آج یہ بتاؤں گا کہ اردو ادب میں انقلابی ادب  ایک تحریک کی حیثیت رکھتا ہے مگر افسوس کہ اس تحریک کو ہمیشہ فراموش کیا جاتا رہا اور یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے نظریے کی خاطر  لڑائیاں بھی لڑیں،گھر بار  چھوڑے ،اولادیں قربان کیں اورجانوں کے نذرانے بھی پیش کیے۔مگر اردو ادب کے نقادوں نے ہمیشہ ان پر ایک انقلابی ادب کے حوالے سے نقد نہیں کیا۔سوائے ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کے،کہ جنھوں نے ایک کتاب انقلابی ادب پر لکھی جس کانام”ادب اور انقلاب“ ہے۔مگر یہ کتاب اس سطح کی ہے ہی نہیں کہ جس نے انقلابی ادب پر نقد کی راہ ہموار کرنی تھی۔بل کہ یہ کتاب تو چند مضامین کا مجموعہ ہے جن سے ذرا بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ کتاب انقلابی ادب پہ تنقید  کی کتاب ہے۔میں یہاں صرف ان مضامین کا  نام بتا دیتا ہوں آگے آپ خود ااندازہ لگا لیجیے گا کہ اردو ادب کے انقلابی حصے کو کس قدر نقد کیا گیا ہو گا۔انتساب،مصنف کےحالات،تعارف،پیش لفظ،پیش کرنے کے بعد مضامین کی فہرست کچھ یوں ہے؛ادب اور زندگی(یہ مصنف کا ایک شاندار مضمون ہے جس میں انقلابی ادب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے،نہ کہ انقلابی ادب پہ نقد۔اس مضمون پہ بھی آگے چل کے بات ہو گی۔)،ادبی ترقی پسندی کا صحیح مفہوم،سوویٹ روس کا ادب،سوویٹ تھیٹر،بنگال کا باغی شاعر(نذرالاسلام)،اردو شاعری میں عورت کا تخیل،اردو زبان کا مستقبل،جنگ اور ادب،ضمیمہ،اردوادب کے جدیدرجحانات۔ان تمام مضامین پہ نطر ڈالیں تو  ”جنگ اور ادب“ ہی ہمیں انقلابی موضوع کے قریب نظر آتا ہے مگر اس مضمون کو پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس مضمون میں اختر حسین انقلابی ادب پہ نقد کی بجائے ہندوستانی ادبا اور شعرا کو نئے زمانے کے تقاضوں سے برسرِ پیکار رہنے کے لیے جنگ کے زمانے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے اور جنگ کے بعد کے حالات کا نقشہ کھینچنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ یہ مضمون”مئی 1943ء“  میں لکھا گیا تھا۔

اقبال کا مضمون”قومی زندگی،مشمولہ:مخزن،اکتوبر 1904ء“اور اختر حسین رائے پوری کا مضمون”زندگی اور ادب ،مشمولہ :رسالہِ اردو،جولائی 1935ء“جو اپریل 1933ء  میں ہندی میں بعنوان”ساہتیہ اور کرانتی“ایک ہندی ماہنامے”وشوامتر(کلکتہ)   میں شائع ہوا تھا۔  ان دونوں مضامین کا انقلابی جائزہ ونقد کرکے نثر میں اچھی خاصی اور بہترین انقلابی ادبی تنقید کا آغاز ہو سکتا تھا مگر ان دونوں مقالوں پر آج تک  نقادوں کی انقلابی نظر نہیں پڑی اور مزے کی بات ہے کہ شعر کی اصل تنقید اور تنقیدی ضرورت کو سمجھنے کے لیے ”ادب اور زندگی“ مضمون، حالیؔ کے مقدمہِ شعروشاعری کے ہم پلہ مانا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ منشی پریم چند کے ہاں  اچھا خاصا انقلابی مواد موجود ہے اور اس کی کہانیوں میں جو کسانوں کے مسائل اور کسانوں کے اتحاد کی بات ہے وہ کمال نقطے کی طرف بڑھتی ہے۔خواجہ احمد عباس جو الطاف حسین حالیؔ کا دوہتا تھا اور جس کے دادا خواجہ غلام عباس 1857ء کی جنگِ آزادی میں پانی پت کے علاقے سے پہلے شہید تھے،نے بھی کئی افسانے اور ناول انقلابی طرز پر لکھے اور انقلابی ادب کو جلا بخشی ۔جن میں ان کے تین ناول”انقلاب،سات ہندوستانی اور کل ہمارا ہے“  انقلابی ادب کے لحاظ سے نہایت اہم ہیں اور ”انقلاب“ ناول کو تو آج تک ہندوستانی ادب میں انقلاب پر لکھا گیا سب سے اہم ناول تصور کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ جو ان کے افسانے ہیں ان میں ایک طویل فہرست انقلابی خیالات پر مبنی  ہے جن میں دو ایک کے نام خصوصیت کے ساتھ لیے جا سکتے ہیں۔مثلاً  خون اور پتھر،آزادی کے پنجرے،کالا سورج اورروٹی خوبصورتی اور انقلاب وغیرہ۔انقلاب کے موضوع پر ایک ڈراما بھی لکھا جس کا نام”بقا کو دعوت“ ہے۔کشمیر کی  تحریکِ آزادی پر ایک انقلابی کتاب” کشمیر کی جنگِ آزادی“ بھی لکھی۔اس کے علاوہ علامہ عنایت اللہ خاں المشرقی،مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا مودودیؒ کی اردو نثر کا باقاعدہ انقلابی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔جن کی کئی  کئی کتابوں کے باقاعدہ نام انقلاب اور آزادی  کے ناموں سے عبارت ہیں اس کے علاوہ  سندھی اور مشرقی نے تو قران کا بھی باقاعدہ انقلابی ترجمہ و تفسیر کی ہے۔مشرقی کی نوبل انعام کے لیے نامزد کتاب ”تذکرہ“ ایک باقاعدہ انقلابی فکر پر مبنی اردو نثر کی کتاب ہے۔سرسید کی تحریک اور اس کے علاوہ ”تہذیب الاخلاق“ میں چھپنے والے کئی مضامین انقلابی نوعیت کے ہیں جن سے باقاعدہ انقلابی فکر جھلکتی نظر آتی ہے۔مگر کہیں بھی کسی نقاد نے ان پر انقلابی نظر نہیں ڈالی۔

ڈاکٹر معین الدین عقیل کی تین کتابیں ”جہاتِ جہدِ آزادی،مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی اور تحریکِ آزادی میں اردو کا حصہ“  میں اگر بغور دیکھیں تو ہمیں انقلابی ادب میں شعرونثر ہر دو پر اچھا خاصا  مواد مل جاتا ہے۔مگر میں حیران ہوتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب موصوف نے بھی ان  ادیبوں اور شاعروں کے کردار اور  کام کو آزادی کے نام اور آزادی کی کوشش سے منسوب کیا ہے مگر انقلابی فکر،باغیانہ تردد اور مزاحمتی خیالات سے تعبیر نہیں کیا۔مولانا غلام رسول مہر کیا چار کتابیں بھی اپنے مطالعے سے کئی ایک انقلاب پسند ادیبوں اور شاعروں کو سامنے لاتی ہیں جن میں؛ سید احمد شہید،سرگزشتِ مجاہدین (1857ء)،جماعتِ مجاہدین(1857ء)اور 1875ء(پاک وہند کی پہلی جنگِ آزادی)۔اس کے علاوہ چودھری محمد علی کی کتاب” آزادی کی تحریکیں“ جو ادارہ ثقافتِ اسلامیہ ،لاہور نے چھاپی ہے اور دوسری کتاب جو عبید اللہ قدسی کی لکھی ہے جس کانام بھی” آزادی کی تحریکیں“  ہے یہ بھی ادارہ ثقافتِ اسلامیہ،لاہور والوں نے چھاپی ہے،کو پڑھیں تو کتنے ہی ادیبوں اور شاعروں کا ذکر انقلابیت کے حوالے سے آتا ہے۔شورش کاشمیری کی تقاریر کا انقلابی نثر کے حوالےسے آج تک مطالعہ نہیں کیا گیا۔ڈاکٹر عبادت بریلوی کا مضمون ” جنگِ آزادی اور اردو ادب“ مشمولہ:علمی و ادبی پہلو،مرتبہ  محمد اکرم چغتائی “ کو بھی پڑھیں تو کئی ایک شاعر اور ادیب انقلاب کے لیے نعرہ فگن نظر آتے ہیں۔ابوالکلام آزاد کی تقاریر اور کئی ایک کتابوں کو انقلابی ادب کا سرمایہ سمجھنا چاہیے جن میں ان کی تقریر جو انھوں نے انگریزوں اور ہندوستانیوں کے سامنے کمرائے عدالت میں کی تھی،جس کو بعد میں ” قولِ فیصل“ کے نام سے شائع بھی کیا گیا،کا ہر ہر لفظ صداقت،ایمان اور قوتِ انقلاب سے بھرپور ہے۔مگر کبھی بھی اس کی طرف کسی نقاد کا دھیان انقلابی فکر سے نہیں گیا۔حال آں کہ ابوالکلام کی نثر میں ہم گالیاں باربار سننے کی خواہش رکھتے ہیں۔مولانا کے اخبار”الہلال اور البلاغ“ میں چھپنے والے سیاسی اور انقلابی کالموں اور فیچرز پر آج تک انقلابی کام کیوں نہ ہو سکا۔یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے۔حال آں کہ  یہی وہ اخبار ہے جو سول نافرمانی اور خلافت تحریک کا زبر دست حامی تھا۔عبدالحمید انصاری کا جاری کردہ اخبار ”انقلاب“ جو 1938ء میں پہلی دفعہ جاری ہوا اور آج بھی جاری وساری ہے۔یہ الگ بات ہے کہ آج کل انڈیا میں وہ ایک عام اخبار کی طرح کا اخبار ہے مگر شروع   کےدس بارا سال اس میں انقلاب سے بھرپور ادب چھپتا رہا،اس کو بھی انقلابی نثر میں ضرور دیکھنا چاہیے۔اس کے علاوہ بھی اردو نثر میں کئی ایک مضامین،رسائل،اخبارات اور کتابیں نثر میں انقلابی موضوعات کی ترجمان ہیں مگر یہاں اختصار کے پیش ِ نظر اسی پر اکتفا کیا جاتا ہے اور انقلابی شاعری  کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

اردوشاعری میں انقلابی شعرا کا ایک طویل سلسلہ ہے اور اس سلسلے میں مسلسل انقلابی شاعری کا رجحان نظر آتا ہے۔اس کی ایک سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ جب ہندوستان میں اردو زبان اپنے قدموں پہ کھڑے ہونے کی کامیاب کوشش کر رہی تھی تو اسی دور میں انگریز بھی ہندوستان میں اپنے قدم جما رہے تھے۔اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو زبان جس خطے میں پروان چڑھی وہیں اسےااپنے وطن کے دشمنوں سے بھی پالا تھا اوراسی وجہ سے اردو میں شاعر شروع میں ہی استعاروں،تشبیہوں اور کنایوں  میں  بغاوت اور مزاحمت کی بات کرنے لگے تھے۔اس موضوع پر چار سال پہلے راقم کا ایک مضمون بعنوان”1857ء سے قبل اردو شاعری میں حب الوطنی کے عناصر” مشمولہ “تحقیقی زاویے”، سہ ماہی ، شمارہ نمبر 8، الخیر یونیورسٹی ، بھمبر، آزاد کشمیرم2016ء، میں چھپ چکا ہے۔جس میں میں نے یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ1857ء کی جنگِ آزادی سے قبل بھی اردو شعرا نے مزاحمتی انداز میں اشعار کہے ہیں جن کی مثالوں کی ایک طویل فہرست بھی پیش کی تھی۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے تو حب الوطنی کی روایت کو امیر خسرو سے شروع کیا ہے اور میر انیسؔ تک مثالوں سے واضح  کیا ہے۔(دیکھیے کتاب ؛ ہندوستان کی تحریکِ آزادی اور اردو شاعری )جن شعرا نے آزادی کے ترانے الاپے  اور علامت اور استعارے میں انگریزی سامراج کو صیاد اور گل چیں کہا ہے۔ ان میں نمائندہ شاعر میر تقی میر، مرزا محمد رفیع سودا اور خواجہ میر درد اہم ہیں جن کی شاعری میں سوزِ وطن، سوزِ گلستان و چمن کے استعارے اور لبادے میں نمایاں ہوتا ہے۔اس دور کی غزلوں میں ظالموں اور غارت گروں کو گل چیں اور صیاد کا نام دے دے کر بیان کیا جاتا تھا۔اور یہی اسلوب ایک خاص وضع کے ساتھ پھر بہادر شاہ ظفر کی شاعری میں جلوہ گر ہوتا ہے اور انھیں استعاروں،کنایوں اور علامتوں کو احسن طریقے سے برت کر وہ شاعری  میں ایسی علامتوں کو امر کر جاتے ہیں۔ایک شعر دیکھیے:

بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ

قسمت میں قید لکھی تھی فصلِ بہار میں

یہ اسلوب کوئی عام اسلوب نہیں بل کہ یہ اسلوب حبسیا ادب کا نمائندہ بنا اور جبریت کے خلاف اور گھٹن کے دنوں میں شاعروں نے اسے ہر دور میں استعمال کیا جن میں  جوشؔ ملیح آبادی ، فیض احمد فیضؔ اور حبیب جالبؔ کے نام نمایاں طور پر لیے جا سکتے ہیں۔جوشؔ کا شعر دیکھیے:

‏اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ

وہ حبس ہے کہ لُو کی دعا مانگتے ہیں لوگ

اور فیضؔ نے تو اس اسلوب کو خاص ادا سے برتا ہے۔مشہورِ زمانہ ایک شعر دیکھیے:

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہو

کہیں تو بہرِ خدا آج ذکر یار چلے

پھر 1857ء کے قریب تو یہ انقلابی شاعری کا  دھارا تھا جس کے جنون نے  اور آزادی ،بغاوت اور انقلاب کی تمنا نے جلتی پر تیل کاکام کیا اور ہر شاعر انقلابی طرز پر لکھنے لگا۔اس سب کے خاص ہندوستانی ذہنیت کارفرما تھی جو شاعری میں اپنا بھرپور جلوہ دکھاتی رہی،اس سب کو سمجھنے کے لیے گوپی چند نارنگ کی کتاب”اردو غزل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب“ کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔

الہ آباد میں مولوی لیاقت علی نے جو شورش کی فضا پیدا کی اور انقلاب کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تو انھوں نے نظم ونثر دونوں میں لوگوں کو انقلاب  اور جہاد کی دعوت دی۔اس کلام کا نمونہ پنڈت کنہیا لال نے اپنی کتاب” محاربہِ عظیم“ میں دیا ہے۔یہاں دو تین شعر نقل کیے جاتے ہیں:

واسطے دین کے لڑنا نہ پئے طمع بلاد

اہلِ اسلام اسے شرع میں کہتے ہی جہاد

ہے جو قرآن وحدیث میں خوبیِ جہاد

ہم بیاں کرتے ہیں تھوڑا سا اسے کر لو یاد

فرض ہے تم پہ مسلمانو جہادِ کفار

اس کا سامان کرو جلد اگر ہو دیندار

بات ہم کام کی کہتے ہیں سنو اے یارو

وقت آیا ہے کہ تلوار کو بڑھ کر مارو

اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اشتہار تک انقلابی لفاظی  اور انقلابی نظم میں ہیں۔ شیخ قلندر بخش جرات نے بھی انگریزوں کے خلاف لکھ کر اپنی قوم کو انقلاب کے لیے اکسایا:ْ

کہیے نہ انھیں امیر اب  اورنہ وزیر

انگریزوں کے ہاتھ ہیں قفس میں اسیر

مصحفی کا شعر دیکھیے جو انھوں نے ہندوستان کی بگڑتی معیشت کی طرف اشارہ کیا اور وجہ بتائی:

ہندوستان کی دولت وحشمت جو کچھ کہ تھی

کافر فرنگیوں نے بتدبیر  کھینچ لی

مومن خاں مومن تو جہاد میں اور اس انقلاب میں اپنی جان قربان کرنے کو بہت بڑی خوش نصیبی سمجھتے تھے اور انھوں نے جہاد اور انقلاب کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک مثنوی” جہادیہ“ بھی لکھی۔جس کے کچھ اشعار دیکھیے:

عجب وقت ہے یہ جو ہمت کرو

حیات ابد ہے جو اس دم مرو

سعادت ہے جو جانفشانی کرے

یہاں اور وہاں کامرانی کرے

الٰہی مجھے بھی شہادت نصیب

یہ افضل سے افضل عبادت نصیب

الٰہی اگرچہ ہوں میں تیرہ کار

پہ تیرے کرم کا ہوں امیدوار

یہ دعوت ہو مقبول درگاہ میں

مری جاں فدا ہو تری راہ میں

میں گنج شہیداں میں مسرور ہوں

اسی فوج کے ساتھ محشور ہوں

شاہ ؔنصیر،موؔمن اور ذؔوق تو غدر سے پہلے ہی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔مگر کچھ شعرا کو اس  غدر کی پاداش میں  شہید بھی کیا گیا جن میں صہبائی سرِ فہرست ہیں۔اور جن پر مظالم ڈھائے گئے اور نوکریوں سے برطرف کیا گیا ان میں محمد حسین آزاد،آزردہ،منیر شکوہ آبادی اور ظہیر دہلوی  اہم ہیں۔مرزا غالب سنہ 57ء میں دہلی میں ہی رہے اور انھوں نے ان حالات کا ذکر  اپنی فارسی کتاب ”دستنبو“ میں کیا ہے۔جس  میں سے ایک شعر یہاں درج کیا جاتا ہے:

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

سنہ 57ء  میں ہونے والی جنگ ایک ایسی جنگ تھی جس میں زیادہ تر رہنما اور انقلاب کے حامی شاعر تھے،جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انقلابی لفاظی کا ایک سمندر روز بہتا ہو گا۔مثلاً  بہادر شاہ ظفر شاعر،مرزا خضر سلطان شاعر،مرزا برجیس قدر شاعر اور نواب بریلی بھی شاعر اور رہنما بھی۔اس کے علاوہ بہت سے انقلابی شاعر اور بھی ہیں جنھوں نے اپنی انقلابی شاعری سے اس وقت لوگوں کے خون کو گرمایا اور انقلاب کی راہیں ہموار کرنے کی کوششیں کیں۔جن کے نام یہاں درج کیے جاتے ہیں:قاضی فضل حسین،حکیم تجمل حسین خان، محمد علی تشنہ،حکیم محمد تقی سوزاں،صغیر دہلوی،حکیم آغا جان عیش، بش پرشاد فرحت،باقر علی خاں کامل،غلام دستگیر مبین اور حکیم محسن خاں محسن وغیرہ۔

جنگِ آزادی کے بعد کی شاعری میں حالیؔ،شبلیؔ اور آزادؔ منظر پر چھائے رہے اور انقلابی شاعری کی فضا ذرا ماند رہی اور پھر ہندوستان میں  آزادی کی تحریکوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا تو ایک دفعہ پھر انقلابی ادب خصوصاً شاعری کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔جو ہمارے سامنے کے شاعر ہیں ا س لیے ان کے نام ہی گنوا دیے جائیں گے تاکہ طوالت سے بچا جا سکے۔ان میں جوش ملیح آباد،علامہ محمد اقبال،برج نرائن چکبست،حسرت موہانی،ساحر لدھیانوی،فیض احمد فیض،مجاز لکھنوی،شورش کاشمیری،مخدوم محی الدین،علی جواد زیدی،رام پرشاد بسمل،اشفاق اللہ خان،سردار نو بہار سنگھ صابر،کنور پرتاب چندر آزاد،ٹیکا رام سخن،پنڈت چندرکا پرشاد جگیاسو اختر،کشن چند زیبا،عثمانؔ،خورشید،خنجرؔ،کمل،غنیؔ،نیر،سرجو،روشن،گرمکھ سنگھ،ماہر،مہاراج بہادربرق،ہلال،خلیق،مظفر، کنھیا لال ثاقب،انور،مسز صدیقی بریلوی،شام لال پارشد،شوخ کیرانوی،تاجور ،مجنوں،منشی گوری شنکر لال اختر،فیروز الدین منصور،سکھ دیو پرشاد بسمل الہ آبادی،سیوک رام ناصر،للتا پرشاد اختر سہارنپوری،پنڈتدستہ پرشادفداؔ،مولانا ظفر علی خان،احمق پھپھوندوی،پنڈت اندر جیت شرما،جمیل مظہری،حفیظ جالندھری،روش صدیقی، احسان دانشؔ،ساغر نظامی،اسرارالحق مجاز،الطاف مشہدی، جاں نثاراختر،شمیم کرہانی،عمر انصاری،رضا نقوی،سید احتشام حسین رضوی،سردار جعفری،معین احسن جذبی،وقار انبالوی،سلام مچھلی شہری وغیرہ۔ اور بھی کئی شاعر ہیں مگر یہاں زیادہ ان کے نام گنوائے گئے ہیں کہ جن کی نظمیں اور غزلیں ایسٹ انڈیا کمپنی نے انقلابی فکر کے تحت ضبط کر لی تھی۔

مسلمانوں کے اندر واقعہِ کربلا بھی انقلاب کا استعارہ ہے اور اس پر بھی بہت زیادہ انقلابی ادب موجود ہے۔جس میں زیادہ تر رثائی ادب کو دیکھنے کی ضرورت ہے جس میں باقاعد کربلا بطورِ انقلابی استعارہ استعمال ہوا ہے۔بل کہ جوش ملیح آباد نے تو رثائی ادب کو باقاعدہ طریقے سے  انقلاب میں داخل کیا ہے۔جس کی مثال ان کا  مشہورمرثیہ” حسین اور انقلاب“ ہے۔اس کے علاوہ بھی ان کی نظموں میں کربلا کو انقلابی طور پر دیکھا جاسکتا ہے مثلاً ایک نظم” کیا ہوگا؟“ میں سے ایک شعر دیکھیے:

سرِ یزید اتارے بغیر اے یارو!

فقط حسین پہ آہ وفغاں سے کیا ہوگا

اسی ضمن میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی کتاب”سانحہِ کربلا بطور شعری استعارہ“ بھی انقلابی نقد  میں ایک اہم کاوش ہے۔

میرا ماننا ہے کہ اردو ادب میں انقلابی ادب کی باقاعد ایک تحریک پائی جاتی ہے جس کو ترقی پسند تحریک سے علاحدہ کر کے دیکھنا چاہیے اور اس پر باقاعدہ کام ہونا چاہیے۔کیوں کہ ابھی تک انقلابی ادب پہ جو تنقیدی کام ہوا ہے وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔انقلاب معاشرے کے اجتماعی نظام میں تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے اس لیے اس کا سب سے پہلا حملہ حکومت پہ ہوتا ہے اور بغاوت ی ساری چنگاڑیاں تخت وتاج کی طرف ہی اٹھتی ہیں۔اگر اس کو انگریزی میں کہیں تو The politico-Socio-Economic System کہنا چاہیے۔اور انسان اپنی فطرت میں  زندگی کے ہر شعبے اور میدان میں تبدیلی چاہتا ہے۔اس لیے انقلابی ادب اور انقلابی نقد کی ہر معاشرے کی اولین ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ: یہ مقالہ یونیورسٹی آف سیال کوٹ کی آن لائن کانفرنس میں پڑھا گیا تھا اور یہاں اسی صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔مستقبل میں اس میں مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔