مضامین

ناول “دشت سوس”مذہب اور تاریخ کی روشنی میں

فریحہ باجوہ 

سیال کوٹ ، پاکستان 

ناول “دشت سوس”مذہب اور تاریخ کی روشنی میں

“دشت سوس” جمیلہ ہاشمی کا المیہ ناول ہے ۔جمیلہ ہاشمی اردو ناول نگار اور افسانہ نگار کی حیثیت سے جانی اور پہچانی جاتی ہیں۔وہ امرتسر میں پیدا ہوئیں ۔1947ء میں جب وہ میٹرک میں تھیں انکا خاندان ہجرت کر کے لاہور آ گیا۔انھوں نے ایف سی کالجلاہور سےایم اے کیا ۔انکی شادی بہاولپور میں ہوئی لیکن شوہر کی وفات کے بعد وہ لاہور میں ہی رہیں۔وہ اپنے ہاں مہینے میں ایک دفعہ ‘شب افسانہ ‘کے نام سے محفل منعقد کیا کرتی تھیں جس میں اشفاق احمد ،بانو قدسیہ،قراۃالعین حیدر،حجاب امتیاز علی تاج،نثار عزیز،صلاح الدین محمود اور بہت سے دوسرے شرکت کیا کرتے اور اپناتخلیق کردہ افسانہ سنایا کرتے۔”دشت سوس”بھی جمیلہ ہاشمی کی تخلیقات میں سے بہترین تخلیق ہے۔یہ انکا بہترین ناول ہے جو حسین بن منصور حلاج کی زندگی سے متعلق ہے۔

اگر “دشت سوس “کے لفظی معنی پر غور کیا جائے تو دشت کے معنٰی صحرا کے ہیں اور سوس کے معنی ٰمگرمچھ کے ہیں ۔صحرا اپنی تپش اورویرانی  کےاعتبار سے جانا جاتا ہے جبکہ مگرمچھ اپنے حلق سے گرم ہوا نکالتا ہے اور ہر شے کو نگل جاتا ہے۔اگر استعاراتی معنی پر غور کریں تو اسکا مطلب

ہے روح کی پیاس۔                                       

اس ناول کا مرکزی کردار حسین بن منصور حلاج ایک آتش پرست مخمی کا پوتا ہے۔ مخمی کے بیٹےمنصور نے اپنے والد کے مذہب کو خیر آباد کہہ دیا اور دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔حسین بن منصور ایک مقناطیسی کردار ہے ۔اس ناول میں اسکی حیثیت سورج کی سی ہے اور تمام کردار اس کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ناول کو تین ابواب صدائے ساز،نغمئہ شوق اور زمزمئہ موت میں تقسیم کیا گیا ہے۔اس کتاب میں مصنفہ نے حسین بن منصور حلاج کی پوری زندگی بچپن،لڑکپن اور بڑھاپے سمیت انکی باطنی اور دنیاوی زندگی کے تمام سفر کو قلمبند کیا ہے۔اس ناول میں انکے عقائد اور انکے باطنی وجود میں مضمر وہ آتش جو انھیں دادا سے وراثت میں ملی تھی اور وہ مذہبی انہماک جو مختلف بزرگان دین سے تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے انکی ذات کا حصہ بنا ان سب کو انتہائی خوبصورتی سےبیان کیا گیا ہے۔بچپن سے تختہ دار تک تمام واقعات کو انتہائی محنت سے ایک لڑی میں پرویا گیا ہے۔یہ انکے  عشق حقیقی ،دیوانگی اور مجذوبیت کے سفرکا منفرد احوال ہے۔                                                                                   

حلاج کے معنی روئی دھننے والے کے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حسین کے والد روئی دھننے کے پیشے سے منسلک تھے اس لیے وہ حلاج کے نام سے مشہور ہوئے۔حلاج کے دوسرے معنی بادل کا چمکنا اور حق گوئی کی آواز بلند کرنا کے بھی ہیں۔لیکن مورخ خطیب بغدادی اس بات کی نفی کرتے ہوئے شیخ عبدالرحمٰن کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ                                                                               

حسین بن منصور کو حلاج اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بار عراق کے شہر واسطہ میں ایک دھنے(جلاہے) کی دکان پر پہنچےاور اسے کسی کام کے لیے بھیجنا چاہا۔

دھنے نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا ‘میں آپکا کام کر دیتا ہوں مجبوری یہ ہے کی مجھے شام تک روئی دھن کر دینا ہے۔اگر میں آج یہ کام نہ کر سکا تو مجھے اجرت نہیں ملے گی۔’حضرت شیخ حسین بن منصور ؒنے اس دھنے سے فرمایا       ‘تم میرا کام کر دو میں تمہارا کام کر دوں گا ‘                                                             

آپ کی بات سن کر جلاہا چلا گیا۔پھر جب وہ کام کر کے واپس لوٹا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دکان میں موجود ساری روئی دھنی ہوئی رکھی تھی۔یہ روئی کا اتنا بڑا زخیرہ تھا [1]کہ اسے دو چار ماہ میں دھننا دشوار تھا۔پھر اس جلاہے نے دوسروں پر یہ راز فاش کر دیانتیجتا ًحضرت حسین بن منصور حلاج کے نام سے مشہور ہوئے”       

حسین بن منصور حلاج ایک ایرانی شاعر ،استاد اور صوفی تھے۔حسین کی پیدائش 244ھ میں بیضا کے گاوں ‘طور’میں ہوئی۔حسین کے والد منصور نے اپنے باپ دادا کا مذہب (مجوسی) چھوڑ  کر اسلام قبول کر لیا تھا۔حسین نے سولہ برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔اسکے بعد انہوں نےعبداللہ تسترری ؒکی مریدی اور شاگردی    اختیار کی۔ حضرت سہل بن عبداللہ تستری ؒ کا شمار اہل تصوف ،اولیاءاور صوفیاکرام میں ہوتا ہے۔سہل بن عبداللہ تستری ؒ کئی کئی دن تک مسلسل فاقہ کرتے،کسی دیوار کے ساتھ پشت لگا کر نہ بیٹھتے،زیادہ وقت خاموش رہتےاور ریاضت اورمجاہدہ میں رہتے اور ہر وقت اللہ ھو کا ورد کرتے رہتے۔اان تمام کاموں کی تلقین وہ اپنے شاگردوں کو بھی کرتےتھے۔نیز سہل بن عبداللہ تستری ؒ اپنے مریدوں کو تلقین فرماتے کہ وہ اپنے نفس پر قابو رکھیں ۔اس سلسلے میں فرماتےتھے۔                                    

“فرمایا کہ جس نے نفس پر قبضہ کر لیا وہ پورے عالم پر قابض ہو گیا۔فرمایا کی منافقت نفس صدیقین کا پہلا گناہ ہے۔کیونکہ مخالف نفس سے بہتر کوئی عبادت نہیں اور جس نے نفس کو شناخت کر لیا اس نے خدا کو پہچان لیا ۔اس نے ہر شے حاصل کر لی۔فرمایا کہ صدیقین پر خدا ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے جو اس کو اوقات نماز سے مطلع کرتا رہتا ہے۔اور اگر وہ سو جاتا ہے تو بیدار کر دیتا ہے۔فرمایا کہ صوفیا وہ ہیں جو کدورت سے پاک غوروفکر کے عادی خالق سے نزدیک اور مخلوق سے دور ہوتے ہیں اور خاک اور سونے میں ان کے نزدیک کوئی فرق نہیں ہوتااور کم کھانا مخلوق سے فرار اختیار کرنا خالق کی عبادت کرنا عین تصوف ہے۔فرمایا کہ توکل انبیا کرام کی پسندیدہ شے ہے۔اسی لیے متبعین کے لیے اتباع سنت ضروری ہے اور توکل کا مفہوم یہ ہے کہ خدا کے سامنے اس طرح رہےجیسے  غسال کے سامنے میت پڑی رہتی ہےاور متوکل کی شناخت یہ ہے کہ نہ تو کسی سے طلب کرے نہ بغیر طلب کسی سے کچھ لے ۔بلکہ اگر کوئی کچھ دے بھی دے تو اسے صدقہ کر دے ۔اور مواعید خداوندی پر صدق دل سے ایمان رکھے ،اور خواہ کچھ پاس ہو یا نہ ہو ہر حال میں مسرور رہے۔لیکن توکل بھی اس کو نصیب ہوتا ہے جو دنیا کو چھوڑ کر عبادت و ریاضت میں مشغول ہو جائے اور توکل ہی ایک ایسی شے ہے [2]جس میں سوائے اچھائی کے برائی کا کوئی پہلو ہی نہیں ہوتا                                                                                                    ۔       

                                           حسینبن منصور حلاج نے وہاں عربی ادب اور دیگر علوم میں دسترس حاصل کی اور تصوف سے لگاؤاسی دور میں ہوا۔لیکن دو سال قیام کرنے کے بعد بغیر اجازت ہی روانہ ہوئے۔لوگوں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ یہاں میرے دل کو سکون نہیں ملا ۔دراصل حسین بن منصور انتہائی بے قرار طبیعت کے مالک تھے ۔18 سال کی عمر میں لا ابالی طبیعت کی وجہ سے انہوں نے تستر کو خیر آباد کہہ دیا  اور بصرہ روانہ ہوئے۔ بصرہ سے بغداد پہنچے جہاں انہوں نے عثمان مکی ؒکی شاگردی اختیار کی۔بعض مورخین کا خیال ہے کہ حسین بن منصور حضرت سہل بن عبداللہ تستری ؒ کی صحبت میں ضرور رہے لیکن بیعت نہیں کی ۔چنانچہ حضرت عمرو بن عثمان مکی ؒ ہی ان کے مرشد اول تھے۔انہوں نے عمرو بن عثمان مکی ؒکی اجازت سے ریاضت اور مجاہدات کو جاری رکھا۔اور شب وروز عبادت میں گزارنے لگے۔حضرت عمرو بن عثمان مکی ؒحضرت جنید بغدادی ؒکے مرید تھےچنانچہ اسی دوران انکا تعلق جنید بغدادی ؒسے بھی قائم ہوا۔                                                                                                                حسین بن منصور ابو اقطع کی بیٹی سےشادی کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابو اقطع عمرو بن عثمان مکی ؒ کے دوست تھے۔استاد محترم نے حسین بن منصور کو اس شادی سے منع کیا ۔مگر حسین بن منصور نے اپنے استاد کی بات نہ مانی۔جسکی وجہ سے استاد اور شاگرد کے رشتے میں دراڑ پیدا ہوئی۔علاوہ اذیں

کہا جاتا ہے کہ حسین بن منصور حلاج نے اپنی شاگردی کے دوران اپنے استاد محترم کا رسالہ(گنج نامہ)جسے وہ بہت حفاظت سے رکھتے تھے چرا لیا تھا اور اسکی نقل تیار کرنے کے بعد اسے واپس رکھ دیا ۔غصہ کے عالم میں عمرو بن عثمان مکی ؒنے بددعا دی کہ جس نے میرا رسالہ چرایا ہے خدا کرے کہ اسکے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں اور اسے دار پر کھینچا جائے اور اسکی راکھ دجلہ میں بہائی جائے۔اور منصور بن حلاج کے ساتھ جو ہوا وہ انکے استاد کی بددعا کا نتیجہ تھا۔

ابو اقطع کی بیٹی زینب سے حسین بن منصور کی شادی ہوئی۔زینب کے بطن سے انکے چار بچے پیدا ہوئے ۔تین لڑکے اور ایک لڑکی۔ان دنوں وہ انتہائی اضطراب اور بے چینی کا شکار ہو گئے تھے۔جنون کی سی کیفیت رہتی تھی۔اپنے آپ کا ہوش نہ تھا۔ریاضت اور عبادت میں مشغول رہتے تھے۔

ابو یعقوب اقطع کی بیٹی سے شادی اور گنج نامہ کی چوری یہ دو ایسی غلطیاں تھیں جنھوں نے عمر بن عثمان مکی اور حسین بن منصور حلاج کے درمیان دوریاں پیدا کر دیں۔                                                                                

حضرت عمرو بن عثمان مکی ؒسے حالات خراب ہونے کے بعد حسین بن منصور حلاج  حضرت جنید بغدادی ؒکی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن انہوں نے پہلے توحسین بن منصور کو اپنی شاگردی میں لینے سے  صاف انکار کر دیا لیکن ان کا اضطراب ،وحشت اور بیقراری دیکھ کر انھیں اپنی شاگردی میں قبول کر لیا۔                                                                                                                    

حضرت جنید بغدادی ؒواعظ اور نصیحت فرمایا کرتے تھے۔آپ فرماتے تھے کہ صوفی وہ ہوتا ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے میں حدیث۔حضرت جنید بغدادی ؒحضرت سقطی ؒکے بھانجھے بھی تھے اور مرید بھی۔بچپن ہی سے بلند مدارج طے کرتے رہے۔آپؒ نے بغداد میں آئینہ سازی کی ایک دکان کھول رکھی تھی جس میں پردہ ڈال کر ایک طرف عبادت میں مشغول رہتے تھے۔انہیں سیدالطائفہ ،لسان القوم ،طاوس العلماء اور سلطان المحققین کے خطبات سے نوازا گیا۔کسی شخص نے حضرت سقطی ؒ سے سوال کیا کہ کیا کوئی مرید اپنے پیرومرشد سے بلند مقام حاصل کر سکا ہے تو انہوں نے کہا کہ بلاشبہ میرا مرید جنید مجھ سے بلندمرتبہ کا حامل ہے۔حضرت جنید بغدادی ؒ نے مسلسل 40 سال  عبادت کی انتہا کر دی۔30 سال مسلسل عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی۔گوشہ نشینی اختیار کی اور مسلسل نوافل میں پوری پوری رات گزر جاتی تھی۔

حضرت جنید بغدادیؒ  منصور بن حلاج کو اپنی شاگردی میں لینے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے لیکن سختی سے بھی پیش نہ آتے تھے۔

اور میں نے حکایات میں پایا ہے کہ کہ جب حسین بن منصورنے اپنے غلبہ میں عمرو بن عثمان ؒسے تیرا بازی کی اور جنید کے پاس آیا تو جنید رحمتہ اللہ علیہ نے کہا کہ تو کس لیے آیا ہے۔اس نے کہا شیخ کی صحبت اختیار کرنے کے لیے۔آپؒ نے فرمایا میں مجنوں کو اپنی صحبت میں نہیں لیا کرتااس لیے کہ صحبت کے لیے صحیح الحال ہونا ضروری ہے۔اس لیے کہ جب تو آفت کے ساتھ صحبت کرے گا تو  ایسا ہو گا کہ جیسا تو نے سہل بن عبداللہ تستری اور ابو عمر کے ساتھ کیا۔منصور نے کہا اے شیخ !

الصحوالسکر صفتان للعبد ومادامالعبد محجوباعن ربہ حتی فنی او صافہ

یعنی صحو اور سکر بندہ کی دو صفتیں ہیں اور ہمیشہ بندہ خداوندکریم سےمحجوب ہے جب تک کے اپنےاوصاف فانی نہ ہو جاویں۔

جنید رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ                                                                                                                  

یا ابن المنصور اخطات فی الصحور و السکر لان الصحو  عبادۃ بلا خلاف عن صحتہ حال العبد مع الحق و ذالک لا  یخل تحت صفتہ العبد و اکتساب الحق و انااری بابن المنصور فی کلامک فضولا کثیراو عبادات لا طائل تحتھا۔                                                                                                                  

یعنی اے ابن منصور تو نے صحو اور سکر میں خطا کی ہے۔اس لیے اس میں کچھ خلاف نہیں کہ سحو خدا کے ساتھ صحیح الحالی ہے اور سکر سے مراد غایت محبت اور زیادتی شوق ہےاور یہ دونوں معنی مخلوقات کے کسب کی صفت کے نیچے آ سکتے ہیں۔اور اے بیٹے منصور کے میں تیرے کلام میں بہت کچھ فضول گوئی دیکھتا ہوںاور تیری عبادتیں [3]بےمعنی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب۔”

حضرت جنید بغدادی جان چکے تھے کی انکا شاگرد حسین بن منصور حلاج دیوانگی کی حد کو چھو چکا ہے۔وہ اپنے شاگرد سے ناخوش تھے۔کیونکہ  حسین بن منصور نے اپنے استاد محترم کی اجازت کے بغیر خرقہ پہن لیا تھا اور انکے بہت سے مرید بھی تھے۔لیکن اسکے باوجود انہوں نے کبھی اپنے شاگرد کو بددعا نہیں دی تھی۔انکے بہت سے مرید انکے گرد جمع رہتے تھے۔حسین بن منصور ایک برس تک حضرت جنید بغدادی ؒ کی خدمت میں رہےاسکے بعد مکہ مکرمہ میں مجاور بن کر بیٹھ گئے۔مشہور مورخ خطیب بغدادی نے محمد علی بن کنانی کے حوالے سے یہ  روایت بیان کی ہے کہ

“جب منصور حلاج مکہ معظمہ پہنچے تو گڈری جوؤں سے بھری ہوئی تھی ۔بعض جوئیں منصور کا خون پیتے پیتے غیر معمولی جسارت اختیار کر گئی تھیں۔انہیں اپنی ریاضت کی وجہ سے اتنا بھی ہوش نہیں تھا کہ لباس بدل ڈالیں  یا کپڑوں کو جؤوں سے صاف کر لیں ۔                                                                     

دوسری بزرگ ابو یعقوب نہر جوریؒ بیان کرتے ہیں کہ حسین بن منصورؒپہلی بار مکہ معظمہ میں آئے تو سال بھر تک مسجد حرام کے صحن میں بیٹھے رہےوضو اور طواف کے سوا کسی وقت بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتے تھے ۔انہیں نہ رہائش کی پرواہ تھی نہ دھوپ کی۔شام کے وقت حسین بن منصورؒ کے لیے ایک روٹی اور ایک کوزے میں پانی لایا جاتا تھا۔آپؒ  کھانے سے پہلے ایک گھونٹ پانی پیتے تھے، پھر روٹی کے چاروں طرف سے ایک ایک نوالہ  توڑ کر کھاتے تھے۔اسکے بعد ایک گھونٹ پانی پیتے تھےاور باقی روٹی کو [4]پانی کے کوزے پر رکھ دیتے تھےجسے بعد میں ان کے سامنے سے ہٹا لیا جاتا تھا۔”ّ

مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران اور واپسی کے سفر کے دوران ان سے بہت سی کرامات ظاہر ہوئیں ۔بہت سے لوگ انہیں مستجاب الدعوات سمجھتے ہوئے دعائیں کروانے کے لیے آتے۔ان کے گرد لوگوں کا مجمع رہتا۔شکستہ حال لوگ مدد کے لیے آتے تو وہ آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرتے۔جب ہاتھ نیچے کرتے تو اس میں درہم موجود ہوتے ان تمام درہموں پر قل ھو اللہ احد لکھا ہوا ہوتا۔ایک مرید ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ ریاضت میں مشغول تھے۔عقیدت مند خاموش  بیٹھ کر منصور بن حلاج کی آنکھیں کھلنے کا انتظار کرنے لگا اس دوران ایک خطرناک بچھو ظاہر ہوا جو حسین بن منصور کے عبا میں چھپ گیا۔ اس مرید نے زور دار چیخ ماری تو حسین بن منصور نے آنکھیں کھول کر پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ کس تکلیف کی وجہ سے چیخ رہے ہو ۔مرید نے بتایا اے شیخ ! ایک بچھو آپ کے عبا میں چھپ گیا ہے۔اس دوران وہ بچھو نکلا تو مرید اسے مارنے کے لیے دوڑا۔حسین بن منصور پورے جلال سے بولے خبردار اسے ہاتھ مت لگانا ۔وہ شخص رک گیا اور عرض کرنے لگا ۔یہ نہایت موذی اور زہریلا کیڑا ہے۔اس کی موجودگی سے نقصان کا اندیشہ ہے ۔اس موقع پر حسین بن منصور بولے’تو کیا جانے یہ کون ہے؟یہ بارہ برس سے میرا دوست ہےاور اسی طرح سے میرے گرد گھومتا رہتا ہے۔اس شخص نے یہ واقعہ لوگوں کو سنایا تو بہت سے لوگوں نے بے ساختہ کہا کہ  بلاشبہ حسین بن منصور ولی ہیں اور یہ انکی کرامت ہے۔لیکن بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ طلمسی داستان ہے۔فرضی افسانہ ہے۔بعض علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ حسین بن منصور ساحر ہےاور جادوگری کے کرتب دکھا کر مخلوق خدا کو گمراہ کرنا چاہ  رہا ہے۔

الغرض مکہ مکرمہ سے واپسی پر حسین بن منصور کے ساتھ مریدوں اور درویشوں کی ایک جماعت تھی۔وہ سب حسین کو اپنا مخدوم تصور کرتے تھے۔یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ اب وہ طالب معرفت نہ رہے تھے بلکہ پیرو مرشد کی حیثیت اختیار کر چکے تھے۔وہ درویشوں کی ایک جماعت کے ہمراہ اپنے پیرومرشد حضرت جنید بغدادیؒ کے حضور پیش ہوئے۔انکے چہرے،لباس اور چال ڈھال سے ثابت ہو رہا تھا کہ وہ مریدوں اور غلاموں والی حرکات و سکنات کے حامل نہ تھےبلکہ مخدومانہ شان رکھتے تھے۔

حسین بن منصور سے حضرت جنید بغدادی ؒپہلے والی محبت سے پیش آئے۔حال احوال پوچھا لیکن کسی مسئلہ کے حل کے لیے جب حسین نے پوچھا تو مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی۔حسین بن منصور نے تین مرتبہ مسئلہ دوہرایا لیکن جواب نہ پا کر رخصت ہوئے۔یہ بات ثابت کرتی ہے کہ حضرت جنید بغدادیؒ اپنے مرید سے ناراض تھے۔

اس دوران جہاں حسین بن منصور کے بیشمار چاہنے والے تھے وہاں انکی مخالفت نے بھی زور پکڑا اور بہت سے لوگ انکے خلاف میدان میں اتر آئے۔ان حالات کے پیش نظر انھیں ایران کی طرف جانا پڑا۔وہاں  انہوں نے پانچ برس قیام کیا اور تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔ایران سے واپسی پر تستر آئے اور اپنے خاندان کے ہمراہ بغداد روانہ ہوئے۔کچھ عرصہ بعد حج کیا اور فریضئہ حج کی ادائیگی کے بعد ہندوستان کی جانب روانہ ہوئے۔انہوں نے سیرو سیاحت کے ساتھ ساتھ تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔اس سفر کے دوران بدھ مت اور ہندو مت کا مطالعہ بھی کیااور لوگوں کو راہ حق کی طرف لانے کی کوشش بھی کی۔اس تبلیغی مشن میں کئی  ہندو مسلمان بھی ہوئے۔ہندوستان ،چین اور ترکستان کے لمبے سفر سے واپسی پر تیسرے حج کے لیے روانہ ہوئے۔

اس وقت تک ہر طرف انکے طرفدار اور مرید پیدا ہو چکے تھے۔ہندوستان کے لوگ انہیں  ‘مغیث’ پکارتے تھے۔چین اور ترکستان کے باشندے انہیں ‘مقیت’کہتے۔خراسان کے باشندے ‘ممیز’اور فارس کے باشندے ‘ابو عبداللہ’پکارتے۔حسین بن منصور پر شعبدہ باز ی اور ساحری کا الزام تو پہلے سے تھا اس لمبے سفر سے واپسی پر ایک اور الزام مخالفین کی طرف سے سامنے آیا کہ حسین بن منصور کے ماننے والے انہیں خدا  سمجھتے ہیں۔اس کی وجہ وہ القابات تھے جو مختلف علاقوں کے لوگوں نے انہیں عطا کیے تھے۔’مغیث’عربی زبان کا لفظ ہے جسکے معنٰی ہیں فریاد سننے والا۔اور یہ خصوصیت صرف اللہ کے لیے مختص ہے۔’مقیت’عربی زبان کا لفظ ہے اور اللہ تعالیٰ کے اسمائے مقدس میں سے ایک ہے جسکے معنٰی توانا،روزی دینے والے کے ہیں۔چنانچہ مخالفین نے الزام لگایا کہ حسین بن منصور اپنی پرستش کروا رہے ہیں۔اس لیے وہ کافر اور زندیق سمجھے جانے لگے۔ ساتھ ہی ساتھ انکی بے چینی اور اضطراب انتہا کو پہنچ گیا جسکی وجہ سے لوگ مجنوں اور دیوانہ پکارنے لگے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان دنوں حامد بن عباس بغداد میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تعینات ہوا تھا۔وہ مسلمان تھا اور مذہب سے کوسوں دور تھا۔وہ خانقاہ اور مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد محمد بن جراح کاتب کے دفتر میں حساب کتاب کے لیے تعینات ہوا۔وہ انتہائی محنتی ،کم گو اور جانفشانی سے کام کرنے والا شخص تھا ۔اس کے والد نے ایمانداری سے زندگی گزارنے کے باوجود شکست کھائی تھی۔وہ اپنے والد کی شکست کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز ہو۔اسی لیے وہ  محنت اور جانفشانی سے ہر وقت کام میں لگا رہتا۔اس کے اجداد نے سلطنت عباسیہ کے حکمرانوں کی خدمت کی اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے تھے۔

حامد بن عباس لوگوں میں گھل مل کر نہیں رہتا تھا۔خشک طبیعت کا انتہائی بخیل آدمی تھا۔وہ رقص و سرور کی محفلوں کا بہت رسیا تھا۔ جب اسکے ہاں کوئی مہمان بلائے جاتے تو رقص و سرور کی محفلیں بھی سجائی جاتیں نیز عربی دھنوں پر ترکی کنیزوں کا رقص بھی دیکھا جاتا۔یاد رہے کہ حامد بن عباس کے ہاں بہت سی ترکی کنیزیں تھیں۔

جمیلہ ہاشمی کے ناول میں بیان کردہ کردار ‘اغول ‘ایک ترکی کنیز کا ہے۔جمیلہ ہاشمی کہ مطابق اغول ایک خاص کنیز تھی جو مسلمان نہ تھی لیکن حامد بن عباس کے نکاح میں تھی۔اغول کو حسین بن منصور نے کہیں دیکھ لیا اور اسکے عشق میں گرفتار ہو گیا۔اغول کے بطن سے حامد بن عباس کا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا جو بعد میں کسی فتنے میں شامل ہوا اور قتل  کر دیا گیا۔

عباسی خلیفہ مقتدر بااللہ کا دور تھا اور حامد بن عباس وزیر  خاص کے عہدے پر فائز تھا۔ان دنوں مسلم دنیا میں کئی فتنوں نے سر اٹھا رکھا تھا۔کہیں یہ شور برپا تھا کہ امام مہدی کا ظہور ہو گیا ہے۔قرامطہ اور اسماعیلی ملکوں ملکوں گھوم کر اپنے مذہب کو بڑھا رہے تھے۔ایسے میں بغداد میں حسین بن منصور حلاج جیسے شخص کی کرامات کا چرچا ہو چکا تھا۔لوگ ان کے گرد جمع رہتے۔کوئی آستانہ پرحاضری دینے کے لیے بےچین ہوتا  تو کوئی دعا کروانے کے لیے آتا۔مقتدر بااللہ کی والدہ شغب بھی حسین بن منصور کے عقیدت مندوں میں شامل تھی۔اور اکثر اپنے بیٹے کے لیے دعا کروانے آتی تھی۔ا یسے حالات میں حامد بن عباس کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں یہ شخص بے پناہ مقبولیت حاصل کرنے کے بعد سلطنت کے لیے خطرہ نہ بن جائے۔چنانچہ اس نے مختلف شہادتیں اور ثبوت اکٹھے کرنے شروع کر دیئےتاکہ حسین بن منصور پر کفر کا فتویٰ لگا کر انہیں کوئی سخت سزا دی جا سکے۔اس سلسلے میں اس نے کئی سپاہیوں  کو اس کام پر معمور کر دیا تھا کہ وہ حسین بن منصور کی تحریریں اکٹھی کریں اور مختلف شہادتیں اکٹھی کریں۔مزید برآں اس نے خلیفہ مقتدربااللہ کے کان بھرنے شروع کر دیئے۔اور انہیں مشورہ دیا کہ حلاج کو قتل کر دینا چاہیے۔چنانچہ انہیں سب سے پہلے ابو داود اسفحانی کے فتویٰ پر گرفتار کیا گیا۔وہ ایک برس تک اس قید میں رہے ۔لیکن مقتدر بااللہ کی ماں شغب کی وجہ سے اس قید سے رہائی پائی۔                                                                          

”اکثر مورخین کے  مطابق حضرت منصور حلاجؒ کی مقبولیت عوام الناس کے عقائد میں خلل انداز ہو رہی تھی۔اس لیے کسی مذہبی فتنے کے خوف سے حامد بن عباس نے حضرت حسین بن منصورؒ کو قتل کروا دیا۔ہمارے نزدیک یہ ایک گمراہ کن تجزیہ ہےمورخین کے تبصروں کو پڑھ کر ایک آدمی یہی سوچتا ہے کہ حامد بن عباس ایک باکردار وزیر تھا اور اپنے دل میں خدمت اسلام کا درد رکھتا تھا۔اگرچہ حقیقت اس کے بر عکس ہےہم مختصراًپہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ دربارٍٍخلافت کا ایک با اثر شخص حاجب ابن نصر قشوری حضرت منصور حلاج ؒسے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا۔خلیفہ مقتدر با اللہ کی ماں شغب بھی حضرت منصور حلاجؒ کے حلقہ عقیدت میں شامل تھی۔اور اس عقیدت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔یہ صورت حال دیکھ کر وزیر حامد بن عباس پریشان ہو گیا۔سیاسی اعتبار سے حاجب ابن نصر قشوری اس کا قریب ترین حریف تھا۔حامد بن عباس کو خطرہ پیدا ہوا کہ اگر خلیفہ مقتدر بااللہ بھی حضرت حسین بن منصور ؒ کے زیر اثر آ گیا تو ابن نصر قشوری دربار خلافت کا طاقتورترین مہرہ بن جائے گا اور وہی مہرہ بالآخر اسے شکست سے دو چار کر دے گا۔نتیجتاً حامد بن عباس نے حضرت منصور حلاج ؒ کے قتل کا منصوبہ بنالیا۔کیونکہ ان ہی کی روحانی شخصیت کے سائے میں خاندان شاہی کے [5]افرادجمع ہورہے تھے۔حامد بن عباس نے جس کو مذہبی فتنہ قرار دیا تھا ،دراصل وہ ایک سیاسی فتنہ تھا۔”                                                                 رہائی کے بعد حسین بن منصور حلاج کئی دن ادھر ادھر بھٹکتا رہا۔صحرا نوردی کرتا رہا۔قافلے والوں کی زبانی خبر آئی کہ صحرا میں بھٹکتا ہوا ایک دیوانہ ‘ اناالحق’ کا نعرہ لگاتا ہے۔مدتوں کوئی خبر نہ آئی کہ دیوانہ کہاں گیا ہے۔پھر کہیں سے پکڑ کر اسے دارالسلطنت میں لایا گیا۔مسلسل دیوانگی کے بعد وہ ہوش میں آیا تھا۔اسے دوبارہ قید میں ڈال دیا گیا۔قید کے دوران حامد بن عباس نے ایک روز دیوانے کو طلب کیا اور حکم دیا کہ اس کی بیڑیاں کھول کر میرے سامنے پیش کیا جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ۔پھر دونوں کے درمیان جو مقالمہ بازی ہوئی اسے جمیلہ ہاشمی نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔

” تمھیں اس طلبی کا مطلب معلوم ہے؟حامد نے نہایت نخوت سے کہا۔حسین نے کوئی جواب نہیں دیا۔

‘تم کیا ابلیس کے پرستار ہو اور کسی پر اسرار مذہب کے داعی ہو۔’؟

وہاں وہی خاموشی تھی۔

‘خدا تمہارے چہرے کو تاریک کرےکیا تم میری بات سن نہیں سکتےیا بہرے ہو’؟حامد کی ہنسی اس کے چہرے پر برف کے نوکیلے ٹکڑے کی طرح تکلیف دہ اور ٹھہری ہوئی تھی۔

‘شیطان پرست اور جادو گر۔خلق خدا کو خراب کرنے والے خدا کے بھلائے ہوئے۔’حامد نے دانت پیس کر کہا۔وہ ٹہل رہا تھااور کوڑے کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں بدل رہا تھااور بہت مضطرب تھا۔

‘وزیر اعلیٰ حامد بن عباس! کیا اس داروگیر زمانہ میں یہ مسلک اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس کے لیے میں نصف شب کو بلایا جاوں’ ؟حسین کی آواز خالی کمرے میں گونج گئی۔

‘تمہاری جگہ صرف اور صرف جہنم ہے’حامد نے زور سے کہا۔

‘میں تو یہاں بلایا ہوا آیا ہوں’حسین نے نہایت آہستگی سے کہا۔

حامد نے حلق سے عجیب آوازیں نکالیں مگر اس نے کچھ کہا نہیں۔

‘تمہیں معلوم ہے ابلیس کی پرستش کی کیا سزا ہے؟کافی دیر بعد وزیر اعلیٰ نے کہا۔

‘میں ابلیس کا پرستار نہیں  ،اس کی ہمت کا قائل ہوں مگر سزا اگر مقدر میں ہےتو اس کے لیے بھی تیار ہوں’

تم سزا کا مفہوم اگر سمجھتے تو اس سے پناہ چاہنے کی استدعا کرتے۔عمیق ترین جہنمیوں سے بھی  زیادہ تکلیف دہ۔بخدا تمہارا ایک ایک جوڑ کاٹا جائے گا۔پارچہ پارچہ گوشت علیحدہ کیا جائے گا۔روئیں روئیں سے الگ الگ جان نکلے گی۔کیا اس اذیت کی برداشت ہو گی؟

حسین کا چہرہ کھل اٹھا مگر اس نے سر اٹھا کر نہیں دیکھا۔

‘کیا تم دیوانے ہو’؟

حسین کا قہقہہ اپنی صدائے بازگشت سے دیواروں اور پردوں ،چھت اور دریچوں میں سرایت کر گیا۔ساز،جام و مینا سب نے اس ہنسی کو گویا پکڑ لیا تھا۔باہر دجلہ کی لہریں بھی سر خوشی سے دستک دینے لگیں جیسے اس بے پناہ ہستی کے سیلاب میں شریک ہونا چاہتی ہوں۔

حامد بن عباس کو پچھلی ملاقات بھی یاد تھی۔اس لیے دروازے کو جو اس کے لیے مخصوص اور تقریباً پوشیدہ تھا،کھول کر برف بار رات میں اس نے حسین کو باہر دھکیل [6]دیا۔’جاؤخدا تمہارا چہرہ تاریک کرےمیں پھر تمہیں بغداد میں نہ دیکھوں ورنہ ان شعبدوں کے باوجود میں تمہیں ضرور قتل کر دوں گا۔تمھارا انجام اچھا نہ ہو گا۔”

حسین بن منصور حلاج کو 301ھ میں دوبارہ گرفتار کیا گیا۔اور گرفتاری کے اسباب جو درج ہیں وہ ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں۔

1۔پہلا سبب یہ بیان کیا گیا کہ حسین بن منصور حلاج قرآن کے مثل آیت بنانے کا دعویٰ کرتے تھے ۔حالانکہ بعد میں بہت سے محققین نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی اور مختلف روایتیں بیان کیں۔لیکن تمام روایتیں ضعیف ثابت ہوئیں اور ثابت ہوا کہ حسین بن منصور پر لگایا گیا یہ الزام غلط تھا اور محض ایک تہمت تھی۔

2-دوسرا الزام یہ تھا کہ حسین بن منصور نے ایک خط کے ذریعے خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔بہت سے علماء نے اپنے طاقتور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حلاج کے اس خط  میں کوئی بات نہیں تھی صرف عنوان غیر مناسب تھا۔

3-تیسرا سبب یہ تھا کہ وہ جادوگر ہے۔جادو سیکھنے کے لیے ہندوستان گیا تھااور اب مختلف شعبدہ بازیاں دکھا کر عوام کو اپنے گرد جمع کرتا ہے۔اور اس سلسلہ میں ابو یعقوب اقطع کی گواہی کو استعمال کیا گیا۔ابو یعقوب اقطع نے ارکان سلطنت کے سامنے گواہی دی کہ

‘اچھا مجاہدہ دیکھ کر اپنی بیٹی کا اس سے میں نے نکاح کر دیا۔پھر تھوڑے دن بعد ہی مجھ پر راز فاش ہو گیا کہ وہ حیلہ باز،ساحر،خبیث اور کافر ہے’

اس سلسلہ میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ابو یعقوب اقطع کی بیٹی زینب کو چونکہ حسین بن منصور نے کبھی خوش نہیں رکھا تھا چنانچہ اس طرح کی گواہی دینا ان کے دل میں کدورت اور نفرت ہونے کی وجہ سے تھا۔

4-ان کی گرفتاری کا چوتھا سبب  یہ کہا جاتا تھا  کہ حسین بن منصور ‘زندیقیوں ‘ جیسا کلام کرتا ہے۔ زندیق کا مطلب ہے ایسا شخص جو دیکھنے میں مسلمان نظر آئے لیکن اندر سے کافر ہو۔اب اس جملہ کی توجیہہ میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ  اس وقت کے علماء اور فقہاء وہ آنکھ رکھتے تھے جو دل کا حال جان لیتی تھی۔ورنہ کس طرح اندازہ ہو سکتا تھا کہ حسین بن منصور جو ظاہری طور پر عشق حقیقی میں غرق تھا  وہ قلب کے لحاظ سے کافرتھا۔

5-گرفتاری کا پانچواں سبب وہ کفریہ اشعار تھے جو بعض موقعوں پر انکی زبان سے ادا ہوئے۔دراصل حسین بن منصور کے مخالفین ان کے ساتھ کچھ ایسے اشعار منسوب کرتے تھے جو جھوٹ کے سوا کچھ نہ تھے۔

6-انکی گرفتاری کا چھٹا سبب یہ تھا کی اسکےمرید اور خدمتگار اسےخدا سمجھتے تھے۔دراصل انکی کرامات کا چرچا ہر زبان پر تھا۔چنانچہ لوگوں نے کئی ایسے نام رکھ دئیے تھےکہ پرستاروں اور مریدوں نے کم علمی اور جہالت کی وجہ سے انہیں مشکل میں ڈال دیا تھا۔

ابو بکر صولی کی روایت ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے حلاج کو گرفتار کیا وہ ابوالحسن بن احمد راسبی تھا۔اسی نے حلاج اور اسکے غلام کو ربیع الآخر مین301ھ میں بغداد پہنچایااور دو اونٹوں پر سوار کر کے گلی گلی تشہیر کرائی اور ایک کتبہ بھی لگوا دیا جس پر تحریر تھا ۔

“میرے پاس شھادت موجود ہے کہ حلاج خدائی کا دعویٰ کرتا ہے اور حلول کا قائل ہے۔”

علماء تحقیق کے مطابق ابوبکر صولی جھوٹا تھا۔وہ ایک درباری ادیب اور شاعر کے سوا کچھ نہیں تھا۔اگر ابو بکر صولی سچا ہوتا تو 301ھ میں ہی حضرت منصور حلاج پر خدائی دعویٰ کا الزام ثابت ہو جاتا اور وہ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہوتے۔مگر تاریخ گواہ ہے کہ حضرت منصور حلاج ؒنو سال تک مسلسل گرفتار رہےان پر مقدمہ چلتا رہااور ہزار کوشش [7]کے باوجود ان پر فتویٰ نہیں دیا جا سکا۔”

مقدمہ چلنے کے دوران حامد بن عباس نے حسین بن منصور سے پوچھا کہ کیا بغداد میں کوئی ایسا صوفی یا بزرگ بھی ہے جو آپ کو درست ثابت کر سکے اور آپ کے حق میں گواہی دے سکے ۔اس موقعہ پر حسین بن منصور نے کہا کہ یہاں تین لوگ مجھے جانتے ہیں ۔شیخ ابو محمد جریریؒ،ابو بکر شبلیؒ،اور شیخ ابو العاس ابن عطاءؒ ۔’لیکن میں جانتا ہوں کہ حضرت ابو جریریؒ اور حضرت ابو بکر شبلی ؒ حقیقت کو چھپائیں گےاور جرات  اظہار نہ کر پائیں گےالبتہ حضرت شیخ ابوالعاس ابن عطاء ؒ میرے بارے میں سچی شھادت دینے سے کبھی گریز نہیں کریں گے۔

چنانچہ حامد بن عباس نے حسین بن منصور کے سلسلہ میں فتویٰ لینے کے لیے مدرسہ نظامیہ بغداد کے ارباب توحید اور دوسرے علماء کرام کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ ان ااحباب میں حضرت جنید بغدادیؒ ،انکے شاگرد ابو بکر شبلیؒ،شیخ ابوالعباس ابن عطاءؒ،شیخ ابو محمد جریری ؒا ور دیگر احباب شامل تھے۔   حضرت جنید بغدادیؒ اگرچہ کسی بھی شاہی دعوت کو قبول نہ کرتے تھےمگر انہوں نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور تمام احباب کے ہمراہ شاہی محل پہنچے۔

حامد بن عباس دو زانو ہو کر ان مدرسے کے اساتذہ کے سامنے بیٹھ گیااور پوچھا کہ اگر اجازت ہو تو ایک سوال کروں ۔اجازت ملنے پر اس نے

طلائی طشت میں کاغذوں کا ایک پلندہ پیش کیا ۔یہ حسین بن منصور کی تحریریں تھیں۔وہ ان سے متعلق علماء کی رائے لینا چاہتا تھا۔علماء نے ان کاغذوں کو ایک ایک نظر دیکھا اور واپس رکھ دیا۔سب چاہ رہے تھے کہ حضرت جنید بغدادیؒ اس کے سوال کا جواب دیں۔حضرت جنید بغدادیؒ اپنے شاگرد سے ناراض ضرور تھے مگر وہ جانتے تھے کی انکا شاگرد دیوانگی اور جنون کی حد کو چھو چکا تھا۔چنانچہ حضرت جنید بغدادیؒ اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور بولے کہ کسی دیوانے کی دیوانگی پر سند کی کیا ضرورت ہے۔اس پر حامد بن عباس بضد ہوا کہ دیوانہ اگر کفر کی حد کو چھو جائے تواس کا کیا علاج ہے۔

حضرت جنید بغدادیؒ نے جواب دیا کہ دیوانہ نہیں جانتا کہ کفر کیا ہے اور ایمان کیا۔اور یہ کہہ کر وہاں سے رخصت ہوئے۔گویا انہوں نے بھی حسین بن منصور کی کوتاہیوں اور سرگرمیوں کو عشق میں جنون کی حدقرار دیا۔

حضرت ابو بکر شبلیؒ اور شیخ ابو محمد جریریؒ نے حسین بن منصور کے حق میں گواہی دینے اور کچھ بھی کہنے سے معذرت کر لی۔چنانچہ دونوں کو رخصت کر دیا گیا۔علاوہ اذیں حامد بن عباس حضرت شیخ ابو العاس ؒ سے مخاطب ہو کر پوچھنے لگا کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں۔حضرت شیخ ابو العاس ؒ نے فرمایاکہ’ان کا عقیدہ درست ہےاور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ بے اعتقاد ہے’۔حامد بن عباس کو اندازہ نہ تھا کہ ابن عطاء اس قدر بے باک ہیں۔

حضرت ابن عطاء نے حامد بن عباس سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم امور سلطنت کے لیے نگران مقرر کیے گیے ہو اس معاملہ سےتمہارا کیا تعلق ہے۔ اس پر حامد بن عباس بھڑک اٹھا اور بولا’سلطنت میں اگر کسی عقیدے یا مسلک کی وجہ سے فتنہ برپا ہو تو اسے دیکھنا بھی میری ذمہ داری ہے۔

حضرت ابو العاس ابن عطاء ؒ غصہ سے بولے کہ ‘تمہارے منصب کا تقاضہ اس کے سوا کیا ہے کہ تم ناحق لوگوں کا خون بہاتے رہو ۔تمہارا ان بزرگوں کے کلام سے کیا تعلق ہے تم کتنا ان کے کلام کو سمجھتے ہو۔’

اس جواب پر حامد آگ بگولہ ہو گیا اور باآواز بلند اپنے سپاہیوں کو بلا کر حکم دیا کہ’جس منہ سے ایسی باتیں نکل رہی ہیں اس منہ پر گھونسے مارو’۔چنانچہ سپاہیوں نے ابن عطاء ؒ پر حملہ کر دیا اور مکے اور گھونسے مارنے لگے۔یہاں تک کہ وہ زمین پر گر پڑے اورزخمی حالت میں انہیں انکے گھر پہنچا دیا گیا۔

اس وقت حضرت شیخ ابو العاس ابن عطاء ؒنے انتہائی رقت آمیز لہجے میں خدا کے حضور گڑگڑا کر عرض کی۔’اے اللہ اس وزیر کے ہاتھ پاؤں کاٹ کرقتل کیا جائے اور اسے بری سزا دینا’ شدید زخمی ہونے کی وجہ سے اور جسم کا بہت سا خون بہہ جانے کی وجہ سے ابن عطاء ؒ انتقال فرما گئے۔انکے انتقال کی خبر قیدخانے میں حسین بن منصور کو ملی تو بہت دکھ کا اظہار کرتے ہوئے  دعا کی کی ایک ہی میرا گواہ تھا وہ بھی چل بسا اللہ شیخ کی مغفرت کرے۔

حضرت شیخ ابو العاس ابن عطاء ؒحضرت منصور بن حلاج ؒ سے بہت محبت اور عقیدت رکھتے تھےایک بار آپؒ نے اپنے ایک خادم خاص کے ذریعے قید خانے میں حسین بن منصور کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجاکہ

شیخ!’ جو بات تم نے کہی ہے اس سے توبہ کر لوشاید تمہیں قید خانہ سے رہائی مل جائے’ ۔

حضرت ابن عطاء کا پیغام سن کر حضرت منصور حلاج ؒ نے انکے خادم سے فرمایا

ابن عطاء کو میرا سلام کہنا اور اپنے شیخ سے یہ بھی کہہ دینا کہ جس نے یہ بات کہی ہے اس سے کہو کہ وہ توبہ کر لے۔

تذکرۃالاولیاء میں حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ کی روایت ہےکہ جب خادم نے حضرت منصور حلاج ؒ کے الفاظ دوہرائے تو حضرت شیخ ابو العاس ابن عطاء رو پڑے اور[8] انتہائی رقت آمیز لہجے میں فرمایا۔’ہم تو خود حسین بن منصورؒ کے ادنٰی غلام ہیں ‘۔”

حضرت شیخ ابو العاس ابن عطاء ؒ کے انتقال کے پندرہ دن بعد حسین بن منصور کو دار پر کھینچ دیا گیا۔

عباسیہ سلطنت میں ان دنوں ابوعمر کو مختلف معاملات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے قاضی مقرر کیا گیا تھا۔قاضی ابو عمر حامد بن عباس کے دربار میں ایک معتبر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔حامد بن عباس کا منظور نظر بھی تھا۔حامد بن عباس نے جب حسین بن منصور کے قتل کا ارادہ کر لیا تو انتہائی چالاکی سے انکے گرد ایک جال بن لیا۔مختلف تحریریں اکٹھی کیں مختلف شواہد اکٹھے کیے اور دیوانگی کے عالم میں بولے گئے جملوں کے لیےگواہان اکٹھے کیےاور سب کچھ قاضی ابو عمر کے سامنے پیش کر دیا۔قاضی ابو عمر نے حسین بن منصور کو طلب کیا اور پوچھ گچھ کے دوران کئی سوالات کئے۔اسی دوران قاضی ابو عمر کے منہ سے نکلا کہ ‘تمہیں تو قتل کر دینا چاہیے’۔ان الفاظ کو حامد بن عباس نے پکڑ لیا اور قاضی کو مجبور کیا کہ جو بولا ہے وہ لکھ کر بھی دو۔قاضی ابو عمر نے سوچنے کے لیے وقت مانگا مگر حامد بن عباس نے صاف انکار کر دیا  اور ان سے زبردستی دستخط کروا لیے۔بعد میں حامد بن عباس نے اس تحریر میں اضافہ بھی کیا۔کیونکہ قاضی نے قتل کا حکم صادر کیا تھا مگر حامد نے سنگسار کرنے اور ہاتھ پاوں کاٹنے کا حکم اس میں خود سے شامل کیا۔قاضی ابو عمر کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو انہوں نے اعتراض بھی کیا مگر وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جمیلہ ہاشمی نے ناول میں جو اغول کا کردار پیش کیا ہے وہ محض تصوراتی کردار ہے اور صرف ناول کو دلچسپ بنانے کے لیے شامل کیا گیا ہے اور تاریخ میں ایسے کسی کردار کا ذکر موجود نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کی حامد بن عباس کے گرد ترکی کنیزوں کی ایک بہت بڑی تعداد رقص و سرور کی محفلیں سجانے کے لیے جمع رہتی تھی مگر اسکی کسی کنیز کے ساتھ حسین بن منصور کا کوئی قلبی یا روحانی تعلق تاریخ  میں کسی مورخ نے ثابت نہیں کیا صرف تذکرۃ الاولیاء میں روایت ہے کہ

“پھر جب آپ کو پھانسی کے پھندے کے نیچے لے جایا گیا تو آپ نے پہلے باب الطاق کو بوسہ دے کر سیڑھی پر جس وقت قدم رکھا تو لوگوں نے پوچھاکہ کیا حال ہےفرمایا کہ پھانسی تو مردوں کا مزاج ہے۔پھر قبلہ رو ہو کر فرمایاکہ میں نے جو کچھ طلب کیا تو نے عطا کر دیا۔پھر جب سولی پر چڑھتے ہوئے لوگوں نے پوچھا  کہ آپ اپنے مخالفین اور متبعین کے متعلق کیا خیال فرماتے ہیں ۔فرمایا کہ متبعین کو ایک اجر تو اس لئے ضرور حاصل ہو گا کہ وہ مجھ سے حسن ظن رکھتے ہیں اور مخالفین کو دو ثواب حاصل ہوں گےکیوں کہ وہ قوت توحید اور شریعت پر سختی سے خائف رہتے ہیں اور شریعت میں اصل شے توحید ہے اور حسن ظن صرف فرع کی حثیت رکھتا ہے۔پھر آپ کو جب [9] خیال آیا کہ عہد شباب میں میری نظر ایک عورت پر پڑ گئی تھی تو فرمایاکہ اس کا بدلہ اتنی مدت گزرنے کے بعد لیا جا رہا ہے۔”

کہا جاتا ہے کہ حسین بن منصور  کے ساتھ قید میں تین سو سے زیادہ قیدی تھے۔قید خانہ کے دروازے پر تالا تھااور سب قیدیوں کو بیڑیاں لگائی گئی تھیں۔انہوں نے تختہ دار پر لٹکنے اور موت کی سزا پانے سے پہلےاپنے حکم سےتمام قیدیوں کی بیڑیاں کھول دیں اور قید کے تمام قفل بھی ٹوٹ گئے۔جب قیدی رہا ہوئے تو انہوں نے حسین بن منصور کو بھی ساتھ چلنے کو کہا۔مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔صبح جب خبر سلطنت میں پہنچی تو جلاد کو حکم دیا گیا کہ حسین کو تین سو کوڑے لگائے جائیں اور اسکے بعد انہیں قتل کیا جائے۔چنانچہ انہیں قید خانے سے باہر لایا گیااور کوڑے مارنے شروع کیے مگر وہ جامد کھڑے رہے اور اناالحق اناالحق پکارتے رہے۔جب کوڑے چلانے کے بعد بھی ان میں جان باقی رہی تو انکے ہاتھ اور پیر کاٹ دینے کا حکم  بھی صادر کیا گیا۔

اس وقت تقریباً ایک لاکھ کا مجمع موجود تھا۔حسین بن منصور کے بچے بھی بلا لیے گئے تھے۔انتہائی بے دردی سے پہلے ان کے ہاتھوں کو کاٹ  کرجسم سے الگ کیا گیاپھر ان کے پیر کاٹے گئے۔ہر آنکھ اشک بار تھی ۔لوگ حق حق اناالحق پکار رہے تھے۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے جلاد کے ہر وار میں سے بھی اناالحق کی صدا آرہی  ہو۔

پھر جس وقت آپ کی زبان کاٹی گئی تو خلیفہ کا حکم پہنچا کہ سربھی قلم کر دیا جائے۔چنانچہ سر قلم ہوتے وقت آپ قہقہہ لگا کر انتقال فرما گئےاور آپ کے ہر ہر عضو سے اناالحق کی آواز آنے لگی۔پھر جس وقت ہر عضو کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور صرف گردن اور پشت باقی رہ گئیں تو ان دونوں حصوں سے اناالحق کا ورد جاری تھا جس کی وجہ سے اگلے دن آپ کو اس خوف سے  جلا دیا گیا کہ کہیں مزید اور کوئی فتنہ کھڑا نہ ہو جائے اور آخر کار جسم کی راکھ کو دجلہ میں ڈالا گیا لیکن جس وقت یہ عمل ہوا تو پانی میں ایک جوش سا پیدا ہو کر سطح آب پر کچھ نقوش سے بننے لگےچنانچہ آپ کے خادم کووہ وصیت یاد تھی جو آپ نے اپنی زندگی میں فرمائی تھی کہ جب میری راکھ کو دجلہ میں پھینکا جائے گا تو پانی میں ایسا جوش و طوفان پیدا ہو گا لیکن جب یہ کیفییت ہو تو تم میری گڈری دجلہ کو جا کر دکھا دینا۔چنانچہ خادم نے جب آپ کی وصیت پر عمل کیا تو پانی اپنی جگہ [10]ٹھہر گیاتمام راکھ جمع ہو  کرساحل پر آگئی جس کو لوگوں نے نکال کر دفن کر دیا۔”

خطیب بغدادی روایت کرتے ہیں کہ حضرت منصورؒ کے قتل کو زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ حامد بن عباس کو بھی قتل کر دیا گیا پہلے دونوں ہاتھ کاٹے گیے پھر پیر کاٹے گیے وہ دیر تک چیختا چلاتا رہا پھر کسی شخص کو رحم آ گیا وہ آگے بڑھا اور بولا کہ جی تو چاہتا ہے تو اسی طرح تڑپتا رہے تاوقتیکہ تیرے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک بہہ کر نکل جائےمگر ہم مسلمان ہیں اس لیے تیری مشکل آسان کیے دیتے ہیں چنانچہ اس شخص نے ایک ہی وار سے اسکا سر تن سے جدا کر دیا۔

خلیفہ مقتدر بااللہ جو کہ عباسی خلیفہ تھا اسکے بس میں تھا کہ وہ حامد بن عباس کے اس حکم کو روک دیتا جس کے تحت حسین بن منصور کو تختہ دار پر لٹکایا گیا مگر وہ وزیر حامد بن عباس کے سامنے کچھ نہ بولا۔اگر علماء کے فتویٰ کے بعد یہ ممکن نہ تھا تو بھی حامد بن عباس کو وحشت اور درندگی سے تو روک سکتا تھا مگر اس نے ایسا بھی نہ کیا۔تاریخ  اس بات کی گواہ ہے کہ اسکا انجام بھی بہت برا ہوا۔

320ھ میں مونس نے بغدادپر حملہ کر دیا ۔مقتدر بااللہ اپنا لشکر لیکر بڑھا مگر خون ریز تصادم کے بعد اس کی فوج نے ہتھیار ڈال دیئے۔مونس کے سپاہوں نے مقتدر بااللہ کا سر تن سے جدا کیا اسکی برہنہ لاش کو ادھر ہی پھینک دیا اور اسکے سر کو نیزے پر بلند کر کے مونس کو پیش کیا۔جب مقتدر بااللہ کا کٹا ہوا سر بغداد کی گلی گلی میں سے گزراتو لوگوں نے حضرت حسین بن منصور کے الفاظ یاد کر کے گریہ کیا کہ آپ نے قتل کے فتویٰ پر دستخط کرنے والے علماء سے مخاطب ہو کر کہا تھا’میرے معاملہ میں اللہ سے ڈرو،میرے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔

حسین بن منصورؒ ایک نیک دل اور باوصف ولی تھے۔وہ نماز کے سختی سے پابند تھے۔نوافل میں مشغول رہتے۔خدا کے عشق میں جان گھلاتے رہتے تھے۔وہ خدا کے عشق میں اس قدر غرق تھے کہ دیوانگی کا گمان ہوتا تھا۔لوگ مجنوں اور دیوانہ سمجھتے۔دراصل ان کی رگوں میں ایک آتش پرست کا خون دوڑ رہا تھا۔جو انہیں  ہر وقت بے چین رکھتا تھا۔علاوہ اذیں انہوں نے سہل بن عبداللہ تستری ؒ جیسے استاد سے تعلیم حاصل کی ۔جو گوشہ نشینی کے ساتھ ساتھ سخت ریاضت اور فاقہ کشی کے ذریعے اپنی جان گھلاتے تھے۔انہیں  جنید بغدادیؒ کی شاگردی کے دوران ابو بکر شبلی ؒ جیسے دوست کی صحبت میسر آئی۔حضرت ابو بکر شبلیؒ فرمایا کرتے تھے کہ ‘میرا اور ابن منصور  دونوں کا حال ایک ہی ہےمگر فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنا حال ظاہر کر دیا اور میں نے چھپائے رکھا’۔ایک دوسری جگہ شبلی ؒ نے فرمایا کہ ‘لوگوں نے مجھے دیوانہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور ابن منصور کو اسکی عقل نے ہلاک کیا’۔

“حسین بن منصور رحمہ اللہ تعالیٰ کو ایک بار سنگسار کیا جا رہا تھا تو حضرت شبلیؒ نے بھی زرا سا پتھر اٹھا کر آپؒ کو مارا۔آپ نے آہ کی تو لوگوں نے کہا کہ بڑے بڑے پتھر مارنے پر تو آپؒ نے آہ نہیں کی لیکن اس زرا سی کنکر مارنے پر درد محسوس کی۔فرمایا کہ لوگ نہیں جانتے کہ مجھے نہیں مارنا چاہیےلیکن شبلی جانتا ہے اس لیے دوست کا چھوٹا سا [11]پتھر(یعنی کنکر)موجب درد ہوا۔”

بعض روایات میں موجود ہے کہ حضرت حسین بن منصورؒ کو سر مقتل لے جایا جا رہا تو انکے دوست شبلی ؒ بھی تشریف لے آئےحسین بن منصورؒ سے مخاطب ہو کر کہنے لگے۔’کیا ہم نے تمہیں دنیا والوں سے روکا نہیں تھا؟’

بعض علماء نے اس قول کی تشریح اس طرح کی ہے کہ ابو بکر شبلیؒ حضرت حسین بن منصور ؒ کو ہمیشہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ چونکہ آپ مغلوب الحال ہیں اور جوش اور جنون کی اس کیفیت میں بہتر ہے کہ گوشہ نشینی اختیار کر لیں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ جنون اور دیونگی میں آپ کی زبان لڑکھڑا جائےاور لوگ معرفت کے اسرارو رموز کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔یعنی لوگ دیوانگی میں بولے گئے الفاظ سے اپنی مرضی کے مطلب نہ نکال لیں۔حضرت جنید بغدادیؒ نے بھی حضرت حسین بن منصور ؒ کو گوشہ نشینی اختیار کرنے کی تلقین کی تھی۔لیکن وہ بے چین اور بے قرار طبیعت ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔ انکی بے چین اور بے قرار طبیعت اور انکے حالات و واقعات نے انہیں دیوانہ اور مجنوں بنا دیا تھا۔اور جاہل لوگوں کے القابات اور اعتقادات نے انہیں تختہ دار تک پہنچا دیا۔

حسین بن منصور نے زندگی میں تین بار حج کیا۔وہ لوگوں کو عزت نفس اور خودداری کا درس دیتے۔انہوں نے عربی میں بہت سی کتابیں لکھیں ۔ان کےا شعار کا دیوان ہے۔ان کے موضوعات میں تصوف ،علم الکلام ا ور فلسفہ شامل ہے۔اگرچہ بعض حضرات نے حسین بن منصور ؒ کو حلول کے عقیدے کا حامل قرار دیا ہےمگر انکی تصانیف اور تحقیقات سے ثابت ہے کہ وہ وحدت الوجود کے قائل تھے۔اللہ کو واحد اور یکتا مانتے تھے۔محققین کا کہنا ہے کہ حسین بن منصور ؒ کی شاعری اور انکی دوسری تصانیف کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تاریخ کی ایک ایسی مظلوم ہستی تھی جنہیں بے دردی اور سفاکی سے قتل کیا گیا۔یقیناًٍ یہ بڑی بے انصافی تھی۔

میری عقل ناقص اور مطالعہ محدود ہے ۔بیشک اللہ بہتر جاننے والا ہے۔

حوالہ جات:

1-خان آصف،”اللہ کے ولی”،لاہور،القریش پبلی کیشنز،2015،ص10۔

2-حضرت فریدالدین عطارؒ،” تذکرۃالاولیاء،س ن،لاہور،زاہد بشیرپرنٹرز،ص 155۔

3- وقار علی بن مختار علی،”کشف المعجوب(اردو)”،س ن،لاہور،جہانگیر پرنٹرز،ص215۔

4-خان آصف،”اللہ کے ولی”،لاہور،القریش پبلی کیشنز،2015،ص14۔

5-خان آصف،”اللہ کے ولی”،لاہور،القریش پبلی کیشنز،2015،ص106۔

6-جمیلہ ہاشمی،”دشت سوس”، لاہور،سنگ میل پبلی کیشنز،2014،ص389۔

7-خان آصف ،”اللہ کے ولی”،لاہور،القریش پبلی کیشنز،2015،ص67۔

8-خان آصف “،اللہ کے ولی”،لاہور،القریش پبلی کیشنز،2015،ص101۔

9-حضرت فرید الدین عطارؒ،” تذکرۃالاولیاء”،س ن ،لاہور،زاہد بشیر پرنٹرز،ص261۔

10-حضرت فریدالدین عطارؒ،”تذکرۃ االاولیاء”،س ن ،لاہور،زاہد بشیرپرنٹرز،ص262۔

11-محمد شریف نقشبندی،”کرامات اولیاء”،1980،ص55۔