کتابوں پرتبصرے

رنجش (افسانے)

رنجش (افسانے)

مصنف: محمد علیم اسماعیل

ضخامت: 120 صفحات

 قیمت: 200

ناشر: ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی

مبصر: ذبیح اللہ ذبیح ؔ(ریسرچ اسکالر، دہلی یونیورسٹی، دہلی)

         اردو کے مختلف اخبارات و رسائل میں محمد علیم اسماعیل کے افسانے پڑھنے کو مل جاتے ہیں۔ بس وہیں سے میں نے، انھیں بحیثیت افسانہ نگار جانا۔ زیرِ تبصرہ کتاب ”رنجش“ محمد علیم اسماعیل کے افسانوں کادوسرا مجموعہ ہے،جو مختلف پھولوں کے ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے۔ 2018 میں مصنف کا پہلا مجموعہ ”الجھن“ شائع ہوا تھا۔ زیرِ تبصرہ مجموعے کا انتساب مصنف نے اپنی والدہ مرحومہ کے نام کیا ہے۔ ”اپنی بات“ کے عنوان سے انھوں نے خود کے تاثرات پیش کیے ہیں۔ تقریظ کے ضمن میں ”دیدۂ دل تو وا کرے کوئی“کے عنوان سے نامور افسانہ نگار جناب نورالحسنین اور ”افسانے کا مستقبل:علیم اسماعیل“کے نام سے معروف افسانہ نگار محمد بشیر مالیر کوٹلوی صاحب کے مضامین شامل ہیں۔ان ہر دو مضامین میں علیم اسماعیل کی افسانہ نگاری کے حوالے سے عمدہ گفتگو کی گئی ہے۔

         مجموعے کی فہرست پر نظر دوڑائی جائے تو، اس میں مختلف موضوعات پر کل 21 افسانے اور 5 افسانچے شامل ہیں۔ علیم اسماعیل کی افسانہ نگاری پہ بات کریں تو عہد حاضر کے نوجوان افسانہ نگاروں میں وہ منفرد شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کے افسانوں کی زبان، ان کا اندازِ بیان، ان کا اسلوب اور موضوعات انھیں دیگرابھرتے افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتا ہے۔

         ”رنجش“کے افسانوں کا بغور مطالعہ کیجیے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ محمد علیم اسماعیل کے افسانے رومانی اور بیانیہ اسلوب کی ترجمانی کرتے ہیں۔ تفصیلات میں اگر جائیں تو اُن کے افسانوں کے موضوعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے روایتی افسانہ نگاروں کی طرح افسانے لکھنے سے گریز کیا ہے۔ تخیل پر حقیقی کہانیوں کو فوقیت دی ہے۔ افسانوں میں دکھ درد،حزن وملال کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔ علیم اسماعیل کردار نگاری کے معاملے میں ماہر نفسیات نظر آتے ہیں۔ کردار کے ایک ایک پہلو کو بڑی مہارت سے ابھارتے ہیں۔مجموعے میں شامل افسانوں کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے زیادہ تر کردار اور موضوعات اکیسویں صدی کے متوسط طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔بعض افسانوں میں منظر نگاری بھی حقیقت سے قریب تر ہے۔ اس مجموعے میں سب سے دلچسپ افسانہ ”چھٹی“ ہے،جس میں خود کلامی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔ یہ افسانہ تمام افسانوں میں سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے۔ جو قاری کی نیند اڑا دیتا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار وکیل صاحب ہے،جو قاری کے ذہن پر چھا جاتا ہے۔ اس کا کھانسنا، درد سے کراہنا قاری کو رلا دیتا ہے۔مصنف کو میری ذاتی رائے ہے کہ افسانوی مجموعے کا نام ”رنجش“ کی بجائے ”چھٹی“ رکھنا چاہیے تھا۔

         افسانہ ”قصور“ بھی کافی متاثر کرتا ہے،جو جذبات و احساسات کوجھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔یہ افسانہ معاشرے کے ایک ایسے کردار کی تصویرکشی ہے، جو مولوی عبدالحق کی تخلیق ”نام دیو مالی“ اور رشید احمد صدیقی کی تخلیق ”کندن“ کی یاد دلاتا ہے۔ ”رنجش“ افسانہ بھی توجہ کا مرکز ہے۔ عام طور پر جو رشتے توقع پر مبنی ہوتے ہیں، وہاں توقع پوری نہ ہونا، رشتوں کو رنجش میں منتقل کر دیتاہے۔ کہانی ”شب سرخاب“ ایک حیرت انگیز افسانہ ہے۔ راوی اپنے ساتھ ہوئی زیادتیوں کا انتقام اس ڈھنگ سے لیتی ہے کہ قاری کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔شبنم،راوی کی دوست ہے اور ایڈز کی مریضہ ہے،جس نے راوی کے کہنے پر اپنے خون کا نمونہ اجالا کے رگوں میں دوڑا دیا۔اس افسانے کا کلائمکس اچھوتا ہے۔ اسی نوعیت کے افسانے ”ریجیکٹ“ اور ”حادثہ“ بھی ہیں، جو مکافاتِ عمل پر مبنی ہیں۔ یہ سبق آموز کہانیاں ہیں۔ افسانہ ”اجنبی“ ان رشتوں پر منحصر ہے، جن کے وجود کی تعمیر اعتماد پر ہوتی ہے۔ غصہ، بہتان اور شکوک وشبہات رشتوں کو تار تار کر دیتے ہیں۔مذکورہ افسانے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

 ”میں نے پڑھا تھا کہ رشتوں میں بھروسہ اور موبائل میں نیٹ ورک نہ ہو تو لوگ گیمز کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ بھروسہ رشتوں کا حسن ہوتا ہے۔ ایک دفعہ جب بھروسہ ٹوٹ جائے تو وہ اپنی خوبصورتی اور مضبوطی کھو دیتا ہے۔“

         محمد علیم اسماعیل کا کوئی افسانہ رشتوں کی اہمیت سمجھاتا ہے تو کوئی قاری کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا کرتا ہے۔ افسانہ ”عقلمند“ اس کی بہت اچھی مثال ہے۔ اس کے علاوہ اس مجموعے کے افسانوں میں جسم فروشی جیسے مہلک مرض کا بھی تصور ملتا۔ ”گریما“ اور ”سودا“ وہ افسانے ہیں، جن میں لڑکیوں کو پھنسا کر شہر لایا جاتا ہے۔ ہوٹلوں اور کلبوں میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے اس نوعیت کے افسانے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ سیاسی اور سماجی موضوعات پر بھی کھرے اترتے ہیں۔ افسانہ ”زہر“ اور ”وقت“ موجود حکومت کے سیاسی نظام کی خامیوں کی کامیاب عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔

         علیم کے یہاں حالات حاضرہ اور ماضی کے موضوعات ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔حالات حاضرہ پر ”یہ ماجرا کیا ہے!“ اور ماضی کے حوالے سے ”مولوی صاحب“ عمدہ افسانے ہیں۔ اس کے علاوہ زیرِ نظر افسانوی مجموعے میں مذہبی اور مزاحیہ نوعیت کے افسانے اور افسانچے بھی شامل ہیں۔ ”منٹو“، ”جنون“ اور ”مردہ پرستی“ طنز و مزاح پر مبنی افسانے ہیں۔ مرنے کے بعد ادیبوں کی واہ واہی کرنا، ان پر رسائل کے گوشے اور خصوصی شمارے نکالناعام رواج ہے۔ افسانہ ”مردہ پرستی“ ایک ایسا ہی افسانہ ہے، جس میں رسائل کے ان مدیران کو طنز نشانہ بنایا گیا ہے، جو زندہ ادیبوں پر مضامین شائع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مضمون نگار بھی ادیب کے مرنے کا انتظار کرتے ہیں۔

           مجموعے میں پانچ افسانچے شامل ہیں۔ جن کے عناوین آگ، تعلیم، تجربہ، مسکراہٹ اور پردہ ہیں۔ افسانوں کے ساتھ ساتھ افسانچوں میں بھی بھر پور طنز سے کام لیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر محمد علیم اسماعیل کی افسانہ نگاری کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک اصلاح پسند افسانہ نگار ہیں، اور اپنے افسانوں اور افسانچوں کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔

٭٭٭٭٭