ادیبوں کا تعارف انٹر ویوز

مجتبٰی حسین اپنی یادوں کے آئینے میں

    ڈاکٹر انجم النساءبیگم(زیبا)

  جزوقتی لکچرر شعبہ ءاُردو جامعہ عثمانیہ‘حیدرآباد

مجتبٰی حسین اپنی یادوں کے آئینے میں

اُن کی باتیں انہی کی زبانی

ایک عرصہ بعدشعبہءاردو‘ جامعہ عثمانیہ آمد پر   جامعہ عثمانیہ سے میرا تعلق گریجویشن(بی۔اے) سے قائم ہوا۔ میں نے گلبرگہ سے انٹرمیڈیٹ کیا تھا۔اس کے بعد جامعہ میرے لیے ایک بالکل ہی نیا تجربہ رہا۔اُس وقت شعبہءاُردو شعر وادب کا گہوارہ تھا۔ ماضی قریب میں مخدوم محی الدین ‘سکندر علی وجد‘محبوب حسین جگر‘عابد علی خاں‘اشفاق حسین‘میرحسن‘مرزا ظفر الحسن‘شاہد صدیقی اور بھی بے شمار اہمیت کے حامل ادیب و شعرا اس جامعہ کی فضاﺅں کو اپنی تخلیقات سے مالامال کررہے تھے۔میرے معاصرین میں وحید اختر‘سعادت نذیر سکندر توفیق‘ظفر عالمگیر‘اکرام جاوید اور نقی تنویرکے نام اہمیت کے حامل ہیں۔یہاں کی علم دوست فضاءنے جلد ہی اجنبیت ختم کردی اور بزم اُردو کے جنرل سکریٹری کے عہدے پرمیرے انتخاب نے اپنائیت کی مہر ثبت کردی۔اس زمانے میں مختلف علمی و ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کمرہ نمبر57 میں عمل میں لایا جاتا تھا۔مثلاً توسیعی لکچر‘مشاعرے‘ڈرامے وغیرہ وغیرہ۔اُس دور کے اساتذہ شاگردوں کے مشاغل پر گہری نظر رکھتے اور بے راہ روی کا شکار نہ ہونے دیتے تھے۔میرے مضامین سماجیات‘معاشیات اور اُردو تھے۔1953 ءمیں ذریعہ تعلیم میں تبدیلی آچکی تھی لیکن طالب عالموں کو اُردو میں بھی جواب لکھنے کی سہولت فراہم تھی ۔میں نے ایک پرچہ انگریزی اور ایک اُردو میں لکھا تھا۔

  شعبہ ءاُردو میں اُس وقت پروفیسر عبدالقادر سروری صدر ِ شعبہ تھے۔ حمید شطاری صاحب اور ڈاکٹر حفیظ قتیل صاحب بھی منسلک تھے۔میں ڈاکٹر حفیظ قتیل سے بے حد متاثر تھا‘ا نہی کی وجہ سے میں نے ادبی میدان میں قدم رکھا ۔انھوں نے میری کافی ہمت افزائی کی۔اسی طرح انگریزی کے پروفیسر دورا سوامی بھی میری یادوں میں شامل ہیں‘وہ شیکسپئیر کا ڈراما بڑے منفرد انداز میں پڑھا تے تھے غرض بڑا جاندار اور شاندار ماحول تھا۔

ایسے علمی ماحول میں میرا تعلیمی سفر شروع ہوا۔ایک طویل عرصے کے بعد شعبہ ءاُردو‘ جامعہ عثمانیہ کی صدر میمونہ نے مجھے دعوت دی میں آرٹس کالج پہنچا میرے اندر جذبات کا طوفان موجزن تھا۔میری درسگاہ طلبہ ‘ساتھی غرض پلک جھپکتے میں برسوں قبل ماضی کی یادوں میں گم ہوگیا۔ اس جامعہ سے وابستہ بے شمار یادیں میرا پیچھا کررہی تھیں اسی جامعہ میں مَیں نے اُردو کا پُربہار دور دیکھا تھا۔یہیں سے میری صلاحیتوں کو ِجلا ملی تھی۔میں آج جو بھی ہوں عثمانیہ یونیورسٹی کی وجہ سے ہوں۔غرض بڑی ادبی اور علمی فضا تھی ۔گریجویشن کی تکمیل کے بعد میں نے شعبہ نظم و نسق عامہ(پبلک ایڈمنسٹریشن) سے ایک سالہ ڈپلومہ بھی کیا۔

انٹر میڈیٹ سے لے کر ڈگری تک کی طالب علمی کا دور میری زندگی کا اہم اور زرین دور تھا جہاں مجھے سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔مزاح نگاری شروع کرنے کا موقع ملا اور پھر وہ سفر آج تک جاری ہے

ارباب مجاز کو میرا مشورہ یہ ہے کہ جامعہ عثمانیہ کی صد سالہ تقاریب میں اُردو کو فراموش نہ کریں کیونکہ اس جامعہ کا قیام ہی ملک کی پہلی ایسی جامعہ کے طور پر ہوا جس کا ذریعہ تعلیم اُردو زبان تھا۔