تخلیقات شاعری

گوہر سیما ۔غزل

غزل

گوہر سیما،رامپور،انڈیا

وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا

آج پھر یہ دل میرا ٹھہرا رہا

وادیوں میں زندگی مرتی رہی

درد آ کھوں سے میرے بہتا رہا

پتھروں کے وار وہ سہتے گئے

آئینوں کے ساتھ یہ قصہ رہا

مسئلے شمع بجھا کر تھک گئے

شوق کا سورج مگر جلتا رہا

زندگی اپنا سفر کرتی گئ

روبرو آ نکھوں کے ایک چہرہ رہا

منتشر تھے دھڑکنوں کے ساز بھی

دل مسلسل رات بھر تنہا رہا

زخم دیکر تھک گئ یہ زندگی

خواب آنکھوں میں مگر ٹھہرا رہا

۲

یہ نیاکوئی انکشاف نہیں

انکو الفت کا اعتراف نہیں

کس پہ ہم دوست اعتبار کریں

کوئی چہرہ بھی آج صاف نہیں

سر اٹھاوں تو آسمان ہے دور

پاؤں پھیلاوں تو لحاف نہیں

کیسی دیوار نفرتوں کی اٹھی

جس میں کوئی کہیں شگاف نہیں

چیخ اٹھی فقط تھکن میری

زندگی تجھ سےاختلاف نہیں