تخلیقات کتابوں پرتبصرے

رامپور: منظرنامہٴ تاریخ و تہذیب

مبصر

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

(ہندوستانی زبانوں کا مرکز،جواہر لعل یونیورسیٹی،دہلی)

رامپور

منظرنامہٴ تاریخ و تہذیب

سعدیہ سلیم شمسی 

سعدیہ سلیم شمسی کی یہ کتاب رامپور کی تاریخ و ثقافت پربہت خوبصورت أسلوب اور اجمال کے ساتھ بھر پور روشنی ڈالتی ہے۔ سعدیہ کی شاید یہ پہلی کتاب ہے جو منظر عام پر آئی ہے ، یوں تومختلف موضوعات پر وہ مستقل لکھتی رہتی ہیں لیکن اس کتاب سے ان کے وسیع مطالعے کا علم ہوتا ہے ۔

ہندوستان کے تاریخی،تہذیبی اور ادبی شہروں میں رامپور سر فہرست ہے۔دو صدیوں سے بھی زیادہ کا عرصہ ہوا جب رامپور نے اپنی شناخت بنائی۔یہ شہر آج بھی علم و ادب کا گہواہ ہے۔ غالب نے اسے دار السرور کہا تھا،صرف اس لیے نہیں کہ یہاں کی زندگی نوابین کی طرز حیات سے لطف و عیش کا منظر پیش کرتی تھی بلکہ پر سکون معاشرہ کی طرف اشارہ کیا تھا جہاں امن و سکون کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے پرچم لہرا رہے تھےاور سچائی یہی ہے کہ جس معاشرے میں علم و ادب کو اہمیت اور فوقیت دی جائے گی وہ معاشرہ ہر لحاظ سے دار السرور ہون کا امتیاز حاصل کرے گا۔

               مقام شکر ہے کہ صدیاں گزریں،زمانے نے ہزاروں نشیب و فراز دیکھے،یہ شہر بھی بلندی و پستی کا شاہد بنا مگر اس معاشرے کی جڑوں میں تہذیبی زندگی کی جو خوشبو سمائی ہوئی تھی وہ آج بھی شائقین علم و ادب کے مشام جاں کو معطر کر رہی ہے۔

سعدیہ سلیم کا بھی تعلق اسی تہذیبی اور تاریخی شہر سے ہے سو یہ تہذیبی خوشبو ان کی تحریروں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔سعدیہ بہت اچھا ادبی ذوق رکھتی ہیں۔سعدیہ علمی،ادبی تحریروں کے علاوہ شعر بھی کہتی ہیں اور خوب کہتی ہیں۔ فی الوقت سینٹ جانسن کالج آگرہ میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان کی جتنی تحریریں دیکھی ہیں اس سے اندازہ ہوا کہ مستقبل میں ناموری حاصل کریں گی اگر اسی سنجیدگی سے لکھتی رہیں۔سعدیہ کی شاید یہ پہلی کتاب ہے۔ اس کتاب میں ان کا تحقیقی مزاج سامنے آیا ہے۔رامپور پر یوں تو بہت سی تحریریں موجود ہیںلیکن سعدیہ نے اختصار سے رامپور کے تہذیبی و تاریخی پہلووں کو بہت عمدگی سے سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔مجھے امید ہے کہ اس کتاب کو عوامی پذیرائی حاصل ہوگی۔سعدیہ کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں کرتا ہوں۔