مضامین

پراگ، چیک جمہوریہ میں اردو زبان کی تدریس

پراگ، چیک جمہوریہ میں اردو زبان کی تدریس

محمد رکن الدین

         چیک جمہوریہ (Czech Republic)ایک صنعتی ملک ہے جو وسطی یورپ میں واقع ہے۔ اس کی قومی زبان چیک زبان ہے۔ اس میں 14 حصے ہیں۔ چیک جمہوریہ شمال میں پولینڈ، جنوب میں آسٹریا اور مغرب میں جرمنی مشرق میں چیکو سلوواکیہ سے ملا ہوا ہے۔ اس کا رقبہ 78867 مربع کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی 10505445 نفوس پر مشتمل ہے۔ پراگ چیک جمہوریہ کا دار الخلافہ ہے۔ یہ شہر تاریخی، ثقافتی اور سیاسی مرکز بھی ہے۔ یہ ملک 1993 میں چیکوسلوواکیہ کی تقسیم کے بعد وجود میں آیا۔

یونیورسٹی اورینٹل انسٹی ٹیوٹ (پراگ۔جمہوریہ چیک)

چارلس یونیورسٹی پراگ کا قیام 1348میں عمل میں آیا تھا۔ اس لحاظ سے یہ یونیورسٹی نہ صرف نیپلز یونیورسٹی (اٹلی) اورمدرسہ السنہ شرقیہ (پیرس) سے زیادہ پرانی ہے بلکہ اسے یورپ کی قدیم یونیورسٹیوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے، چارلس یونیورسٹی میں علوم شرقیہ کی تدریس کی روایت بھی خاصی پرانی ہے مگر یہاں شعبہئ ہندوستانی (اردو)1923میں قائم ہوا تھا۔ چارلس یونیورسٹی پراگ سے منسلک چند لوگوں کا ذکر اس لیے ضروری ہے تاکہ اس شعبے کی کارکردگی سے عام قاری واقف ہوسکے۔

         1۔اوتاکر پرتولد:چارلس یونیورسٹی، پراگ کی انتظامیہ نے ہندوستانی شعبے کے قیام  کے لیے جدو جہد جنگ عظیم اول سے پہلے ہی شروع کردی تھی لیکن اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں معروف مستشرق اوتاکرپرتولد(Otakar Pertold)نے اہم رول ادا کیا تھا۔ انھوں نے-10 1909میں ہندوستان کا  نجی دورہ اسی مقصد کے لیے کیا تھا، اس کے بعد 1919میں انہیں چیکوسلواکیہ کے پہلے قونصل جنرل کی حیثیت سے تین برس تک ہندوستان میں قیام کا موقعہ ملا تو اس دوران انہوں نے اردو کے علاوہ کئی دوسری ہندوستانی زبانیں سیکھیں اور واپس پراگ آکر چارلس یونیورسٹی میں شعبہئ ہندوستانی قائم کیااور اردو کے پہلے استاد کے منصب پر فائز ہوئے۔چارلس یونیورسٹی میں موصوف نے تقریباً چار سال تک اردو زبان وادب کی تدریس کی ذمہ داریاں نبھائیں  اور 1927میں کمرشل کالج میں اردو اور ہندی کے پروفیسر مقرر ہوکر چلے گیے۔

         2۔پروفیسر ونسنس پورزگا:دوسری جنگ عظیم میں چیکو سلوواکیہ پر نازی قبضے کے باعث ملکی یونیورسٹیاں طویل عرصے تک بند رہیں، دوبارہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو چارلس یونیورسٹی (پراگ) میں اردو زبان و ادب کی تدریس و تحقیق  میں تیزی کے ساتھ شدت بھی آئی۔ تدریسی ذمہ داریاں پروفیسر ونسنس پورزگاکے ذمے کی گئی۔ پروفیسر موصوف 1942میں چارلس یونیورسٹی کے مشرقی شعبے میں اردو اور ہندی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔سویت یونین اور کمیونسٹ بلاک کے بکھرنے کے اثرات سے چیکو سلوواکیہ بھی خود کو نہ بچا سکا اور نئی جغرافیائی تقسیم کے  نتیجے میں مشرقی علوم کے قدیم اثاثے جمہوریہ چیک کے حصے میں منتقل ہوگیے۔نئے ملک میں اردو زبان و ادب کے لیے سرگرداں بیشتر افرادپروفیسر ونسنس پورزگا ہی کے شاگرد ہیں۔

         3۔ پروفیسر ہیلمٹ نیسی پٹال۔ موصوف نے 1940سے 1943تک چارلس یونیورسٹی میں ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کیا، ان کے تحقیقی دائرہئ کار میں اردو، ہندی اور بنگالی زبانیں خاص طور پر شامل ہیں۔

         4۔یان مارک: چارلس یونیورسٹی میں صبح ریگولراردو کلاسیزکے علاوہ شام میں بھی کلاسیز ہوتی ہیں۔ ان کلاسیز سے عموماً تاجر اور وہ ریسرچ اسکالرس استفادہ کرتے ہیں جنہیں کسی پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے برصغیر کا رخ کرناہوتا ہے۔چارلس یونیورسٹی میں اردو کی کلاس میں ہر سال پانچ طالب علموں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔پروفیسر یان مارک چارلس یونیورسٹی میں اردو زبان وادب کی تدریس اورتحقیق کے حوالے سے  ایک نمایاں نام ہے۔ موصوف یوں تو مشرقی اسکول کے جنوبی ایشیا ڈپارنمنٹ سے وابستہ ہیں مگر چارلس یونیورسٹی میں شام کی اردو کلاسیز بھی لیتے ہیں۔

         5۔مسز ہبش منووا:  محترمہ بھی چارلس یونیورسٹی، پراگ سے وابستہ ہیں۔ جمہوریہ چیک کی ممتاز اسکالر ہیں اور یونیورسٹی کے مشرقی شعبے میں اردو اور رومانی زبانوں کی استاد ہیں۔

کارولین یونیورسٹی(پراگ)

         کارولین یونیورسٹی، پراگ میں بھی اردو زبان وادب کی تدریس ہوتی ہے۔یہاں اردو تدریس کا علم  پروفیسر یان مارک کے ایک خط سے ہوتا ہے جو انہوں نے آغا افتخار حسین کے ایک خط کے جواب میں لکھا تھا۔ اس خط کے مطابق یان مارک اور ہبش منووا دونوں نے اسی یونیورسٹی سے اردو کی تعلیم حاصل  کی ہے۔یان مارک لکھتے ہیں:

” میں نے غالب کے کلام کا مطالعہ اس وقت شروع کیا جب میں کارولین یونیورسٹی پراگ میں اردو کورس کا طالب علم تھا۔ غالب کا مطالعہ ہمارے کورس میں لازمی نہیں تھا لیکن میں مسز ہبش منووا ہم دونوں طالب علم غالب کے مطالعے میں شرکت کرتے تھے کیونکہ ہمیں اردو کی کلاسیکی شاعری سے خاصی دلچسپی تھی۔ ہمارے استاد ایک ہندوستانی مسلمان ڈاکٹر مسعود علی خان تھے جو بھوپال کے رہنے والے تھے۔ وہ آج کل ماسکو میں ایک اخبار کے نامہ نگار ہیں، ڈاکٹر مسعود علی خان صاحب کلاسیکی اردو شاعری پر پورا عبور رکھتے تھے”۔

         جہاں تک چیکوسلوواکیہ میں تحقیق کا تعلق ہے تو یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ یہاں کے اردو دوست محققین نے اردو زبان وادب کی مختلف اصناف پر قابل اطمینا ن کام کیا ہے۔ پراگ اور دیگر شہروں میں اردو سمیت مشرقی زبانوں کے لیے تحقیقی شعبے موجود ہیں جہاں برصغیر کی تاریخ، ادب، فلسفہ اور زبانوں پر لیکچرس، سمپوزیم اور سیمینار ہوتے رہتے ہیں۔چیک جمہوریہ میں ہونے والی تحقیقی سرگرمیوں میں یان مارک کا نام بہت  ہی نمایاں ہے۔موصوف بنیادی طور پر تحقیق ہی کے مرد مجادہ ہیں۔ وہ طویل عرصہ سے پراگ یونیورسٹی کے جنوبی ایشیائی شعبے میں محقق کے عہدے پر فائز ہیں۔علامہ اقبال کے شعری جہاں سے انہیں لگاؤہی نہیں بلکہ عشق ہے۔ اقبالیات کے موضوع پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی ہے۔ ان کی چند کتابوں اور اہم مقالات کی تفصیل درج کی جاتی ہے:

’اقبال، حیات اور تصانیف‘ پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ،’ضرب کلیم کا تحقیقی مطالعہ‘(1955) ’اقبال کی شاعری میں سوشلزم‘(1968)’جدید اردو ادب پر گاندھی کے اثرات، ہندوستان میں فارسی ادب، ہندوستان میں فیوڈل ازم، غالب پر ایک معرکہ آرا تحقیقی مضمون،حصہ چہارم درویش کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ، ہندوستان میں فارسی تصانیف کی تاریخ پر تحقیقی مقالہ‘وغیرہ۔پروفیسر یان مارک کو ’چیکوسلوواکیہ‘ میں فیض کی شعری کائنات کے تراجم کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ چیکو سلوواکیہ (سابق) میں لکھے گیے دیگر تحقیقی مقالات کی تفصیل کچھ یوں ہے:’ایشیا جاگ اٹھا‘ (مسز ہبش منووا) ’سرسید احمد خان اور آثار الصنادید‘(ایم پراز کووا) ’مرزارفیع سودا کی ہجویات‘ (ایچ  پیلنا روا)’ہم وحشی ہیں‘ (آر۔ چندروا)مصنفہ نے نامور افسانہ نگار کرشن چندر کی بہت سی کہانیوں  کو بنام ’ہم وحشی ہیں‘ ایک جگہ جمع کیا اور اس پر ایک تحقیقی مقدمہ لکھ کر تمام کہانیوں پر بھرپورتجزیہ بھی پیش کیا ہے۔