مضامین

چین میں اردو

چین میں اردو

محمد رکن الدین

چین  ایشیا کے مشرق میں واقع قدیم تہذیب وثقافت کا ملک ہے۔ چین دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں سے ایک ہے جو آج ایک کامیاب ریاست کی شکل میں موجود ہے۔ چین کی ثقافت چھ ہزار سال پرانی ہے۔ چین کی تہذیب دنیا کی ان چند تہذیبوں میں سے ایک ہے جو بیرونی مداخلت سے تقریباً محفوظ رہااور اسی وقت سے اس کی زبان تحریری شکل میں موجود ہے۔  صدیوں تک چین دنیا کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم اورمشرقی ایشیا کا تہذیبی مرکز رہا ہے جس کے اثرات آج تک نمایاں ہیں۔ اسی طرح چین کی سرزمین پر بہت ساری نئی ایجادات ہوئی ہیں جن میں چار مشہور چیزیں یعنی کاغذ،قطب نما،باروداورچھاپہ خانہ شامل ہیں۔چین کے خود مختار صوبے سنکیانگ کے عوام کی زبان اویغور ہے۔ چونکہ یہ زبان ایک تبدیل شدہ عربی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اس لیے اس علاقے کے کچھ لوگوں میں اردو سیکھنے کی بھی جستجو پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی اویغورداں لوگ برصغیر میں تعلیم اور روزگار کے لیے بھی آچکے ہیں اور کچھ لوگوں نے اردو کو اپناتے ہوئے ان ملکوں کی شہریت بھی حاصل کرلی ہے۔1950کے بعد سے حکومت چین کی ایک پالیسی بنی کہ وہ اپنے شہریوں کو ان ممالک کی زبانیں سکھائیں گے جن سے وہ دوستی کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں اردوکی خصوصیت اس اعتبار سے تسلیم کی گئی کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کی مشترکہ زبان ہے۔

ہندوپاک کا پڑوسی اور ایشیا کا ایک طاقت ورملک چین ہے جو مختلف جدید صنعت وحرفت کی ایجادات میں بہت آگے ہے۔ یہاں بھی اردو زبان کا فروغ ہورہاہے۔ مختلف سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کی تدریس و تعلیم ہورہی ہے۔ ریڈیو چائنا انٹرنیشنل یا سی آر آئی اردو میں خصوصی پروگرام ہر روز پیر سے اتوار تک نشر کرتا ہے۔ریڈیو کے مقابلے ٹیلی ویژن پر باضابطہ پروگرام کا رواج نہیں ہے، تاہم کبھی کبھار اس میڈیم میں بھی اردو کے پروگرام نشر ہوتے آئے ہیں۔ عالیہ امام جوکہ Languages Instituteاور پیکنگ یونیورسٹی(Peking University) میں اردو زبان کے استادکی حیثیت سے معلمی کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔عالیہ امام ایک چینی نژاد خاتون ہیں۔ انہیں اپریل 2015میں چین کے سابق صدر چواین لائی سے اردو میں انٹرویو لینے کا اعزاز حاصل ہے۔اس انٹرویو کی خاص بات تھی کہ چینی خاتون کا لب و لہجہ صاف و شفاف اور اردو قواعد اور لفظوں کی ادائیگی سے پر تھا۔

1960کے بعدبیجنگ براڈکاسٹنگ انسٹی ٹیوٹ میں 7-8 افراد پر مشتمل چینی ایک مختصر کمرے میں اردو سیکھا کرتے تھے۔ یہ ادارہ آگے چل کر وسیع ہو گیا اور’کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا‘کی شکل اختیار کرگیا۔ آج چین میں خصوصاً پیکنگ میں 12 انسٹی ٹیوٹ ایسے ہیں جہاں پرائمری سے لے کر ہائی اسکول تک اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ 2015کے اعداد وشمار کے مطابق مذکورہ درس گاہ میں معلمی کے فرائض انجام دینے والوں کی تعداد78کے قریب تھی جو انہیں اداروں کے سند یافتہ ہیں۔پیکنگ میں 2001کے اعداد وشمار کے مطابق تین یونیورسٹیز سمیت 45 ادارے ایسے ہیں جہاں اردو زبان کی تعلیم بحسن وخوبی انجام دی جاتی ہے۔ جن میں تقریباً 200 طلبا وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ 865مڈل اسکول میں سائنس کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ شنگھائی چین کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے۔ وہاں پرائمری سطح پر10 اسکولوں میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ سنکیانگ صوبے میں 22 اسکولوں میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔

اسکولی تعلیم کے علاوہ ”چائنا ریڈیو انٹرنیشنل“ تقریباً پچھلے 40سال سے قائم ہے۔ اس طویل عرصے میں دنیا میں بے پناہ تبدیلیاں رونماہوئیں لیکن اردو سروس کا رشتہ سامعین سے جوں کا توں بحال ہے، جن کی تعداداد لاکھوں کے قریب ہے۔ اردو کی مقبولیت کے پیش نظر ایک اردو رسالہ ”نوائے دوستی“ کے نام سے نکلتاہے جس کے چیف ایڈیٹر لوشنین، منیجنگ ایڈیٹر مہوش چاؤ اور ایڈیٹر نوراحمد چوہان ہیں۔ یہ اخبار چین کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی زندگی سے اردو دنیا کو متعارف کرانے میں ایک اہم کردار ادا کررہاہے۔پورے چین سے”نوائے دوستی“ہی ایک اردو کا ماہانہ رسالہ ہے جسے چینی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور یہ ریڈیو چائنا انٹرنیشنل کے توسط سے ہی چھپتا ہے۔

اپنے ملک کے حالات کو دنیا کے آگے لانے کے لیے چینی حکومت نے ایک تصویری رسالہ چائنا پِکٹورئیل جاری کیا۔ یہ انگریزی،روسی،فرانسیسی اوراردو کے ساتھ کئی اور زبانوں میں 1950 سے  1999کے درمیان  جاری رہا۔ژانگ شِکْسُوآن جن کا تخلص’انتخاب عالم‘ ہے،ان کا تعلق چین کے شانکسی صوبے سے ہے۔اردوشعرو شاعری سے کافی شغف ہے۔ ایک شعری مجموعہ بھی منظرعام پرآچکا ہے۔موصوف ماہنامہ چائنا پِکٹوریل اردو سے 1960سے 1999تک جڑے رہے۔ یہ ایک المیہ رہا کہ یہ ماہنامہ ان کی سبکدوشی کے ساتھ بند ہوگیا۔انتخاب عالم کی اہلیہ کا نام لی کیلی ہے۔ محترمہ اچھی اردو جانتی ہیں اور اہلِ اردو کے روبرو صابرہ سلطانہ نام سے خود کو متعارف کراتی ہیں۔

 ڈاکٹر یونگ وانگ لیوجو’شیدا چینی‘ (1931-2015)کے نام سے جانے جاتے ہیں، نسلاً چینی تھے لیکن اپنا پورا کلام اردو میں ہی لکھا ہے اور اردو شاعری سے جنون کی حدتک عشق کرتے تھے۔شیدا کی پیدائش ایک غریب چینی نژاد خاندان میں کلکتہ میں ہوئی تھی۔ معاشی مشکلات نے ان کے والدین کوجمشیدپورآنے پر مجبور کردیا۔ غربت وافلاس نے اردو میڈیم اسکول تک پہنچا دیا۔1946 میں ڈھاکہ سے جاری ہونے والا اردو رسالہ”ندا“میں شیدا کی پہلی نظم شائع ہوئی۔نداکی اشاعت نے ہمت بڑھائی اس کے بعد مسلسل لکھتے رہے اور بہت سارے مشاعروں میں چین کی نمائندگی بھی کی۔ شیدا نے ’مزدور آواز‘ کے عنوان سے ایک نظم لکھ کر 1962 کی ہندوچین جنگ میں چین کے کردار کی مخالفت بھی کی تھی۔شیدا کا ایک شعری مجموعہ”لکیروں کی صدا“کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ان کی شعری خدمات کے عوض فراق گورکھپوری ایوارڈ اور انجمن ترقی اردو کے خصوصی ایوارڈ سے نوازاجاچکا ہے۔