مضامین

امریکہ میں ادبی اداروں کی خدمات

امریکہ میں ادبی اداروں کی خدمات

 

محمد رکن الدین

اردو کی نئی بستیوں میں امریکہ کئی اعتبار سے قابل ذکر ہے۔ امریکہ کی حیثیت موجودہ وقت میں سب سے زیادہ طاقت ور ملک کی ہے۔ جدید آلات وٹکنالوجی پر گرفت نے تمام ممالک کو امریکہ کا گرویدہ بنادیا ہے۔ امریکہ ایک وسیع وعریض ملک ہے جو چار Time Zoneپر پھیلاہواہے اس کے بڑے شہروں میں نیویارک، شکاگو، لاس اینجلس، ہوسٹن، واشنگٹن، سین فرانسسکو، میامی وغیرہ قابل ذکر ہیں جن میں اردو بولنے والے کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اور تقریبا ًہر شہر میں درجنوں تنظیمیں موجود ہیں جو گاہے بہ گاہے کوئی اردو پروگرام یا نجی ادبی نشست منعقد کراتے رہتے ہیں۔ موجود ہ دور میں امریکہ میں تقریباً 30 کروڑ آبادی ہے۔ ان میں سے 82فیصد انگریزی میں بات کرتے ہیں اور 11 فیصد ہسپانوی بولتے ہیں۔ اردو بولنے والوں کی تعداد 26 سے 30لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے امریکہ میں بولی جانے والی زبانوںمیں اردو تیرہویں (13) نمبرپر ہے۔ اردو بولنے والوں کی کثیر تعداد نیویارک اور شکاگو میں مقیم ہیں جہاں کچھ بازاروں کی بے شمار دکانوں میں اردو بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں اردو ہندی بولنے والے لوگوں کی آمد بیسویں صدی کے آغاز میں بتائی جاتی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس نئی دنیا میں ریلوے لائنز اور شجر کاری پر کام کرنے کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ چناں چہ امریکہ جانے والوں میں چند گنے چنے لوگ مشرقی پنجاب سے آئے تھے اور یہ تمام کیلیفورنیا کی سرسبز وادیوں میں آباد ہوگیے۔ اس طرح آنے جانے کا یہ سلسلہ 1918تک جاری رہا اور پھر مکمل منقطع ہوگیا کیوں کہ اس سال ایشیا کے لوگوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی لگادی گئی۔ 1965میں نیا امیگریشن ایکٹ پاس ہوا جس کے تحت وہ پابندی ہٹادی گئی اور ایشائی لوگوں کی امریکہ آمد دوبارہ شروع ہوگئی جو 2001 تک بتدریج بڑھتی چلی گئی۔ /9/ 11/ 2001کے واقعہ کے بعد ہجرت کا یہ سلسلہ قدرے کم ہوگیا اور نوجوان طبقے کے لیے امریکہ آنادشوار ہوگیا۔

امریکہ میں اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے سب سے مؤثر ذرائع میں ادبی تنظیمیں سرفہرست ہیں۔ ان میں عبدالرحمان عبدکی تنظیم ”اردو انجمن“جوکہ نیویارک میں ہے جس کی بنیاد 1968 میں رکھی گئی،سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ حلقہ فن وادب (نیویارک)، نیویارک اردو انجمن، اردو مراکز لاس اینجلس، علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن، کاروانِ فکر وفن(نیویارک) ظفر زیدی میموریل کلچرل سوسائٹی (نیویارک)،خیبر سوسائٹی (نیویارک)، بزم سخن(کیلیفورنیا)، ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشینز آف نارتھ امریکہ (شکاگو) وغیرہ ہیں،ان میں سے چند تنظیمیں بہت فعال اور متحرک ہیں۔ امریکہ میں سرکاری سطح پر اردو کی کوئی تنظیم وفاقی، ریاستی یا شہری سطح پر نہیں ہے۔ جو اردو تنظیمیں ہیں وہ اپنے ذاتی وسائل اور اردو زبان وادب سے خاص دل چسپی کی وجہ سے کام کررہی ہیں۔ امریکہ کی یونیورسیٹیوں میں جو اردو زبان وادب پر کام ہورہاہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پھر بھی ایک تنظیم بہت متحرک وفعال ہے اور یہ تنظیم ”ایسوی ایشن آف پاکستانی فزیشینز آف نارتھ امریکہ(شکاگو) (APPNA) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے زیر نگرانی اردو زبان وادب کا کارواں رواں دواں ہے۔ مختلف ادبی نشست، کانفرنس اور مذاکرے اس تنظیم کے تحت اب تک ہوچکے ہیں۔

امریکہ میں موجود ادبی اداروں کو کئی معاملے میں زیادہ حساس اور محتاط رویے کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ چوں کہ امریکہ میں دیگر پوروپی ممالک کے بہ نسبت سرکاری امداد کی فراہمی نہیں ہے۔ یوروپ کے متعدد ممالک میں قائم اداروں کو سرکاری امداد ملتے رہتے ہیں۔ امریکہ میں موجود اردو کے بہی خواہوں کی ذمہ داریاں اس وجہ سے زیادہ ہے کیوں کہ کسی پلان کو عملی شکل دینے کے لیے بجٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اردو کے شیدائی اور خیرخواہ کو ایک منصوبہ بند طریقے سے تمام اردو اداروں کو فعال بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کم از کم نئی نسل ایک وافر مقدار میں ان اداروں سے منسلک ہو کر اردو کے مستقبل کے بارے میں سوچ سکے۔ ورنہ ان ممالک میں جہاں ٹکنالوجی کافی عروج پر ہے، ہر طرف ایک خاص زبان کی اہمیت ہی کو تسلیم کرکے لوگ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان سب بھیڑ بھاڑ سے صرف نظر نوجوان نسل کو اپنی تہذیبی زبان کی طرف توجہ مبذول کرائیں تاکہ اردو زبان و تہذیب کا یہ سفر مزید بہتر و مستحکم ہو سکے اور ساتھ ہی ساتھ آگے کی طرف بھی بڑھ سکے۔

نجی طور پر بہت سارے ادارے سنڈے اسکول کا اہتمام کررہے ہیں۔ اردو تہذیب کے شیدائی ان سنڈے اسکول کو مختصر وقت دے کر کامیاب بناسکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ مثبت رائے، اجتماعی شکل میں مشورے بھی ان ممالک میں کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ہے۔ ایک سوال جو میرے ذہن میں ہے کہ ان ممالک میں کیسے اردو کو روزگار سے جوڑاجائے؟ میرا خیال ہے کہ مذکورہ تمام ادبی ادارے اس جانب سنجیدگی سے غوروفکر کریں تو مستقبل قریب میں بہتر نتیجہ نکل کر سامنے آئے گا۔ لہذا اب نئی نسل پردارومدار ہے کہ وہ اپنی تہذیبی وثقافتی زبان کو کس قدر فروغ دے پاتے ہیں۔ فروغ کی اس راہ میں اردو اداروں کے منصوبے کو کس قدر بروئے کار لارہے ہیں۔ یہ تو نئی نسل ہی طے کرےگی، تاہم بڑوں کی سرپرستی ادبی اداروں کے ذریعے یوں ہی برقرار رہے تاکہ اردو کا قافلہ امریکہ میں بھی پھیلتا رہے۔