کتابوں پرتبصرے

پیغام آفاقی کا ناول “دوست” ایک مطالعہ

پیغام آفاقی کا ناول “دوست” ایک مطالعہ

 ذیشان مصطفی

جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

            ’مکان‘ اور’پلیتہ‘ جیسے شاہ کار ناول کے تخلیق کار پیغام آفاقی اردو فکشن کا معتبر اور مستند نام ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کا ناول “دوست”2018 میں شائع ہوا۔ یہ ناول موضوعی اعتبار سے اردو دنیا کے لیے منفرداور متحیر کن ہے کیوں کہ اس طرح کے موضوع پر لکھنا تو در کنار اس کا انتخاب ہی داخل گناہ ہے یعنی لیو ان ریلیشن شپ، لیکن پیغام نے محض163/ صفحات پر مشتمل ناول کا حق ادا کیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں اس رشتے کا واحد مقصد صرف جنس کی ہوس اور شہوت کی بھوک قرار دیا جاتاہے جو درست نہیں۔ آفاقی نے صرف ذہنی اختراع اور خیالی اپج سے کسی بھی مرد عورت رشتے کو غلط نظریے سے دیکھنے کی روایت شکنی کی ہے۔شوہر بیوی کے مابین رشتوں کی بنیاد صرف جنس نہیں بلکہ جنس سے بڑھ کر ایک شیء ہے جو میاں بیوی کو اور قریب بلکہ مرگ تک جوڑے رکھتی ہے اور وہ ہے پیا رو محبت میں قربانی کا جذبہ شامل ہونا۔ ناول کی مرکزی کردار اور ہیروئن نینا کے بقول جو عورت کے جسم کی گولائیوں کو نہیں روح کی دھڑکنوں کو محسوس کرسکے،جسم سے بڑھ کر مخلصانہ باتوں میں یقین رکھے، لمس کو جسم میں ڈھونڈنے کے بجائے روح میں تلاش کرے۔ کیوں کہ جنسی ملاقات میں عورت کی توجہ اور مسرتوں کی شراکت نہ ہو تو مرد کا عمل ایک ایسی مزدوری کی محنت سے زیادہ کچھ نہیں جس میں مزدوری بھی نہ دی جارہی ہو، بلکہ معاشرے کے غلام جسم کو چھونے کے مترادف ہے۔

            پیغام آفاقی نے معاشرہ میں عورت کی حیثیت اور اس کے آئندہ اٹھائے جانے والے اقدام اور بہادری کو نینا کے سہارے بڑی باریکی سے پیش کیا ہے، وہ نینا جس نے مرد اساس معاشرے کی ستم ظریفیوں سے تنگ آکر سر تسلیم خم کیا، نہ محبت کی بھیک مانگی، نہ اس دنیا کو ایسی دنیا تسلیم کیا جس میں عورت قصائی کی دکان پر لٹکا ہوا گوشت کا لوتھڑا ہو، بلکہ اس نے اپنی دنیا اور اپنا مرد آپ پیدا کیا۔ نینا جیسی عورتوں کی ضرورت ہے جو دنیا کو ایک صاف ستھرا گھر بنا دے اور کہانی کے ہیرو ہاشم جیسے مردوں کی نشو ونما کرے۔ آفاقی نے مرد اساس معاشرہ پرتیکھا طنز کیاہے کہ مرد عورت سے دور ہونے کی وجہ سے بگڑ گیا ہے، مردوں کے بیچ بیٹھنے کی عادت اس کی بہت بڑی بیماری ہے جسے وہ اپنی بڑی مردانگی سمجھتا ہے، وہ عورت کو اس کے جسم سے زیادہ نہیں جانتا، عورتوں کے ساتھ وقت گزارنے والے مردوں کو جنس پرست گردانا جاتا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ عورتیں مردوں کو صرف ورغلا سکتی ہیں انھیں پختہ مشورے نہیں دے سکتیں، یہ سب اسی سڑے ہوئے معاشرتی نظام کا نتیجہ ہے جس نے عورت کو ایک مویشی سے زیادہ نہیں سمجھا، آفاقی نے ایسے معاشرے کے مردوں کی ذہنیت سے نفرت اور گھن کا اظہار کیا ہے جو عورتوں سے صرف جنسی ملن کے بعد جانوروں کی طرح گھاس چرنے نکل جاتے ہیں۔

            پیغام آفاقی نے عورت کو بحیثیت انسان دیکھنے پر زیادہ زور دیا ہے جس کے ساتھ عورت کی اپنی شخصیت، شناخت،اپنی دنیا، دنیا سے اس کے رشتے، ذاتی زندگی، اس زندگی میں ذاتی ارمانوں، جذبوں،خواہشوں، جن میں اس کی اپنی ذہنی، جسمانی،جنسی اور تجرباتی خواہشات سب شامل ہیں۔ پیغام کے مطابق کسی بھی فلسفے کے لیے لازم ہے کہ وہ انسان کو بحیثیت انسان بھی تسلیم کرے اور اس کے ذاتی حقوق کا بھی احترام کرے جو بد قسمتی سے بہت کم ہوا ہے۔ معاشرے نے انسان کے ذاتی حقوق تلف کرکے اسے معاشرے کے سپرد کرنے کی کوشش کی نتیجتاً انسان ایک معاشرتی کردار بنتا چلا گیا بلکہ کبھی کبھی مکمل طور پر معاشرتی جانور جس کا کمانا،کھانا، خوشحال یا بد حال زندگی بسر کرنا سب اس کے معاشرتی رول کا ہی حصہ بن گیا۔ اس ضمن میں انسان کو بری طرح لٹا گیا ہے کہ اس کا کوئی بھی عمل جس سے سماج کو فائدہ نہ پہنچے معاشرے کو گوارہ نہیں بلکہ قابل مطعون ہے۔

            آفاقی کے مطابق عورتوں کی جنسی آزادی اس کا ذاتی حق ہے جس پر کسی طرح کی اجارہ دا ری روا نہیں نہ قانونی نہ مذہبی۔ دراصل وہ اسے فطرت سے جوڑتے ہیں اور اولاد کی شناخت میں ڈی این اے ٹیسٹ کو مسئلے کا حل قرار دیتے ہیں۔ پیغام کے بقول لوگ اپنے جوڑوں کو اپنے علاوہ کسی اور سے جنسی تسکین حاصل کرتے دیکھنا نہیں چاہتے حالاں کہ وہ اس بات کو بھولتے ہیں کہ اس کی جنسی خواہش اس شخص سے پوری نہیں ہو رہی یا پھر یہ خواہش جنس کے کسی اور رنگ کی ہے جو اس کے جوڑے میں موجود نہیں۔ جنس کے اس رنگ کی خواہش اس جوڑے کی بحیثیت انسان اپنی ضرورت ہے اور اس کو اس سے روکنے کی وجہ اپنی اس حد درجہ خود غرضی ہے کہ وہ عدم تحفظ کے احساس کے تئیں اپنے جوڑے کو قید کرنے کی حد تک جانا چاہتا ہے۔ معاشرہ انسانوں سے بنا ہے اور یہ انسانوں سے بالا تر نہیں۔ مرد بحیثیت انسان اور ایک عورت بحیثیت انسان کسی حد تک قریب آنے یا اس سے آگے جنسی رشتہ قائم کرنے میں کسی بھی طرح کا احساس گناہ حائل نہیں ہے، یہ دو انسانوں کی آزادانہ بحیثیت انسان ملن ہے۔

            پیغام کے مطابق جب تک معاشرے میں لوگ آزادانہ طور پر اپنی زندگی کی ترجیحات اور پسند و نا پسند کو شامل نہ کرنے لگ جائیں زندگی خوش گوار اور خوبصورت نہیں ہو سکتی بلکہ بچوں اور کافی حد تک جنس کی زندگی کی خوشیوں سے محروم رہنا عورت کا مقدر رہے گا اور سماج میں عورتوں کی خواہش ایندھن بن کر جلتی رہے گی کیوں کہ یہ مرد اساس معاشرہ کا وہ گناہ ہے جو مردوں کو بے حد مرغوب ہے اور غلط فہمی میں وہ خود کو مہذب، شریف اور دانش ور سمجھتے ہیں۔ معاشرے کی جبر سے آزادی کے احساس کو پیغام نے جنس کی لذت سے بڑھ کر بتایا ہے۔ پیغام پورے معاشرے کی تبدیلی کے انتظار میں بیٹھے رہنے پر یقین نہیں رکھتے کہ یہ غلامانہ ذہنیت کے حامل افراد کو زیب دیتی ہے، یہ تنہا ہی انقلابی اقدام کے قائل ہیں۔ اور یہ سب کچھ مغرب کی نقالی کے طور پر نہیں بلکہ ضرورت کی پیداوار ہے، البتہ نقالی محض ایک راستہ کے نظر آنے کا عمل ہو سکتا ہے۔

            ناول میں نسائیت اور شخصی آزادی سے متعلق تلخ حقائق کے ساتھ بجا سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ان کے ذاتی حقوق کی پامالی کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے جسے معاشرہ ملمعہ سازی کرکے عورت کو ایک فطری کڑی قرار دیتا ہے۔ پیغام ہر طرح کے رشتوں سے اوپر اٹھ کر ایک ایسے رشتے کی وکالت کرتے ہیں جو جذباتی، قانونی، نفسیاتی، تکلفات سے آزاد، خوش گوار خیالات پر مشتمل، سچائی سے مشترک، محبت کی بنیادپر قائم، مضبوط ا ور وسیع قلبی کے ساتھ دوستی کا رشتہ ہے، جو معاشی، سماجی اور خاندانی تمام رشتوں سے زیادہ حقیقی ہے جس میں عشق کی آگ ہے نہ جنس کی بھوک،اس کے باوجود دلکش، مضبوط اور دیر پا ہے۔جو اپنے آپ پیدائشی طور پر نہیں جڑتا بلکہ اس کا انتخاب خود کیا جاتا ہے۔ Autobiographical Elementsکے طور پر ناول کے مرکزی کردار ہاشم کی صورت میں مصنف نے خود کو پیش کیا ہے جو بہت ہی آزاد،انقلابی اور وسیع فکر کا حامل ہوتا ہے، وہ سماج میں بلا وجہ کی روایتوں کے خلاف اپنے منطقی دلیلوں اور فلسفوں کے سہارے علم بغاوت بلند کرتا ہے۔ ناول میں ہاشم بطور مرد اور نینا بطور عورت ایک دوسرے کے لیے آئینہ کی طرح ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفیض ہو تے ہیں جو پیغام کا پیغام بھی ہے کہ ایک بہتر معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکے گا جب عورت مرد دونوں کی شراکت ہو۔ ناول میں محبت کے عروج و زوال، وقتی جدائی، بے چینی، اضطراب، ذہنی کشمکش، کھو دینے کا احساس اور رقیبوں کی کیفیات کو بڑے انوکھے انداز میں صفحہ قرطاس پر بکھیرا گیا ہے۔ رومان پسندی کے اعتبار سے بھی پیغام ایک بڑے کامیاب ناول نگار نظر آتے ہیں، رومانس کے فلسفیانہ اظہار میں وہ ذات کو کائنات سے ملانے پر دسترس رکھتے ہیں۔ جے، این، یو کے فطری مناظر پر مبنی ماحول کی بھر پور عکاسی، تشبیہات و استعارات اور کنایات کا مناسب استعمال، الفاظ کا بر محل انتخاب، زبان میں سلاست، بیان میں روانی، مواد کی فراہمی، فلسفیانہ انداز بیان اور منطقی دلائل کا انبار سب کچھ اس مختصر سے ناول میں پیغام نے اکٹھا کر دیا ہے جو اردو دنیا میں سراپا دعوت مطالعہ ہے۔ یہ ناول اپنے عہد کے کئی اہم انگریزی ناولوں پر موضوع، مواد اور بیان کے اعتبار سے فائق ہے۔ بطور مقدمہ شامل ناول ” لفظوں کا لہو ” کے تخلیق کار سلمان عبد الصمد کا طویل مضمون ناول اور آفاقی کے تخلیقی رویوں کی تفہیم میں معاون ہے۔

            مجموعی طور پر پیغام آفاقی کا یہ ناول اپنے موضوع اور فکر و فن کے اعتبار سے بہت ہی کامیاب اور منفرد ناول ہے جو اپنی تمام تر رعنائیوں اور جلوہ سامانیوں کے ساتھ زینت مطالعہ ہے۔ قارئین کے نام انتساب، دیدہ زیب طباعت، مناسب قیمت، کمپوزنگ اور تزئین کاری سب ایک سے بڑھ کر ایک۔گویا: ع  ‘زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے،۔ناول کو سلمان عبدالصمداورپیغام آفاقی کی شریک حیات محترمہ رضیہ سلطانہ نے تدوین و ترتیب کے مراحل سے گزار کر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے شائع کر بڑی محنت و مشقت سے منظر عام پر لایا ہے۔امید ہے نقاد اور فکشن کے قارئین کے لیے یہ ایک دل چسپ اور قابل توجہ ناول ہوگا۔