ادیبوں کا تعارف

برطانیہ میں اردو کے علمبردار:مقصود الہٰی شیخ

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین 

برطانیہ میں اردو کے علمبردار:مقصود الہٰی شیخ

برطانیہ کے مشہور شہر بریڈ فورڈ  میں مقیم مقصود الہٰی شیخ اردو  کے ایک اہم اور نامور   ادیب  ہیں لیکن ایک ادیب سے زیادہ وہ  برطانیہ میں  اردو کے  فروغ  کے حوالے سے  جانے جاتے ہیں ۔ وہ جن حالات میں جس طرح   برطانیہ میں  تقریباً  چھ دہائیوں سے  اردو  کی خدمت کر رہے ہیں   وہ حروف زریں سے لکھنے جانے کی مستحق ہیں ۔ پاکستان سے ہجرت کر کے وہ  1962میں برطانیہ  چلے گئے اور وہیں  کے ہوکر رہ گئے ۔ اتنی طویل مدت  تک وہاں رہنے کے باوجود  بر صغیر سے ان کی محبت اور انسیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔ان کی تحریروں او ر یادداشتوں میں  بر صغیر  موجود ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مغربی تہذیب سے جو کچھ انھوں نے سیکھا اس کو اردو میں استعمال کرنے کی  کامیاب کوشش کی ہے ۔ اپنے ذاتی تجربے ، مغربی ادبیات   کے مطالعے اور وہاں مستقل سکونت کے سبب    مقصود الہٰی شیخ نے  جو  ملکی اور اعلمی سطح کی تبدیلیاں دیکھی ہیں ان کو ان کے فکشن میں بخوبی دیکھا  جاسکتا ہے۔

مقصود الہٰی شیخ کی شخصیت  کے کئی جہات ہیں  ۔ ان کی شناخت ایک صحافی، فکشن نگار ، اور محقق و ناقد کے  طور پر ہے۔ برطانیہ میں انھوں نے  ابتدا میں ایک بینک میں ملازمت کی  لیکن وہ صحافت سے بھی جڑے رہے  1971-72 تک بریڈ فورڈ میں روزنامہ’’جنگ‘‘لندن کے لیے ادارتی  ذمہ داریاں نبھائیں اس کے بعد بریڈ فورڈ سے شائع ہو نے والے ایک مشہور ہفت روزہ ’’المشتہر‘‘کا 1975 میں نظم و نسق سنبھالا انھوں  نے اس کا نام بدل کر’’راوی‘‘رکھ دیا اور وہ اس رسالے کو 1999تک باقاعدگی کے ساتھ شائع کرتے رہے۔ ان کی  کاوشوں کے سبب یہ بہت مشہور ہوا اور اب لوگ  راوی کو ہی جانتے ہیں المشتہر کا نام شاید باید لوگوں کو معلوم ہے۔اس کے علاوہ ایک  ان کی ایک بڑی خدمت    مخزن کی ادارت اور بریڈ فورڈ  سے اس کی اشاعت ہے ۔ اس رسالے  کوبرطانیہ  کے علاوہ  ہندو پاک اور دیگر ممالک میں کافی شہرت ملی اس کی وجہ یہ تھی کہ اس میں مقصود الہی شیخ نے  جدت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس رسالے مضامین کی نوعیت کے اعتبار سے کئی حصوں  میں   منقسم کیا  اور انوکھے عناوین قائم کیے جیسے  افسانے اور تجزیئے ، شاعری اور تجزئے اور قابل تعریف  پہلو یہ تھا افسانوں اور غزلوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اس پر نقدو تبصرہ بھی شائع کرتے ۔ اس رسالے کے ذریعے انھوں نے برصغیر کے ادیبوں کو  بیرون ممالک متعارف کرایا او ر مہجری ادیبوں کو ان کی سر زمین میں متعارف کرایا۔  یہ سلسلہ  شاید دسویں یا گیارہویں  اشاعت تک چلا ۔ لیکن اس کی اہمیت کا ھال یہ ہے کہ بہت سے تحقیق مقالوں میں ان کے حوالے ملتے ہیں اور آ ج بھی ریسرچ کرنے والے ان رسالوں کی تلاش و جستجو کرتے ہیں گویا یہ دستاویزی نوعیت کا جریدہ تھا جس  کے تمام انتطام و انصرام ا نھوں نے خود کیا   ۔

ان کی تصنیفات و تالیفات  کی تعداد بھی خاصی ہے ان میں ’’پتھر کا جگر‘‘۱۹۶۶ء،’’برف کے آنسو‘‘۱۹۷۵ء،’’جھوٹ بولتی آنکھیں‘‘۱۹۹۲ء،’’دل ایک بند کلی‘‘۱۹۹۴ء ناولٹ،’’پلوں کے نیچے بہتا پانی‘‘،فریب تماشا‘‘    ناولٹ “” شیشہ ٹوٹ جائے گا ” “چاند چہرے سمندر آنکھیں “( محمد شفیق نے اس نام سے ان کی دس کہانیوں ککی ترتیب دی ہے )افسانوی  مجموعہ” من درپن” اس کے علاوہ ان کے بیش قیمت مضامین جو  کئی رسالئل و جرائد میں شائع ہوئے ۔

ان کی شہرت کی ایک وجہ افسانوی  جہان میں کچھ نیا کرنے کو حوصلہ اور جرات ہے ۔ انھوں نے  افسانے میں ایک نیا تجربہ  “پوپ کہانی ” کے نام سے کیا ۔ ان کا شمار اردو  میں ” پوپ کہانی ” کے     بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے ۔ پوپ کہانی کے حوالے سے بہت سی مثبت اور منفی  رائیں سامنے آئی ہیں  لیکن میری نظر میں یہ ایک مستحسن  کوشش ہے ۔اسی لیے عہد حاضر میں کئی لوگ پوپ کہانیاں لکھنے لگے ہیں ۔ حالانکہ ابھی یہ طے نہیں ہوپایا ہے کہ پوپ کہانی کیا ہے؟ اس کی وضاحت اور تعریف   حتمی طور پر  کیا ہوگی یہ بھی ابھی طے ہونا ہے ۔خود مقسود الہی۔ شیخ اس  بارے میں  کئی باتیں   مختلف انٹرویو میں بھی کہہ چکے ہیں  انھوں نے  ایک جگہ لکھا ہے کہ “پوپ کہانی میں اختصار یا طوالت کا سوال نہیں ہے۔ ایک کہانی چار سطر کی تو کوئی چار صفحوں پر پھیلی ہوئی۔ متعدد قلمکار اس صنف میں لکھ رہے ہیں۔ کیسے کسیے گمبھیر مسئال ہیں جن کے حوالے سے پوپ لکھنے والے پھاؤڑا چلانے کے بجائے ہلکی سی چٹکی میں حساسیت نہ جگا دیتے ہوں ؟سادگی سے بات قاری تک پہنچا دی جاتی ہے۔تالاب میں چھوٹی سی کنکری سے پیدا ہونے والا چھوٹا سا دائرہ بڑھتے بڑھتے کناروں تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ مشاہدہ حقیقت ہے یا نہیں ؟ کچھ لوگ اداس ہو سکتے ہیں ،۔جنگل اداس نہیں ہے۔
پوپ کہانی لکھی جا رہی ہے اور اب روکے نہیں رکے گی !!۔آخر میں گذارش کروں گا اس نو زائیدہ صنف سے صرف نظر نہ کیجیے۔ اسے پڑھئیے، رائے دیجئے اور خود بھی پوپ کہانی لکھئیے۔ یہ اردو زبان کی خدمت ہو گی۔ نئی تبدیلیاں زبان کی آبیاری کرتی ہیں اسے زندہ رکھتی ہیں۔” بہر کیف انھوں نے تجربے کی سمت ایک قدم بڑھایا  جس کا استقبال ہونا چاہیے ۔

مقصود الہی شیخ کی خدمات ارود کے لیے بہت ہیں لیکن جس انداز سے اعتراف و اعزاز ہونا چاہیے تھا وہ ہم اردو والوں کی جانب سے بہت کچھ نہیں ہوسکا ہے ہاں چند اعزازات جو ان کے نام ہیں وہ اس طرح ہیں ۔ بہترین جرنلسٹ ایوارڈ،اسلام آباد،۱۹۹۲ء،بہترین کہانی نویس ایوارڈ، لاہور، ۱۹۹۲ء، پبلک سروس ایوارڈ ،بریڈ فورڈ،۱۹۹۸ء،راوی سلور جوبلی ایوارڈ،۱۹۹۸ء،اردو صحافت کے پچیس سال،اسکاٹ لینڈ،۱۹۹۹ء،ادیب ایوارڈ،لدھیانہ،۲۰۰۰ء، افسانوٰی مجموعہ من درپن (2002) کے عنوان سے چھپا ۔ اسے اردو مرکز سانتا مونیکا نے سال کی بہترین کتاب قرار دیتے ہوئے پانچ ہزار ڈالر نقد اور ایوارڈا شیلیڈ دی تھی ۔ اس کے علاوہ انھیں جسٹس آف پیش   کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔