ادیبوں کا تعارف

روس میں اردو کی سفیر: ڈاکٹر لڈ میلا وسیلیؤا

روس میں اردو کی سفیر: ڈاکٹر لڈ میلا وسیلیؤا

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

 

 

  اردو ادب کی یہ خوش بختی ہے کہ بر صغیر سے باہر اردو کی شمع روشن کرنے والوں میں نہ صرف مہاجرین ہیں (جن کو ہم مہجری ادیب کہتے ہیں)  غیرملکی اسکالر اور ادیب وشاعر ہیں جو اردو کے سرمائے میں وقیع اضافہ کررہے ہیں۔ ایسی ہی ایک شخصیت ڈاکٹر لڈ میلا وسیلیؤا کی ہے۔ ڈاکٹر لڈ میلا ماسکو، روس کی ایک نامور شخصیت ہیں جن کو اردو زبان پر کمال کی مہارت حاصل ہے۔ ان کا لب و لہجہ خالص اردو  والوں جیسا ہے، ان کو سنتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ کوئی لکھنؤ یا دہلی کا باشندہ ہے جو اس قدر شیریں  بیان ہے۔ایک روسی ادیبہ کا لہجے اور تلفظات پر اس قدر مہارت حاصل کرلینا  یہ معمولی بات نہیں ہے کیونکہ جغرافیائی اعتبار سے افراد کے تلفظات مخصوص ہیں اس لیے کسی دوسری زبان کے تلفظ کو درستگی سے ادا کرنا یہ بڑی بات ہوتی ہے۔ ڈاکٹر لڈ میلا نے نہ صرف تلفظات پر  محنت کی ہے بلکہ ان کے پاس الفاظ و محاورات اور اشعار کا بھی بڑا ذخیرہ یاداشت  میں  موجود ہے جو ان سے گفتگو کرتے وقت سننے میں لطف دیتا ہے۔ابھی گزشتہ مہینے انھیں ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے تحت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ایک لیکچر کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقعے پر انھوں نے جو تقریر کی ہے وہ مثالی تھی۔ سامعین نہ صرف ان کے لب ولہجے سے محظوظ  ہورہے تھے بلکہ ان کے علمیت کے بھی قائل ہوگئے۔

          روس میں اردو درس و تدریس کی بات کی جائے یا اردو تصنیف و تالیف کی بات ہو ڈاکٹر لڈ میلا کا نام سر فہرست رہتا ہے۔ان کی حالیہ تصنیف ”اجنبی دیسوں میں اردو ادبیات:شاعری اور نثر“ ایک عظیم کارنامہ ہے۔ یہ کتاب روسی زبان میں ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد اہل روس کو اردو کے ادیبوں، شاعروں سے نہ صرف  متعارف کرانا ہے بلکہ ارود ادیبات کی سمت و رفتار سے بھی متعارف کرانا اہم مقصد ہے۔ کسی زبان کے لیے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس کے متعلق دوسری زبانوں میں گفتگو کی جائے۔ اس کتاب میں ڈاکٹر لڈ میلا نے  مہجری ادیبوں اور شاعروں کا نہ صرف جائزہ پیش کیا ہے بلکہ مہجری ادب پر مجموعی طور پر تبصرہ بھی کیا ہے اور مستقبل میں اردوکے مہجری اد ب پر سیر حاصل بحث بھی کی ہے۔ اس کتاب کی تفصیلات خود لڈمیلا نے مجھ سے دوران گفتگو بتائی، باقی ماندہ تفصیلات میرے کرم فرما جناب نصر ملک صاحب نے بتائی جو ڈنمارک میں رہتے  ہیں اور اردو کے بڑے ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔بہت ممکن ہے کہ احباب کی کوششوں سے یہ جلد اردو اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوجائے۔

          ویکی پیڈیا  میں ان کی سوانحی تفصیلات یوں ہے ”ڈاکٹر لڈ میلا نے اردو زبان و ادب کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی اور پھر درس و تدریس سے وابستہ ہوکر اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہوگئیں۔لڈمیلا نے ماسکو اسٹیسٹ یونیورسٹی سے 1965ء میں اردو و ہندی زبانوں میں ایم اے کیا اور پی ایچ ڈی کی تکمیل 1987ء میں ہوئی۔ انھوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ الطاف حسین حالی پر لکھا ہے۔ ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی میں  1982سے   1990تک اردو ادب کے بی اے اور ایم اے کے طلبا کو تعلیم دی۔ ماسکو ریڈیو پ1965سے 1989تک ریڈیو براڈ کاسٹر، اردو زبان کی مترجم اور اردو اسکرپٹ نگارکی حیثیت سے انھوں نے اپنی خدمات انجام دیں۔“ان کی متعدد کتابیں اب تک منظرعام پر آچکی ہیں۔ ان کتابوں میں تراجم کو فوقیت حاصل ہے،پرورش لوح و قلم:فیض حیات و تخلیقات  کا روسی اور اردو زبان میں ترجمہ ،لطاف حسین حالی: اردو ادب میں روشن عرصہ، طرز قدیم اور نئے افق: پاکستان میں اردو شاعری کے پچاس سال کے علاوہ اردو زبان میں بھی ان کے متعدد مضامین مسلسل شائع ہوتے رہتے ہیں۔اردو سے روسی زبان میں تراجم کی طویل فہرست ہے۔ مثلاً فسانہء عجائب، آخری شب کے ہم سفر، غبار خاطر، نادید (جوگندرپال) کے علاوہ احمد یوسف، انتظار حسین کی کہانیاں، جیلانی بانو، اقبال کی غزلیں، فیض، فراق، جوش، مجاز، علی سردار جعفری، زبیر رضوی، وغیرہ کی تخلیقات روسی زبان میں منتقل ہوچکی ہیں۔ ہمدرد پاکستان نے ان کی بچوں کے لیے لکھی ہوئی  3 کہانیاں الگ الگ کتابی صورت میں شائع کی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اردو دنیا میں منعقد ہونے والے متعدد سیمینار وں اور کانفرسوں میں شرکت کی ہے اوران کی خدمات کے اعتراف میں انھیں کئی اعزازات واکرامات سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

          1992ء میں جامعہ ہمدرد نے لڈمیلا کو وثیقہ اعتراف سے نوازا، دوحہ، قطر میں 1994ء میں طلائی تمغا اور حضرت امیر خسرو عالمی اردو اعزاز دیا گیا۔ 2000ء میں لندن میں علی سردار جعفری اعزاز دیا گیا۔ اردو ادب میں خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2006ء میں ستارہئ امتیاز عطا کیا۔ لاس اینجلس، امریکا میں 2010ء میں قاضی شفیع محمد فخر اردو عالمی اعزاز دیا گیا، 2011ء میں قیصر تمکین یادگاری اعزاز اسکاٹ لینڈ اور 2013ء میں فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ لاہور کی طرف سے فیض احمد فیض اعزاز دیا گیا ہے۔اور حال  ہی میں پاکستا ن  نے نشان  امتیاز سے سرفراز کیا ہے۔