افسانہ

انصاف

انصاف

رمانہ تبسم،پٹنہ سیٹی

پورے  گھرمیں مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔ دینو دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ آنسو اس کی آنکھوں کے کنارے میں آکر ٹھہر گئے تھے۔ وہ کھل کر رو بھی نہیں پا رہا تھا۔ پاس میں بیٹھی اس کی بیوی نیلم پر بھی سکتہ طاری تھا۔اس کے ضبط کا سلسلہ ٹوٹتا جا رہا تھا۔اس نے دینو کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بھڑائی ہوئی آوازمیں کہا۔
”سونی کے باپو! ہماری بیٹی کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔اگراسے انصاف نہیں ملا تو مرنے کے بعد بھی اس کی آتما کو شانتی نہیں ملے گی۔“
بے شمار آنسو دینو اور نیلم کی آنکھوں میں آگئے اوراس کی تصویر پر گرنے لگے۔ آنسوؤں سے پوری تصویر بھیگ گئی تھی۔جس سے تصویر دھندلی دیکھائی دینے لگی۔دینو اور نیلم نے تصویر پر سے آنسوؤں کو صاف کیا اور ان کی نظروں کے سامنے سونی کا اداس چہرہ گھومنے لگا۔گھر کے ہر سمت سے اس کی آواز آ رہی تھی۔
”ماں…..! باپو…..!!مجھے انصاف چاہئے۔“
”انصاف…..!انصاف…..!! انصاف…..!!!“
دینواورنیلم نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا…..نہیں…..نہیں…..ہماری بیٹی مر نہیں سکتی۔ وہ اپنے ماں باپو کی سہارا بنناچاہتی تھی اور اپنے گھریلو حالات بدلنے کے لئے اپنے پیروں پر کھڑی ہونا چاہتی تھی۔
دینو اور نیلم جب حویلی سے کام کر کے لوٹتے تو سونی ماں کی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتی اور شکایت بھرے لہجہ میں کہتی۔
”ماں!مجھے تمہارا اور باپو کا حویلی میں دن رات ٹھاکروں کی غلامی کرنا پسند نہیں ہے۔“
”ہم لوگ کام نہیں کریں گے….. تو کھائیں گے کہاں سے؟“
نیلم نے سونی کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ماں کی بات سن کر سونی اٹھ کر بیٹھ گئی اورماں سے مخاطب ہو کر بولی۔
”ماں! ہمارا دیش آزاد ہونے کے بعد بھی ہم لوگ گاؤں کے ٹھاکروں کی غلامی کی زنجیروں میں ابھی تک جکڑے ہی رہیں گے۔“
”وہ ٹھاکرہیں….. ان کے بارے میں ایسا نہیں بولتے۔ان کے رحم وکرم کی وجہ کر ہی ہمارے گھر میں دو وقت چولہا جلتا ہے۔“نیلم نے سونی کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
”نہیں ماں…..!ٹھاکر وں کے رحم و کرم کی وجہ کر ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلتا ہے،بلکہ ہم لوگ محنت کر کے اپنے گھروں میں چولہاجلاتے ہیں۔ماں رحم و کرم توگاؤں کے ہم چھوٹے لوگ ان ٹھاکروں پر کرتے ہیں۔ اگر گاؤں کے چھوٹے لوگ کام میں ٹھاکروں کی مدد نہ کریں تو انہیں دن میں تارے نظر آجائیں گے۔ماں میں بڑی ہو کر ٹھاکروں کی حویلی میں کام نہیں کروں گی۔“
”اچھا چل اب….. اٹھ مجھے معلوم ہے ابھی سے جس طرح کے تیرے رنگ ڈھنگ ہیں بڑی ہو کر تومیم صاحب بنے گی،جا پہلے اپنے باپو کو ہاتھ منہ دھونے کے لئے پانی دے کرآ۔ “
”ہاں ماں میں بڑی ہو کر میم صاحب ہی بنوں گی۔“سونی نے ماں کے ہاتھ سے پانی کا مگ لیتے ہوئے کہا۔
”ہم غریب لوگوں کی قسمت میں ٹھاکروں کی حویلی ہی لکھی ہے۔“ نیلم نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”ماں تم ہمیشہ غلط کیوں سوچتی ہو…..؟ انسان محنت ومشقت سے بھی اپنی تقدیربدل سکتا ہے۔ اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں حویلی میں کام کبھی نہیں کروں گی،بلکہ محنت و مشقت کر کے اپنی تقدیر کو بدل دوں گی۔میں پرھ لکھ کر اپنے پیروں پر کھڑی ہو کر آسمان کی بلندی کو چھونا چاہتی ہوں۔ماں! آج ہماری سرکار بیٹیوں کو آگے بڑھنے کے لئے اسکالرشپ دے رہی ہے۔“
دینو خاموش بیٹھا سونی کی باتیں دھیان سے سن رہا تھا۔ اس کے منہ سے بڑی بڑی بات سن کر اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھااورسونی کے بلند حوصلے کو دیکھ کر دینو نے فیصلہ کر لیاتھا،کہ وہ اپنی بیٹی کو پڑھائے گا….. اسے بڑا آدمی بنائے گااوراس کے سپنے کو پورا کرے گا۔
سونی بھی محنت ولگن سے پڑھائی کرنے لگی۔جب وہ میٹریک کے امتحان میں اول آئی تو یہ خبر ماں اور باپو کو سنانے کے لئے بے تحاشہ دوڑ کر حویلی میں چلی آئی،تبھی سامنے سے آتے ہوئے ٹھاکر وکرم سے ٹکرا گئی۔ وہ زور زور سے ہانپ رہی تھی،لیکن اس نے فوراََ اپنے آپ کو سنبھالا اور دوڑ کر وہاں سے بھاگ گئی۔اسے دیکھ کر اوباس اور آوارہ مزاج ٹھاکر وکرم کے قدم رک گئے۔ وہ اسے گھورکرپیچھے سے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔اس کی نظر اس کے بڑھتے ہوئے کونپل پرجاکر ٹھہرگئی۔اس کے رسیلے ہونٹ،بڑی بڑی آنکھیں وکرم کی آنکھوں میں شیطانیت ناچنے لگی۔اس روز کے بعد وہ جب بھی کالج جاتی۔ٹھاکر وکرم اپنے اوباس اور آوارہ قسم کے دوستوں کے ساتھ مل کر اس کا راستہ روک کر کہتا۔
”سونی تمہیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہاری ماں باپو ہمار ی حویلی میں کام کرتے ہیں۔یہاں تک کے تمہارے گھر کا پچھلا پست بھی ہماری حویلی میں اپنی زندگی گزار چکا ہے۔تم بھی آجایاکرو….. حویلی….. ہماری خدمت کے لئے۔ ٹھاکر وکرم اور اس کے سبھی دوست زور دار قہقہہ لگانے لگے۔“
ٹھاکر وکرم کی باتیں سن کر سونی کا چہرہ غصہ سے تمتما اٹھا اور زور دار طمانچہ اس کے گال پر رسید کر دیا۔ ٹھاکر وکرم نے اس کی کلائی مرورتے ہوئے کہا۔
”تم نے….. ایک ٹھاکر پر….. ہاتھ اٹھا کر اچھا نہیں کیا۔تمہیں پچھتانا پڑے گا۔وقت آنے پر تمہارے اس طمانچہ کا بدلہ ضرور لوں گا….. اور….. تمہیں اپنی باہوں میں آنے پر مجبور کر دوں گا۔“
”وہ دن ….. تمہاری زندگی کا….. آخری دن بھی ہوگا ٹھاکر، میری بات بھی کان کھول کر سن لو۔“سونی نے نفرت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
سونی نے کئی بار سوچا کہ ماں اورباپو سے ٹھاکر وکر م کی شکایت کرے،لیکن یہ سوچ کر اس کے قدم رک جایا کرتے تھے کہ شکایت کرنے پر کہیں ماں باپو پریشان نہ ہو جائیں اور اس کی پڑھائی بیچ میں نہ رک جائے۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا گیا۔خوابوں کی منزل طے کرنے کا وقت قریب آچکا تھا۔ان خوابوں کو اب وہ حقیقت میں بدلنے والی تھی۔اس نے آل انڈیا انجینئرنگ انٹرنس امتحان کے مقابلے کا سامنا کیا۔بالآخر اس کو اپنے خوابوں کی تعبیر مل گئی۔آئی.آئی.ٹی امتحان کوالیفائی کیااورآئی.آئی.ٹی میں داخلہ لینے کے لئے وہ بڑے شہر جا رہی تھی۔ اس کے حوصلوں کے پنکھ نکلنے شروع ہو رہے تھے۔ اس کے بعد اس نے بی.ٹیک مکمل کیا۔بی.ٹیک مکمل کرنے کے بعد اسے ملٹی نشنل کمپنی میں جاب مل گئی۔آنکھوں میں جو خواب اس نے سجایا تھا۔ان خوابوں کی تعبیر اسے مل گئی تھی۔ وہ کافی خوش تھی اوراپنی محنت جدوجہد سے آج وہ اپنی ماں باپو کی مضبوط سہارا بن کر آرہی تھی۔وہ جلد سے جلد اپنی ماں باپو کے پاس پہنچنا چاہتی تھی۔اس نے فیصلہ کر لیا تھا،کہ وہ اب ماں باپو کو حویلی میں کام کرنے نہیں دے گی،بلکہ انہیں اپنے ساتھ واپس لے کر حویلی سے دور چلی جائے گی اور عزت کی زندگی گزارے گی اوراس کے قدم تیزچلنے لگے۔ابھی وہ کچھ آگے بڑھی تھی کہ ایک کالا سایا اس کا راستہ روکے کھڑا تھا۔اس کے قدم رک گئے….. لیکن….. وہ اپنے آپ کو مضبوط کر پھر آگے بڑھنے لگی۔ تبھی اس کالے سائے نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے۔اس کا دل زورزور سے دھڑکنے لگا۔ٹھاکر وکرم کا کالا سایا آج پھر اس کا راستہ روکے کھڑا تھا۔اس کے چہرے پر بھیانک ہنسی تھی۔جو اٹھنے والے طوفان کا اندیشہ دے رہا تھا۔
”شہرجا کر کچھ زیادہ ہی اسمارٹ ہو گئی ہے۔“ اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے ٹھاکر وکرم نے کہا۔
”پلیز میرا ہاتھ چھوڑ و…..!“ ٹھاکر وکرم کی طرف نفرت وحقارت سے دیکھتے ہوئے بولی۔
”چھوڑ دیں گے….. لیکن….. پہلے مجھے اپنا حساب پورا کرلینے دو۔“
”حساب…..کیسا حساب؟“
سونی نے اپنی کلائی اس کے ہاتھ کی گرفت سے چھرانی چاہی،لیکن اس نے اتنی زور سے کلائی پکڑ رکھی تھی کہ وہ درد سے کراہ اٹھی۔
”اس طمانچہ کا حساب….. جو تم نے مجھے مارا تھا۔“
اس وقت ٹھاکر وکرم کے چہرے پر شیطانیت صاف جھلک رہی تھی اور ایک بھیانک ہنسی اس کے کانوں میں گونجتی رہی….. اور….. اس نے اپنی کچھ دیر کی جنسی خواہشات مٹانے کے لئے ایک لڑکی کی زندگی کوبرباد کر ڈالا اوراس کے حوصلوں کے پنکھ ہمیشہ کے لئے کاٹ دیئے۔ وہ فر…..فر کر زمین پر ترپتی رہی….. اوراس کی زندگی پر گرہن لگا دیا….. ایسا گرہن ….. جو کبھی ختم نہ ہونے والا تھا۔
سونی کی یہ حالت دیکھ کر دینو اور نیلم غم سے نڈھال ہو گئے۔گاؤں کے لوگوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ٹھاکر وکرم کے خلاف اپنی زبان کھولیں۔ دینو اور نیلم کا ساتھ دیں۔ ادھر دینو اور نیلم کے کانوں میں سونی کی آواز ہر وقت گونجتی رہتی۔
”ماں…..! باپو…..!!اپنے ہی گاؤں…..اپنے ہی دیس….. میں لڑکیوں کے ساتھ اتنا گھنونا سلوک…..کیوں…..؟کیا لڑکیاں صرف ظلم سہنے کے لئے پیدا ہوئی ہیں۔ہم لڑکیوں کے اڑان کے پنکھ آج بھی کاٹے جا رہے ہیں۔آج بھی لڑکیاں کھلے آسمان میں آزادی سے گھوم نہیں سکتیں،کیونکہ ان کے پیچھے بھیڑیوں کی نظر رہتی ہے۔جو لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے روک رہا ہے۔ ماں…..باپو…..ان بھیڑیوں سے لڑکیوں کو چھٹکارا دلائیں۔ایک سونی کی زندگی پر ان بھیڑیوں نے گرہن لگا دیا۔کسی دوسری سونی کی زندگی پر ان بھیڑیوں کو گرہن نہ لگانے دیں۔“
دینوکاسرگھومنے لگا۔اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔ نہیں…..نہیں…..ایسا نہیں ہو سکتا۔میں اپنی بیٹی کو انصاف دلاکر ہی دم لوں گا….. اب دوسری سونی کا یہ حال نہیں ہونے دوں گا….. ٹھاکر وکرم….. اور….. اس کے ساتھیوں کو سزا دلا کر ہی دم لوں گا۔ ان بھیڑیوں کو اب کسی بھی لڑکی کی زندگی پر گرہن لگانے نہیں دوں گا۔ دینو نے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا۔جہاں آسمان پر چاند کا گرہن آہستہ آہستہ چھٹنے لگا تھا۔

 

9973889970رابطہ۔

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment