مضامین

صبا نے پھر درِ مطبخ پہ۔۔۔

صبا نے پھر درِ مطبخ پہ۔۔۔
امتیاز وحید
شعبۂ اردو، کلکتہ یونیورسٹی، کولکاتا

 

زندگی کی حرارت سے معمور کسی نظام کا تصور کبھی امکانی تغیر کے قدرتی عمل سے بے بہرہ نہیں ہوتا۔تغیر کے عمل سے گزر کرہر صبح بادِصبا اپنی تازگی کے ساتھ نئی زندگی کی بشارت دیتی ہے۔ ’تبدیلی‘ پر مبنی ڈیکارڈ کا فلسفہ میرے مفروضے کی تائید کرتا ہے۔مادرِ علمی جامعۃ الفلاح کے سیاق میں ڈیکارڈ کے فلسفے کی بات تو بر سبیلِ تذکرہ آنکلی،گفتگو دراصل جامعۃ الفلاح کے نظام سے متعلق فلاح کے مطبخ اور اس کے امتیازات سے ہے،جسے نظامِ کہن سمجھ کر الوداع کہا جاچکا ہے۔فلاح کے نظام کو زندگی بخش تبدیلیوں سے گزار کر اس میں بہتری کے جویا منتظمین نے’’ٹفن سسٹم‘‘کو اس کا بہتر نعم البدل جانا اور ۱۹۹۳ سے اس کا نفاذ کردیا۔مجموعی نتائج کے اعتبار سے فلاح اپنے دوسرے معاصر اداروں میں اپنے اسی صحت مند رویے سے تناور ہوپایا ہے،جس کی خو فلاح کے قیام سے ہی وہاں کے خمیر میں شامل ہے۔وقفے وقفے سے فلاح میں تجربی تغیر (Experimental Change) کا عمل مسلمانوں کی عمومی نفسیات سے بے میل ہے۔ماضی پرستی مسلمانوں کی سائیکی کا حصہ ہے۔ ماضی پر افتخار ان کے یہاں لذتِ کار کی حرارت کا حصول نہیں بلکہ وہ سرمستی ہے جو انھیں تحرک کی بہ جائے تعطل اور جمود کا شکار بنا دیتی ہے اور اس آڑ میں بدخواہ ان پر بنیاد پرست، ضدی اور روشن خیالی سے گریزاں طبقے کا الزام عاید کربیٹھتا ہے۔ خیر مدارس سے بہرہ ور تعلیم یافتہ سماج میں مطبخ اس نوع کی خالص گاڑھی باتوں کا سرچشمہ قرار پاتا ہے۔ہمارے مدارس کے نظام سے وابستہ احباب خوب سمجھ رہے ہوں گے کہ مطبخ سے شکم سیرابی کے بعد گلفشانیِ گفتار کیا رنگ دکھاتی ہے۔ہر چند کہ مطبخ کا دائرہ ’’رسوئی گھر‘‘ کی سرحد سے آگے نہیں بڑھتا تاہم جامعۃ الفلاح میں لفظِ مطبخ کا قافیہ کبھی تنگ نہیں رہابلکہ اس حد تک کشادہ ہے کہ اس کا مفہوم میس(Mess)اور طعام گاہ(Dining Hall) کے وسیع کلچر کا حامل سمجھاجاتا ہے۔
۲۰۱۲ میں جامعۃ الفلاح نے عمر کی پانچویں دہائی سے آگے قدم بڑھاتے ہوئے جب ’’لئن شکرتم لأ زید نّکم‘‘کی منزل پر اظہارِ تشکر کے لیے جشنِ طلائی کا اہتمام کیاتو جامعہ نے اپنے ان محسنین و معماروں کو یا د کیا،جن کے خونِ جگر سے مکتبِ اسلامیہ سے موجودہ جامعۃ الفلاح کے سفر کی حنابندی ہوپائی ہے اور پھر انھیں اپنی زرّیں ’تاریخ‘ کا حصہ بنالیا ہے۔ جامعہ کے منتظمین کے جذبۂ سپاس گزاری کو سلام اور تاریخ کی ترتیب و تدوین پر اس کے مرتب محترم ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحی کو ہدیۂ تہنیت۔تاریخِ جامعہ کے مرتب کا اقبال ہے کہ’’یہ تاریخی دستاویز انتہائی قلیل مدت میں تیار کی گئی ہے‘‘(تاریخِ جامعۃ الفلاح، ص۔۱۵) لہٰذا اس کے تشنہ کام جہات سے پہلو تہی کرتے ہوئے بات صرف مطبخ کے ذکرِ خیر تک ہی محدود رکھی جائے گی۔ جامعہ کی تاریخ کے اوراق سے گزرتے ہوئے کئی بار جی میں آیا کہ مسکرادیں لیکن مسکراہٹ پر ضبط اور یادوں کا ہجوم غالب آتا گیا ،تحیر اور تبسم سے پھر وہاں ملاقات ہوئی جہاں ضیاء بھائی نے صفحہ ۷۴ اور ۱۵۳ پر مطبخ کا ذکر’ کالملحِ فی الطعام ‘سمجھ کر کیاہے۔ ڈاکٹر ضیاء الدین فلاحیکو ان کے عہدِ شباب کا کوئی شناسا آج بھی دیکھ لے تو چونک پڑے گا،نبوت کی عمر سے گزرکر آج جب انھیں چکّی کی مشقت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی لکچرشپ بھی مل چکی ہے تب بھی وہ ماشاء اللہ خاصے تنو مند نظر آتے ہیں۔غالباً یہ بات اب ان کے ذہن سے محو ہوچکی ہے کہ ان کے صحت کی نیو جامعۃ الفلاح ہی میں رکھی گئی تھی۔البتہ فلاح کے نظام میں مطبخ کا کلیدی کردار منتظمینِ جامعہ کے ذہن میں اب بھی تازہ ہے۔تاریخِ جامعۃ الفلاح کے سرِورق کی پہلی تصویر مطبخ کی ہے،جو مولانا مودودی ہاسٹل کی مرکزیت پر غالب نظر آتی ہے۔
دانش گاہیں مقدس ماؤں کی طرح تخلیقی عمل سے گزرتی ہیں۔یہاں اساتذہ نسلِ نو کی نشو و نما میں ماہر کاشت کار کا فرض نبھاتے ہیں۔کھیت کی فصل کے مانند طلبہ کو حار اور بارد موسم کی سخت کوشی سے بچاتے ہوئے انھیں قدر آشنا کرتے ہیں۔ ان سب سرگرمیوں کامدار صحت و تندرستی ہے اور اس کا منبع اچھی اور صحت مند غذائیں،جسے جامعۃ الفلاح کے تعلیمی نظام میں ہمیشہ سے ترجیحی حیثیت حاصل رہی ہے۔میں جس جامعۃ الفلاح کا پروردہ ہوں اس میں تعلیمی نظام کے متنوع پہلوؤں کا باقاعدہ قلم دان ہوا کرتا تھا۔مطبخ ایک اہم وزارت تھی ، جو فلاح کی مسجد میں جمعیۃ الطلبہ کے انتخاب کے ساتھ ہی تفویض کردی جاتی تھی۔ میرِ مطبخ’جنرل مانیڑ‘ کہلاتا تھا،جس کی مملکت میں شہنشاہِ اکبر سے بس ایک رتن کم ہوتا تھا۔اس کی مملکت آٹھ ٹیموں پر مشتمل ہوتی تھی،جو باری باری مطبخ کے نظام کو چلاتی تھیں۔کارزارِ حیات کی گہماگہمی دیکھ کر علامہ اقبالؒ کے بہت سے رموز و علائم اور استعاروں کے مفاہیم ہم پریہیں واضح ہوئے۔ آنکھوں کے اشاروں سے پیغام کی خاموش ترسیل ہوجاتی تھی کہ ’’میرِ مطبخ موجود ہیں‘‘۔شروع میں ہم خاصے جری نکلے ،غالباً ہم اس بلیغ جملے کی درست تعبیر سے ناواقف تھے۔لیکن جلد ہی پتا چل گیا کہ ڈبلنگ میں خواہ کسی قدر مشاقی سے کام لیا جائے میرِ مطبخ کی تجربہ کار نگاہیں ضرور تاڑ لیں گی۔ مانیٹر شرعی طور پر بالغ عربی ششم سے کوئی پختہ کار متحرک شخص ہوا کرتا تھا۔ ٹیمیں اپنی جماعت کے افراد کے انتخاب کے لیے خود مجاز تھیں۔ ۱۲ سے ۱۴ طلبہ پرمشتمل یہ قافلہ مطبخ کے انتظام و انصرام پر دینی معتقدات کی طرح چاق و چوبند ہوا کرتا تھا۔ٹیمیں اپنے حسنِ انتظام اور کردار کی گرمی سے پہچانی جاتی تھیں۔اقبال ؒ کی ’’عقابی روح‘‘ کو بیدار ہوتے ہم نے یہیں دیکھا۔
مطبخ کی کارگزاریاں صبح تڑکے شروع ہوجاتی تھیں۔جفاکش باورچی صاحبان چولھے کے گرد پروانے کے مانند منڈلاتے نظر آتے تھے۔ گٹھیلے بدن والے قوی الجثہ ’رحمت‘ قوتِ بازو سے بڑے سینی میں آٹے اور پانی کو باہم متحد کرنے کے لیے کوشاں نظر آتے جبکہ جناب علیم چاچا (بڑے میاں)اساتذہ کے کمروں تک کھانا پہنچاتے تھے۔موسمِ سرما میں ان کے چہرے پر فتح مندی رقص کرتی تھی،حتّٰی کہ موسم کی حدت میں بھی انھیں دیکھ کر گمان گزرتا تھا کہ وہ کافی پُرجوش ہیں اور گرم مستطیل توے پر ’’روٹی سیکنے‘‘کے محاورے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ہم نے ان کے حوصلے کبھی شکست خوردہ نہیں دیکھے۔فرض کا احساس غالباً انسان کو اذیتوں سے بھی نباہ کا ہنر سکھادیتا ہے۔ مطبخ میں تعینات ٹیم پر مشتمل طلبہ اور کھانا بنانے والے باورچی میزبان جبکہ بقیہ پوری طلبہ برادری مہمان ہواکرتی تھی۔ یہ تھے نظامِ مطبخ کے کل پُرزے۔میزبان ٹیم مطبخ میں قبل از وقت پہنچ کر میزوں پر صاف پلیٹیں سجاتی،دال اور چاول کے ڈونگے رکھتی تھی۔خالی پلیٹ میں تلی ہوئی ہری مرچیں بطور تمہید رکھی جاتی تھیں۔ مطبخ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تا حدِّ نظر دونوں قطاروں میں میزیں بڑے سلیقے سے سجی نظر آتی تھیں۔متوازی دونوں ٹیبلوں پر چار چار طلبہ آمنے سامنے بیٹھتے تھے۔ درمیان کی خالی جگہ گزرگاہ کے لیے مختص تھی، جس پر میزبان ٹیم کے ارکان اشیائے خورد و نوش سے لیس حاجت مندوں کے بس اشاروں کے منتظر نظر آتے تھے۔ ساری تیاری مکمل ہوجانے کے بعد گھنٹہ بجاکر مہمانوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ اقامت گاہوں کے مکیں اپنے حجروں کو بے یار و مدد گار چھوڑ کر سوئے مطبخ روانہ ہوتے اور نہایت سرعت سے میزوں کی متعینہ نشستوں میں سماتے چلے جاتے تھے۔نظم و ضبط کا یہ عالم دیدنی ہواکرتا تھا اورقابلِ رشک بھی۔طعام گاہ میں طلبہ صرف اکل و شُرب کے مجاز تھے۔غالباً اقبالؒ کا یہ مصرع ’’یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری‘‘ مطبخ کے سکوت پرور ماحول میں ہماری بے تکلمی کی کیفیت کا درست نمائندہ تھا۔باہم گفتگو ضابطہ شکنی تھی تو علامتی زبان عین ضابطہ داری۔اس پر سکون فضا میں صرف چمچے تکلم کے مجاز تھے۔ہماری سماعت سے صرف چمچوں کی آوازیں ٹکراتیں تھیں۔ہندستان کے کاشت کاروں کی مرکزیت کے پیش نظر رَہَٹ کی آواز کو شہنائی سے تشبیہ دینے والے شاعرکی طرح مجھے بھی دال کے بھگونوں سے نبرد آزما چمچوں کی آواز میں جامعہ کے مطبخ کی ڈسپلن کی شہنائی سنائی دیتی ہے،جو آج بھی کانوں میں رس گھولتی ہے۔جامعہ کو اپنے ضابطے کی صلابت پہ ہمیشہ بڑا ناز رہا۔ہم نے بارہا اپنے اساتذہ کو اس عظیم الشان روایت کی لذت سے سرشار ہوتے دیکھا۔ استاذِ گرامی مولانا محمد عمران فلاحی صاحب کئی بارجامعہ کے بیرونی ہمدردگان اور بہی خواہان کے ساتھ مطبخ میں نظر آئے۔طلبہ سے بھرے پُرے مطبخ کا نظم وضبط مینارِ فلاح کے مانند بلند تھا۔ایسے موقعوں پر مولاناموصوف کا سرخ چہرہ اور تمتما جاتا۔پٹھانوں والی قد و قامت کا افتخار بس دیکھتے ہی بنتاتھا۔ ڈسپلن کے تناظر میں ان کی نظریں بار بار دادطلب نگاہوں سے باہر سے آنے والے زائرینِ جامعہ پر اٹھتی تھیں۔
مطبخ کا نظارہ کچھ یوں ہوتا تھا کہ دائیں ہاتھ سے کھانا کھائیں اور بائیں ہاتھ کی انگلیاں من جانب اللہ اٹھاکر جس چیز کی کمی ہواس کی بھرپائی کا سامان کریں۔پرلطف نظارہ ہوا کرتا تھا۔نظروں کے سامنے اوپر اٹھتی اور تکمیلِ حاجت پر غائب ہوتی انگلیاں۔ہاتھ کی محض شہادت کی ایک انگلی پر روٹیاں، دو انگلیوں پر دال،تیسری انگلی پر نمک،چوتھے پر چاول اور پورا پنجہ(پانچ انگلیاں) قدرتی آب اور پلیٹ کی ضرورت کا استعارہ تھا۔میزبان طلبہ کی آنکھیں اوپر کی جانب اٹھتی حاجت مند انگلیوں کی متلاشی رہتیں۔اشارہ پاتے ہی میزبان ٹیم کے فعال ارکان لپکتے،ٹیم کے ننھے میزبان عموماً العطش کے ضرورت مند اشاروں کی تکمیل پرمامور کئے جاتے تھے۔ان کی روشن آنکھیں خدمت خلق کے جذبے سے سرشار نظر آتیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب بچوں کے لیے طیبہ منزل کے دامن میں خودکفیل جونیر مطبخ کا نظم نہیں ہوا تھا۔مطبخ کی ٹیم کے افرادمیں عمر کا تفاوت تو یقیناًتھا لیکن ان میں کوئی محمود اور کوئی ایاز نہیں ہوا کرتا تھا سبھی محمود تھے۔جذبے کی گرمی سبھوں میں یکساں تپشِ کارکا حکم رکھتی تھی۔میرِ مطبخ اپنے اختیارات سے زیادہ اپنے فرائض کے تئیں چوکس رہتا تھا۔ غالباً اختیارات کی قوت کو فرائض کے تابع صرف اسلامی نظامِ عدل ہی میں رکھا جا سکتا ہے۔ غلام اور آقا کے درمیان یہ گراں مایہ نکتہ سیدناحضرت عمرؓکی سیرت کا نشانِ امتیاز ہے۔نہیں تو شہدے اختیارات کی گرمی پاتے ہی کردار کی گرمی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مانیٹر کی کامیابی کا راز ٹیم کے حسنِ انتظام میں پوشیدہ تھا۔اس کی فعالیت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ میدانِ کارزار کا کوئی مشاق جرنل ہے،جس کی نگاہیں دو متوازی میزوں پر مامور اپنے میمنہ اور میسرہ کی کار گزاریوں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ وہ بڑی سرعت سے کمزور محاذ پر کمک بھیجتا ہے اور سنگین صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے خود کو پیش کرنے سے بھی گریزاں نہیں ہوتا۔وہ کبھی ٹیم کے ممبر کو ٹیبل پر مابقی اشیا کو محفوظ کرنے کی ہدایت دیتا ہے،کبھی پڑوس کے ٹیبل پر موجود اشیائے خورد و نوش کی اضافی مقدار سے حاجت روائی کی جانب متوجہ کرتا ہے۔سامانِ رسد(اسٹاک) پر بھی اس کی نظر ہوتی ہے۔اس کا ذہن کسی بھی متوقع یا غیر متوقع صورت حال سے نپٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا تھا۔میزبان ٹیم کے اعمال نامے میں تحرک اور فعالیت کی کئی پاکیزہ کیفیتوں کو جملوں میں نقل کرنے اور انھیں آج کی’ ٹفن بردار ‘نسلِ نو میں تقسیم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ہمارے عہد کی اس رودادِ عزیمت کا مبدا و منتا قرآن کی یہ پاک آیت تھی151’’ انَّ اکرمکم عنداللہِ اتقٰکم‘‘ ۔ اس موقعے سے میں جناب مشتاق احمد فلاحی (بستی)(۱۹۸۶) ،جناب امیر الحسن فلاحی (بدایوں)(۱۹۸۷)،جناب احسان اللہ فہد فلاحی (۱۹۸۸)،جناب مشیرحسین فلاحی (سنبھل)(۱۹۸۹)اور جناب محمد جمال فلاحی (سنبھل) (۱۹۹۰) صاحبان کے ذکرِ خیر سے اپنی اس بے فیض رپورٹ کو مُطَہَّر کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ میرے قیام جامعہ ۱۹۸۶ تا ۱۹۹۰ یہ ہمارے مطبخ کے جرنل مانیٹر تھے۔
ستر(۱۹۷۰) کی دہائی میں ریاست اڑیسہ میں زبرست قحط پڑا تو حاملین مطبخ کا ایک اجماعی کردار بھی سامنے آیا،جسے سنہرے حروف میں لکھا جانا چاہیے۔فلاح کے طلبہ نے اس قدرتی آفت سے نپٹنے کی اپنے طور پر ایک راہ نکالی۔تمام طلبہ نے تین دن تک دوپہر کا کھانا نہیں کھایا اور اس سے جو رقم بنتی تھی ، اسے اڑیسہ ریلیف فنڈ میں بطور عطیہ بھجوایا۔ حسنِ کردار کا ایسا تاریخ ساز نظارہ ہمارے نظامِ مطبخ کی شناخت ہے۔
جامعہ کے نظام سے متعلق یہ تحریر کرتے ہوئے سربلندی اورسر شاری کی کیفیت کا احساس ہوتا ہے کہ وہاں اساتذہ اور طلبہ دونوں طبقوں کے لیے ایک ہی نوعیت کے کھانے کا اہتمام تھا۔ کبھی کبھار ہمارے اساتذہ ہمارے ساتھ مطبخ میں بیٹھ کر بھی کھانا کھالیا کرتے تھے۔اے کاش کہ ہندستان کے دیگر مدارس میں بھی ایسا ہوتا۔ مرحوم مربی استاذِ گرامی قدر مولانا صغیر احسن اصلاحی صاحب کبھی مطبخ میں معاً ہمارے درمیان وارد ہوجاتے اور اپنے مخصوص طربیہ انداز میں کسی کے پلیٹ سے روٹی کا کوئی ٹکڑا توڑ لیتے یاٹیبل پر پڑا روٹی کا کوئی ٹکڑااٹھا کر کسی کے سالن کے ساتھ کھالیتے تھے۔ اس وقت نہ نظر تھی نہ ہی احساس کی دولت، جس سے ہم یہ جان پاتے کہ جان بوجھ کر روٹی کا کوئی پڑا ٹکڑا کھاکر وہ ہمیں کس چیز کا درس دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ جرنل ضیاء الحقؒ کی شہادت کی المناک خبروں کے بیچ ،ان کی سیرت کی جو چند تصویریں سامنے آئیں تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ وہ مردخدا بھی اسی قلندرانہ شان سے متصف تھا، جس کی جھلک مطبخ میں ہمارے اساتذہ پہلے ہی پیش کرچکے تھے ۔
ملک کے دیگر مدارس کی طرح فلاح کا نظام بھی اہلِ خیر کی نیک نیتی سے ہی گردش کررہا ہے۔تاہم فلاح کا وظیفہ سسٹم دیگر معاصر مدارس کے نظام سے یکسر مختلف ہے۔اوّلاً یہاں خود کفیل طلبہ کی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ جامعۃ الفلاح ایک زندہ اور زندگی سے بھر پور تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے۔ملک کے مدارس میں یہ ادارہ ذی ہوش متمول گارجین کی پہلی پسند ہے۔یہاں طلبہ کا دوسرا ضرورت مند طبقہ محض اس بنیاد پر وظیفہ یاب نہیں ہوسکتا کہ ان کی مالی حالت اچھی نہیں ہے ۔ وظیفہ کے لیے یہ بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے لیکن اس سے اوپر اٹھ کر فلاح نے وظیفہ کو ریوارڈ اورتشجیعی قدر کا حامل بنا رکھا ہے۔اس کی حصول یابی کا انحصار بڑی حد تک طلبہ کی عمدہ کارکردگی پر ہوتاہے۔ ہمارے زمانے میں فرسٹ ڈویژن اس کا پیمانہ تھا۔طلبہ پروظیفہ سلبی کی تلوار ہمیشہ معلق رہتی تھی۔ ناقص نتائج کسی میقات میں پریشان کن ہوسکتے تھے۔دیگر فرائض اور تحدیدات اس پر مستزاد تھیں۔
طلبہ کی ’عزت نفس‘ کا پاس جامعۃ الفلاح کے وظیفہ امور کا زیور ہے۔فلاح سے پانچ یا سات سالہ عا لمیت اور فضیلت کا کورس مکمل کرنے کے بعد بھی کانوں کان کسی کو اس بات کی بھنک نہیں لگ پاتی تھی کہ کون طالب علم وظیفہ یافتہ ہے اور کون خود کفیل ۔دونوں میں عزتِ نفس کی روح یکساں طور پر بیدار نظر آتی تھی،جس کا اظہارطلبہ میں خوداعتمادی کی صورت میں عیاں ہوتا تھا۔اس طرح یہاں کا ہر لاہوتی طائرپرواز کا خوگر ہوا کرتا تھا۔ہمارے جامعہ کا یہ روشن پہلو مدارسِ اسلامیہ کے لیے قابل تقلید نمونہ ہے۔
میزبان اور مہمان کے ساتھ مطبخ کی تثلیث کاتیسرامحور عالی مقام مرحوم ماسٹر جنید صاحب (غازی پوری) تھے،جو انتظامی سطح پرمطبخ کے انچارج تھے،ان کا قیام مطبخ کے احاطے ہی میں تھا۔ انتظامی امور کی چھوٹی سی عمارت کی پہلی منزل مطبخ کاد فتر ہوا کرتی تھی۔جامعہ میں’نگراں‘ کے بطور اپنے پہلے تقررسے وہ ’’نگراں صاحب‘‘ کہلائے اور اسی نام سے مقبول بھی ہوئے۔ بعض دفعہ ان کی فربہ جسامت اور اس سے بے میل ان کی باریک منحنی آواز بھی ان کاشناخت نامہ تھی۔ جامعہ کے سارے منی آڈرانہی کے پاس آتے تھے،وہ کئی بچوں کے گارجین اور ان کے امین بھی تھے۔ عصرکے بعد عموماًوہ بچوں کے مطالبات کے بیچ گھرے نظرآتے تھے۔بچوں سے انھیں چاچا نہرو والی انسیت تھی۔شرارتاً انہی کے آس پاس بچے ان سے نظریں بچا کران کی مخصوص آواز میں زور سے ’’منصور‘‘(غالباً مطبخ کے منیجر تھے)کی آواز لگا بیٹھتے لیکن ان کی طبیعت کبھی گراں بار نہیں ہوتی تھی۔
مرحوم ماسٹر جنید صاحب نے ایک طویل عرصے تک مطبخ کی ذمہ داری سنبھالی،جسے مطبخ کا سنہرا دور کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنی محنت اور تجربے سے مطبخ کو خود کفیل نظام کی حیثیت فراہم کی۔اس سے قبل مطبخ کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔وہ سیزن میں ہی غلہ وغیرہ کو سستے داموں میں خرید لیتے اور حسبِ ضرورت اسٹاک کرلیتے تھے،جلاون کی لکڑی کا بھی خاصا اسٹاک رکھا جاتا تھا،بلکہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ لکڑیاں بلا ناغہ سال بھر جمع ہوتی رہتی تھیں ۔اس طرح مطبخ پر مہنگائی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑتا تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں جامعہ کی فوڈ منسٹری کے سالارِ اعظم تھے۔ ان کے حساب و کتاب پر کسی نے کبھی انگشت نمائی کی جرأت نہیں کی بلکہ عالم یہ تھا کہ بلریا گنج ڈاک خانے کا ادھیکاری بھی بسا اوقات بہی کھاتوں میں اصلاح کے لیے ہمارے مطبخ کے میرکارواں سے رجوع کیا کرتا تھا۔جامعہ کے وظیفہ نظام میں اخفا اور وزارتِ تغذیہ کے پائی پائی کا حساب ان کاجزو ایمان تھا۔
ناشتے میں تلے ہوئے چنے کی روایت مطبخ میں نقشِ کہن کا درجہ رکھتی تھی ،جس کے بغیر سارے نقش ادھورے تھے۔فلاح میں ناشتے کا چنا تغیراتِ دہر سے ماورا کوئی حقیقت ہے ۔ وہی لذت،وہی رنگت اور وہی مقدار۔اے ایم یو کے میس سے منسوب ایک روایت ہے کہ یونیورسٹی میں غیر معمولی تغیر سے حیران و پریشان سر سیدؒ کی روح کو میس کی’ دو روٹی دو بوٹی‘ دیکھ کر ہی اپنے قائم کردہ کالج کا یقین آیا۔جامعہ کے مطبخ میں چنا وہی ’’بنیانٌ مرصوص‘‘ ہے۔اس میں اسپِ تازی کی چستی اور نظامِ ہاضمہ کی درستگی کا راز پنہاں ہے۔اس کے باوجود اس میں طلبہ کے دامن دل کو کھینچے کی صلاحیت کم ہی پائی جاتی ہے۔ ۱۹۷۱ کے فارغ محترم خالد سیف اللہ فلاحی صاحب کی اطلاع کے مطابق ’’اس وقت ہم لوگوں کو جو ناشتہ یا کھانا ملتا تھاوہ جیل کے کھانوں سے مشابہ تھا۔بس ہم لوگ اس کو گھی اور اچار کی مدد سے مزیدار بنانے کی کوشش کرتے تھے‘‘(حیاتِ نو اکتوبر۔دسمبر ص۔۱۱)۔لیکن۱۹۸۶ میں جب ہم فلاح میں داخل ہوئے تو وہاں کے کھانوں پر نکھار آچکا تھا۔ہر چند کہ چنے کے باب میں شکیبائی لازم تھی تاہم جیل کے کھانوں سے تشبیہ دے کر ہم روزِ قیامت اپنا دامن چنے کے حوالے نہیں کرنا چاہتے۔صرف یہ کہنا کافی سمجھتے ہیں کہ وہ ظہرانے اور عشائیہ کی طرح قدآور نہیں تھا۔ چنے کی اسی بے کیفی سے فائدہ اٹھاکر سفیان کی پوری اورلَلّن کی پوری،دہی آمیز سبزی اور گرم جلیبیوں کوفلاح میں دراندازی کا موقع ہاتھ آیا۔ناشتے کے لیے جوق دو جوق قافلے کو بیرونی نقص تغذیہ سے دور رکھنے کی آڑ میں مطبخ کے سامنے چھپر اور بانس بلی پر مشتمل ایک کیفے نے ہمارے ناشتہ سسٹم کو للکارا۔لیکن چنا تو بالآخر’ بنیانٌ مرصوص ‘ تھا سو اس کی مرکزیت کو کسی طور بھی چیلنج نہیں کیا جاسکا۔رفتہ رفتہ طلبہ نے چنے میں کیف و طرب کی ایک صورت نکالی اور رات کی بچی کھچی باسی روٹی کو گرم کرکے دونوں کے امتزاج سے ایک مزیدار recipe بنائی، جس سے چنے کی ساکھ کو از سرِ نو بحال کرنے میں کافی مدد ملی۔ اس تشویق نے ناشتے کے صیغے میں مطبخ کو پسپائی سے دور رکھا۔ باسی روٹی کا فیض عام نہیں تھا،اس لیے اس کے حصول میں اہل دل قسمت اور تدبیردونوں کو بروئے کار لاتے تھے۔جسے اس کی دولت ہاتھ آتی وہ خوش بخت اور بقیہ تہی بختوں کے لیے وہ قابلِ رشک ٹھہرتے تھے۔ایک پلیٹ چنے میں دو طالب علم مشترکہ طور پر ناشتہ کیا کرتے تھے۔یہ روایت بھی بے فیض نہیں تھی۔
جامعۃ الفلاح میں ناشتے کی متبادل صورتوں میں بند یا پاؤروٹی بھی کثیر الاستعمال تھی۔مثالی بورڈنگ کی دیوار سے متصل قبرستان کی جانب سے ہر صبح ایک نحیف بزرگ بند اور پاؤروٹیوں سے لدی اپنی سائیکل کے ساتھ’’پاؤ روٹی لے لو،گرماگرم‘‘کی آواز لگاتا۔فجر کی نماز کے بعد عموماً طلبہ میں اس کا انتظار رہتا تھا۔کثرت استعمال کے سبب اس کی آواز بسا اوقات لڑکھڑا کے بیٹھتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔اس کے باوجود بچوں کے لیے اس میں ’’بڑے رسیلے پھالسے‘‘والی جھنکار موجود تھی۔پہلی منزل سے ہم رسیوں کی مدد سے پیسہ اورکوئی پالی تھین نیچے ڈالتے اورگرم پاؤ روٹیوں سے لطف اٹھاتے تھے۔
صبح میں بلاناغہ ایک بوڑھا اَہِربھی جامعہ میں اپنے دودھ کے ساتھ دکھائی دیتا تھا۔مشہور تھا کہ اس کا دودھ ’اخلاص‘ کی دولت سے محروم ہے۔پانی سے اس کے دودھ کو بڑی الفت تھی۔پانی سے اس کے دودھ کا تعلق مادرِ وطن ہندستان سے کشمیر کے رشتے کی طرح دو جان ایک قالب کا تھا،جس میں بوڑھے گوالے کی قسمیہ یقین دہانیوں کے باوجود جبر کا پہلو غالب تھا۔ہر چند کہ دودھ میں محلول پانی بھی ہمیں ہمیشہ دودھ ہی نظر آیا۔لیکن اہلِ نظر نے انھیں ہمیشہ دوخود مکتفی جداگانہ اکائی کی حیثیت ہی سے دیکھا۔ مملکتِ کلاہ جامعۃ الفلاح کے شرعی وضع قطع والے ماحول میں دودھ والے بوڑھے کی گاندھائی طرزِ لنگوٹ بھی توجہ طلب تھی،جس میں خالص ہندستانیت باس کرتی تھی۔تاہم اپنے پیشے میں وہ مشرق کے دھرم سے زیادہ مغربی اَدھرمی کا قائل تھا۔سینئر طلبہ تھرمامیٹر کی طرح کسی مستطیل چیز سے گاہے بگاہے اس کے دودھ کے اخلاص کی پیمائش کیا کرتے تھے۔یہ غالباً اسے حدِ اعتدال میں رکھنے کی ترکیب تھی۔
۱۹۸۶ کے اوائل اور اس کے کچھ دنوں بعد تک ظہرانے (Lunch)میں تلی ہوئی مرچ کے ساتھ سبزیاں بھی پروس دی جاتی تھیں،بعد میں سبزیاں حتّیٰ کہ گوشت سے بھرے ڈونگے بھی میزوں پر کشادہ قلبی کا مظاہرہ کرتے نظر آنے لگے۔ ڈبلنگ کا ساتھ بس یہیں تک رہا۔ نہیں تو ایک پلیٹ کا چنا دوسری پلیٹ کے چنے کے ساتھ اور ایک پلیٹ کی سبزی دوسری پلیٹ کی سبزی کے ساتھ باہم شیر و شکر ہوکر ڈبلنگ کے آفاقی تصور کو اجاگر کرتی تھیں۔ڈبلنگ کا جوت جگانے والے جادو گر ہر جگہ اور ہر لمحہ پائے جاسکتے تھے ۔وہ اتنے مشاق ہوا کرتے تھے کہ بسااوقات اس کی مشاق نظر مانیٹر کی پارکھ نگاہوں کو بھی جُل دے جاتی تھی۔اس کی عملی تعبیربس آنکھوں کے اشارے میں پوشیدہ رہتی تھی۔یہ ’’کُنْ فَیَکوُن‘‘ جیسا کوئی غیر محسوس عمل معلوم ہوتا تھا ۔
فلاح کی دال مطبخ میں میز پر چنے ہوئے کھانوں کے بیچ دلبرکا مقام رکھتی تھی۔اس کی اوپری سطح پر مرغّن پیاز کی بریانی کی ایک دبیز تہہ جمی ہوتی تھی۔دال سے بھرے ڈونگے کی نچلی اور بالائی سطح طلبہ کی پہلی پسند تھی۔اس کے دونوں حصوں کی یکجائی پلیٹ میں دلربائی کی کیفیت پیدا کردیتی تھی،جس کی موجودگی سبزی سے بے نیازی کا باعث بھی ہوا کرتی تھی۔ اعظم گڑھ کے قرب و جوار میں اکثر و بیشتر فلاح کی ’دَلیا‘ کا ذکرخیر سناگیا۔ بعد میں اس کا دائرہ بڑھتا گیا۔ ملک کے جس خطے میں اس کے فیض یافتہ گئے، وہاں وہاں فلاح کی دال کی خوشبو پھیلتی چلی گئی۔یہ خوشبو فلاح کے صیغۂ تغذیہ کا سفیر ہے،جس سے وہاں کے نظام میں اچھی غذا،صحت مند ذہن اور صاف ستھرے ماحول کا اشارہ پوشیدہ ہے۔
ہندستانی مدارس کے باب میں ایسی دل آویز تصویریں کمیاب ہیں۔ ہم نے بچپن میں اپنے بڑے بھائیوں کو اپنے مدرسے کے تعلق سے ہمیشہ شاکی ہی پایا۔مدرسے کا ذکر سنتے ہی ان کی زباں پر یہ مصرع رقص کرجاتا تھا۔ع
بھات گیلا، دال پانی،بے نمک کی بھاجیاں
ماہنامہ ’الہدیٰ ‘(دربھنگہ)کے۱۹۶۰تا۱۹۷۰ کے کسی شمارے میں تو یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ ایک طالب علم نے ’دارالفتاویٰ‘ کے کالم میں علمائے دین شرح متین سے یہ جاننے کہ کوشش کی کہ کیا مدرسے کی دال کے پانی سے وضو جائز ہے؟۔اس وقت اس کالم کے روح ورواں مولانا عبد الرحمٰن سلفی صاحب ہواکرتے تھے۔اس حقیقت کے برعکس فلاح کے مطبخ کی جو تصویریں پیش کی گئی ہیں وہ شکر اور سپاس گزاری کے جذبے کو مہمیز لگاتی ہیں۔
مطبخ کی حیاتِ مستعار کا بیش قیمتی لمحہ ’’دِی ڈِے‘‘کہلاتاتھا۔یہ اسم با مسمّیٰ تھا۔ فلاح میں اس کا مقام پری نگر کی کسی لذیذ دعوت جیساسحر انگیز تھا۔ عربی گرامر کا سہارا لیا جائے تو مطبخ کے عام ایام کو’’ نکرہ‘‘ اور دِی ڈِے کو’’معرفہ‘‘سے تعبیرکیا جاسکتا ہے۔ ’الیوم‘ کے بہ جائے انگریزی کے لفظ ’DAY‘ ا ور وہ بھی حرفِ تخصیص’ THE‘کے اہتمام کے ساتھ اس مبارک لمحے کاجامع تعارف تھا۔اس کے فضائل پر آج بھی فیض یافتہ فلاحی برادران رطب اللسان ہوجاتے ہیں۔اس خوشگوار لمحے کی میزبانی خوش بخت ٹیم کا مقدر ہوا کرتی تھی۔ اس کے انتظار کی ساعتوں اور نمازِ مغرب کے بعد طعام گاہ میں داخلے تک طلبہ میں کرب و ابتلا کی درست تصویرکشی کے لیے ایک دفتر مطلوب ہے۔یہ بھی عجب بات ہے کہ نام کے مفہوم کے برعکس اس کی بزم غروبِ آفتاب کے بعد رات کی سرحد سے پہلے شام کے دامن میں آراستہ ہوتی تھی۔یہ سارے تضادات اس کی شدّت اور اہمیت کے تناظر میں بامعنی تھے۔
سید الایام کے موقع سے نان یا شیر مال ،گوشت،پلاؤ اور زردہ مطبخ کی زینت میں اضافے کا باعث تھے۔ہم باڈر طلبہ اپنے غیرباڈر دوستوں کو بڑے اہتمام سے دعوت دے کر اس خوشگوار ساعت سے ایک ساتھ لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔اس موقع سے حفاظتی عملے میں شامل ہمارے اساتذہ اور نگراں حضرات کی محافظ نگاہوں میں ’’آپ سی سی کیمرے کی نگرانی میں ہیں‘‘جیسا واضح پیغام دکھائی دیتا تھا۔ بدنظمی کا گزر کیوں کر ممکن تھا۔اس کے باوجود بڑے خشوع و خضوع سے شیر مال پر ہاتھ صاف کئے جاتے تھے۔طلبہ اسے ڈبلنگ کی شریعت کا احیا تصور کرتے تھے۔یادش بخیر!ہمارے پاس اب صرف ان گم گشتہ یادوں کاقافلہ ہے۔
شرحِ فراق، مدح لبِ مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں
فلاح کے اس متمول نظام کے پروردہ طلبہ کی عمدہ صحت یقینی بات تھی۔ ہمارے عہد کا فلاح اس امتیازی تفوق کا حامل تھا۔ طلبہ کی عمدہ صحت سے مطبخ کے حسنِ انتظام کی شعائیں پھوٹتی تھیں۔ اسی کے فیض سے محترم بھائی عبد الرشیداعظمی فلاحی ’’رشید پہلوان‘‘ کے نامِ نامی سے مشہور ہوئے ۔ اس ضمن میں افسر فلاحی (بلریاگنج)، خورشید فریہا،معاذ اکرم،عامر اصغر،رئیس کامل،جاوید بیگ (حیدرآباد)،زبیر نلا،محمد افضل صدیقی، ارشد صدیقی،سنبھل گروپ کے بیشتر احباب، اثری گروپ کے نمایندہ عبد الرب اوران کے متعلقین ،خود ہمارے جنرل مانیٹران اور ان جیسے بے شمار احباب قابلِ ذکر ہیں۔بھائی عمران سنجر پوری اور شبیر گیاوی کی قوتِ بازو کے چرچے تھے۔ افسر بھائی نے اسی صحت مندی کو بنیاد بناکر جامعہ کی مسجد میں درآنے والے ایک بانکے سانڈسے لوہا لے لیااور بڑی جرأت مندی دکھائی۔وہ الگ بات ہے کہ مدِّ مقابل کی تاب نہ لاکر انھوں نے حوض میں چھلانگ لگا کر جان کی امان پائی۔یہ ادا اور حوصلہ بھی اسی صحت مندنظامِ مطبخ کی دین تھا۔اگراس باب میں ہم سے آج بھی کوئی ہمارے عہد کے دو نمائندگان کا نام معلوم کرے تو مقامی طلبہ کی جانب سے بھائی ’رشید پہلوان‘اور بیرونی طلبہ کی نمائندگی کے لیے محترم بھائی احسن فلاحی صاحب کا نام پیش کیا جاسکتا ہے۔
بشریٰ تقاضوں کے تحت ہم نے بسااوقات مطبخ کا حسن زائل ہوتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ دورانِ طعام کسی چیز کی کمی سے بدمزگی کا پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں۔کبھی کبھی آپسی نوک جھونک ، سازش،حریفانہ چشمک،صف آرائی اور تو کبھی کبھار اس سے آگے بڑھ کر گلہ بندی کی شدت بھی اپنا رنگ دکھاجاتی تھی۔ایک دفعہ تو ہم نے چمچے کواپنی نغمگی سے بیزار ہوا میں اڑتے دیکھا۔معاًایک سینئر نے ہمارے استعجاب کا شرعی جواز پیش کرتے ہوئے ہم پر’حق و باطل کی کشمکش‘کا دفتر یوں کھولا کہ ہم حیرت کی منزل سے بہ آسانی نکل آئے۔ ایسے موقعوں سے اقبالؒ کی شاعری میں ’’لہو گرم رکھنے ‘‘کاکنایہ طشت از بام ہوجاتا تھا۔ یہ کسی نظام میں صحت مندی کی دلیل ہے اور خفگی کے اظہار کا جمہوری طریقہ بھی،جس کے بغیرمتحرک سسٹم کا تصور عنقا ہے۔
مطبخ کے حاملین چوں کہ نئی نسل کے نوجوان تھے اس لیے کھانے کی مقدار اور ان کے مضبوط معدے کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا۔حریفانہ چشمک اور صف آرائی کی بساط احباب دوسروں کی باری میں زیادہ کھاکر یا کسی ایک چیز پر زور ڈال کر بھی بچھاسکتے تھے۔جو کبھی روٹی ،کبھی چاول تو کسی اور چیز کے بحران کی شکل میں ظاہر ہوتا تھا۔ہم نے پانچ یا سات سال میں جتنا کھانا وہاں کھایا اتنی مقدار اب یقینِ کامل ہے کہ باقی ماندہ زندگی میں نہیں کھایا جاسکے گا۔اس نوعیت کے بحران کا علم بھی ہمارے باصفا مانیٹر کو ہوا کرتا تھا،جس پر قابو پانا اس کی لیاقت میں شامل تھا اور وہ اس سے عہدہ برآ ہوتا تھا۔
اپنے دورانِ قیام ہم نے مطبخ کو مذبح کے طور پر بھی مستعمل دیکھا،نل کے پاس ہی بسم اللہ اللہ اکبرکی روایت ہفتے میں دو دن دہرائی جاتی تھی۔عیدالاضحی کے موقع پر تو مطبخ قصاب خانے کا منظر پیش کرتا تھا۔ تعطیل میں جو طلبہ جامعہ میں قیام کرتے ان کے طعام کا پورا نظم مطبخ میں ہواکرتا تھا۔ایسے موقعے سے کھانا بنانے اور مطبخ کی دیگر سرگرمیوں میں طلبہ بھی ہاتھ بٹاتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔اس نوع کی عملی تربیت زندگی میں کبھی بھی سود مند ہوسکتی ہے۔ میرے مربی استاذ مولانا اسمٰعیل فلاحی نے بتایاکہ ان کے طالب عملی کے زمانے میں کسی بات پر خفگی کے اظہار کا جمہوری طریقہ اپناتے ہوئے فلاح کے باورچیوں نے ہڑتال کردیا۔اس وقت طلبہ نے مطبخ کی تربیت سے فائدہ اٹھایا اور مورچہ سنبھال لیا۔البتہ ہمارے زمانے میں باورچیوں کی جانب سے ایسا کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔یہ بھی فلاح کے نظامِ مطبخ کی خوبی کہیے کہ اس کا ایک ایک پہلو روشن اور کامیاب کہا جا سکتا ہے۔
مطبخ کے باب الداخلے پرلوہے کا ایک میانہ قد دروازہ تھا،دائیں ہاتھ پر نگراں صاحب کا انتظامی دفتر اور بائیں طرف طعام گاہ۔نیم کے پیڑ پر ناپ تول کے لیے ترازو معلق رہتی تھی۔اسی کے پائنتی میں پانی کا نل اور اس کا چبوترہ تھا،جس کے دائیں جانب مصغّر طعام گاہ،جو عموماً سینئر طلبہ کے لیے مختص تصور کی جاتی تھی۔اس سے متصل نل کے سامنے والے حصے بھی جونیر طلبہ کے لیے میزوں سے آراستہ ہوتے تھے۔وہیں سے ایک گزرگاہ باورچیوں کی کرم بھومی کی طرف نکلتی تھی، یہ مطبخ کا آخری حصہ تھا،جس کے ایک کونے میں کوئلوں کا انبار لگارہتا تھا۔یہ تھا مطبخ کا طبعی جغرافیہ، جو اندرونِ مطبخ کی صورت گری پر مشتمل تھا۔
مطبخ کے احاطے سے باہر ،اس کے مثالی ڈسپلن سے بے نیاز مطبخ کے عقبی حصے میں،کونے کی ایک خالی جگہ پر بدنظمی اور انارکی کا میلہ لگتا تھا۔اس کے منتظم بلریاگنج کے مقامی سگان ہواکرتے تھے۔فارغ الدہن ہڈیوں پر کتّے ایسے ٹوٹتے تھے جیسے آج قومیں مسلمانوں پر ٹوٹی پڑتی ہیں۔برابر ہی ایندھن کی لکڑیوں کا بڑا ٹال تھا۔معاذاللہ!ایسے موقعوں پر ان لکڑیوں کا ہمارے قوتِ بازو سے کم کم ہی سہی لیکن دیرینہ نسبت رہی ہے۔کتّوں کی بلند آوازیں یوں توپتھر کی مدد سے بھی سنی جاسکتی تھی مگرشرارت پسند بچے اس امر میں لکڑیوں کے انبار سے فیض اٹھانے کو ترجیح دیتے تھے،جن پر عموماً ہماری سرزنش بھی ہوجایا کرتی تھی۔
مشہور مثل ’ دانے دانے پر لکھا ہوتا ہے کھانے والے کانام‘ کے بموجب مطبخ میں جن کھانوں پر ہمارا نام نہیں لکھا ہوتا تھا،ان پرنگراں صاحب کے رجسٹر میں بلریاگنج کے چوپایوں کانام لکھ جاتا تھا۔ بچے کھچے کھانوں کو ایک جگہ محفوظ کردیا جاتا تھا۔بعد میں وہی باقیات ٹین کے بڑے کنستروں میں بھر کر گاؤں والے اپنے مویشیوں کے لیے لے جاتے تھے۔اسے بھی جامعہ کے نظامِ طعام کی ایک خصوصیت شمار کی جانی چاہیے۔
مطبخ کی ابتدائی تاریخ سے متعلق استاذِ گرامی قدر محمد مولانا عمران فلاحی صاحب کی فراہم کردہ اطلاع کے بموجب ابتدا میں موجودہ فلاح جب مکتب اسلامیہ سے ’ جامعہ اسلامیہ‘ بنا،اس وقت وہاں مقامی طلبہ ہی تعلیم پاتے تھے،جنھیں طعام و قیام کی ضرورت نہیں تھی۔ مولانا شبیر صاحب ؒ پہلی بار بیرونی ضلع پورنیہ،صوبہ بہارکے طلبہ کے ساتھ فلاح میںآئے،تو ان کے کھانے کا نظم چند مخیّر حضرات کے گھر کیا گیا۔منظور احمد جناب الحاج ابوالاعلیٰ مرحوم کے گھر،محمد عیسیٰ جناب امانت اللہ صاحب مرحوم کے گھر،محمد ذکی منشی فوجدار صاحب اور مسعود احمد جناب بابو مطیع الرحمٰن صاحب مرحوم کے گھرکھانا کھایا کرتے تھے۔ طلبہ کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اوّلاً ایک باورچی کا نظم کیا گیا،جو بلریا گنج سے متصل محمد پور کا رہنے والا تھا۔اس کا نام جواہر تھا۔اسے بچوں سے ماں باپ والی الفت تھی۔یہ ابتدائی نظم کچھ دنوں تک جناب ماسٹر جنید احمد مرحوم کے بازار میں سڑک کے کنارے والے کھپریل مکان پر رہا،اب اس کے مرحوم وجود پر ’ذائقہ کارنر‘نام کا ایک سادہ سا ہوٹل چل رہا ہے۔پھر یہ مطبخ مدرسہ کیمپس کے اندر مودودی ہاسٹل کے دکھن جانب منتقل ہوگیا۔ بچے تینوں وقتوں میں،ناشتہ اور کھانا مودودی ہال کے دکھن جانب والے برآمدے میں ٹاٹ بچھا کرکھاتے تھے۔اس کے بعد ایک خودمکتفی مطبخ اور اس کے مکمل نظام کے لیے ایک الگ حصّہ مختص کیا گیا،جو موجودہ کینٹین اور بس اسٹینڈ کی جگہ تھا۔اسی سے متصل اس کا آفس اور غلّے کا گودام بھی بنایا گیا،جو اب بھی کینٹین کے اتر جانب دومنزلہ چھت کے ساتھ موجود ہے۔یہاں پر بھی طلبہ شروع میں ٹاٹ بچھا کر ہی کھانا کھاتے تھے۔
مولانا صدرالدین اصلاحی صاحب کی نظامت میں جب منشی انور صاحب نائب ناظم ہوئے تو ٹاٹ کی جگہ میز اور بنچ لے لی۔یہ انجمن طلبہ قدیم کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ قدیم طلبہ نے ہی فنڈ کی فراہم کی۔ ایک قدیم فلاحی کے بقول خود منشی انور صاحب نے ڈھائی ہزارروپے کی خطیر رقم اس مَد میں صرف کی اور اپنی نگرانی میں ڈائنگ ٹیبل بنوائی۔اس طرح ہمارے مطبخ کا مزاج، ہندستانی مدارس کے عمومی مزاج سے قدرے نفیس ہوگیا۔
مطبخ میں مستعمل علامتی اشاروں کے ماخذسے متعلق قرین قیاس یہ تھا کہ یہ اشارے مہاجر ہیں،جو تحریکی مزاج رکھنے والے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر)سے ہجرت کرکے فلاح آنے والے ہمارے بعض اساتذہ کے ہمراہ فلاح کے مطبخ میں داخل ہوگئے ہوں گے اور اصلاح کی قدامت کے پیشِ نظر یہیں سے اس خام خیالی کو بھی راہ ملی کہ ان مخصوص اشاروں کو جماعتِ اسلامی کی درسگاہِ اسلامی رام پور میں مدرسۃالاصلاح سے در آمد کیا ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔کافی چھان بین اور استفسارات کے بعد اس نتیجے تک رسائی ہوئی کہ مطبخ میں مستعمل اشارے ہمارے نظامِ مطبخ کے زائدہ ہیں۔اجتماعی طعام میں شور و شرابے اور ضابطہ شکنی کے پیش نظر یہ اشارے وضع کئے گئے تھے ۔اس کی افادیت کے پیش نظر غالب امکان ہے کہ انھیں دیگر اداروں نے بھی ہمارے نظام سے اپنایا ہو۔ابتداً جب طلبہ اجتماعی کھانے کے آداب سے ناواقف تھے تو یہ علامتی زبان کا طریقہ اپنایا گیا۔نہیں تو اس سے قبل نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ہر وقت کسی نہ کسی نگراں کی موجودگی ناگزیر تصور کی جاتی تھی۔
ذیل کے شعر میں’فیض‘ کی جگہ ’مطبخ‘کی تحریف کے لیے ہم افتخار عارف سے معذرت خواہ ہیں۔ افتخار عارف کے شعر میں ترقی پسند شاعر’فیض‘ سے شرف استفادے کا نکتہ بیان کیا گیا ہے۔ مطبخ سے کسبِ فیض کے سیاق میں یہی شعر وہاں کے فیض یافتگان کے احساس کا نمایندہ ہے۔ شعر ملاحظہ ہو۔
جو مطبخ سے شرفِ استفادہ رکھتے تھے
دلوں کو صورتِ معنی کشادہ رکھتے تھے
اپنی آپ بیتی’’آشفتہ بیانی میری‘‘ میں پروفیسر رشید احمد صدیقی نے اے ایم یو کے میس کے تعلق سے بڑی دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔لکھا ہے کہ ’’یہاں کے کھانے کی جو شکایت میرے زمانے میں تھی اس سے پہلے بھی وہی تھی اور آج بھی وہی ہے ۔شکایات کے اعتبار سے ایسا سدا بہار ادارہ شاید ہی کہیں اور ہو‘‘۔انھوں نے صاحب باغ میں مقیم سینئر طلبہ کے یہاں کھانوں پر ایک سیمینار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایک صاحب نے بتایا کہ ’’ان کی تحقیقات کی رو سے کالج کا کوئی طالب علم نہ تو شرعی گواہ ہوسکتا ہے نہ کسی الیکشن میں ووٹر،اس لیے کہ جب تک کالج کی تعلیم حاصل کرتا اور ڈائنگ ہال کا کھانا کھاتا رہے گا،نہ عاقل ہوسکتا ہے نہ بالغ‘‘۔اس صورت حال کو آپ پلٹ دیں تو ہماری جامعہ کے مطبخ کا کردار روشن ہوجائے گا۔
تابش مہدی صاحب کی طرح ہم بھی غالب کے طرفدار نہیں البتہ میں غالب کا امر میں پیروکار ہوں کہ ہمارے گھر کی رونق ہمیشہ ایک ہنگامے پر موقوف ہوتی ہے ۔مطبخ کی گہماگہمی اور زندگی کی پرلطف کشاکش کو دیکھنے والی ان آنکھوں کو ٹفن کی بے کیفی کا منظر معلوم نہیں کیسا محسوس ہوگا۔فلاح میں مطبخ طعام و شرب پر مبنی محض ڈائنگ ہال جیسا محدود تصور نہیں رکھتا تھا بلکہ یہ ایک تربیت گاہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہاں کے تربیت یافتہ فلاحی بڑے سے بڑے اجتماع،پارٹی اور کھانے پینے کے نظم و انصرام کے حوالے سے ہمیشہ قابلِ اعتماد پائے گئے۔ہم نے جگہ جگہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کیا اور داد و تحسین پائی۔بلاشبہ یہ فلاح کے نظامِ مطبخ کی عملی تربیت کا فیض تھا۔فلاح کے قیام سے ہی وہاں کے مزاج میں تحریکیت کے سبب اس کا ہر گوشہ اسی مخصوص رنگ کا حامل ہوتا چلاگیا۔مطبخ میں یہ رنگ کچھ زیادہ ہی نکھرا تھا۔یوں تو آج بھی فلاح کے نظام میں حرکت و عمل اور تحریکیت کی کھنک باقی ہے،مگر معلوم نہیں مجھے کیوں یہ احساس گزرتا ہے کہ اجتماعی نظامِ طعام کے خاتمے کے ساتھ فلاح کے نظام میں عملی سطح پر تربیت کا ایک مضبوط عضو اس کے سالم جسم سے کاٹ کر الگ کردیاگیا ہے۔میرے مربی استاذ اور سابق مہتممِ جامعۃ الفلاح مولانا عبدالحسیب صاحب نے بتایا کہ’’ مولانا علی میاں ندویؒ فلاح آئے تو مطبخ کے نظام سے بے حد متاثر ہوئے، انھوں نے خواہش ظاہر کی کہ ایسا نظام ندوہ میں بھی قائم ہوجائے تو بہتر ہے؛ ہمارا بہترین نظام تو وہاں منتقل نہیں ہو سکا البتہ وہاں کے ٹفن سسٹم نے ہمارے مثالی مطبخ کی جگہ لے لی‘‘۔یہ باتیں انھوں نے جس تاسف کے ساتھ کہی،اس کا مدعا جامعۃ الفلاح کے موجودہ اربابِ مجاز پر یقیناً واضح ہوچکا ہوگا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ انتظامیہ کے سامنے ایک جدید ڈائنگ ہال کی تعمیر کا خاکہ بھی تھا،اب جب کہ ٹفن سسٹم کا خاصا تجربہ ہوچکا،مطبخ کی جانب مراجعت کی کوئی سبیل نکل آئے تو اس ثمرآور نظام سے ہماری نئی نسل کو بھی فیض پہنچے۔میرے نزدیک جامعۃ الفلاح کا میس (Mess) گارے مٹی اور کھپریل کی چھت رکھنے والی سرد اور بے جان کچی عمارت نہیں بلکہ اس کے اوالعزم معماروں کی پُرجوش اور گرم خون شخصیت تھی۔توقع ہے کہ اس موثر کارگاہِ عمل کا احیا جلد ہی عمل میں آئے گا۔فیض احمد فیض سے معذرت کے ساتھ ع
صبا نے پھر درِ مطبخ پہ آکے دستک دی
سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے