افسانہ

خوار مسیحا

خوار مسیحا

مرزا شرافت علی بیگ کا مکان گاؤں کے بیچو بیچ میں واقع تھا ،وہاں سے بازار، ہاٹ، مسجدیں،تراہے اور چوراہے سبھی کچھ نزدیک پڑتا اسلئے رشتہ داروں اور مہمانوں کو زیادہ راحت انکے گھر ٹھہرنے میں محسوس ہوتی۔مرزا شرافت علی بیگ کو انکی نرم مزاجی اور ہمدردی کی وجہ سے لوگ پیار سے ’’ شرفوا ‘‘ کہہ کربلاتے تھے ،شرفوا نماز روزے کا بہت پابند تھا،دین داری ،مہمانوازی اور غریب پروری اس کی فطرت میں شامل تھیں۔کوئی بیمار ہوتا ،کسی غریب کی بیٹی کی شادی ہوتی یا پھر کوئی دیگر لین دین ہوتا شرفوا ان سب معاملوں میں پیش پیش رہتا۔انسان دوستی اور خیراتی جذبوں کی تکمیل وہ اپنی کپڑوں کی تجارت سے کرتا تھا۔آٹھ ،دس نفوس پر مشتمل اسکا گھر سکھی پروار کی نوعیت رکھتا تھا۔’’انسان انسان ہے فرشتہ نہیں‘‘والی بات تو تسلیم شدہ ہے ،انسانی وجود خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے ہاں وہ الگ بحث ہے کہ کس میں کس کو ترجیح دی جائے ۔شرفوا کی خامیاں کچھ زیادہ نہ تھیں لیکن اسکی تمام خوبیوں کوعزیز واقارب ،ہمدم ودوست جنکے لئے وہ ہر وقت بے دام غلام بنا رہتا چند خامیوں تلے دبادیتے۔اس کی برائیاں شر پسندی کی کیفیت نہیں ازراہِ تفریح اور وقتی ہوتیں ،مثلاََبڑی عجلت اور سرعت سے فیصلے لینا ،کسی بھی چیلینجنگ کام کا ذمہ سنبھالنا ،زودگوئی پر یقین رکھنا وغیرہ اسکے ساتھ لازم و ملزوم کی صورت رکھتے تھے اس کے تمام یار دلدار بطاہر بڑے سنجیدہ اور پر وقار دیکھنے میں لگتے لیکن اندر سے ’’بدلو رام پلٹو داس ‘‘کی سی سرشت رکھتے تھے ۔ہر معاملے میں ساتھ رہتے ،لیکن کوئی بھی موقعہ اسکو نیچا دکھانے کا ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔گاؤں میں شرفوا کی برادری نہ کے برابر تھی ،جس میں وہ تنہاتعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے ان پر سبقت پر رکھتا تھا۔اکثریتی طبقہ کو اس کی اسمارٹنیس اورفیّاظی پھوٹی آنکھ نہ بھاتی ،ملنے ملانے کے خوب سلسلے چلتے ،قیام و طعام کے مواقع بھی اکثر آتے لیکن مخلصی نام کی چیز سے سبھی کورے تھے ۔ احباب چاہے کتنے ہی متاثر کن لفظوں کا انتخاب کیوں نہ کریں اگر وہ خلوص اور محبت سے عاری ہوگی تو قطعی دل پر اثر نہیں کر سکتی ۔ شرفوا کوان باتوں کی بخوبی آگاہی تھی۔پیٹھ پیچھے لعن طعن کرنا ،موقع غنیمت جان کر اپنے قصیدے اور اسکی ہجولوگوں کے معمول کا حصہ تھا۔ اس کی ایک ایک نقل و حرکت پر نہ صرف نظر رکھتے بلکہ اس کو نیچا دکھانے کی ہوڑ میں لگے رہتے ۔شرفوا اپنے سارے فیصلے خدا پر ڈال کر اپنی راہ پر گامزن رہتا۔کئی بار تو اُسے جھوٹے معاملوں میں پھنسانے کی کوشش بھی کی گئی،کبھی باہر اور اکثر اسکی ازدواجی زندگی میں انتشار ڈال کر لوگوں نے خوب مزے لئے۔شرفوا ہر بار اپنے وجود کو شکستہ ہونے سے بچاتا رہا ۔نیرنگئی قسمت دیکھئے کہ ایک بڑی اور نئی آزمائش اسکے انتظا ر میں تھی۔ہوا کچھ یوں کہ زندگی کی ٹیڑھی میڑھی راہوں پر چلتے چلتے اسکی ملاقات ایک ایسی لڑکی سے ہوگئی جسے معاشرتی بالا دستی نے اندر سے بہت توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا اسکی آرزوؤں اور تمناّؤں کے محل مسمار ہوچکے تھے ۔حسرتوں کے گھنیرے بادل امڑ امڑ کر فضا میں نہ جانے کہاں معدوم ہو تے ہوئے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے ۔اس کا وجود اب اپنے آپ میں ایک بوجھ کی مانند تھا سر پہ کسی سائے سحاب اور محافظ نہ ہونے کی وجہ سے وقت کی آندھیاں اسکے ادھورے کمزور اور نحیف سے وجود پر مسلسل یلغار کرتی رہیں ، بکھیرتی سمیٹتی رہیں ۔اسے زندہ رہنے اوراپنے سانس لینے کا مقصدبے معنیٰ سالگنے لگا تھا ۔اُسے اس حالت میں ایسے مسیحا کی ضرورت تھی جو اسکے تاریک پس منظرکی ویرانی کو اپنی وفاؤں کی قندیلوں سے روشن کر کے ،پیش منظر کی راہوں کے سرے خوشیوں کے تاروں سے جوڑ دے ۔اپنی شفقتوں کی شیرینی سے اس کے وجود کو نمو بخشے۔
اُسے شاید قدرت نے قسمت سے ہی شرفوا جیسے مسیحا سے ملوایا تھا۔کیونکہ وہ جہاں پہ رہتی تھی ادھر لوگوں کا گزر بہت کم تھا۔ گاؤں کے کنارے ،ایک چھوٹی سی مسجد زیر تعمیر تھی ،جس کے جنوب میں ایک جھوپڑی نما گھر میں وہ مقیم تھی۔کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کون ہے ،کہاں سے آئی ہے،کیوں آئی ہے ،اور کب آئی ہے ،اسکا پورا نام کیا ہے ،اس کا خاندانی پس منظر کیا ہے ۔ آس پاس کے لوگ اُسے رمولا کے نام سے جانتے تھے ۔وہ تقریباََدس برسوں سے اس جگہ پہ رہ رہی تھی۔اسکی عمر لگ بھگ پچیس سال سے زائد نہ ہوگی ۔غربت اور مفلسی کی مار سہنے کے باوجود بھی بات چیت کرنے میں تحکمانہ لب و لہجہ ، چھ فٹ کا قد گورا چٹا رنگ اسکی صبیح سے اندازہ لگانا ذرا بھی دشوار نہ تھا کہ کسی اچھے خاندان سے رہی ہوگی ۔کھنڈر دیکھ کر عمارت کی عظمت کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے ۔ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ،شرفوا کا گزر ایک دن چھور والی مسجد میں ہو گیا ۔اسکے صاف ستھرا کریج لگے کپڑوں کو دیکھ کر رمولا کے من میں اچانک اس سے مدد مانگنے کا خیال گردش کرنے لگا۔ اسکی طرف پکارتے ہوئے لپکی۔
’’ بابو جیِ ___اے بابو جی____‘‘
رمولا نے شرفوا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔اس نے پیچھے مڑکر دیکھا ،ایک خوبصورت میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس حسن و حیا میں لپٹی ہوئی لڑکی اپنی دوشیزگی پر پڑی الجھی ہوئی بھٹکی بھٹکی زلفوں کی بے ترتیبی کو سنوارنے کی ناکام کوششیں کر تے ہوئے التجا بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’شرفوا ____کیا ہے؟‘‘۔سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
رمولا نظریں جھکائے ہوئے لجاجت اور شرمندگی کے ساتھ اس سے کہہ رہی تھی۔
’’بابو جی _____مجھے کوئی کام دے دیجئے ‘‘۔’’میں بھکارن نہیں ہوں ،محنت مزدوری کرکے اپنا پیٹ پالنا چاہتی ہوں ____!‘‘
’’شرفوا _____کون سا کام ؟ اور کیسا کام ؟‘‘۔’’رمولا ___میں گھریلو سارے کام کر لیتی ہوں ‘‘،پانچویں جماعت پاس بھی ہوں‘‘۔
’’شرفوا____تمہارا نام کیا ہے ؟کہاں رہتی ہو؟ گھر میں اور کون کون ہے ؟‘‘۔’’بھائی باپ کیا کرتے ہیں ؟‘‘۔آگے کی پڑھائی کیوں نہیں کی_____‘‘؟۔
شرفوا نے رمولا سے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے ،رمولا نے اپنا نام بتانے ساتھ ساتھ ہی اپنی تمام آپ بیتی کھلی کتاب کی طرح سے اس کے سامنے رکھ دی ۔
رمولا نے اپنی جھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ،’’بابو جی یہی میرا گھر ہے ،جس میں اپنی بوڑھی بیمار ماں کے ساتھ رہتی ہوں ،جب تک ماں سہی سلامت رہی محنت مزدوری کرکے ہم دونوں کا پیٹ چلتا رہا اب وہ بیمار پڑی ہے اس لئے دوا دارو تو دور کی بات ہے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں،اور میرے کوئی نہیں ہے _____‘‘!شرفوا کے تمام کہے ان کہے سوالوں کے جوا ب رمولا نے ایک ساتھ دے دئے تھے۔شرفوا دیر تک اس کی کسم پُرسی ،لاچارگی ،بے بسی اور درونِ خانہ میں اٹھتی کرب کی لہروں کو محسوس کرتا رہا ۔
’’شرفوا _____اچھا یہ بتاؤ تم آگے کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہو ؟‘‘رمولا نے اس کی طرف حیرت انگیز نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’ہاں مگر کیسے ____ ؟‘ ‘ پڑھائی کے لئے پ پ پ پیسے کہاں سے آئیں گے ؟اور ہم دونوں ماں بیٹی کا پیٹ کیسے چ چ چلے گا____؟‘‘۔
’’شرفوا ____خدا پر بھروسہ رکھو وہ بڑا کار ساز ہے ،سب انتظام انشاء اللہ ہوجائے گا‘‘۔’’میرا نام شرافت علی بیگ ہے ، بازار والی گلی میں مسجد کے سامنے میرا گھر ہے ۔اس سے تھوڑا آگے چل کر پبلک انٹر کالج ہے ،اس میں تمہارا داخلہ کرادونگا اور تمہاری ماں کا علاج سرکاری اسپتال میں کارڈ بنوا کر کرا دونگا‘‘۔
’’اورکھانا خرچہ______؟‘‘۔
رمولا نے زندگی کا آخری بنیادی سوال بھی اس کے سامنے رکھ دیا ۔’’اسکی فکر مت کرو ،جس نے منھ دیا ہے وہ پیٹ کی خبر بھی رکھتا ہے ‘‘۔شرفوا نے چند منٹوں میں سارے مسائل حل کر دئے تھے۔
’’شرفوا_____میں تمہیں اسکول سے وظیفہ دلانے کی کوشش کرونگا ،اس کے علاوہ خالی وقت میں تم دوسرے کام مثلاََ سلائی کڑھائی وغیرہ کرتی رہنا بس سب چلتا رہے گا ‘‘۔ہاں ! تمہیں نے بتایا ہے کہ گھریلو سارے کام کرنے آتے ہیں پھر ؟‘‘۔
رمولا زندگی میں پہلی بار اپنے مسیحا کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی۔اُسے اپنے وجود میں شبنم کی سی ٹھنڈک محسوس ہونے لگی ۔ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ قطرہ قطرہ کرکے روح کو آبِ حیات ٹپکا کر زندہ رہنے کی امید بخشی جا رہی ہو۔دن مہینے سال میں گزرتے رہے رمولا کی تعلیم اپنے مدارج طے کرتی رہی ،ماں کی طبیعت میں درستگی آگئی اور سلائی کڑھائی کے روزگار نے سینٹر کا روپ اختیار کرلیا، جس میں رمولا جیسی انگنت لڑکیاں اپنے لئے زندگی جینے کے بہانے تلاش کرنے لگیں ۔ادھر شرفوا کے خیر خواہ دوستوں کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اس صدمہ سے جاں بر نہ ہوسکے۔وہ طوفانِ بد تمیزی اور واویلامچایا کہ ساری حدیں پار ہو گئیں، ذلیل و خوار کرنے کا کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھا ۔سارے اپنے اپنے نقلی مکھوٹوں سے باہر نکل پڑے۔رمولا کو اسکے دوستوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا اور نہ ہی اس نے پہلے کبھی ان میں سے بعض کے نام ہی سنے تھے لیکن ان لوگوں کی مخلصی کا اندازہ اسے تب ہوا جب شرفوا کے ساتھ ساتھ اپنے نام کی تشہیر دیکھی ۔کسی نے کیا خوب کہا ہے ’’دل کو دل سے راہ ہوتی ہے‘‘،اور ’’جہاں چاہ وہاں راہ‘‘۔شرفوا اپنے تمام دوستوں سے اسی انکساری ،خاکساری اور رحمدلی سے پیش آتا رہا، اس کے برتاؤ میں کچھ فرق نہ آیا ۔زمانے کی ستم ظریفی اور اپنی سادگی پر وہ اکثر یہ شعر گنگناتا رہتا:
اسے اب سادگی کہیے کہ حد عاشقی کہیے
ترے ہاتھوں میں جو پتھرتھے ان کو پھول ہی جانا

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment