سرگرمیاں

ورلڈ اردو ایسوسی ایسوسی ایشن کا دوروزہ بین الاقوامی سیمینار اختتام پذیر

ورلڈ اردو ایسوسی ایسوسی ایشن کا دوروزہ بین الاقوامی سیمینار اختتام پذیر

اس دوروزہ بین الاقوامی سیمینار میں ادب کے مختلف اصناف میں رزمیہ عناصر کی نشاندہی

 

آج یہاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسکول آف کمپیوٹر سائنس کے آڈیٹوریم میں دوروزہ بین الاقوامی سیمینار کے دوسرے دن چار سیشن میں کل ملا کر ایک درجن سے زائد مقالہ نگاروں نے رزمیہ شاعری کے مختلف گوشوں پر اپنے اپنے مقالات پیش کیے۔ جن میں رزمیہ عناصر کے متعدد گوشے واضح طور پر سامنے آئے۔ عام طور پر رزمیہ کا نام لیتے ہی لوگوں کا ذہن صرف مرثیہ کی طرف منتقل ہوتاہے۔ لیکن یہاں سیمینار میں مقالہ نگاروں نے مرثیہ کے علاوہ مثنوی، غزل، نظم ، داستان، ناول اور دیگر اصناف میں بھی رزم وبزم کا حسین منظر پیش کیا۔ پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے مقالے میں کہا کہ شاہنامہ اسلام کے بغیر اردو شاعری میں رزم نامکمل ہے۔ پروفیسر عباس رضا نیر نے اپنے مقالے میں اسلامی جنگوں میں رجز کا انداز بہت ہی پر مغز طریقے سے بیان کیا اور مثال کے طور پر مرثیہ کے اشعار بھی پیش کیے۔ان کے علاوہ ڈاکٹر عزیر احمد ندوی اردو ریڈیو سروس قاہرہ، ڈاکٹر ندیم احمد ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، فرزانہ اعظم لطفی، شعبہ اردو تہران یونیورسٹی، ڈاکٹر نوشاد عالم، دہلی یونیورسٹی، ڈاکٹر رشید اشرف، ممبئی یونیورسٹی، ڈاکٹر مشتاق انجم، ڈاکٹر مشتاق حیدر ، ریحانہ سلطانہ، فوزیہ رباب،امتیاز علیمی،رہبر رضا، جلیل اقبال خاکی، امیر حمزہ، شاداب شمیم، شمیم احمد، عالیہ وغیرہ نے اپنے اپنے مقالے پیش کیے۔ اختتامی تقریب میں سید ناصر حسین ممبر آف پارلیمنٹ نے اپنے خطاب میں اردو کی تہذیبی و ثقافتی اہمیت کو اجاگر کیا اور اردو کی خدمت کے لیے ہرممکن تعاون دینے کا عزم ظاہر کیا۔ ان کے علاوہ معروف شاعر و ادیب اور کالم نگار جناب عاطف توقیر صاحب، جرمنی اور فہیم اختر ، لندن نے شرکت کرکے اس پروگرام کی رونق بڑھائی۔ ڈاکٹر رضا حیدر ڈائیریکٹر غالب انسٹی ٹیوٹ نے اختتامی تقریب میں کہا کہ یہ سیمینار اپنے موضوع اور مواد کے اعتبار سے بالکل منفرد ہے۔ نیز اس سیمینارمیں کتابوں کی رسم رونمائی بھی عمل میں آئی۔ جن میں’ ’حرف کے اجالے (ڈاکٹر احمد کفیل) عالمی سطح پر اردو کا فروغ انٹرنیٹ کے حوالے سے( انجم النسا بیگم) مثنوی امراؤ جان ( ڈاکٹر رشید اشرف) اطلاعاتی ٹیکنالوجی و سوشل میڈیا(مظہر حسنین)عارف نقوی۔۔۔(اسلم جمشید پوری)‘‘ شامل ہیں۔

 

  

       

صدارت کے فرائض پروفیسر انور پاشا، پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر علی احمد فاطمی نے انجام دیے۔ پروفیسر انورپاشا صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں رزمیہ شاعری کے عناصر پر گفتگو کی اور کہا کہ ہر عہد کا اپنا ایک رزمیہ ہے جس کے لیے ہمیں خود کو تیار کرنا ہوگا۔ پروفیسر کوثر مظہری، پروفیسر شہاب عنایت ملک نے کہا کہ اس سیمینار کے ذریعے اس موضوع کے لیے نئی راہیں کھل گئیں ہیں،پروفیسر قمرالہدی فریدی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،داستان رزم ہو یا بزم اس میں بنیادی طور پر محبت ہی کے درس ہوتے ہیں۔

 

 پروفیسر انور پاشا نے اپنے صدارتی خطاب میں بہت ہی پر مغز خطاب کیا اور کہا کہ جس دن اردو ختم ہوجائے گی اسی دن یہاں سے جمہوریت بھی ختم ہوجائے گی۔ اخیر میں ورلڈ اردو ایسوسی ایشن کے چیئرمین پروفیسر خواجہ اکرام الدین نے ملک اور بیرون ملک کے تمام مندوبین، سامعین اور ریسرچ اسکالرز کا شکریہ ادا کیا۔ جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شفیع ایوب، ڈاکٹر کاظم، ثناء اللہ اور سلمان عبدالصمدانجام دیے۔نیز کثیر تعداد میں ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔