مضامین

نظیرؔ اکبرآبادی عوامی شاعری کی لاجواب نظیر

نظیرؔ اکبرآبادی عوامی شاعری کی لاجواب نظیر

                                                                                               

سعدیہ سلیم

شعبۂ اردو سینٹ جانس کالج ، آگرہ 

انسان اور حیوان میں بنیادی فرق عقل اور شعور کا ہے۔ ان دونوں خداداد صلاحیتوں نے انسان کو نہ صرف اشرف المخلوقات کا درجہ دیا بلکہ اس کے ان اسرار و رموز سے بھی آشنا کیا جو اسے ذہنی اور روحانی ترقی کی معارج تک لے جاسکتے ہیں۔ انہی میں ایک نام نظیر اکبرآبادی کا ہے۔

اس دنیا کی ابتداء سے اب تک بے شمار لوگ اس دنیا میں پیدا ہوئے۔ ہرشخص ایک خاص مدت کے لئے ویزا لیکر آیا ہے جس کی مدت پوری ہوتی گئی۔ وہ یہاں سے رخصت ہوتا گیا یہی سلسلہ آج بھی ہے اور قیامت تک جاری رہے گا نئے لوگ آتے رہتے ہیںاور پرانے رخصت ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن اس دنیا میں کچھ لوگ ایسے بھی آتے ہیں جنہوں نے اپنے کاموں کی بدولت اپنا ایسا نقش چھوڑا کہ لوگ انہیں یاد رکھتے ہیں۔ ان کے کارناموں سے کچھ سیکھتے ہیں اپنے لئے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ یہ لوگ جسمانی طور پر بھلے ہمارے ہی درمیان نہ ہوں لیکن روحانی طور پر اپنی خدمات کے تئیں زندہ ہیں۔ آنے والی نسلوں کی ذمہ داری اور لیاقت مندی ہے کہ وہ ان کے کاموں کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں اور فائدہ اٹھائیں۔ ’’محترم نظیر اکبرآبادی‘‘ ایسی ہی ایک شخصیت تھے۔

نظیر کا نام شیخ محمد ولی تھا یہ مغل فرمارواں محمد شاہ کے عہد میں یعنی 1735ء کے آس پاس دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد فاروق تھا۔ وہ فوج میں ملازم تھے۔ اور زیادہ تر دہلی سے باہر رہتے تھے۔ ایک مکتب سے عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی طبیعت میں موزونیت فطرت سے ملی تھی اس لئے شاعری شروع کی۔ نظیر کی والدہ نواب سلطان خاں، قلعہ دار آگرہ کی بیٹی تھیں بیاہ کر دہلی آگئی تھیں۔ نظیر سے پہلے ان کے گیارہ بارہ بچے پیدا ہوئے مگر کوئی سال چھ مہینے سے زیادہ زندہ نہ رہا۔ نظیر ان کی آخری اولاد تھے۔ بڑے ہی منّتوں سے پیدا ہوئے۔

نظیر اکبرآبادی کی کوئی مستند سوانح عمری ہے ہی نہیں۔ عبد الغفور شہباز نے ’’زندگانی بے نظیر‘‘ لکھی ضرور ہے۔ لیکن اس میں یہ تفصیلات نہیں۔ لیکن ان کی پیدائش کے واقعات کو عبدالغفور شہباز نے بڑے ہی دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے کہتے ہیں   ؎

’’ایک پہنچے ہوئے بزرگ کی شہرت سن کر نظیر صاحب کے والد دعا کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے فقیر نے پانچ پھول دئے اور کہا کہ سونگھ کر دردیا میں ڈال دینا اور پھر ہمیں بتانا نظیر صاحب کے والد نے ایسا ہی کیا ایک پھول سیدھا پڑا باقی سب پٹ یعنی الٹے۔ بزرگ نے سن کر بتایا کہ صرف تیرا ایک بیٹا زندہ رہے گا اور تیرے نام کو قیامت تک زندہ رکھے گا پھول کی طرح اس کی خوشبو دور  دور تک پھیلے گی۔

لہٰذا جب یہ لڑکا پیدا ہوا تو اس کے دونوں کانوں میں فقیر کے نام کی بالی پہنا دی گئی۔ نظیر صاحب کی صرف ایک تصویر ملتی ہے وہ بھی کسی سے بعد میں بنوائی گئی ہے۔ اس میں ان کا انداز حلیہ، وضع قطع بالکل فقیروں کا سا ہے کان میں بالا پہنے ہوئے ہاتھ میں بل دار عصا، سر پر اونچی ٹوپی، پیر میں نوکیلی جوتی جسم پر لمبا کرتا اور اونچی دھوتی اور اس فقیری کا ہی رنگ ان کی شاعری پر گہرا ہے۔

نظیر اکبرآبادی کی شاعری اپنی ایک علیحدہ دنیا رکھتی ہے انہوں نے دبستان لکھنؤ کی جوانی کا نکھار بھی دیکھا اور میر و سودا کی بہار سخن بھی دیکھی لیکن ان کی آزاد طبیعت نے انہیں کسی دبستان کا پابند نہیں ہونے دیا۔

نظیر اکبرآبادی کو اُردو کا پہلا عوامی شاعر تسلیم کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ زندگی کے ہر پہلو کو شدت سے محسوس کرتے اور غور و فکر کے بعد سے اپنی شاعری میں سمادیتے اور اپنی شاعری کا موضوع بھی انہیں مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے بناتے اُردو کے دیگر شعراء کے یہاں فلسفہ ہے تغزل ہے۔ لفظی و معنوی صنائع ہے جن سے اہل علم لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن ایک عام اور بنا پڑھا لکھا نہیں سمجھ پاتا کیوں کہ ان میں عوام کے دلوں کی دھڑکنیں نہیں ہوتیں۔ نظیر صاحب عوام کے شاعر تھے۔ وہ ہندو مسلم، سب کے غم و ماتم میں شریک ہوتے، عید، شب برأت، ہولی، دیوالی، دسہرہ غرض ہر تہوار پر نظمیں لکھتے تھے ایک طرف خواجہ معین الدین چشتی کی تعریف کرتے تو دوسری طرف گروناک کو بھی نذر عقیدت پیش کرتے ہیں۔

نظیر اکبرآبادی جشن زندگی کے بڑے شاعر کہے جاتے ہیں۔ ان کی جمالیات کے دائرے میں انسان اس کی تمدنی اور تہذیبی زندگی، مناظر حسن و جمال، رقص حیات محبتوں کے نغمے، زندگی سے ہم آہنگی سب شامل ہے۔ انہوں نے پورے معاشرے کو گرفت میں لینے کی کوشش کی اور معاشرے کے جمالیاتی نقوش شاعری میں لائے ہیں۔ انہیں زبان پر عبور حاصل تھا ان کی شاعری کا رشتہ کلچر سے مضبوط اور مستحکم ہے۔ پڑھے لوگ ہوں یا ان پڑھ سب اس شاعری کے دلدادہ رہے ہیں الفاظ کے انتخاب میں سنجیدگی اور الھڑپن بھی ہے سادگی بھی اور تازگی بھی۔ طربیہ اور المیہ دونوں کے لئے کلام نظیر میں متحرک کیفیات ہیں۔ نظیر کا وژن ایک مصور کا وژن ہے تصویر کاری کی خوبصورت تکنیک، الفاظ کے ساتھ فنکارانہ انداز میں نظیر کی ہی خوبی ہے۔ عام فہم اور مروج الفاظ کے ساتھ نئے الفاظ بھی ملتے ہیں۔ جو نظیر کے خود گڑھے ہوئے ہیں۔ الفاظ کو نئی صورت دینے کا کمال نظیر کو ہی حاصل ہے۔ کبھی ان کی نظموں میں ہمیں ایک مست قلندر ملتا ہے تو کبھی ایک بڑا فلسفی ناصح شاعر کوئی ولی کامل جو دنیا کی بے ثباتی پر لیکچر دے رہا ہو۔ ان نظم ’’موت پر‘‘ اور’’ بنجارہ نامہ‘‘ ایک تازیانہ عبرت ہے۔

نظیر صاحب عوام کے مسائل کو ہی اپنی نظموں میں موضوع بنایا۔ پر نظیر صاحب کبھی اپنے اشعار کی نقل نہیں رکھی، ان کے شاگرد راجا بلاس رائے کے لڑکے استاد کا کلام اکٹھا کرتے اور سنبھال کر رکھتے تھے اس طرح ایک حصہ تو محفوظ کیا مگر بہت سا ضائع بھی ہوگیا۔ پھر بھی جو کلام مختلف ادبی شخصیتوں مثلاً عبدالغفور شہباز، مخمور اکبرآبادی، مرزا فرحت اللہ بیگ، عبدالباری آسی وغیرہ کی کوشش سے اکھٹا ہوکر شائع ہوا وہ بڑے سائز کے ہزار صفحات کا ہے۔

نظیر صاحب جب اپنے کلام کی نقل تک نہیں رکھتے تھے تو دیوان کی اشاعت کے متعلق کیسے سوچتے نہ انہوں نے سوچا نہ ہی کوشش کی، ان کے انتقال کے بعد ان کے شاگرد اور عقیدت مندوں نے ان کی یاد کو تازہ رکھنے اور ان کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے کلام کو مرتب کرکے چھپوا دیا۔

ہماری زندگی میں تہواروں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اور عید الفطر کی تو بات ہی کچھ اور ہے روزے، سحری، افطاری کی دھوم دھام کے بعد بھی عید کے نئے نئے کپڑے سویاں، شیر خورمہ، نظیر صاحب اس کے بار میں میں کیا کہتے ہیں۔ ملاحظہ ہو   ؎

روزے کی خوشیوںسے جوہیں زرد زرد گال

خوش ہوگئے وہ دیکھتے ہی عید کا ہلال

پوشاکیں تن میں زرد سنہری سفید لال

دل کیا کہ ہنس رہا ہے پڑا تن کا بال بال

ایسی نہ شب برأت نہ بقر عید کی خوشی

جیسی ہر ایک دل میں اس عید کی خوشی

عید بقر عید کی طرح ہولی دیوالی بھی بڑے تہوار ہیں۔ دیوالی روشنیوں کے چمک اور میٹھائیوں کی مہک تہوار ہے نظیر صاحب نے ان تہواروں کی خوبصورتی کو بھی اپنی نظموں میں سمو دیا ہے کیونکہ نظیر صاحب نے ہی عام جنتا کے دوست، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے، ان کی خوشیوں اور غم میں شریک ہونے والے ان کے یہاں ہولی پر بہت زیادہ اور بہت اچھی نظمیں ہیں جیسے کہ   ؎

پھر آن کے عشرت کا مچا ڈھنگ زمین پر

اور عیش نے عرصہ کیا اس تنگ زمین پر

ہر دل کو خوشی کا ہوا آہنگ زمیں پر

بجتے ہیں کہیں تال کہیں زنگ زمیں پر

ہولی نے مچایا ہے عجب رنگ زمیں پر

نظیر صاحب نے آگرہ کو اس طرح اپنایا کہ اپنی جائے پیدائش دہلی کو بھلا دیا اور اپنی شاعری میں آگرہ کو اتار لیا اس کی ہر ہر ادا کی تعریف کی۔ ہر چیز پر نظمیں کہہ کر شہر کو امر بنادیا اس نظم کا ایک بند پیش خدمت ہے۔ جو انہوں نے آگرہ کی تعریف میں کہی ہے   ؎

شہر سخن میں اب جو ملا مجھے مکاں

کیوں کر نہ اپنے شہر کی خوبی کروں بیاں

دیکھی ہیں آگرے میں بہت ہم نے خوبیاں

ہر وقت اس میں شاد رہے ہیں جہاں تہاں

رکھیو الٰہی اس کو تو آباد جاوداں

نظیر اکبرآبادی نے تاج محل پہ بھی ایک بہت خوبصورت نظم لکھی ہے اس کا عنوان’’روضہ تاج گنج‘‘ ہے دو بند اس کے بھی پیش ہیں تاکہ تاج محل کی خوبصورتی کا اندازہ ہوجائے۔ اور نظیر کے کلام کی خوبیوں کا بھی   ؎

یارو جو تاج گنج یہاں آشکار ہے

مشہور اس کا نام یہ شہر و دیار ہے

خوبی میں سب طرح کا اسے اعتبار ہے

روضہ جو اس مکاں میں دریا کنار ہے

نقشے میں اپنے یہ بھی عجب جوش نگار ہے

صرف سیر و تفریح کھیل تماشے ہی نظیر صاحب کی شاعری نہیں بلکہ زندگی کی حقیقتوں پر بھی گہری، سنجیدہ فلسفیانہ نظمیں ان کے یہاں ہیں اور سب کا بیان صاف اور سادہ ہے۔

الٰہی نامہ، ہنس نامہ، تندرستی نامہ، فنا نامہ، جوگی نامہ، روٹی نامہ، کوڑی نامہ، آدمی نامہ اور بنجارہ نامہ سب کی اعلیٰ مثالیں ہیں۔

بنجارہ نامہ میں زندگی اور موت کی ایک دنیا بکھری پڑی ہے۔

ٹک حرص و ہوس کی چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا

قزاق اجل کا لوٹ ہے دن بجاکر نقارہ

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارہ

لہٰذا نظیر اکبرآبادی ہندوستان کے ان قدیم شہرت یافتہ شعراء میں سے ایک ہیں۔ جنہیں قیامت تک فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔غرض ہر اعتبار سے نظیر اکبرآبادی خالص ہندوستانی شاعر کہے جانے کے مستحق ہیں آپ نے اپنے کلام کے لئے وہی زبان منتخب کی ہے جو عام طور پر ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اس طرح نظیر اکبرآبادی ایک عوامی شاعری کی لاجواب نظیر ہیں۔