کتابوں پرتبصرے

دیار دوستاں

دیار دوستاں 

نام کتاب: دیار دوستاں
مصنف: ناصر ناکا گاوا
صفحات: 200
ناشر: الحمد پبلی کیشنز، لیک روڈ ، لاہور(پاکستان)
مبصر: معراج الاسلام،جے این یو،نئی دہلی،110067

بر صغیر ہند وپاک سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے علمی حلقوں اور ادبی نشستوںکی انتہائی مقبول و معروف شخصیت ناصر ناکاگاوا کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ــــ؛دیار دوستاں؛ان کی چوتھی کتاب ہے۔ جب کہ اس سے پہلے ان کی تین کتابیں (۱)دیس بنا پردیس2012(۲)دنیا میری نظر میں2016(۳)دیس دیس کا سفر2017اشاعت کے مراحل سے گزر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکی ہیں۔ اپنی اس کتاب ،دیار دوستاں،کا انتساب اپنے مرحوم والد محترم کے نام کیا ہے۔ اس کتاب کے آغاز میں مصنف کے مخلصین و محبین کے تاثرات شامل ہیں۔ خود مصنف نے بھی دیڑھ صفحے پر مشتمل اپنے تاثرات قلم بند کیے ہیں ۔ اس میں دو افسانے، کچھ طنزیہ و مزاحیہ اور فکری مضامین شامل ہیں۔ ان سب کے علاوہ پانچ سفر نامے جو کہ’ چیلی،یوگینڈا،دوحہ، عمان اور بحرین ‘کے سفر ی تجربات پہ مشتمل ہیں۔ اس کتاب میں جو چیز سب سے زیادہ قابل توجہ اور جاذب نظر وہ ان کی تصویر کشی کی مہارت ہے۔ یوں تو سفر نامے میں سب سے اہم شئی منظرکشی ہے۔ اس کتاب کے بیچ میں مصنف نے تصویروں کا ایک البم بھی شامل کیا ہے۔ تاکہ قاری نہ صرف تحریروں کے ذریعہ متعلقہ مقامات کی معلومات حاصل کریں بلکہ اپنی آنکھوں سے ان کا مشاہدہ بھی کریں۔ یو ں تو بہت سے سفر نامہ نویسوں نے اپنے سفر نامے میں جا بہ جا تصویر وں کو بھی شامل کیا ہے۔ کیو ں کہ اس سے قاری کی دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ لیکن اس باب میںناصر نے جس فنی اور تکنیکی مہارت کا ثبوت پیش کیا ہے وہ ان کا طرہ امتیاز ہے اور یہی چیز ان کو پنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔
ناصر ناکاگاوا کی اصل شہرت سفر نامہ نویس کی حیثیت سے ہے ۔ نیز اپنے آن لائن اخبار ،اردو نیٹ جاپان، سے دنیا بھر کے اردو حلقوں میں نہ صرف خود کو متعارف کرایا بلکہ ان میں اپنی ایک منفرد اور مستقل شناخت بھی قائم کی ہے۔ زیرہ تبصرہ کتاب بنیادی طور پر سفر ناموں کا مجموعہ ہے۔ دیار دوستاں کے عنوان کے تحت مصنف خود ہی تحریر کرتے ہیں۔ ،،میری دیگر تصانیف کی طرح دیار دوستاں لکھوانے میں بھی جاپان سمیت دنیا بھر میں مقیم میرے یاروں دوستوں کا دست محبت شامل ہے۔ ،، اس کتاب میں شامل افسانے قاری کو روز مرہ کی زندگی میں نئے تجربات سے روشناس کراتے ہیں۔ اسی طرح جو طنزیہ او ر مزاحیہ مضامین ہیں ان میں بھی قاری کو دعوت احتساب دی گئی ہے۔ طنزیہ اور مزاحیہ اسلوب سے مصنف کا مقصوداصلاح معاشرہ ہے تا کہ اس معاشرے میں رہنے والے صالح اقدار اور مکارم اخلاق جیسی صفات کے حامل ہوں۔
اس کتاب شامل پہلا سفر نامہ چیلی کا ہے۔ جس کا عنوان ہے،،چلو چلو چیلی چلو،،اس میں ناصر نے وہاں کی تہذیب و ثقافت، رسم و رواج، وہاں کی بلند و بالا اور خوبصورت عمارتوں اور رفقا کے ساتھ بتائے گئے لمحات کو ایسے دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری ان سب سے لطف اندوزہوتا ہے۔ چیلی کے کھانے کی انواع و اقسام ذکر بھی کیا گیاہے۔ مثلاً وہاں کی اسپیشل ڈش سیوچے کا تذکرہ بڑے اہتمام سے کیا ہے ۔ اسی سفر نامے میں جاپان کی ایمان داری کا ذکر اس انداز سے کرتے ہیں گویا وہ ایک ملک نہیں بلکہ جنت کا کوئی حصہ ہے۔ اور یہ بات درست ہے کہ جاپانی قوم ایمان داری اور انسانی کی حدوں کو چھوتی ہے۔
دوسرا سفر نامہ یوگینڈا سے متعلق ہے جو ایسٹ افریقہ کا ایک ملک ہے۔ یہ نہایت ہی غربت و افلاس کا شکار ہے، تعلیمی فیصد زیادہ ہونے کے باوجود یہاں ایڈز جیسی خطرناک بیماری عام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یوگینڈا میں پچاس فیصد سے زیادہ افراد اس مہلک بیماری کے شکار ہیں ۔ یہاں کی طرز معاشرت ، رہن سہن اور کمپالا شہر کی خوب صورت مناظر،ٹرکش لذیذ کھانوں کے ریستوران اور دنیا کی سب سے لمبی ندی ،دریائے نیل،کا تذکرہ ایسے اچھوتے انداز سے کیا گیا ہے کہ اس کے اندر فکشن کا رنگ پیدا ہو گیاہے۔ تیسرا سفر نامہ قطر کا ہے اس میں زیادہ تر زیر تبصرہ کتاب کی تقریب رونمائی کی روداد بیان کی گئی ہے۔ چوں کہ مصنف نے اپنی دوسری کتاب دنیا میری نظر میں قطر کے احوال کا تذکرہ تفصیل سے کیا ہے۔لیکن اس کتاب میں قطر کے ایک بارونق بازار جس کا نام ،سوگ واقف ، ہے کا تذکرہ جس انداز سے کیا ہے اس کو پڑھنے کے بعد مغلیہ دور کی دہلی اور نوابوں کے عہد کے لکھنئو کی یاد یں تازہ ہو جاتی ہیں۔ چوتھا سفر نامہ عمان سے متعلق ہے۔ عمان ایک غریب ملک تھا مگر آج اس کا شمار دنیا کے خوش حال اور امیر ملکوں میں ہوتا ہے اور یہ سب نتیجہ ہے معمار عمان سلطان قابوس بن سعید کی ایمان داری اور محنت کا۔ یہ سفر نامہ بھی دیگر تمام سفر ناموں کی طرح ہی ہے مگر جو چیز اس ملک کے حوالے سے انفرادی نوعیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بہت ہی سادگی پسند، اخلاص و محبت کے پیکر اور مذہبی آزادی کے خواہاںہیں۔ وہاں کی عوامی زندگی اور بادشاہ کی عیش پرست زندگی اوراس کے قدیم و جدید محل کا خارجی اور داخلی نقشے کو ناصر نے فنی مہارت سے پیش کیا ہے۔
پانچواں سفر نامہ بحرین کا ہے ۔ اس میں باب البحرین کی تنگ و تاریک گلیوں ،دکانوں ، مساجدوں اور قہوہ خانوں کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرق ہندوستان کے کسی نامور اور بڑے شہر کا یہ سفر نامہ ہے۔دبئی کی تیز رفتار ٹرین اور شارجہ کا اسلامی ماحول کو بھی بڑی خوبی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کے درمیان بہت سی تصاویر بھی شامل کر دی گئی ہیں۔
عصر حاضر میں ناصر ناکاگاوا کو سفر نامہ نویسی کے باب میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ، ان کے سفر ناموں میں جو چیز سب سے زیاہ قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ جدائیگی کے لمحوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو لہجہ اتنا رقت آمیز ہوتا ہے کہ قاری نم دیدہ ہو جاتا ہے اور قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ اب یہ ان کی آخری ملاقات ہے۔ یقینا ناصر ناکاگاوا عہد حاضر میں ابن بطوطہ کی نیابت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔