افسانہ

بریف کیس

رمانہ تبسم

بریف کیس

ثمینہ بیگم روز روز بہوکے لعن طعن سے دل برداشتہ اور ملول ہو جاتی۔ وہ اپنی بوڑھی کمزور آنکھوں سے بہو کو دیکھتی رہتی،لیکن ان کی بوڑھی جان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ بہو کی کسی بات کو غلط ٹھہرا سکیں۔عرفان جو نہایت فرماں بردارہر وقت ماںکی دلجوئی کرنے والا بیٹا تھا ۔ اب اپنی بیوی کی زبان بولتا ہے۔
جب اشفاق نے بیوی اور تین بچوں کے رہتے دوسری عورت سے شادی کر لی تو سسرال کے سبھی لوگ سمینہ بیگم کی طرف ہو گئے۔سب کی زبان پر یہی شکوہ تھاکہ اتنی خوبصورت، سلیقہ مند بیوی کے ہوتے ہوئے اشفاق دوسری عورت کے عشق میں مبتلا کیسے ہو گئے ۔سسرال کے سبھی لوگوں نے شروع میں ثمینہ بیگم کا ساتھ دیا،لیکن آہستہ آہستہ سبھی لوگ ا پنی اپنی ذمہ داریوںمیں مصروف ہو گئے۔ادھر اشفاق کا ظلم دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ بھی اپنے تین معصوم بچوں کی خاطر اشفاق کے ہر ظلم کو خاموشی سے برداشت کر لیتی،لیکن جب انہوں نے حد سے زیادہ اذیت دینی شروع کر دی تو وہ اپنے بچوں کو لے کروالدین کے گھر آگئی،کہ شاید بچوں سے دور رہ کر ان کے دل میں بیوی کی نہ سہی بچے کی محبت ایک دن باپ کے دل میں ضرور مچل اٹھے گی،لیکن دن۔ ۔۔۔۔ ہفتے ۔۔۔۔۔ مہینے ۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔۔سال۔۔۔۔۔گزر گئے۔۔۔۔۔وہ نہ آئے اور اماوس کی رات کا سایہ ان کی زندگی میں چھا گیا۔
ادھر والدین نے زور ڈالا کہ پوری زندگی اکیلے کیسے گزرے گی۔اشفاق سے خلع لے کر دوسری شادی کر لو۔بچے نانہیال میں پرورش پا لیں گے۔ثمینہ بیگم اپنی خشک آنکھوں سے والدین کو دیکھتے ہوئے کہتی۔
’’اشفاق نے مجھے طرح طرح کی اذیت دی ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ انہوںنے مجھے طلاق کیوں نہیں دیا؟اس لئے میں بھی ان سے خلع نہیں لوں گی۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔نہ اپنی زندگی اب دھنک رنگ سے سجائوں گی۔ ثمینہ بیگم نے سفید رنگ کا لبادہ اوڑھ لیااور نہ پھر اپنے ہاتھوںمیں رنگ برنگی کانچ کی چوڑیاں ڈالی ۔۔۔۔۔ کانچ کی ہری چوڑیاں اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر اپنی مر مری کلائیوں میں پہننا انہیں کافی پسند تھا ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔۔۔یہ شوق بھی خزاں رسیدہ جھونکے کے ساتھ ان کے دل سے نکل گیا۔اتنے سالوں میں وہ کتنی بار ٹوٹی بکھری صرف وہ جانتی ہیںاوراللہ جانتا ہے۔ ان کے دل کایہ کرب انہیںاندر سے کھوکھلا کر چکاتھا۔
ادھر گھر کاوہ آنگن جہاں عورت اپنا بچپن گزارتی ہے۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔اسی گھر کے آنگن میںاپنے چھوٹے بھائی بہنوں کو چلبلی کہانیاں سناتی ہے لیکن میکے کایہ آنگن بھی ثمینہ بیگم کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے ،لیکن والدین کے گھروہ بوجھ بن کر رہنا نہیں چاہتی تھی۔ اس لئے انہوںنے اپنے تینوں بچوں کو ہی اپنی دنیا سمجھ کر ایک نئے عزم کے ساتھ جینا سیکھااور اپنی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کیااور پھرٹیچر ٹرینگ مکمل کی۔ ان کی زندگی سے اماوس کی رات کاسایہ آہستہ آہستہ چھٹنے لگا اور وقت ثمینہ بیگم پر مہربان ہو گیا۔ٹیچر ٹرینگ مکمل کرتے ہی سرکاری اسکول میں ان کی نوکری مقرر ہو گئی۔
ثمینہ بیگم اسکول سے گھر لوٹتی تودونوں بیٹی اور عرفان جو ابھی صرف تین سال کا تھا۔ اپنے ننھے قدموں سے چل کر ماں سے لپٹ جاتا۔ ثمینہ بیگم اپنے تینوں بچوں کو گلے لگا لیتی۔جس سے ان کی ساری تھکان دور ہو جاتی تھی۔ ثمینہ بیگم نے نوکری کے ساتھ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی۔بچوںکی خوشنودی کے لئے وہ چیزیں لاتی جس کی وہ خواہش کرتے ۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا گیا۔ثمینہ بیگم نوکری سے سبکدوش ہو چکی تھی۔ان کی دونوں بیٹیوں کی شادی اچھے گھرانے میں ہو گئی۔ادھر عرفان جو بچپن سے ہی ذکی فہم تھا۔تعلیم مکمل کرتے ہی بینک میں اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو گیا۔ثمینہ بیگم کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ وہ عرفان کے سر پر جلد از جلد سہرا سجانا چاہتی تھی،کیونکہ نوکری سے سبکدوش ہونے کے بعد گھر کی تنہائی انہیں ڈستی رہتی۔ بہو کے آنے سے اس کے پازیب اور چوڑیوں کی کھنک سے گھر میں بہار آجائے گی۔ بہو کے لال شہانہ جوڑے تیار کرنے میں مصروف ہو گئی۔بہو کے لال شہانہ جوڑے میں اپنی امیدوں کے پھول ٹانکتی رہتی اور عرفان کا رشتہ اپنے بھائی کی لڑکی سے طے کر دیا،لیکن عرفان کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا،کیونکہ اس کی پسند کوئی اور تھی۔ ثمینہ بیگم نے عرفان کی خوشیوں کی خاطر اس کی پسند کو قبول کر لیا۔
گھر میں بہو کے آنے کی خوشی ثمینہ بیگم کے دل کو سکون دیتی ہے، لیکن ان کی یہ خوشی چند دنوں تک ہی قائم رہی۔بہو کے لعن طعن سن کر ان کی خوشی ایک کرب بن کر ان کے دل میں ایک خلش بن کر رہ جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔ دل پر لگا زخم کتنا ہی گہراکیوں نہ ہو۔آہستہ آہستہ اس کی تکلیف کم ہوجاتی ہے،لیکن جب کوئی اپنا اس زخم کو دوبارہ کریدنا شروع کر دیتا ہے تو وہ زخم نا سور بن جاتا ہے۔ ثمینہ بیگم خاموش سب کچھ سہتی رہتی اورہر نماز میں اللہ سے دعا کرتی۔
’’اے اللہ مجھے ہمت دے ۔۔۔۔۔ ایک تیری ہی ذات ہے۔۔۔۔۔ جو مجھے ہر مصیبت سے بے نیاز کرتی ہے ۔‘‘
ثمینہ بیگم نمازسے فارغ ہو کر کھانا کھانے بیٹھی توبہونے انہیں قہر آلود نگاہوں سے دیکھتے ہوئے زہر خندلہجہ میں کہا۔
’’عرفان آپ اپنی امی سے کہہ دیںکہ وہ ڈائننگ ٹیبل پر اپنی اس تام چین کی رکابی اور کٹورا میں نہ کھایاکریں۔ان کے اس برتن سے مجھے سخت نفرت ہے۔‘‘بہو نے ثمینہ بیگم کے ہاتھ سے برتن چھنتے ہوئے کہا۔
بہو کی باتیں سن کر ثمینہ بیگم کا دل پاش پاش ہو گیا اور بہو کے ہاتھ سے اپنا برتن چھین کر ایک بچے کی طرح اپنے سینے سے لگا لیااور گلوگیر آواز میں بولی۔
’’مجھے اسی برتن میں کھانے کی عادت شروع سے ہے۔مجھ سے یہ فائبر پلیٹ ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا صحیح ڈھنگ سے نہیں کھایاجاتاہے۔ ‘‘
’’امی ! اب تو اپنے میں تبدیلی لائیے۔ہمارے گھر میں تمام آرام و آرائش کی چیزیںموجودہیں۔افشاں نے اس گھر کو انٹریر ڈیزائنر سے سجایا ہے۔وہ کافی مارڈن خیالات کی ہے۔‘‘ عرفان نے بیسن میں ہاتھ دھوتے ہوئے کہا۔
’’اس بڑھاپے میں ۔۔۔۔۔ اپنے اندر اب ۔۔۔۔۔ کیا تبدیلی لائیں بیٹا۔‘‘
ثمینہ بیگم نے مایوس کن لہجہ میں کہااور شکستہ حال اپنے کمرے میںآگئی اور بریف کیس کھولنے لگی،لیکن بہو اور بیٹا کے قدموں کی آہٹ سن کر سہم گئی اور بریف کیس چوکی کے نیچے کر دیا۔تبھی ان کے کمرے میں بہو اوربیٹا آگئے ۔
’’دیکھئے عرفان اپنی امی کو ڈائننگ ٹیبل پر ان کی تام چین کی رکابی اور کٹورا۔۔۔۔ اور اب ان کا یہ ٹوٹا ہوا بریف کیس۔ روز کھانے کے بعد اس کو کھولنا ان کا فرض ہے۔ ان کا یہ روز روز کا تماشہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتاہے۔ ان سب چیزوں کو میں آج ہمیشہ کے لئے اس گھر سے باہر پھینک دوں گی۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ گھر میں اتنی ساری الماریاں ہیں،لیکن یہ اپنے سامان رکھیں گی۔۔۔۔۔ تو بس اس پرانے ٹوٹے ہوئے بریف کیس میں۔ ان سب چیزوں کی وجہ کر میرے گھر کا شو خراب ہو رہا ہے۔ آج میں بھی دیکھنا چاہتی ہوںکہ اس میں انہوں نے کتنے سونے چاندی چھپا کر رکھے ہیں۔آج اس کا بٹوارہ ہو جائے تو بہتر ہے،ورنہ یہ سبھی چیزیںاپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیں گی۔‘‘ بہو نے بریف کیس چوکی کے نیچے سے نکالتے ہوئے کہا۔
’’بیٹا میں اپنی ساری چیزیں تم لوگوں کو دے چکی ہوں ۔۔۔۔۔یہاں تک کے اپنی پنشن ۔۔۔۔۔ اور یہ گھر بھی تمہارے نام کر دیا ہے۔اب اس بریف کیس میںجو بھی چیزیںہیں۔برائے مہربانی میرے پاس رہنے دو۔۔۔۔۔ اب یہی چیزیں میرے بڑھاپے کا سہارا ہے۔‘‘
ثمینہ بیگم نے آنسوئوں سے لبریز درد بھری آواز میں بہو اور بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،لیکن ان کی کسی بھی بات کا اثر بہو کے دل پر نہیں ہوا،اور بریف کیس کی ساری چیزیںنکال کر فرش پر بکھیر دیا۔بریف کیس کی چیزوں کوافشاں اور عرفان مہبوت کھڑے تعجب خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ فر ش پر بکھری تمام چیزیںدیکھ کر ثمینہ بیگم کی آنکھوں سے آنسوئوں کی برسات ہونے لگی اوران تمام چیزوں کو اپنے کمزور ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے بھرائی آواز میں بولی۔
’’یہ ۔۔۔۔۔تمام چیزیں میری تنہائی کا سہارا ہے۔ یہ ٹوٹی ہوئی سلیٹ ۔۔۔۔۔ پنسل اور ۔۔۔۔۔ یہ اس کا نرسری کلاس کا رزلٹ ۔۔۔۔۔ اس کی یہ چپل۔۔۔۔۔ جب پہلی بار اس کے ننھے پائوںمیںپہناکراس کی انگلی پکڑ کر اسے چلنا سکھایا تھا۔۔۔۔۔ اس کے یہ کھلونے۔۔۔۔۔یہ کپڑے۔۔۔۔۔ جو بچپن میں اسے سب سے زیادہ پسند تھے اور یہ میڈل جب عرفان نے اسکول میں ’’ماں‘‘کے عنوان پر تقریر کیا تھا۔اس کے اس تقریر کو بہت پسند کیا گیا تھا۔۔۔۔۔ میری دولت یہی ہے۔‘‘
ثمینہ بیگم آنسوئوں سے بھیگی ہوئی آواز میںبہواور عرفان کو دیکھتے ہوئے بولی۔
’’عرفان اس گھر میں آرام وآرائش کی تمام چیزیں موجود ہیں،لیکن ان آرام و آرائش کی چیزوںسے میری روح کو تسکین نہیں۔ تم نے شادی کے بعد کبھی میرے پاس آکر یہ نہیں پوچھا کہ امی آپ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔؟ میںکتنے کرب سے گزرتی رہی۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔ تم نے کبھی میری خیریت نہیں پوچھی۔۔۔۔۔ عرفان تمہارے بچپن کی یہی چیزیںہیں۔ جس کے سہارے میں زندہ ہوں۔‘‘
اپنے بچپن کی تمام چیزیںدیکھ کر عرفان کی آنکھیںآنسوئوںسے بھیگ گئی اورماں کے قریب آکر فرش پر بیٹھ گیا۔اس وقت الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ماں کا ہاتھ پکڑ کر کانپتی ہوئی آواز میںکہا۔
’’ امی!مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔۔!!‘‘اور اپنے بچپن کی تمام چیزوں کو ماں کے ساتھ بریف کیس میں رکھنے لگا۔

*****

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment