ادیبوں کا تعارف

علی محمد آصف علی عادلؔ:ماریشس

محمد ثناء اللہ
ریسرچ اسکالر جواہر لال نہرو یونیورسٹی،نئی دہلی

علی محمد آصف علی عادلؔ:ماریشس

علی محمد آصف ماریشس کے ایک زندہ دل ادیب اور متحرک و فعال محقق ہیں۔ وہ اس وقت مہاتماگاندھی انسٹی ٹیوٹ ،ماریشس کے شعبہ اردو کے سینئر لیکچرار کے عہدے پر فائز ہیں۔ صدرشعبہ کی حیثیت سے بھی وہ اپنے فرائض منصبی کو بحسن وخوبی انجام دے چکے ہیں۔انہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی سے ’’ماریشس میں اردو کا ادبی و لسانی ارتقا‘‘ کے موضوع پر 2013ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ علی محمد آصف 11جولائی 1975ء کو پورٹ لوئس ماریشس میںپیدا ہوئے۔ اساتذۂ وقت سے یہیں پرابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ان کے والد عبدالقاسم علی محمدخود ایک بزرگ استاد اور شاعروادیب ہیں۔ اپنے پانچ بھائیوںبہنوں میں محمد علی محمد آصف نے سب سے زیادہ تعلیم حاصل کی ہیں۔ وہ پڑھنے میں بہت ہی ذہین تھے۔ ثانوی تعلیم مکمل کرکے وظیفہ پر 1995ء میں ہندوستان اعلیٰ تعلیم کے لیے تشریف لائے اور دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے بی اے اردو آنرس اور ایم اردو کی ڈگریاں امتیازی نمبروں سے حاصل کیں۔ وہ ایم اے کے گولڈ میڈلیسٹ بھی رہے ہیں۔ 1998ء میں وطن واپس لوٹ کر بطور ایجوکیشن آفیسر اسکول کی ملازمت اختیار کی اور مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہوکر سنیئر لکچرار اور صدر شعبہ اردو کے عہدوں تک ترقی کی۔
علی محمد آصف کو تحقیق وتنقید سے فطری مناسبت ہے۔ درجنوں سے زیادہ مختلف موضوعات پر ان کے تنقیدی مضامین دنیا کے معروف رسالوں میں شائع ہوچکے ہیںاور متعدد قومی وبین الاقوامی سمیناروں، کانفرنسوں اور ورکشاپ میں شرکت کرکے مقالات پیش کرچکے ہیں۔ علی محمد آصف نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت مہاتماگاندھی انسٹی ٹیوٹ کے شعبۂ اردو کو چو طرفہ ترقی عطا کی۔درس و تدریس کے علاوہ یونیورسٹی سطح کے نصابوں کی ترتیب و تشکیل کا کام بھی انجام دیا ہے۔کئی عالمی سطح کے میگزین میں بطور مولف و مرتب کا م کر چکے ہیں۔تالیف و ترتیب کے کا م میں ان کو خاص درک حاصل ہے۔ان کی متعدد عمدہ تالیفات منظر عام پر آچکی ہیں۔انہوں نے ہی اپنے والد بزرگوارعبدالقاسم علی محمدکے شعری مجموعہ’’غزلیات ناداں‘‘اور ڈراموں کے مجموعہ ’’گنّے کے کھیت سے‘‘ کی تدوین و تالیف کا کام انجام دیا ہے ۔ان دونوں مجموعوں کی خوب پذیرائی ہوئی ہیں۔
’’فیض احمد فیض کی شاعری پر ایک نظر‘‘، ’’پہلا سفر‘‘، ’’منٹو اور جنسیات‘‘، ’’فراق کی رومانیت‘‘،’’ فانی بدایونی‘‘، ’’اقبال کے اردو کلام کی عصری معنویت‘‘ ’’قمر رئیس اسرارو احوال‘‘،’’مولوی عبد الحق پر ایک طائرانہ نظر‘‘،’’اردو صحافت کے دو سو سال ‘‘ان مضامین کے مطالعہ سے موصوف کی تنقیدی و تحقیقی صلاحیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کس باریک بینی اور متفرق دلائل سے اپنے موقف کو ثابت کرتے ہیں۔ان کے مضامین ماریشس کے تحقیقی و تنقیدی سرمایہ میں اہم اضافہ ہیں۔لسانی اعتبار سے آصف علی کو کئی زبانوں پر دسترس حاصل ہے ۔وہ فرینچ ،کریول کے علاوہ انگریزی زبان وادب پر بھی مکمل مہارت رکھتے ہیں ۔انہوں نے ماریشس کی مقامی زبان کریول کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں اردو زبان ادب کے حوالے سے متعدد مضامین تحریرکیے ہیں۔ان میں The Linguistic Development of Urdu in Mauritius کئی اعتبار سے وقیع اور تحقیقی و دستاویزی مضمون ہے۔موصوف کو تعلیم و تدریس سے دل چسپی شروع سے ہی ہے۔ہندوستان سے 1998ء میں جب بی اے کی تعلیم مکمل کرکے اپنے وطن واپس ہوئے تو بطور ایجوکیشن اوفیسر ملازمت اختیار کی ،لیکن اعلا تعلیم حاصل کرنے کی خواہش اور علمی تشنگی نے دوبارہ انہیں ہندوستان لے آئی ،دہلی،حیدرآباد اور دیگر شہروں کے ادبی و علمی ماحول سے انہوں نے بہت کچھ کشید کیا ۔اردو کی اسی ادبی و تہذیبی وراثت کے آمین و نقیب کی حیثیت سے ماریشس میں اردو زبان و تہذیب کے فروغ و ترویج میں سرگرم عمل اور مصروف کار ہیں۔آصف علی عادلؔ مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ ،ماریشس کے شعبہ اردو میں معلم و مدبر کی حیثیت سے کئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا فریضہ انجام دے چکے ہیں اور تاحال مصروف عمل ہیں۔تدریسی خدمات کے علاوہ ان کے تحقیقی کارنامے اردو دنیا کے لیے بے حد حوصلہ افزا ہیں ۔حالیہ دنوں میں بھی وہ شب و روز کئی قسم کی تحقیقی و تنقیدی کاموں میں مشغول ہیں۔امید ہے کہ مستقبل میں بھی ان کی فنی و فکری تخلیقات اور انتظامی کاوشیں ماریشس میں اردو کی بہتر مستقبل کی ضامن ثابت ہوں گی۔
٭٭٭