ادیبوں کا تعارف

پروین شیر، امریکہ

شبنم پروین 

ریسرچ اسکالر جے این یو

پروین شیرماہ وسال کے آئینے میں

ہندوستان میں برطانوی تسلط کے دوران اور بعد کے زمانے میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔اس تغیر و تبدل نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ ایسی صورت حال میں ادب بغیر اثر انداز ہوئے کہاں رہ سکتا تھا۔بدلے ہوئے حالات نے ادب کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا شروع کیا۔ ادیبوں اور فنکاروں نے نہ صرف بدلی ہوئی فضا کا مطالعہ کیا بلکہ دانشمندی سے کام لیتے ہوئے ایک نئی روش پر گامزن ہوئے۔ فکر و افکار میں پختگی کے ساتھ ساتھ گہرائی و گیرائی پیدا ہوئی ۔ اس طرح جنگ آزادی کے بعد جس عہد کا آغاز ہوا اس نے ملک اور بیرونِ ملک میں اردو دنیا کے حدود پھیلنے کے ساتھ ساتھ نئے نئے امکانات روشن کیے ۔بر عظیم ہندو پاک سے باہر اردو ادب پڑھنے اور بولنے والوں کی تعداد بڑھنے کے علاوہ عالمی سطح پر تہذیبی رابطوں کی نئی نئی راہیںبھی کھلیں۔لہٰذا آزادی کے بعد ہندوستان کے مختلف علاقوں کی زبانیں تیزی کے ساتھ بیرونِ ملکوںمیں پہونچیں اور وہاں کے لوگوں نے بھی ان زبانوں کو سیکھنے سکھانے کی طرف خاص توجہ دی ۔ اس عمل سے ایک طرف زبانیں مالامال ہوئیں اور دوسرے مختلف علاقوں اور خطوں کی تہذیبوں میں بھی نئے رنگوں کی آمیزش ہونے لگی ۔ آج دنیا کے ہر خطے میں اردو زبان و ادب سے دلچسپی رکھنے والا خاصہ بڑا حلقہ موجود ہے جس نے ہمارے شعرو ادب کے سرمائے میں نہایت بیش بہا اضافہ کیاہے۔ ہم آئے دن ایسے ادب سے روشناس ہوتے ہیں جو بر عظیم سے باہر کی سر زمینوں میں جنم لے رہا ہے، اور نئی فضا میں نت نئے لہجوں،ہئیتوں اور اصناف کے نئے نئے روپ میں ظاہر ہو رہے ہیں ۔جس کی وجہ سے اردو شعر و ادب کی روایت کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ اس میں نئی تازگی بھی پیدا ہورہی ہے۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اردو ادب تہذیبی تسلسل کے ساتھ تہذیبوں کے ارتقا ئی تقاضوں کو بھی پورا کررہا ہے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ ہندوستان اور پاکستان کے تمام مشہور و معروف ادباء و شعراء جنھوں نے اردو کی نئی بستیاں آباد کرکے ادب کے گلشن کو مہکا یا ہے اور اپنے فن کے ذریعے ایک خاص اور منفرد پہچان بنائی ہے ان میں سے ایک عالمی شہرت اور مقبولیت یا فتہ نام پروین شیر کا ہے۔
پروین شیر کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار سے ہے۔ یہ وہ صوبہ ہے جس کی نمائندگی اور حیثیت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ہے۔ ہندوستان کی یہ ریاست صدیوں سے صوفیوں ،سنتوں ،مہاتمائوں، مفکروں ،دانشمندوں، ادیبوں اور شاعروں کا مرکز رہی ہے۔ جن کی کاوشوں سے یہ چمن ہمیشہ سے ہی لالہ زار ہو کر مہکتا رہا ہے۔ مہا ویر اور گوتم بدھ جیسے مہاتمائوں کو اسی سرزمین نے ہی علم کی روشنی سے معمور کیا ہے۔ سمراٹ اشوک اور ملک کی قدیم ترین یونیورسٹی نالندہ کی خدمات سے کس کو انکار ہوسکتا ہے۔ تاہم اس صوبہ کا عہد و سطیٰ میں بھی مسلمانوں کی تہذیبی، ثقافتی اور ادبی خدمات کا لوہا مانا جاتا رہا ہے۔ اردو شاعری کی بات ہو یا اردو نظم نگاری کی اور چاہے تنقید کا معاملہ ہو ہر اعتبار سے تخلیقی ادب میں بہار کے فنکاروں نے نمایاں کارنامے انجام دیئے ہیں ۔ اپنے ابتدائی مراحل سے ہی یہ علم و ادب کا اہم گہوارہ رہا ہے۔ ایسی زرخیز زمین سے نموپانے والی پروین شیر کی ذات وصفات محتاج تعارف نہیں ۔صاحب علم و ہنر کے لیے وہ ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ وہ ایک ہمہ جہت فنکارہ ہیں۔ انھوں نے فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہے۔
والدین اور تعلیم و تربیت
پروین شیر کی پیدائش عظیم آباد (پٹنہ) کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں ہوئی ۔یہ ایک خوش حال گھرانا تھا۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا لیکن لڑکیوں کی آزادی کے تعلق سے اعتدال پسند تھا۔ والد سید فضل اللہ قادری اپنے زمانے کے معروف مفکّر ،فلسفی اور دانشور تھے۔ مسلم لیگ کے ممتاز رہنمائوں میں انکا شمار ہوتا تھا۔ سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے۔ کبھی کبھی مہاتماگاندھی بھی ان کے پاس صلاح و مشورے کے لیے آیا کرتے تھے ۔قادری صاحب ان لوگوں میں سے تھے جو خلق ِ خدا کو پہلی ہی ملاقات میں اپنا گرویدہ بنا لیتے تھے۔ محبت کی دولت فراخ دلی سے لٹانا انکا شیوہ تھا۔ نہایت ہی درد مند اور غریب پرور انسان تھے۔ زمیندار طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کی شخصیت تمام دنیاوی دکھاوے اور فریب سے عاری تھی ۔ان کے رہن سہن اور میل ملاقات سے کسی طرح کا بھی احساس برتری اور تفاخر کا گمان نہیں ہوتا تھا۔ فضل اللہ قادری صاحب خود بھی جو یائے علم و ادب تھے اور ساتھ ہی اہل علم کی قدر دانی بھی کرتے تھے۔ ان کا ایک باقاعدہ کتب خانہ تھا ،جس میں بے شمار کتابیں تھیں ۔ یہ کتابیں ادب اور فلسفے کے علاوہ مختلف علوم و فنون سے تعلق رکھتی تھیں ۔ اس کے ساتھ ہی شہنشاہِ اورنگ زیب کے کچھ نادر و نایاب احکامات بھی ان کے پاس موجود تھے۔ جن کی تاریخی حیثیت مسلم ہے۔ اس تمام علمی و ادبی ذخیرے کو ان کی وفات کے بعد خدا بخش لائبریری (پٹنہ) کو عطیہ کردیا گیا۔
پروین کے صرف والد ہی نہیں ان کی والدہ محترمہ شکیلہ قادری بھی علم و ادب کا صاف ستھرا ذوق و شعور رکھتی تھیں ۔گھریلو روز مرّہ کی مصروفیات سے فراغت کے بعد سارا وقت کتابوں اور رسالوں کی ورق گردانی میں گزارتی تھیں ،یہ ان کے معمول میں شامل تھا۔ یہ تمام رسائل و جرائد پابندی کے ساتھ ان کے گھر ماہ بہ ماہ آیا کرتے تھے۔ پروین کے بڑے بھائی ڈاکٹر سید شمس الضحٰی قادری سانئسداں تھے۔ وہ انگریزی زبان و ادب کے علاوہ اردو ادب کا گہرا ذوق رکھتے تھے۔ اردو شعرو ادب کی دنیا میں وہ عارف عظیم آبادی کے نام سے معروف ہیں ۔ان کی غیر معمولی سائنسی خدمات کی بنیاد پر حکومت ِپاکستان نے انھیں ’’بابائے فارمیسی‘‘ کا خطاب عطا کیا تھا۔پروین کے دوسرے بھائی سید نور الہدیٰ قادری بھی ادب کے پرستاد اور کلاسیکی موسیقی کے شیدائی تھے۔ اردو ادب میں فکشن اور تنقید نگاری کے میدان کا مشہور و مقبول نام اختر اور ینوی اور بہار کی پہلی افسانہ نگار خاتون شکیلہ اختر پروین شیر کے خالہ خالو تھے۔معروف ادیب (بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر نفسیات)اور مشہور زمانہ افسانہ ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ کے خالق ڈاکٹر محمد محسن پروین شیر کی والدہ کے سگے ماموں تھے۔ شاعر عزیز عظیم آبادی (علامہ فضل الحق آزاد کے صاحب زادے) پروین کے بہنوئی تھے،اور انھیں پروین شیر سے کافی امیدیں بھی تھیں ۔ اس طرح پروین شیر کا پورا خاندان ایک یونیورسٹی کی سی حیثیت رکھتا ہے۔ کنبے کا ایک ایک فرد ادبی ذوق و شوق رکھتا تھا۔ ایسی بڑی علمی اور ادبی شخصیات کے درمیان پروین کا بچپن گزرا تھا۔ جس نے شعوری اور لا شعوری طور پر ذہن سازی کی اور جذباتی تربیت کرکے پروین کے تخلیقی شعور کو پروان چڑھایا ،اور وہ نگاہ بخشی جو ہمیشہ حقائق اور ان سے پرے کی چیزوں اور ان کی باریکیوں کو دیکھنے کی کوشش میں لگی رہتی ہے۔
پروین شیر کی ابتدائی تعلیم گرلس کالج (پٹنہ) ہندوستان میں ہوئی ۔پروین ابھی صرف چھ برس کی تھیں کہ ان کے والد فضل اللہ قادری کا انتقال ہوگیا اور ان کا کنبہ کچھ عرصے بعد ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان منتقل ہوگیا۔ جس میں ان کے بھائی اور چچا وغیرہ شامل تھے ۔پروین کی والدہ کو جائیداد کے سلسلے میں ہندوستان میں ہی رہنا پڑا اور پروین اپنی والدہ کے ساتھ ہندوستان ہی میں رہیں ۔البتہ آنا جانا ان کا بھی پاکستان میں رہا۔ پھر نا پختہ عمر میں ہی پروین کی شادی سید وارث شیر کے ساتھ کردی گئی ۔ عام روایت ہے کہ شادی کے بعد عورتیں اپنے نام کے آخر میں شوہر کا نام یا ’سرنیم ‘جوڑ دیتی ہیں اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پروین نے شیر کا اضافہ اپنے نام کے ساتھ کیا،اور وہ پروین شیر کے نام سے جانی جانے لگیں ۔ سید وارث شیر کے حوالے سے محمد نعمان خان لکھتے ہیں :
’’ وارث شیر بھی علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔پروین شیر کے خسر سید احسن شیر خدا بخش لائبریری کے سیکریٹری اور میوزیم کے کیوریٹر تھے۔ یہ 1933کی بات ہے جب وہ انگلستان میں تھے۔ علامہ اقبال سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ڈاکٹر ذاکر حسین ،مولانا ابوالکلام آزاد، سر علی امام ،سر ہیوڈائو اور سر سلطان احمد جیسی مشہور زمانہ شخصیات سے بھی ان کی گہری رسم و راہ تھی ۔ مائکے میں جس پودے کے انکُر پھوٹے تھے سسرال کے ماحول میں اس نے ایک ہرے بھرے درخت کی شکل اختیار کرلی۔ پروین کی تخلیقی صلاحیتوں کی بار آوری میں ان تناظرات کا بھی خاص دخل تھا۔‘‘(پروین شیر :عہد ناتمام کی شاعرہ،عتیق اللہ ،مکتبہ شعرو حکمت حیدرآباد (اے پی) 2011ص:35)
پروین شیر شادی کے بعد اپنے شوہر سید وارث شیر کے ساتھ کنیڈا منتقل ہوگئیں ۔وارث شیر کنیڈا میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔وہ سیاست اور ریاضی کی آٹھ کتابوں کے مصنف بھی ہیں ۔ا بھی حال میں ہی ان کا انتقال ہوا ہے۔ پروین شیر نے اعلیٰ تعلیم کے مدارج اپنے رفیق حیات وارث شیر کے ساتھ رہ کر کنیڈا میں ہی طے کیے۔ یونیورسٹی آف مے نی ٹوبا(کنیڈا )سے 1972میں فائن آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ پھر یونیورسٹی آف ونی پیگ(کنیڈا) سے ہی 1974میں سائیکالوجی (علم نفسیات) کی تعلیم حاصل کی ۔ اسی درمیان شاعری اور مصوّری کی مشق بھی جاری رہی ۔پروین تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورمنٹ آف مے نی ٹوبا (کنیڈا) کے فلم کلاسی فکیشن میں ملازمت کرنے لگیں ۔اس لیے ڈیوٹی سے فارغ ہونے کے بعد جو وقت بچتا وہ یا تو فکر وفن میں لگتا یا پھر اپنے تین بچوں صہبا، شیراز اور فراز کو بنانے سنوارنے میں لگاتیں ۔پروین اپنے بچوں کو اپنی سب سے اہم تخلیقات سمجھتی ہیں ۔ماں کے آغاز کی پہلی خوشی کے بارے میں پروین لکھتی ہیں :
’’میری زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ وہ تھا جب میں نے پہلی بار اپنے نوزائیدہ بچے کو تھاما تھا۔ جب میں نے اسے چوما اور اس کی پہلی مسکراہٹ دیکھی تو زندگی کی تکمیل ہوگئی۔ اس حسین جذبے کی ترجمانی ناممکن ہے میرے لیے۔ سمندروں سے چند قطروں کے برابر۔‘‘(انٹرویو،اطہر رضوی،ص:3)
چھ برس کی زندگی میں پروین نے اپنے والد کے انتقال کا منظر دیکھا تھا۔ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا سانحہ تھا۔ والد کی وفات کے بعد ان کی ماں نے کس طرح انھیں بکھرنے سے بچایا،اور اس معصوم سی بچی کو زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں پر چلنا سکھایا ۔پروین لکھتی ہیں:
’’والد کے بعد میری والدہ شکیلہ قادری ہی میری ماں اور باپ دونوں تھیں ۔انھوں نے مجھے عورت کے کردار سے روشناس کیا،کہ زمین کی طرح عورت بھی ایک ماں ہے۔سب کچھ اپنی بانہوں میں سمیٹ کر ان کی حفاظت کرتی ہے۔اپنی ذات میں سبھوں کے دکھ جذب کرلیتی ہے۔والدہ کا آنچل مجھے سطحی دنیا سے بچاتا رہا۔‘‘ (انٹرویو،پروفیسر ڈاکٹر عبدالقادر غیاث الدین فاروقی،متحدہ ریاست امریکہ میں خواتین کے اردو خدمات کنیڈا،ص:11)
محوّلہ اقتباس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ سایۂ پدری کی محرومیت کو پروین شیر کی والدہ نے ہر اعتبار سے دور کرنے کی کوشش کی ۔پروین نے اپنی ننھی سے زندگی میں ماں کے اجڑے ہوئے چہرے کو ،سونی کلائیوں کو ، حسین رنگوں کی جگہ بے رنگ لباسوں اور ان کے بہتے ہوئے آنسوئوں کو دیکھا تھا۔ جو ان کے اندر اس قدر اسرایت کر گیا کہ چاہ کر بھی کبھی بھلایا نہ جاسکا۔ مغرب کی چکا چوند ھ اور اپنی خوش حال ازدواجی زندگی کے باوجود بھی پروین ہمیشہ ماضی کی یادوں میں گھری رہیں ۔ زندگی کے ابتدائی سال بہت اہم ہوتے ہیں ۔اس وقت کے تجربے روح میں تحلیل ہو کر دل کی گہرائیوںمیں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں ۔پروین اپنی زندگی کے انھیں تجربات کو بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:
’’ زندگی میں کئی باب ہوتے ہیں جو یکے بعد دیگرے ختم ہوتے جاتے ہیں ۔میری زندگی کے چند باب ایسے تھے جو ختم ہوگئے لیکن ختم نہیں ہوئے۔وہ ماحول ،وہ فضائیں ،وہ ہوائیں ،میری پہلی سانس، پہلا قدم ،پہلاخواب اور پہلی محبت آج بھی میری سانسوں میں ہے۔پہلی محبت تھی ماں کی مہربان آنکھوں سے اور پھر گھر کے سامنے نیم کے درخت سے،آنگن میں خوشبو بکھیرتی ہوئی رات کی رانی سے،گھر کی چھت پر چاند اور ستاروں سے،روشن آسمان تلے میرے بستر ،میرے بستر سے لپٹی ہوئی چاندنی سے،جو اب میرے پاس نہیں ہیں۔ یہاں برفیلے موسم کی وجہ سے موٹی Insulatedدیواروں کے درمیان ’6‘ ماہ قید رہنا پڑتا ہے۔ہوائوں کے نرم لمس سے دور، شیشے کے دریچوں سے حسرت سے انھیں برف کے غبار کے ساتھ رقصاں دیکھتی ہوں ۔قدرت سے الگ تھلک ہوکر ایک گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔ کچی معصوم عمر کے تجربے،کچھ میٹھی ہنسی سب وہیں چھوڑ آئی ۔ان کی جگہ اب ایک خلاء ہے اور خلش ہے۔پہلی محبت کو کوئی کیسے بھلا سکتا ہے۔‘‘(انٹرویو ،معید رشیدی ،انڈیا،ص:4)
مذکورہ اقتباس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پروین شیر اپنی جڑوں سے کس طرح سے جڑی ہوئی ہیں۔ اپنے وطن اور اپنے گھر کی یاد کے علاوہ وہ ساری فضا ئیں اور ماحول ان کے اندر آج بھی زندہ ہے۔مشفق و مہربان ماں کی روشن آنکھیں پروین کو آج بھی بیچین کیے رہتی ہیں ۔سب کچھ چھوٹنے اور اپنوں سے بچھڑنے کا کرب وہی محسوس کرسکتا ہے جو اس درد سے گزرا ہو۔ پروین دیار غیر میں رہ کر بھی اپنے والدین کی شفقتیں اور بھائیوں کا لاڈ نہیں بھلا سکیں ۔حالانکہ پروین کی ازدواجی زندگی نہایت خوبصورت و حسین تھی۔جس میں ہر طرح کی آسودگی اور فراوانی تھی۔میاں بیوی میں والہانہ قلبی لگائو تھا۔دونوں الگ الگ شعبوں سے وابستہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے معاون و مددگار رہے۔ اس بات کا اعتراف کرتے ہو ئے پروین لکھتی ہیں :
’’ زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں پر میرے رہنما میرے رفیق حیات وارث شیر ہمیشہ رہے۔یہ میری خوش قسمتی ہے ۔کون کیا ہے،کس کے چہرے پر کتنے چہرے ہیں ،لوگوں کو کیسے پرکھنا چاہئے یہ سب میں نے ان سے ہی سمجھا اور سیکھ پائی ۔‘‘(انٹرویو ،ماہانہ چہارسو،راولپنڈی (پاکستان) 2011،ص:11)
آگے لکھتی ہیں :
’’ وارث نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کی ۔ہرپر قدم پر ساتھ دیا۔میری ہر کامیابی پر فخر کیا۔ ریاضی اور فنونِ لطیفہ دو متضاد شعبے ہیں لیکن پھر بھی وہ ہمیشہ میری مصوّری کی نمائش اور ادبی محفلوں میں میری خاطر میرے ساتھ گئے۔ کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی ۔ اس معاملے میں میں بہت خوش نصیب ہوں۔‘‘(انٹرویو ،ماہانہ چہارسو،راولپنڈی (پاکستان) 2011،ص:11)
پروین کی زندگی کے گلشن میں صہبا، شیرازاور فراز جیسے تین پھول کھلے۔ یہ پھول جن کی آبیاری پروین نے نہایت ہی سلیقہ مندی سے کی ہے۔تینوں بچوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنی اپنی منزلیں بھی طے کرلی ہیں ۔بیٹی صہبا کی شادی ہو چکی ہے جو اپنی سسرال میں خوش حال زندگی گزار رہی ہے۔بڑے بیٹے نے بھی ملازمت اختیار کرلی ہے۔چھوٹے بیٹے کی تعلیم ابھی جاری ہے۔یہ سچ ہے کہ انسان کی نیکیاں کبھی رائیگا ںنہیں جاتی ہیں ۔جس طرح پروین شیر اپنے والدین سے بے پناہ محبت کرتی تھیں ۔جس درجے کا جذباتی لگائو انھیں تھا ویسا ہی پیار اور احترام کرنے والی اولاد سے خدانے انھیں نوازا ہے۔مغربی ماحول میں پیدا ہوکر بھی ان کے بچے مشرقی تہذیب و روایات کے دلدادہ ہیں اور اس پر ایک حد تک عمل بھی کرتے ہیں اوراردو زبان سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ مثلاًپروین ایک جگہ لکھتی ہیں :
’’میرے تینوں بچے بہت اچھی اردو بولتے ہیں ۔میں نے کوشش کی ہے کہ اردو سے ان کا رشتہ منقطع نہ ہونے پائے ۔اس رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے ہی میں نے اپنا شعری مجموعہ ’’کرچیاں‘‘ شائع کروایا۔اس کتاب میں ان کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ اردو زبان سے اتنی ہی محبت کریں جنتا وہ اپنی ماں سے کرتے ہیں ۔اس کتاب کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اگر میں دنیا میں نہ رہوں تو مغرب میں رہنے والی نوجوان نسل کم از کم اس کتاب کے ذریعہ یہ توجان سکے کہ ان کی زبان اور تہذیب کو ن سی ہے۔‘‘(انٹرویو ،شفیع موسیٰ منصوری ،سنڈے ایکسپریس 2008،ص:21)
مذکورہ اقتباس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ پروین نے مغربی ماحول میں سانس لینے والے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا کس حد تک خیال رکھا ہے۔ دوسری طرف اردو زبان و ادب کے ذریعہ مغربی نوجوان نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت سے باور کرانے کا جذبہ بھی رکھتی ہیں ۔شہرت اور آسودگی ہر کسی کے لیے زندگی کا صحیح نقشہ نہیں کھینچ سکتے۔ کچھ زندگیوں کا مکمل ہونا بہت مشکل ہوتا ہے۔ پروین ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں ۔انھیں ایسا کچھ چاہئے ہوتا ہے جو اصل میں نہیں ہوتا ہے۔ جن کے لیے آسائشیں ہی سب کچھ ہوتی ہیں ۔وہ سچائیوں سے پرے نیند میں ڈوبے ہوئے لوگ ہیں ۔پروین نے ہندوستان اور پاکستان سے لے کر دنیا کے تمام ممالک کے سفر کیے۔جس کی وجہ سے ان کے ذہن کے دریچے مزید وا ہوئے ۔زندگی کی تکمیل کی تلاش میں بے چینیوں نے ان کا دامن کبھی نہیں چھوڑا ۔پروین شیر اس سلسلے میں کہتی ہیں:
’’تکمیل کی تلاش خلش اور بے چینیاں میرے ساتھ رہتی ہیں ۔جو میرے لیے سود مند بھی ہیں ۔یہ ذہن کے بند دریچے وا کرتی ہیں ۔یہ نہ ہوں تو سوچ اور فکر کے چراغ بجھنے لگتے ہیں ۔ جو زندگی کی زندگی ہے۔جب خلش اور بے چینی ہے،فکر اور سوچ بھی ہے۔جب تک فکر اور سوچ کے چراغ کی خیا پاشیاں ہیں زندگی میں بھی ا جا لاہے۔فکر ہی زندگی کی بقاہے۔جسے خلش زندہ رکھتی ہے ۔ورنہ انسان ایک روبوٹ ہوجاتا ہے۔عقلی تقاضوں کے تحت زندگی اپنے وجود کے باوجود مرجاتی ہے۔‘‘(انٹرویو ،معید رشیدی ،انڈیا،ص:4)
محولہ ّ اقتباس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پروین کی تمام بے قراری اور بے چینیاں ان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوئیں ۔کیونکہ ان کی تنہائی اور خلش کو جس چیز نے بار ہا انجمن میں بدلا ہے اور کسی قدر انھیں جینے کا حوصلہ دیا ہے وہ ان کی تخلیقیت ہے۔جو کبھی شاعری کی صورت میں اور کبھی مصوری کی صورت میں نمو پاتی رہی ہے۔اور موسیقی ہمیشہ ان کی مخلص دوست رہی ہے،جس میں پروین زندگی کے سارے رنگ اور الفاظ کو بسا دیتی ہیں ۔پروین نے کنیڈا سے ستار اور آرگن کی تعلیم حاصل کی۔ شاعری ،مصوری اور موسیقی تینوں ہی ایسے راستے ہیں جن پر ان کے جذبات کے دھارے بہہ نکلے ۔پروین شیر لکھتی ہیں :
’’قلم ،برش اور ستار تینوں نے مجھے سہارا دیا ہے۔میری پہچان بنائی ہے۔تینوں میرے باوفا دوست ہیں ،ہم سفر ہیں۔ان تینوں کے شانوں پر سر ٹکا کر سکون پاتی ہوں ۔ان میں سے کسی کو خود سے الگ کردوں تو ادھوری ہو جاتی ہوں۔‘‘(انٹرویو،اطہر رضوی،ص:4-5)
اساتذہ:
بچے کا پہلا مدرسہ اس کا گھر ہوتا ہے بعد میں خاندان ،احباب اور دیگر تمام معاشرتی ماحول سے اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ وہ عناصر ہوتے ہیں جو کسی انسان کے فکر و افکار کی تشکیل اور نشو نما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پروین شیر کی تعلیم و تریبت اور اساتذہ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا اپنا گھر ہی کسی یونیورسٹی سے کم نہ تھا۔ جس میں ایک سے بڑھ کر ایک مختلف علوم و فنون کے استاد موجود تھے ۔جنھوں نے نہ صرف اردو ادب کی آبیاری کی بلکہ اس کو سمت و رفتار بھی بخشی ۔ایسی بڑی شخصیات کے درمیان پروین کا بچپن گزرا جس نے شعوری اور لاشعوری اعتبار سے ان کے ذہن کو متاثر کیا۔ بقول پروین شیر:
’’زندگی کے اس ننھے سے پودے کو گھنا شجر بنانے میں کئی شخصیات نے دھوپ،پانی، ہوا اور زرخیز مٹی کاکام کیا ۔عمر کا سب سے اہم حصہ اس کی شخصیت کی شکل بنانے یا بگاڑنے میں شروع کے چھ سال ہوتے ہیں ۔اس لحاظ سے میرے والد (سید فضل اللہ قادری) سب سے زیادہ اہم رہے ۔وہ ایک فلسفی اور عظیم دانشور تھے ۔ درد مند اور غریب پرور جاگیردار تھے۔ انسانیت کی باتیں کرتے اور زندگی کا مطلب سمجھاتے ۔ان کے کتب خانے میں ہزاروں فلسفے کی کتابیں تھیں جو اب خدا بخش لائبریری کی زینت ہیں ۔والد کی وفات کے بعد والدہ (شکیلہ قادری) ماں بھی تھیں اور باپ بھی ۔انھوں نے مضبوط کردار اور اعلیٰ قدروں سے روشناس کیا۔ان میں بھی ادبی ذوق اسقدر تھا کہ کئی اعلیٰ ادبی رسالے گھر میں آ تے تھے۔ بچپن سے ہی کتابوں میں گھری رہی ۔میری تعلیم اور میرے اندر خوابیدہ فنکار جگانے میں میرے بڑے بھائی ڈاکٹر سید شمس الضحیٰ (ادبی نام عارف عظیم آبادی Scientistشاعر و ادیب ) نے اہم کردار ادا کیا ۔ دوسرے بھائی ڈاکٹر سید نوالہدیٰ (اردو ادب کے گرویدہ اور کلاسیکی موسیقی کے دلدادہ ) نے میری شخصیت کی تعمیر میں بہت کاوشیں کیں ۔میرے خالو پروفیسر اختر اورینوی (معروف ادیب اور تنقید نگار) مجھ سے مختلف موضوعات پر مضامین لکھواتے ۔اردو میں بہترین رزلٹ لانے پر انعامات سے نوازتے۔ میرے نانا ڈاکٹر سید محمد محسن (بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر نفسیات اور ادیب) کی صحبت نے میرے ادبی ذوق کو فروغ دیا۔ بچپن ہی سے ان قد آور شخصیات کی دانشوری کے شجر نے مجھے سطحی دنیا سے بچائے رکھا ۔تخلیقی جذبات کو مہمیز کیا۔‘‘(انٹرویو ،ماہانہ چہارسو،راولپنڈی (پاکستان) 2011،ص:10-11)
متذکرہ طویل اقتباس کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ پروین شیر کے اساتذہ میں ان کے اپنے کنبے کا سب سے اہم رول رہا ہے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں پر ان کی ذہنی ،جذباتی اور اخلاقی ہر طرح کی تربیت ہوئی۔ یہیں سے پروین کے فکر و افکار کی تشکیل ہونی شروع ہوگئی تھی ۔زندگی اور اس کی حقیقتوں کو مختلف اور منفرد طور پر سوچنے اور سمجھنے کا سلیقہ اور فہم انھیں اپنے خاندان سے ہی حاصل ہوئی۔ پروین نے باقاعدہ اور باضابطہ طور پر کسی کی شاگردگی اختیار نہیں کی ۔ اپنی نوعمری کی تعلیم میں اپنے خاندان کے علاوہ کالج کے اساتذہ جس میں زیر تعلیم تھیں ،سے فیض حاصل کیا۔ اس کے بعد نا پختہ عمر میں شادی ہوگئی اور وہ وطن عزیز سے دور دیار غیر میں مستقل قیام پذیر ہوگئیں ۔ پروین کے مغرب کے قیام نے انھیں دونوں دنیائوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ مغربی تہذیب کے تجربے نے ایک عرفان و آگہی بخشی۔جس نے مشرقی روایات و شعور سے مل کر ان کے کینوس کے حدود کو وسعت عطا کی۔ پروین اعتدال اور میانہ روی پر یقین رکھتی تھیں ۔اس لیے مشرقی روایات اور پاسداری کے ساتھ ساتھ مغربی مفکرین سے بھی متاثر رہی ہیں ۔ان کا ماننا یہ ہے کہ سوچ و فکر ہی زندگی کی زندگی ہے۔ وہ زندگی کو لکیر کا فقیر نہیں بناتیںبلکہ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہیں ۔پروین جہاں اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ان کا کوئی مستقل استاد نہیں رہا ہے وہیں اس بات سے انکار بھی نہیں کرتی ہیں کہ چند معزز علمی ،ادبی اور سیاسی شخصیات سے ذہنی طور پر متاثر رہی ہیں۔ ایک جگہ لکھتی ہیں :
’’چند عظیم شخصیات نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑ اہے جن میں علی سردار جعفری،قمر رئیس، بے نظیربھٹو ،اندرا گاندھی ،اے ڈرکس(کنیڈا کے معروف مصور، ادیب اور فوٹوگرافر) اور یونان کے موسیقار Yaniکے نام اہم ہیں ۔علی سردار جعفری اور قمر رئیس کے فلسفے اور فن نے مجھ میں انجانی سرخوشی ،آگہی اور تطابق کا احساس پیدا کیا۔ بے نظیر بھٹو اور اندرا گاندھی جنھوں نے اپنے ملک کے لیے خود کو قربان کیا۔ایک لافانی مثال ہیں کہ عورتیں کیا کچھ نہیں کرسکتیں۔ ان کی صلاحیتوں نے مجھے بے حد متاثر کیا جو Enviableہیں ۔یونان کا مشہور موسیقا ر’ یانی‘( Yani)کی روح میں اتر جانے والی موسیقی خوابناک ہے ۔خاص کر جب انھوں نے اپنے ایک Pieceکی Composingکی کہانی سنائی ۔انھوں نے ایک چڑیا کو صبح صبح گاتے سنا اسی آواز میں انھوں نے ایک دھن تلاش کرلی ۔اے ڈرکس کنیڈا کے مشہور مصور ہونے کے ساتھ ساتھ ادیب، فوٹوگرافر اور معروف گیلری کے Curatorہیں ۔یہ اپنے فن کے ذریعہ غربت سے کچلے ہوئے لوگوں کی مدد کرتے ہیں ۔آرام و آسائش کی زندگی چھوڑ کر افریقہ جاکر وہاں کے غریب لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں ،اور ان کی زندگی جیتے ہیں ۔ان کے دکھ کو خود میں جذب کرکے تخلیق کرتے ہیں ۔ان کی اس عظمت نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا ۔‘‘ (انٹرویو،اطہر رضوی،ص:3)
اس اقتباس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پروین کی طبیعت میں جو درد مندی اور خدمت خلق کا جذبہ ہے وہ اول تو انھیں اپنے والد ین سے ملا تھا اور دوسرے ان تمام مغربی عظیم شخصیات کی صحبت سے حاصل ہوا۔ پروین نے بڑی بڑی شخصیات کو پڑھا اور ملاقاتیں بھی کیں ۔جس سے ان کے جذبے کو مزید تقویت حاصل ہوئی ۔ان بڑے لوگوں کی قربانیاں پروین کے دلوں و دماغ میں نقش کرگئیں ۔ دنیا کی بے رخی اور دورخی نے پروین کو سخت چوٹیں پہونچائیں ۔اہل علم ،اہل فن کے خدمت گاروں نے انھیں ایک نئی قوت و توانائی بخشی۔لہٰذا دبے کچلے ،مظلوم اور زندگی کی بنیادی آسائشوں سے محروم انسانوں کی خاموش صدائوں نے پروین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ پروین نے اپنے فن کے ذریعہ ان لوگوں کی ہرممکن مدد کرنے کی کوششیں کیں ۔ شاعروں ،ادیبوں اور مفکروں نے پروین کے تصورات و تخیلات کو وسعت فراہم کی۔ پروین شیر کا بچپن اور سسرالی زندگی دونوں خوش حالی میں گزری ۔اس کے باوجود ان کی فطری حساسیت نے ایک پل انھیں سکون نہ لینے دیا۔ انھوں نے جو اپنے ماحول سے لیا اسے اپنی شخصیت کے سود کے ساتھ واپس کیا ۔ ادب زندگی اور اپنے عصر کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ایک حساس شاعر یا ادیب حالات ِزمانہ اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے الگ نہیں رہ سکتا ہے۔ خوش گوار حالات اطمینان بخش ہوتے ہیں اور برے حالات غمزدہ کردیتے ہیں ۔دل ودماغ کو مجروح کردیتے ہیں ۔خوشی و غم کے انہی دونوں پہلوئوں کو شاعر و ادیب اپنے فن کے ذریعے عیاں کرتے ہیں ۔ پروین شیر حساس طبع بچپن سے رہی ہیں ۔اپنے معصومیت کے دور سے ہی وہ زندگی کی دورخی کو سمجھنے لگی تھیں اور اس کی تمیز انھیں کھٹکنے بھی لگی تھی ۔ جب اپنے پیروں تلے ہریالی اور اپنے ارد گرد ہم عمر بچوں کے قدموں کے نیچے تپتے ہوئے پتھر دیکھتیں ،ان کے جھلسے ہوئے تلوے دیکھ کر درد سے کراہ اٹھتیں ۔جب وہ اپنے ریشمی کپڑوں کے مقابلے میں پھٹے پیوند لگے کپڑے دیکھتیں تو دنیا کے دوہرے معیار سے نفرت اورچڑھ محسوس کرتیں، سڑک پر بھٹکتے اور بھیک مانگتے ہوئے لوگوں کے چہروں کی اداسی انھیں بھی اداس کردیتی۔ پروین اپنے گھر والوں سے چھپ چھپا کر اپنی کل جمع پونجی ان ناداروں کو دے کر طمانیت محسوس کرتی ہیں۔ زندگی کے اس تضاد نے ان کے دل میں گھر کرلیا ،اور اسی درد نے ایک فنکار کی بند آنکھیں کھول دیں ۔ پروین اپنے ناناکے تخلیق کردہ افسانہ ’’انوکھی مسکراہٹ‘‘ سے حد درجہ متاثر ہوئیں ۔یہ افسانہ ایک غریب گورکن کی بچی کی نفسیاتی کیفیات پر مبنی ہے۔ جب کسی کی موت ہوتی ہے تب اس بچی کو کھانا نصیب ہوتا ہے۔ گویا موت اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لاتی ہے۔ وہ اندر سے خوشی محسوس کرتی ہے۔ اس کہانی نے پروین کو دہلا دیا ۔ پروین کی شاعری میں انھیں دکھوں کا درد جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔
ہوا کی زد پہ جیسے شمع کی لو
میں اپنے حوصلوں کا امتحان ہوں

تخلیقی محرکات:
پروین شیر نے زندگی میں سب سے زیادہ اثر اپنی ماں سے قبول کیا۔ آج بھی والدہ کا جو احترام ان کے دل میں ہے ۔وہ آج کے دور میں لگ بھگ ناپید سا ہے۔ انھیں فنکار بنانے میں ان کی والدہ کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ بلاشبہ ان کی علمی ترقی اور خوشحالی میں ان کے والدین کی دعائوں کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ پروین کا بچپن علمی و ادبی ماحول میں گزرا ۔ بچپن سے ہی ان کے اندر تخلیقیت کا جذبہ جوش مارنے لگاتھا ۔پروین نے جس عمر میں اپنا تخلیقی سفر شروع کیا وہ عمر کے لحاظ سے حسن کی جستجو ،مسرت اور آسودگی کے حصول ،جمالیاتی کیف و سرمستی اور خیالی بہشت کی تخلیق کی عمر تھی ۔اور یہ عمر جو خیالوں ،خوابوں اور تمنائوں کی ہوتی ہے،جس میں فکر سے زیادہ جذباتی و فور اور زندگی کی ہنگامہ آرائیوں کا دخول ہوتا ہے۔لیکن پروین کی دنیا اس سے بالکل مختلف رہیں، بقول پروین شیر ۔
’’قدرت کے حسن اور زندگی کے تضاد نے بچپن ہی سے میرے اندر تخلیقات کا بیج بودیا تھا۔ حسین مناظر کو رنگین پینسل سے کاغذ میں قید کرلیتی ۔والدہ کے ادبی ذوق کی وجہ سے گھر میں ہر طرح کے ادبی اور نیم ادبی رسالے آتے تھے،جو میرے بہترین ساتھی تھے۔ میرا بچپن قدرت کے طلسمات میں کھو کر آسمانوں میں بھی اڑا اور زمین کے آنسوئوں میں بھی بہا۔‘‘(انٹرویو،پروفیسر غیاث الدین ،متحدہ ریاست امریکہ میں خواتین کے اردو خدمات کنیڈا،ص:11)
اس اقتباس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ پروین کو مناظر فطرت سے والہانہ شیفتگی اور گھریلو ادبی ماحول نے لکھنے پڑھنے پر مہمیز کیا۔ یہی وہ ابتدائی محرکات ہیں جن کی بنیاد پر عالی شان شعری عمارت مغرب میں جا کر تیارہوئی۔
مشاعروں میں پروین کو خاص تحریک ملی ،ان مشاعروں میں ہندوستان اور پاکستان کے بڑے بڑے شعراء حضرات سے نہ صرف ان کی ملاقاتیں ہوتی تھیں بلکہ ان ادباء و شعراء کا قیام و طعام بھی انھیں کی رہائش گاہ پر ہوتا تھا ۔ان شعراء و ادباء میں علی سردار جعفری، قمررئیس ،فیض احمد فیض ،احمد فراز ،پروین شاکر ،ا ،امجد اسلام امجد اور ڈاکٹر ستیہ پال آنند وغیر اہم نام ہیں ۔لہٰذا ان ادیبوں اور شاعروں کی صحبت اور حوصلہ افزائیوں نے پروین کے تخلیقی سفر کو مزید تقویت فراہم کی ۔ اس کے علاوہ مغربی مفکر اور عظیم دانشوروں کی تحریروں نے پروین کے ذہن کی آبیاری کی ۔ جس سے ان کے ذہنی دریچے روشن ہوئے۔ پروین کی شعری اور نثری دونوں تخلیقات کے کنیوس میں وسعت اور وقعت بڑھانے میں مغربی ادب کا خاصہ رول رہا ہے۔ پروین نے اردو زبان و ادب کے علاوہ انگریزی ادب کا بھی گہرا مطالعہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کی تخلیقی کائنات مزید مئو قر و موثر ہو گئی ۔ پروین لکھتی ہیں:
’’یہاں انگریزی کے ادیب جناب ڈاکٹر ٹوم ڈف اور ڈاکٹر گورڈن لو(Gordon Love)نے بھی میری حوصلہ افزائی کی اور سراہا۔مغرب کے قیام نے دونوں دنیائوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔ مغربی تہذیب کے تجربے نے ایک عرفان وآگہی عطا کی ۔ جس نے مشرقی روایات کے شعور و ادراک سے مل کر میرے کینوس میں وسعت پیدا کی۔تخلیقی آگ کو نئی روشنی ملی۔‘‘ (انٹرویو ،ماہانہ چہارسو،راولپنڈی (پاکستان) 2011،ص:11-12)
تخلیقی محرکات کے حوالے سے پروین آگے لکھتی ہیں کہ:
’’جہاں تک میرا تجربہ ہے کہ کبھی تخلیقیت کے لیے تخیل بنیاد بنتا ہے اور کبھی تخیل کے لیے کوئی تخلیق بنیاد بن جاتی ہے۔ کچھ طاقتور تخلیق ذہن کو دور اڑا لے جاتی ہے۔ اس تخلیق سے بھی پرے۔اس تخلیق سے پیدا شدہ فضا سے الگ ،تخیل کی نئی دنیا آباد کرکے ایک نئی تخلیق کا محرک بن جاتی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے انسان خود ایک ساز ہے۔جس کے تاروں کو تصورات کی انگلیاں چھیڑ دیا کرتی ہیں ۔‘‘ (انٹرویو ،معید رشیدی ،انڈیا،ص:2)
ابتدائی نقوش:
پروین شیر کی تخلیقی زندگی کا آغازبچپن سے ہی ہو گیا تھا ۔ لیکن ان کی تخلیقی کاوشیں کسی ایک خاص صنف میںنہیں تھیں بلکہ فنونِ لطیفہ کے تین شعبوں میں مشق جاری تھی ۔ادب اور شاعری سے رغبت نا سمجھی کے دور سے ہی ہو گئی تھی ،پھر جیسے جیسے ہوش سنبھلتا گیا ذوق بڑھتا گیا۔ گھر میں آنے والے تمام رسالوں کو پڑھنااور سمجھناشروع کردیا تھا۔ کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا آغا زبھی اسی زمانہ سے ہو گیا تھا۔ پروین نے12سال کی عمر میں پہلی نظم تخلیق کی تھی جو کہ تمام غلطیوں سے پرُ تھی جس کی وجہ سے انھیں گھر میں خوب چھیڑا بھی گیا۔ لیکن پروین نے ہمت نہیں ہاری ۔اپنی تخلیقی کاوشوں کو برابر سجاتی سنوارتی رہیں ۔ان کا یہ جذبہ قابل تحسین ہے کہ :
میری حیات کی بس ایک یہی ادا ٹھہری
کہ حوصلوں کی تمنا ہی انتہا ٹھہری
پروین کی پہلی نظم رسالہ’’شمع‘‘ دہلی 1980میں ’’غم گسار‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی ۔اس کے علاوہ پروین اپنے مصوری اور موسیقی کے شوق کو بھی جلا بخشتی رہیں ۔بہت کم عمری میں ہی انھیں پینٹنگ کے مقابلے میں پہلا انعام حاصل ہوا تھا۔ پروین اپنی پہلی نظم کی کامیابی کے سلسلے میں رقمطراز ہیں :
’’ میری پہلی نظم ستمبر 1980میں رسالہ ’’شمع‘‘ (دہلی) میں شائع ہوئی تھی ۔ان دنوں میں بیسویں صدی اور شمع پڑھا کرتی تھی ۔ کینڈاآکر یہاںبھی جاری کرالیا ۔کینڈا وہ بھی ونی ہیگ جہاں کوئی اردو باولنے والا نہ تھا۔ بغیر کسی اصلاح کے ایک نظم اشاعت کے لیے بھیج دی اور وہ کسی ردو بدل کے بغیر شائع ہوئی تو حیر ت انگیز خوشی اور خود اعتمادی محسوس ہوئی تھی۔ اور آگے بڑھنے کی ہمت کا احساس ہوا تھا۔ پہلا انعام جب حاصل ہوا تو زندگی کی کتاب کا نیا ورق الٹا۔ نئی لگن ،نئی امیدیں ،نئی قوتیں ،اعتماد کے ساتھ سامنے آئیں ۔تخلیقی قدم تیز گام ہوئے اسی امید کے ساتھ کہ ابھی تو سفر کی شروعات ہے۔‘‘(ڈاکٹر کیول دھیر ،ادیب انٹر نیشنل ،ساحر کلچر اکیڈمی (لدھیانہ بھارت) 2011،ص:117)
محولہ اقتباس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پروین کی پہلی کامیاب کوشش نے انھیں آگے بڑھنے کا حوصلہ بخشا ،اور تخلیقی سفر کو سمت و رفتار عطا کی۔ پھر تو یہ سلسلہ اس قدر آگے بڑھا کہ پروین کو یہ کہنا پڑا کہ:
عجب سلسلے ہیں جستجو ئے منزل کے
نہ ابتدا ہی کوئی ہے نہ انتہا ٹھہری
پروین کی پہلی نظم کی اشاعت کے بعد ان کا یہ تخلیقی سفر آجکل ،صریر ،اقدار، نیا سفر، ذہن جدید،روشنائی ،کتاب نما، مباحثہ ،مون تاج ،سب رس، شعر و حکمت ،ارتکاز ،آئندہ ،ایوان اردو، نئی صدی ،نیاورق ،چہار سو، انتساب ،تمثیل نو، جدید ادب ،کاروان ادب، تحریر نو اور خلیق جیسے ادبی رسالوں میںبرابر گردش کرتا رہا۔ انکی غزلیں اور نظمیں ان رسائل و جرائد میںمتواتر چھپتی رہیں ۔ شاعری کے علاوہ پروین نے افسانے بھی لکھے ہیں لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں ۔ شعری ذوق کے علاوہ پروین مصوری اور موسیقی کے شوق کو بھی برابر نبھاتی رہیں،اور ایک سے بڑھکر ایک پینٹنگز بنا کر مصوری کے میدان میں بھی خاص مقام بنایا ۔پروین نے مقالے اور مضامین بھی خوب لکھے ہیں ۔پروین کی شادی (Ten age)ٹین ایج میں ہی ہوگئی تھی اور کم عمری میں ہی ماں بھی بن گئی تھیں ، اسکے باوجود تمام امور خانہ داری کو سنبھالتے ہوئے انھوں نے اپنے تین تین فنون کے تقاضے بھی پوری ذمہ داریوں کے ساتھ نبھائے اور ہر میدان میں خوب نام کمایا۔ اس سلسلے میں صفیہ صدیقی اپنے مضمون ’’پروین شیر کی شیریں بیانی ‘‘ میں لکھتی ہیں کہ:
’’ پروین ایک ایسی خاتون ہیں جو کم عمری میں ہی ماں بنیں ۔اور پھر بچوں کی پرورش اور خانہ داری کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارا، سنوارا اور پروان چڑھایا۔ شاعری میں کمال حاصل کیا۔مصوری سیکھی اور اس میں بھی اعلیٰ مقام حاصل کیا اور پھر موسیقی میں ستار بجانا سیکھا اور اس میں بھی عبور حاصل کیا، انھوں نے تین بچوں کی بہترین پرورش کی ،اور تین فنون میں پرفیکشن کی ایسی قابلیت حاصل کی کہ وہ آج نہ صرف کنیڈا ،امریکہ بلکہ یوروپین ممالک اور برصغیر ہندو پاک میں بھی جانی جاتی ہیں ۔یہ یقینا کسی عام خاتون کی ہمت کاکام نہیں مگر پروین عام خاتون نہیں ہیں ۔‘‘ (صفیہ صدیقی ،پروین شیر کی شیریں بیانی (مضمون)،لندن ،ص:1)
ناپختہ عمر میں ہی وہ اپنی زبان اور تہذیب سے دور ہوگئیں ۔لیکن اس دوری کے کرب نے انھیں مزید قریب کردیا کیونکہ انھوں نے ونی پیگ کے چند باذوق لوگوں کے ساتھ مل کر ایک اردو کی انجمن بنائی ۔حالانکہ یہ زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکی۔ کیونکہ اس انجمن کو سیاست اور انانیت کی نظر لگ گئی ۔ لیکن جب تک اس کا قیام رہا انٹر نیشنل مشاعرے اس کے ذریعے ہوتے رہے۔ ان مشاعروں کی وجہ سے پروین کی ملاقات ہندوستان اور پاکستان کے علاوہ کئی دوسرے ممالک کے بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں سے ہوتی رہی اور یہیں سے پروین کی شاعری کی روح کو غذا فراہم ہوئی۔ دراصل پروین کی شعری تخلیقات کا محرک اور سبب بننے میں زیادہ تر ان مشاعروں کا ہی ہاتھ رہا ہے ۔جس کے ذریعہ انھیں ادبی شخصیات اور شاعروں کو سننے ،دیکھنے اور سیکھنے کے خوب مواقع حاصل ہوئے۔ اور ان کی ہمت افزائی نے باقاعدہ شعر گوئی کی طرف توجہ دلائی۔
تخلیقی سفر مرحلہ بہ مرحلہ
انسان کی شخصیت سازی میں اس کا ذہنی میلان اور گھریلو ماحول کے علاوہ معاشرہ اہم رول ادا کرتا ہے۔ فکر کی تشکیل و تعمیر اور اس کی نشو ونما میں سماجی و سیاسی حالات کا بھی بہت دخل ہوتا ہے۔ انسان جس ماحول میں پیدا ہوتا ہے ،پلتا ،بڑھتا اور پروان چڑھتا ہے۔ اس کے دلوو دماغ اور فکری سمت و رفتار کی راہیں اسی ماحول میں متعین ہوتی ہیں ۔دوسرے اہم بات اس وراثت کی بھی ہوتی ہے جو اس کو اپنے والدین اور خاندان سے ملتی ہے۔ اس طر ح سے کسی بھی انسان کی ذہنی تعمیر میں وراثت اور معاشرتی ماحول سبھی کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اب جہاں تک پروین شیر کے تخلیقی سفر کی بات ہے تو ان کے تخلیقی عمل کی تعمیر و تشکیل میں خود ان کے گھریلو ماحول اور خاندان کا بڑا ہاتھ رہا ہے۔ پروین شیر نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں وہ بہت ہی معزز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانا تھااور جس ماحول میں تعلیم و تربیت ہوئی وہ بھی علمی ،ادبی اور ایک حد تک دینی ماحول تھا۔ پروین کے والدین جو یائے علم و ادب تھے ۔اس کے علاوہ ان کے خاندان میں شعراء و ادباء کی کمی نہیں تھی ۔ پروین کے نانا، خالو،خالہ ،ماموں ،چچا اور بھائی سبھی اپنے اپنے میدان کے استاد کامل تھے۔ ان سے ملنے جلنے والے لوگ بھی اس زمانے کے بلند پائے ادیب و فنکار تھے۔ ہر وقت گھر میں ادبی جمگھٹا اور شعر و شاعری کا ماحول رہتا تھا۔ لہٰذاپروین کے دلودماغ کا اس طرف راغب ہونا فطری عمل تھا۔ اور کیوں نہ ہوتا،جس گھر میں بچہ پیدا ہوتے ہی کتابوں کے انبار دیکھے تو وہاں کے ہر فرد کا ادب سے فطری لگائو اور دلچسپی کا ہونا طے ہے۔ یہ بات بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ جس گھر کا ماحول تعلیمی ہوتا ہے وہاں کے انسان تو انسان حیوان بھی پڑھے لکھے اور سمجھدار ہوتے ہیں ۔پروین بچپن سے ہی بہت حساس طبع واقع ہوئی ہیں ۔ انھیں زبان و ادب سے لگائو ہونے ساتھ ساتھ فطرت سے بھی بہت لگائو تھا ۔قدرت کے حسین نظارے ان کے حواس پر ہر وقت غالب رہتے تھے۔وہ ایک جگہ لکھتی ہیں :
’’پانچ سال کی عمر میں قدر تی مناظر میں جذب ہو کر خود کو بھول جانے کی عجیب کیفیت میں مبتلا رہتی ،گھر کی چھت پر شام کے وقت شفق کے حسین رنگوں ،کھجور کے درختوں کی Silhoutteاپنے بسیروں کی طرف اڑتے پرندوں کی قطاریں ،دیکھ کر اس منظر کو پکڑ کر محفوظ کر لینے کی شدید خواہش سر اٹھاتی ۔ایک عجیب احساس دور افق پر رنگوں اور درختوں کے ہیولوں کو دیکھ کر ہوتا کہ شاید وہاں کوئی دوسرا جہاں آباد ہے۔جہاں صرف خوشیاں ہیں جو خوابناک ہیں ۔وہاں جانے کی خواہش ہوتی ،چڑیوں کی چہچہاہٹ ،گھر کے سامنے نیم کے پتوں کی سر سراہٹ کی موسیقی رگ وہ پے میں سماجاتی ۔رفتہ رفتہ نو سال کی عمر میں چپکے سے تخلیق کی بانہوں نے مجھے اپنے آپ میں سمیٹ لیا۔ پنیسل نے لکیریں کھینچیں تو وہ مکالمہ کرنے لگیں ۔قلم سے الفاظ نکل کر آہنگ میں سجنے لگے ۔سازBanjoکو پہلی بار ہاتھوں میں لیا تو نغمے ابل پڑے ۔کبھی سُر میں کبھی سُر کے باہر۔ اس عمر سے ہی تخلیقیت کا سفر شروع ہوا‘‘۔ (انٹرویو،اطہر رضوی،ص:2)
پروین نے بچپن سے ہی لکھنا پڑھنا شروع کردیا تھا اور اس پڑھنے پڑھانے کی تحریک نے ان کے اندر ایک جوش و ولولہ پیدا کیا۔ یہ ہمت بندھی کہ میں بھی کچھ کر سکتی ہوں ۔پروین گیارہ سال کی عمر سے ہی ’’شمع‘‘ اور ’’بیسویں صدی ‘‘ کی کہانیوں کو پڑھا کرتی تھیں ۔ان کہانی کا روں میں رام لعل ،فکر تونسوی اور ستیہ پال آنند وغیرہ تھے ،جن سے پروین بچپن سے ہی متاثر تھیں ۔اس کے علاوہ شاعری میں غالبؔ، ساحرؔاور فیضؔ ان کے پسندیدہ شعراء رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں پروین رقمطراز ہیں ـ:
’’گیارہ سال کی عمر سے ہی کہا نیاں پڑھنا محبوب شغلہ رہا ۔ اس وقت نیم ادبی رسالے پڑھا کرتی تھی ۔ جن میں رام لعل ،فکر تونسوی اور ستیہ پال آنند کی کہانیاں شوق سے پڑھتی ۔وقت کے ساتھ ساتھ غالب ،ساحر لدھیانوی اور فیض نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ رابرٹ فراسٹ ،ورڈس ورتھ (Words worth) Keats،Shakespear،Emely Bronteاور خاص کر کرشن چند ر کی تخلیقات نے مجھ پر گہرا اثر چھوڑا ۔‘‘ (انٹرویو،اطہر رضوی،ص:2)
پروین کا پہلا شعری مجموعہ ’’کرچیاں‘‘ 2005میں کراچی پاکستان سے شائع ہوا۔ اس کا دوسرا ایڈیشن دہلی (انڈیا) سے 2008میں شائع ہوا۔ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ’’نہال دل پر سحاب جیسے‘‘2010میں مکتبہ شعرو حکمت حیدر آباد (انڈیا) کے ذریعے منظر عام پر آیا۔ یہ دونوں مجموعے غزلوں ،نظموں کے ساتھ ساتھ مصوّر بھی ہیں ۔ ان مجموعوں میں انگریزی تراجم بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے ترجمے ہندی زبان میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔ پروین کا ایک تیسرا مجموعہ بھی آیا ہے جس کا عنوان انھوں نے ’’چہرۂ گل دھواں دھواں سا ہے‘‘ رکھا ہے۔ اس مجموعے میں انھوں نے اپنی چنندہ نظموں اور غزلوں کا انتخاب کیا ہے۔ اس مجموعہ کی اشاعت مکتبہ جامعہ لیمٹیڈ ،جامعہ نگر (دہلی) کے ذریعے ہوئی ہے۔ پروین کا یہ سفر یہیں تک نہیں ٹھہرتا بلکہ ان کا حال ہی میں ایک سفر نامہ ’’چند سیپیا ںسمندروں سے‘‘ آل انڈیا اردو منچ (بنگلور) کے ذریعہ 2014میں شائع ہوا ہے۔ یہ سفر نامہ نہایت ہی وقیع وو سیع ہے۔
پروین شیر کا یہ سفر نامہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں دو اہم براعظموں کے تقریباً جنوبی خطوں کے سفر کی داستان بیان کی گئی ہے۔ اردو ادب میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا سفر نامہ ہے جس میں پروین نے جنوبی افریقہ اور جنوبی امریکہ کے خطوں کی تاریخ اور قدیم تہذیب و تمدن میں جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ پروین کی یہ کاوش لطف انگیز ہی نہیں فکر انگیز بھی ہے۔ پروین نے دنیا کی سیر برائے سیاحت نہیں کہ بلکہ دنیا کی دورخی کے ساتھ ساتھ انسانی بے حسی اور مصنوعی چہروں کے اندر جھانکنے کی کوشش کی ہے۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اور ان کے معاملات پر غور و فکر کیا ہے۔ پروین شیر کا تخلیقی سفر شاعری ،مصوری اور موسیقی تینوں میں برابر جاری و ساری ہے۔ پروین شاعری کے ساتھ ساتھ فطرت کی خوبصورتی اور زندگی کی بدصورتی کو قلم اور موئے قلم سے لفظوں اور رنگوں کے پیکر میں ڈھالتی ہیں اور موسیقی سے اس درد کو نغمے میں پرو کر عیاں کرتی ہیں ۔انھیں موسیقی سے بھی گہرا لگائو ہے۔ کئی سازوں پر مہارت حاصل کرلی ہے۔ پروین اپنے موسیقی کے شوق اور جذبے کے حوالے سے لکھتی ہیں :
’’جب سے ہوش سنبھالا موسیقی سے جنون کی حد تک عشق رہا۔ بچپن میں پورے چاند کی رات چھت پر جاکر بینجو کے تاروں کو چھیڑتی اور سحر زدہ ہوجاتی۔ ستار ہمیشہ محبوب ساز رہا ہے۔لیکن والدہ نے اس کی اجازت ہی نہ دی۔ قسمت سے رفیق حیات ایسے ملے جو نہایت ہی وسیع النظر ہیں ۔اس لیے کنیڈا ونی پیگ کے میوزک اسکول آرگن (پیانوں کی شکل کا ساز) کی تربیت لی اور اس میں بھی کچھ صلاحیت پیدا کرلی۔ اس کے علاوہ آکو رڈین پر بھی کچھ دسترس ہے۔ ان تینوں پر کلاسیکل سُر میں ایک CD Fusionتیار کی ہے۔جسے یہاں مقامی لوگوں نے پسند کیا ہے۔‘‘ (انٹرویو ،ماہانہ چہارسو،راولپنڈی (پاکستان) 2011،ص:15)
مشاغل
جو پڑھنے لکھنے کا شوق رکھتا ہے وہی ادب کی صحیح معنوں میں خدمت کرسکتا ہے۔شوق و ذوق گھریلو ماحول یا پھر جس ماحول میں پرورش ہوتی ہے اس کے اثر سے پیدا ہوتا ہے۔ پروین شیر پٹنہ میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے گھر کا ماحول ادبی اور مذہبی تھا۔ پروین کے والدین ادب پارے کے شوقین تھے۔گھر میں لائبریری بھی تھی ان کے سبھی بھائی نہ صرف پڑھے لکھے تھے بلکہ اپنے اپنے میدان کے شہسوار بھی تھے۔ پروین بھی ذہین ترین طالب علم رہی ہیں۔ پروین بچپن سے ہی سنجیدہ طبیعت کی مالک تھیں ۔وہ کھیل کھیل میں بھی چیزوں سے سبق حاصل کرکے اسے برتنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں۔ پروین کی ابتدائی تعلیم پٹنہ میں گرلس کالج سے ہوئی اور اعلیٰ تعلیم کنیڈا میں حاصل کی۔ پروین شیر بہت ہی حساس شاعرہ ،باکمال مصورہ ہونے کے ساتھ ساتھ اضافی صورت میں موسیقارہ بھی ہیں۔ اپنے چھوٹے سے چھوٹے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا انھیں ہنر آتا ہے۔قدرت کے نگار خانہ اور اس کے مشاہدات وہ قلم اور موئے قلم سے افشاں کرتی ہیں ۔جس میں حیرانگی ، استعجاب،آنسو،مسکراہٹ ،سوالات اور سوچ و فکر کے رنگ ہوتے ہیں ۔پروین نے اپنی زندگی کے تمام کھٹے میٹھے تجربات و مشاہدات کو بہت ہی سلیقہ مندی کے ساتھ اپنی تخلیقات میں پرویا ہے۔ جس سے ان کی فنکارانہ صلاحتیں نمایاں ہوگئی ہیں ۔
وہ اپنی ذاتی زندگی کی طرح سے اپنی ادبی اور تخلیقی کائنات میں بھی آئینے کی طرح بالکل صاف و شفاف اور واضح ہیں ۔ان کے ظاہر و باطن کا یہی عکس صرف شاعری ہی نہیں بلکہ نثری تخلیقات میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ شاعری کے حوالے سے پروین لکھتی ہیں کہ:
’’ میرا خیال ہے کہ شاعری صرف لطف انگیزہی نہیں فکر انگیز بھی ہو۔ زندگی کے صرف ایک ہی نہیں مختلف چہرے ہیں ۔جو فنونِ لطیفہ کے کارناموں کا حصہ ہیں ۔فنی تخلیق میں زندگی کا ہر پہلو ہو۔شاعری میں صرف وقتی لطف نہ ہو۔تصورات کے ریشم سے بھی اس کی قصیدہ کاری ہو۔اور حقیقت کے سوت سے بھی ۔دیوانگی بھی ہو فرزانگی بھی ۔شاعری کا مقصد محض تخلیقیت تک محدود نہ ہو۔بلکہ زندگی کی الجھی ہوئی ڈور کا سرا تلاش کرنا بھی ہو۔‘‘ (انٹرویو ،معید رشیدی ،انڈیا،ص:3)
پروین شیر ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں ۔اور یہ ہمہ جہتی ان کی تخلیقات سے صاف نمایاں ہیں ۔وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پروفیشنل مصورخاتون ہیں ۔کنیڈا میں ایک لمبے عرصے تک فلم کلاسی فکیشن ،گورنمنٹ آف مے نی ٹوبا (کنیڈا) میں ملازم پیشہ رہی ہیں ۔ انھوں نے امور خانہ داری کو سنبھالتے ہوئے اپنے ادبی و تخلیقی ذوق و شوق کو بھی پروان چڑھایا ہے۔ پروین نے اپنے تمام کاموں میں اعتدال اور توازن اس حد تک برقرار رکھا ہے کہ انکے علوم و فنون ایک دوسرے سے متاثر ہو کر مجروح نہیں ہوئے بلکہ ایک دوسرے کو تقویت اور توانائی بخشتے رہے ہیں۔ پروین نے کہانیاں پڑھنا اور لکھنا تو بہت پہلے سے ہی شروع کر دیا تھا لیکن ان کا پہلا عشق افسانے نہیں بلکہ موسیقی اور ستار تھا۔ سات برس کی عمر میں ہی موسیقی سے رغبت ہوگئی تھی اور ایسا ہی کچھ حال مصوری کا بھی تھا۔ شعرو شاعری اور افسانہ نگاری کی تخلیقیت کا مرحلہ بعد میں شروع ہوا۔ تمام علوم و فنون کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جنھیں پورا کرکے پختگی لانے میں وقت اور عرصہ درکار ہوتا ہے۔پندرہ سال کی عمر میں پروین نے اسکول کے پینٹنگ مقابلے میں حصہ لے کر انعام حاصل کیا تھا۔ ان کی اس پہلی کامیاب کوشش میں کسی استاد کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ پھر اس شوق کی تکمیلیت شادی کے بعد کنیڈا میں ہوئی جب انھوں نے باقاعدہ ان فنون کی تعلیم حاصل کی۔ پروین نے کنیڈین میوزک اسکول سے ستار اور آرگن کا بالخصوص درس لیا۔ چونکہ موسیقی پروین کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھی اور ہندوستان میں انھیں یہ موقع نہیں مل سکا کہ اس فن کو باکمال تک پہونچا پاتیں ۔ پروین کی والدہ انھیں میوزک سکھانے کے حق میں نہیں تھیںجس کا اعتراف پروین نے خود کیا ہے :
’’ میرے خالو (اختراورینوی) نے مجھ سے اردو میں بہترین رزلٹ لانے پر انعام دینے کا وعدہ کیا۔ جب میں ساتویں کلاس میں تھی۔ اور ایسا ہونے پر انھوں نے میرے شوق کے لحاظ سے Banjoانعام میں دیا۔ میری زندگی نغمہ بن گئی کیونکہ والدہ نے موسیقی سیکھنے نہیں دیا تھا۔ اور اس دن ایک ساز میرے ہاتھ میں تھا۔ میرا اپنا ،جب میں اس پر سُر چھیڑتی تو سب حیرت انگیز مسرت کے ساتھ سنتے اور میں کسی اور دنیا میں پہنچ جاتی ۔‘‘(انٹرویو،اطہر رضوی،ص:6)
پروین شیر کا دوسرا عشق مصوری اور شاعری تھا۔ اس کا بھی برابر حق ادا کرتی رہیں ۔کبھی کوئی جذبہ انھیں شاعری کی جانب لے جاتا تو کبھی افسانے کے لیے اکساتا،کبھی رنگ اور لکیریں اپنی طرح کھینچتیں ،تو کبھی بینجو اور ستار اپنی طرف توجہ دلاتے۔ یہ تمام جذبے ان کی تنہائیوں پر غالب رہتے ۔ان کے دل کی بیچینی ان تمام رنگوں اور لفظوں کو اپنے حصار میں لے کر جنوں کی مالا پرونے لگتی ،اور اسی سے ان کی بے قراری کو قرار ملتا۔ پروین کی یہ تمام جنوں کی حدیں اس وقت آشکار ہوئیں جب ان کے شعری مجموعے منظر عام پر آئے۔ ان کے اب تک تین شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔’’کرچیاں‘‘، ’’نہال دل پر سحاب جیسے‘‘،اور ’’چہرۂ گل دھواں دھواں ساہے‘‘ اولذکر دونوں مجموعے کافی ٹیبل سائز میں ہیں ۔ان مجموعوں میں شامل لگ بھگ سبھی نظمیوںکی مصوّری بھی کی گئی ہے۔اور اضافی صورت یہ ہے کہ اس میں انگریزی تراجم بھی سبھی نظموں کے شامل ہیں ۔تیسرا مجموعہ ان کی نظموں اور غزلوں کے انتخاب پر مشتمل ہے۔ان شعری مجموعوں کے علاوہ ایک سفر نامہ ’’چند سیپیاں سمندروں سے‘‘ بھی شائع ہوچکا ہے۔ مصوری کے میدان میں بھی پروین نے خوب نام کمایا ہے۔ ان کی پینٹنگز کی تمام ملکوں میں نمائش ہوچکی ہیں۔ ان کی پینٹنگس کی نمائش انڈیا، کنیڈا، امریکہ ،فرانس، انگلینڈ،جرمنی اور چین وغیرہ ملکوں میں ہوچکی ہے۔تاحال پروین (600)پینٹنگس بنا چکی ہیں ۔ ان کی اس فنکاری کا استعمال کنیڈا کی مشہور و معروف شاعرہ اور ناول نگار مارگریٹ ایٹوڈ (Margaret Atwood)کی سوانح پر بننے والی فلم (ایٹوڈ اسٹوری) میں بھی کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں انکی پینٹنگس کنیڈا کے مختلف صوبوں میں بالخصوص کیلگری اور مے نی ٹوبا میں دو سو برسوں تک کے لیے سوسائٹی آ ف آرٹس میں بھی چنی گئی ہیں ۔ پروین شیر کی مصوری پر کنیڈین ٹی وی ،ریڈیو،اخبارات اور مجلات میں مختلف ماہرین فن اور صحافیوں نے تبصرہ بھی کیے ہیں ۔ہندوستان اور پاکستان سے شائع ہونے والے کئی رسائل و جرائد کے سرو رق میں ان کی مصوری زینت بن چکی ہے۔ جن میں شعرو حکمت ،ادب ساز، مون تاج، جدید ادب اور اسباق وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ سلطان جمیل نسیم ،ستیہ پال آنند ،اطہر رضوی اور افتخار اجمل شاہین کی کتابوں کے سرورق بھی انھوں نے بنائے ہیں ۔پروین نے مختلف تہذیبی اور ثقافتی اداروں اور آرٹس کی انجمنوں و کانفرنسوں میں مصوری پر خصوص لیکچز بھی دیئے ہیں ۔اردو شعر و ادب کے تحت کنیڈا،امریکہ ،دوبئی ،انگلینڈ ،ہندوستان اور پاکستان کے ٹی وی اور اخبارات وغیرہ میں ان کے انٹرویوز ہوئے ہیں ۔ یہ انٹر ویو اشفاق حسین ،ڈاکٹر خالد سہیل ،تسلیم الہی زلفی ،اطہر رضوی ،گلزار جاوید ،ڈاکٹر عبدالقادر ،غیاث الدین فاروقی اور معید رشیدی وغیرہ نے لیے ہیں ۔ پروین شیر کے دونوں شعری مجموعوں کو کنیڈا کی مختلف یونیورسٹیز ،اسکولوں ،کالجوں ،لائبریریز اور آرٹ گیلریز کے علاوہ ہائیڈل برگ یونیورسٹی (جرمنی)اور برٹس لائبریری میں بھی رکھاگیا ہے۔ پروین کے پہلے مجموعے ’’کرچیاں‘‘ کی رونمائی کے جلسے امریکہ، کنیڈا ،انگلینڈ ،جرمنی میں کرسٹینا ،ویسٹر بلڈ اور دوبئی میں اردو منزل کے بعد ہندوستان میں جامعہ ملیہ ،غالب اکیڈمی، الہ آباد اور علی گڑھ وغیرہ میں منعقد ہوئے ہیں۔
پروین کی موسیقی کے حوالے سے اگر بات کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس میدان میں بھی وہ پیچھے نہیں ہیں ۔کنیڈین نیشنل ریڈیو پر ان کے ستار کی دھنیں نشر ہو چکی ہیں ۔انہوں نے اپنے ستار اور آرگن کی ایک فیوژن CDاور اپنی شاعری اور ستار کی ایک فیوژن CDدونوں کو پروڈیوس کیا ہے ۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر عبیدالرحمن ہاشمی نے ان کی شاعری کی ایک CDدہلی کے مشہور گلوکار استاد ضمیر احمد اور گلوکار ہ ایشو شرما کی آواز وں سے سجا کر تیا رکروائی ہے۔اس CDکے تعارفی کلمات پروفیسر قمررئیس نے پیش کیے تھے۔ پروین شیر کی متنوع زندگی کا ایک تجربہ بالی وڈ کی فلم میں آرٹ ڈائریکشن کا بھی ہوا ہے۔ مشہور فلم ڈائریکٹر رشی کیش مکھرجی کے ساتھ فلم ’’ناممکن ‘‘1981میں بطور آر ٹ ڈائریکٹر انھوں نے کام کیا تھا۔ اس فلم میں زینت امان، راج ببر اور ونود مہرہ جیسے مشہور و معروف فلمی ستارے انکے ساتھ کام کر رہے تھے ۔ ساتھ ہی پروین شیر کے بڑے بیٹے شیراز (جو اب نیویارک میں امریکن ایکسپریس بینک میں اعلیٰ عہدے پر فائض ہیں ) نے بھی بطور چائلڈ آرٹس کا م کیا تھا۔ ان کا یہ رول بھی بہت اہم تھا۔ شیراز نے فلم میں زینت امان کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت شیراز کی عمر نو سال کی تھی ۔ اس فلم کی بیشتر شوٹنگ پروین شیر کی رہائش گاہ پر ہی ہوئی تھی ۔ پروین اس فلم کے حوالے سے لکھتی ہیں :
’’فلم بنانے کا خیال میرے ایک دوست کو آیا اور ہم لوگوں کے ساتھ مل کر انھوں نے ایک فیچر فلم بنائی ۔جس کے ڈائریکٹر ہندوستان کے مشہور و معروف رشی کیش مکھرجی تھے۔ اس فلم کا نام ناممکن تھا جس میں مشہور فلمی ستارے زینت امان ،راج ببر ،ونود مہرہ کے ساتھ میرے بیٹے شیراز کا خاص Rollتھا۔ اس کے گانے لتا منگیشکر اور کشور کمار کی آواز میں تھے۔ بیشتر شوٹنگ میرے گھر پر ہوئی تھی ۔میرا گھر جیسے فلم اسٹوڈیو بن گیا تھا۔ دل چسپ تجربہ تھا۔گھر کے اطراف پولیس کا پہرہ جرنلسٹ اور اخبار والوں کا تانتا رہتا تھا ۔آرٹ ڈائریکشن میرے ذمہ تھا۔ کہیں کہیں ڈائیلاگ میں بھی مشورے دیتی تھی ۔سچ تو یہ ہے کہ جب ہم ٹیلی ویژن پر ڈرامے یا فلم دیکھنے جاتے ہیں تو وہ زندگی کی طرح سچے محسوس ہوتے ہیں لیکن ان کی Filmingدیکھتے ہیں تو وہ بے حد اکتا دینے والے جھوٹے لمحات ہوتے ہیں ۔ اس فلم میکنگ کا ایک تجربہ یاد گار ہے ۔جب میرے بیٹے شیراز کو پہلی بار مجھ سے الگ ہونا پڑا تھا ۔شوٹنگ کے سلسلے میں اسے ٹورنٹو(نیا گرافالس) جانا پڑا ۔ایک سین میں Villainنے اسے رسّی سے باندھ کر اس کے سر پر بندوق رکھی تو میرے نو سال کے معصوم بچے نے خوفزدہ ہو کر مجھ کو فون کیا اور کہا’’میں تمہیں بہت Missکررہا ہوں ۔‘‘یہ سن کر میں روپڑی تھی اور پھر فوراً اس کے رول کو جلد ختم کروا کر اسے واپس بلالیا تھا۔‘‘(پروین شیر :عہد ناتمام کی شاعرہ،عتیق اللہ ،مکتبہ شعرو حکمت حیدرآباد (اے پی) 2011ص:344-345)
فلاحی خدمات
پروین شیر نہایت ہی درد مند دل رکھتی ہیں ۔خدمت خلق کا جذبہ ان میں بھر پور پایا جاتا ہے۔ یہ جذبہ انھیں ورثہ میں ملا تھا جس کو انھوں نے ہر حال میں اور ہر جگہ پر اپنی ذات سے جوڑے رکھا ۔غریب پروری کے اس جذبے کو مزیدتقویت اس وقت ملی جب پروین نے مغرب کے ان خداترس فنکاروں کو پڑھا جنھوں نے اپنی آرام و آسائش کی زندگی قربان کرکے سماج کے دبے کچلے وقت کے ستائے ہوئے لوگوں کے ساتھ رہ کر ان کے درد کو محسوس کرنا پسند کیا۔ اور ساری زندگی ان کے دکھوں کا اپنے فن سے مداوا کرتے رہے۔پروین نے بھی یہی راستہ چنا ۔وہ بھی اپنے فن کے ذریعے غریبوں ،معذوروں اور ضرورت مندوں کی مددکر تی ہیں ۔پروین نے اپنی شاعری اور ستار کی CDاور کتاب کی آمدنی عراق اور پاکستان کی زلزلہ زدگان کو عطیہ کردی۔ اس کے علاوہ ہندوستا ن کے غریب بچوں کے لیے (سرسید اسکول) کے ایک استاد کا پورا ذمہ اپنے سر لے رکھا ہے۔علاوہ ازیں پروین ہر سال کنیڈین اسکول آف بلائنڈ کے لیے پینٹنگز کی نیشنل آکشن کے ذریعے امداد کرتی ہیں ۔نیز کنیڈا کے معذور بچوں اور معذور لوگوں کے ادارے میں اپنی پینٹنگز کی نیلامی سے تعاون فراہم کرتی ہیں ۔ یہ نیک جذبہ ان کی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ اپنے بچوں کی توجہ بھی اس جانب دلاتی رہتی ہیں ۔
اگر یہ کہا جائے کہ پروین شیر نے اپنی تخلیقات کے ذریعہ ضرورت مندوں کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل ہونے کا موقع فراہم کیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ ا نھوں نے اپنی تخلیقی کائنات کا کل اثاثہ راہ خدا میں خرچ کیا ہے۔ان کے مختلف علوم و فنون خیراتی کاموں کے لیے بیحد سود مند ثابت ہوئے۔ سال 2000ء میں ان کی پینٹنگز بچوں کے بحالی مرکز کے لیے نیلام ہوئیں ۔سال 2005ء میں شاعری اور مصوری پر مبنی مجموعہ کی فروخت کا منافع پندرہ سو ڈالر عراقی بچوں کے لیے (UNICEF)کو عطیہ کیا۔ پروین بطور ایک فنکارہ اپنی شاعری ،مصوری اور موسیقی کے تمام تجربات خواتین میں شیئر کرتی رہی ہیں ۔وہ مذکورہ فنون میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ پروین ان خواتین کے لیے مثالی صورت رکھتی ہیں جو صرف گھر کی چہار دیواری میں رہ کر روز مرہ کی گھریلو مصروفیات میں اپنی تمام ترقیوں کو دائوں پر لگا دیتی ہیں ۔پروین نے اپنی صلاحیتوں سے یہ بات ظاہر کردی کہ عورت بیوی اور ماں بن کر بھی اپنی آرزئوں اور تمنائوں کی تکمیل کرسکتی ہے۔ ضرورت ہے تو صرف اس بات کی کہ ان میں محنت ،لگن اور حوصلہ ہو کیوں کہ یہی وہ بنیادیں جس پر کسی بھی تعمیری ارادے کی تکمیل ہوتی ہے۔ پروین ان عورتوں کی رہنمائی میں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں جو آرٹ میں کیرئر بنانا چاہتی ہیں۔
اعزازات و انعامات
پروین شیر اپنی تخلیقی اور فلاحی خدمات کے لیے مختلف اعزازات سے نوازی جا چکی ہیں ۔جن میں ’’کرچیاں‘‘ کے پہلے ایڈیشن کو دنیائے شعر و ادب ،برطانیہ نے پلیک سے سرفراز کیا۔ اور ’’کرچیاں‘‘ کے ہی دوسرے ایڈیشن کو ادبی کلچر بنارس(انڈیا) کا ایوارڈ ملا۔ پروین کے دوسرے شعری مجموعے ’’نہال دل پر سحاب جیسے‘‘ کو احمد ایاراردو مرکز انٹرنیشنل (لاس انجلس) نے ایک پلیک (سکہ) اور پانچ ہزار ڈالر نقد عطا کیے۔ شاعری کے علاوہ مصوری میں آٹھ(8)ایوارڈ انھوں نے حاصل کیے۔ پروین فلاحی خدمات کے لیے یونیسیف(UNICEF)ایوارڈ سے نوازی جاچکی ہیں۔نیز انھیں کنیڈا میں آرٹ ،کلچر اور ثقافتی خدمات کے عوض ’’وُمن آف ڈسٹنکشن‘‘ میں نام زد کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز بڑی خصوصیت کا حامل اس لیے ہے کہ کنیڈا میں 30برسوں میں پہلی بار کسی ایشین خاتون کی نام زدگی ہوئی ہے۔
پروین شیر گورنمنٹ آف مے نی ٹوبا ،کنیڈا میں فلم کی ترتیب اور اس کی درجہ بندی (فلم کلاسیفکیشن) میں ملازمت سے وابستہ تھیں ۔لیکن گذشتہ سال اپنے شوہر وارث شیر کے انتقال کے بعد اس عہدے سے سبک دوش ہو کر کنیڈا سے امریکہ اپنے بچوں کے پاس منتقل ہوگئی ہیں ۔ میں اپنے اس باب کا اختتام انھیں کی ایک نظم کے چند اشعار سے کرتی ہوں،جو انھوں نے اپنے بچوں کے لئے لکھی ہے۔
مرے عزیز ،مرے پیارے لاڈلے بچو!
تمہیں تواڑنے کو سات آسماں ملے لیکن

میں خشک بانہوں کی آغوش اپنی وا کر کے
تمہاری راہ میں پلکوں کو ہوں بچھائے ہوئے
چراغ آنکھوں کی دہلیز پر جلا ئے ہوئے
اور اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے ہوئے
اسی امید کو دل میں ہو ں میں بسائے ہوئے
اگر ذرا سی بھی مہلت کبھی جو تم پائو
تو تھوڑی دیر کو دم لینے گھر کو لوٹ آئو!!