ادیبوں کا تعارف

خلیل طوقار

امتیاز رومی 

ریسرچ اسکالر جے این یو

تو اپنے لطف و کرم سے جسے خلیل کرے

خلیل طوقار: سوانح، شخصیت اور خدمات

خلیل طوقار کے اجداد کے بارے میں بہت زیادہ معلومات حاصل نہ ہوسکی۔ بس خاندان کے بزرگوں کی زبانی جتنا معلوم ہوسکا محفوظ کرلیا گیا۔ ترک قوم کی دو بڑی شاخیں ہیں۔ ایک مشرقی ترک جن میں ازبکستان، قرغزستان، قزاقستان اور افغانستان کے ترک و ہندوستان کے بابری / مغل خاندان شامل ہیں۔ دوسری مغربی ترک جن میں آذربائیجان، ترکمانستان، شمالی قبرص ترکی جمہوریت، عراق، شام، بلغاریہ، سربیہ اور یونان کے ترک آتے ہیں۔ مغربی ترکوں میں ’اوغوز ‘ نامی قبیلہ سب سے بڑا ہے اور ترکی کے بیشتر افراد اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ خلیل طوقار کی معلومات کے مطابق ان کے آباء واجداد کا تعلق اسی قبیلے سے ہے ۔ جو ترکی کے یورپین حصّے میں واقع ایک شہر تیکر داغ (Tekirdag) کے دو قصبے چورلو (Corlu) اور مرادلی (Muratli) کے درمیان میں ایک گاؤں آشاغی سیویند قلی (Asagisevindikli) میں رہائش پذیرتھے۔ تیکرداغ، استنبول شہرکے قریب ہے۔ صدیوں سے یہ لوگ اسی علاقے میں آبادتھے۔ یہ قدیم ترین تاریخی گاؤں ہے ۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران یمن کی جنگ کے لیے اسی گاؤں سے جوانوں کو محاذ پر بھیجا گیا تھا۔ جن میں سے بیشتر نے جام شہادت نوش کرلیا۔
خلیل طوقار کے مطابق ان کے خاندان کے لوگ نہایت خوش حال اور اشرافیہ میں سے تھے۔ زمین جائیدادکے علاوہ ان کے پاس ’روم چرواہے‘(ترکی کے کرسچین جویونانی نسل کے تھے) بھی تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعدجب یونانیوں نے اس علاقے پر قبضہ کرلیا تو ان چرواہوں نے یونانی فوج کے ساتھ مل کر ان کے گھروں کو لوٹ لیا اور جائیداد پر قبضہ کرلیا۔ تاہم جب ترک فوج نے یونانیوں کو شکست دی اور 1923ء میں ترکی جمہوریت قائم ہوئی تو روم چرواہے زیورات اور قیمتی سامان لے کر یونان چلے گئے اور ان کی زمینیں انھیں واپس مل گئیں۔
دوسری جنگ عظیم کا دورترکی کے لیے بہت پر آشوب تھا۔ لوگوں کو کھانے پینے کی بنیادی چیزیں بھی دستیاب نہ تھیں۔ لوگ چینی، تیل اور راشن کے لیے بھی ترس رہے تھے۔ شہر میں مقیم بچوں کو آدھی روٹی اور بڑوں کو ایک روٹی حکومت کی طرف سے روزانہ دی جاتی تھی جب کہ دیہاتیوں کو یہ بھی میسرنہ تھی۔ قدرتی آفات و بلیات کی وجہ سے کھیتی باڑی بھی تباہ ہوگئی۔ ان حالات سے تنگ آکر گاؤں کے باشندے زندگی کی تلاش میں استنبول کی جانب ہجرت کرنے لگے۔ خلیل طوقار کے دادا بھی انہیں ہجرت کرنے والوں میں تھے اور 1940ء کی دہائی میں اپنی فیملی کے ساتھ استنبول میں زیتون بورنو (Zeytinburnu) کے علاقے میں آکر آباد ہوگئے۔ آج بھی ان کے چچا اور خاندان کے لوگ اس علاقے میں آبادہیں اور محنت و مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔ خلیل طوقار کے دادا کا نام عمر اور دادی کا حمدیہ ہے۔ ان کے والد صلاح الدین سے چھوٹے دوبھائی ’ایرتان، جمیل اور ایک بہن ’بہیہ‘ ہیں۔
طوقار (Toker) کی وجہ تسمیہ
1927ء میں ترکی حکومت نے خاندانی نام ‘surname’ رکھنے کا قانون پاس کیا۔ چناں چہ جن لوگوں کا پہلے سے کوئی پیشہ ، ذاتی شناخت یا کوئی لقب تھا انھوں نے اسی کو حکومتی سطح پر رجسٹرڈ کروا لیا۔ تاہم جن افراد کے پاس ایسا کوئی خاندانی لقب یا نام نہ تھاان کے لیے حکومت نے چندناموں کی فہرست جاری کی تھی، وہ ان دفاتر میں جاکر ان میں سے اپنے لیے کسی ایک سرنیم کا انتخاب کرسکتے تھے۔ خلیل طوقار کے دادا عمر صاحب جب رجسٹریشن کے لیے گئے تو ان کے پاس بھی کوئی ایسا لقب نہیں تھا۔ اس لیے چورلو کے رجسٹریشن آفس میں جاکر اپنے لیے ’توک ایر‘ ( Toker) کا انتخاب کیا۔ چوں کہ عثمانی ترکی میں اس کا تلفظ ’’طوق أر‘‘ تھا۔ اس لیے اردو میں بھی طوق أرلکھنے لگے، مگر اہل اردو کے لیے اس کا تلفظ دشوار تھا اور اکثر غلطی کرجاتے تھے چناں چہ ان کی سہولت کے پیش نظر ’طوقار‘لکھنے لگے۔ اسی طرح حلیل اور خلیل میں بعض لوگ غلطی کرتے ہیں۔ دراصل ترکی زبان میں ’خ‘ کا تلفظ نہیں ہے۔ اس لیے Halil لکھا جاتا ہے جو اردو میں خلیل ہی ہے۔
خلیل طوقار کے والد نہایت ذہین اور ہونہار ہونے کے باوجود گھریلوذمے داریوں کی وجہ سے پرائمری سے آگے تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ سولہ سترہ سال کی عمرسے ہی ایک میڈیکل اسٹور میں کام کرنے لگے۔ ان کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ چند ہی دنوں میں اسٹور میں موجود تمام دوائیوں کے نام، اجزائے ترکیبی اور طریقۂ استعمال سے واقف ہوگئے اور خود بھی دوائیاں بنانے لگے ۔ لوگ ان سے اپنی بیماریوں کے تعلق سے مشورے لیا کرتے تھے۔ خلیل طوقار کا بچپن استنبول سے باہر زونگو لداق میں گزرا۔ اس زمانے میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو نشریات کا دائرہ اتنا وسیع نہیں تھا۔ مشکل سے چار پانچ گھنٹے کا پروگرام نشر کیا جاتاتھا۔ ویسے بھی اس علاقے میں ترکی کی نشریات کے بجائے سویت یونین یا رومانیا کی نشریات ہی پہنچتی تھی۔ نیز اس علاقے میں سوشلسٹ/ کمیونسٹ/ اشتراکی خیالات کے ہی افراد زیادہ تھے۔ ان اسباب کی بنا پر وہ ترکی کے حالات سے زیادہ روس اور رومانیا کے حالات سے باخبر تھے۔ چوں کہ فارغ وقتوں میں کھیل کود کے علاوہ والدہ سے اپنے خاندان کی سرگزشت سنا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو اپنے والد کے خاندان سے زیادہ والدہ کی خاندان کے بارے میں معلومات حاصل ہیں۔ خلیل طوقار کی والدہ کا نام ’گلمسر‘ہے۔ ان کے دادا مشرقی ترکی کے ایک شہر ایرزینجان (Erzincan)سے مغربی اناطولیہ کی طرف بحر اجیئن کے معروف شہر ازمیر(سمرنا- Izmir) آکر آباد ہوگئے۔ان کی دادی کا تعلق چرکیس یا ادیگی قوم سے تھا جو شمالی قفقاز میں آبادتھی۔ جب روسیوں نے اس علاقے پر قبضہ کرکے یہاں کے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا تو ۴۶۸۱ء میں چرکیس قبیلہ یہاں سے ہجرت کرکے عثمانی سلطنت کے مختلف علاقوں میں آباد ہوگیا۔ خلیل طوقار کے پرنانا (ناناکے نانا) چرکیس کے ایک قبیلہ کے سردار اور دینیات کے عالم تھے۔ ان کی اہلیہ کا انتقال بہت پہلے ہوچکا تھااور صرف دو بیٹیاں تھیں۔ یہاں ہر وقت روسیوں کے حملے کا خطرہ لگارہتاتھا۔ چناں چہ ناسازگار حالات کو دیکھتے ہوئے اپنی دونوں بیٹیوں کو ازمیر جانے والے رشتے داروں کے ساتھ بحری جہاز پر بٹھادیا اور کہا ’تم دونوں ازمیر جاؤ چوں کہ میں قبیلے کا سردار ہوں اس لیے انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ ہاں زندگی رہی تو پھر ملیں گے‘۔ ان کی دونوں بیٹیاں بخیر و عافیت ازمیر پہنچ گئیں مگر ان کے والد کی کوئی خبر نہیں ملی۔ ازمیرآکر بڑی بہن نے اپنی چھوٹی بہن کی شادی چودہ پندرہ سال کی عمر میں خلیل طوقار کی والدہ کے دادا سے کروادی، جو عمر میں پندرہ بیس سال بڑے اور نہایت شریف انسان تھے۔ اس طرح وہ دونوں محفوظ ہوگئیں۔ خلیل طوقار کی والدہ نے اپنی دادی کی بڑی بہن کو بچپن میں دیکھابھی ہے۔ ان کے پاس چرکیسیا سے لائے ہوئے سونے چاندی اور ہیرے جواہرات تھے۔ سونے کی بیلٹ اور کڑے وغیرہ پر ان کا خاندانی نشان بنا ہوا تھا۔ ان کے بطن سے تین بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلیل طوقار کے نانا کی دوبہنوں کی شادی ’کرد‘ خاندان میں ہوگئی۔ مگر ان کے سسرال والوں نے کبھی چین سے جینے نہیں دیا اور بیمار ہوکر پے درپے دونوں کا انتقال ہوگیا۔


پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں خلیل طوقار کے نانا مڈل اسکول پاس کرکے ہائی اسکول میں داخل ہوگئے۔ ایک دن اپنے بھائی کے ساتھ گھرسے روٹی لینے کے لیے دکان گئے اسی درمیان فوج میں بھرتی کے لیے ملٹری کی گاڑی آئی اور دکان پر موجود تمام جوانوں کو پکڑ کر فوج میں بھرتی کے لیے لے گئی۔ چوں کہ ان کے بھائی ملٹری کی گاڑی دیکھ کر پہلے ہی مسجدمیں جا چھپے تھے اس لیے وہ بچ گئے اور گھر آکر انھوں نے اطلاع دی کہ بھائی صاحب کو فوج میں بھرتی کے لیے اٹھا لیاگیا۔ اس زمانے میں فوج میں افراد کی قلت تھی اور پڑھے لکھے تو بالکل ہی کمیاب تھے۔ چناں چہ خلیل طوقار کے نانا کو ایک جنگی جہاز کا افسر بنا دیاگیا۔ چودہ پندرہ سال کا یہ نوجوان اپنی بٹالین کو لے کر جنگ کے لیے روانہ ہوگیا۔ مگر افسوس کہ دوران جنگ وہ جہاز ڈوب گیا۔ بیشتر فوجی شہید ہوگئے مگر ان کے نانا نے ایک سینئر افسر کے ساتھ جہاز کے ایک ٹکڑے کو پکڑ لیا اور ایک ہفتے تک نیم بے ہوشی کے عالم میں بھوکے پیاسے دونوں پڑے رہے۔ جب یہ نوجوان ہمت ہارتا تو وہ بزرگ حوصلہ بڑھاتے۔ ایک ہفتہ بعد ایک ترکی جہازکا ادھر سے گزرہوا۔ جسے دیکھتے ہی اس بزرگ نے کہا ’’خلیل وہ دیکھو تمھیں لینے آرہے ہیں‘‘ اتنا کہہ کر وہ شہیدہوگئے۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد یونانیوں نے ازمیر اور اناطولیہ پر حملہ کیا تو خلیل طوقار کے نانا بھی ان کے خلاف محاذ آرا ہوئے۔ مگر جنگ کے آخری دن یونانی فوج نے ان کے نانا اور کئی جوانوں کو پکڑ کر درختوں سے باندھ دیا۔ گرم صلیب سے ان کے سروں کو داغا اور منہ میں گلاس توڑ کر ڈال دیا۔ اسی پر بس نہیں کیا۔ بلکہ یونانی درندوں نے گاؤں کی عورتوں اور بچوں کو مسجد میں بند کر کے مردوں کے ارد گرد لکڑیاں جمع کر کے آگ لگادی۔ اسی درمیان مصطفی کمال کی فوج کے آنے کی خبر ملی، جسے سن کر یونانی بھاگ نکلے۔ دوسری طرف مسجدمیں بند خواتین میں خلیل طوقار کی پرنانی بھی تھیں۔ لمبے چوڑے قد کی با ہمت خاتون تھیں۔ انھوں نے کہا یہاں بند رہ کر مرنے سے تو اچھا ہے کہ باہر نکل کر یونانیوں سے لڑا جائے۔ چناں چہ مسجد کا دروازہ توڑ کر خواتین باہر آئیں تو دیکھاکہ دشمن بھاگ نکلے ہیں تاہم مرد درختوں میں بندھے ہیں اور ان کے ارد گرد آگ جل رہی ہے۔ قریب تھا کہ آگ ان کو اپنی لپیٹ میں لیتی ان خواتین نے مردوں کی جان بچائی۔ اس موقع پر ان کی پرنانی نے جس نوجوان کی جان بچائی تھی بعد میں وہی ان کا داماد بنا۔
خلیل طوقار کی پرنانی پر عزم اور با ہمت خاتون تھیں۔ ان کا خاندان عثمانی بلغاریہ کے شہر ’فلیبہ ‘ میں آباد تھا۔ ذی حیثیت اور صاحب مرتبت گھرانے سے ان کا تعلق تھا۔ میدان جنگ میں فوجیوں کی مدد کرنا اور ان تک اسلحہ اور سامان جنگ پہنچانا ان کا مشغلہ تھا۔ جنگ کے خاتمے کے بعدوہ لوگ ازمیر جاکر آبادہوئے۔ اس کے کئی سال بعد خلیل طوقار کے نانا کی شادی اسی خاتون کی لڑکی ’لطیفہ‘ سے ہوئی۔ خلیل طوقار کی نانی ’لطیفہ‘ بہت نرم دل اور نیک خاتون تھیں۔ خلیل طوقار کوبہت مانتی تھیں اور پیار سے انھیں ’’بابا جیغم‘‘ یعنی ابو جی کہہ کر بلاتی تھیں۔ ان سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ازمیر میں خلیل طوقار کے نانا ایک فیکٹری کے نصف مالک تھے اور ان کا اپنا ایک بنگلہ تھا۔ مگر نصف دوسرے حصے دار نے فریب کر کے فیکٹری اپنے نام کر لیا۔ چناں چہ انھیں دل کا دوورہ پڑا اور صحت یاب ہونے کے بعد اپنا بنگلہ بیچ کر خاندان سمیت استنبول آگئے اور باقر کوئے (Bakirkoy) میں آباد ہوگئے۔ یہاں آکر تجارتی بحری جہاز میں نوکری کرنے لگے اور زندگی بھر مختلف ممالک کا دورہ کرتے رہے۔ ۵۶۹۱ء میں استنبول کے بندرگاہ پر ان کا انتقال ہوگیا۔
خلیل طوقار کے والد صلاح الدین کی شادی ۶۵۹۱ء میں ’گلمسر‘ نامی خاتون سے ہوئی۔ ان کے والد اپنی اہلیہ کے ساتھ آبائی گھرزیتون بور نو میں رہنے لگے۔ یہاں ان سے دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ مگر خلیل طوقار کی پیدائش سمندر کنارے واقع باقر کوئے کے ایک فلیٹ میں ہوئی، جو ان کے بڑے چچا نے اپنی شادی کے بعد لیا تھا۔ تاریخ پیدائش کے سلسلے میں بھی تھوڑا اختلاف ہے۔ ان کی والدہ کے مطابق صحیح تاریخ پیدائش۲ /ا پریل۸۶۹۱ ء ہے۔ تاہم ان کے شناختی کارڈ میں ۳/ اپریل ۷۶۹۱ء درج ہے۔ اس تاریخی تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ خلیل طوقار کی پیدائش کے وقت ان کے آبائی قصبے میں واقع رجسٹریشن آفس میں آگ لگ چکی تھی۔ اس لیے یہاں سے بن نہیں پایا۔ اس درمیان زونگو لداق کے پرائمری اسکول میں ان کا داخلہ کروانا تھا اور بغیر شناختی کارڈکے ممکن نہ تھا۔ چناں چہ ان کی والدہ باقر کوئے کے آفس میں گئیں۔ وہاں شناختی کارڈ بن تو گیا مگر اس پر ۳ /اپریل ۳۷۹۱ء کی تاریخ درج تھی۔ جب ان کی والدہ نے آفیسر کو صحیح تاریخ ڈالنے کو کہا تو وہ برہم ہو کر۷۶۹۱ء کر دیا۔ دوبارہ صحیح کر نے کو کہا تو وہ آپے سے باہر ہوگیا اور کہنے لگا کہ اگر اب اعتراض کروگی تو شناختی کارڈ کبھی نہیں ملے گا۔ چناں چہ ان کی والدہ اسی کو لے کر گھر آگئیں۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ترکی میں ہر چھوٹا بڑا ملازم اپنے آپ کو سلطان ہی سمجھتا تھا۔
خلیل طوقار کی والدہ نے بچپن ہی سے ان کی تربیت پر خاص توجہ دی۔اس زمانے میں باقر کوئے ایک کثیر لسانی اور ثقافتی قصبہ تھا۔ یہاں مسلمانوں کے علاوہ یونانی آرتھوڈوکس عیسائی اور آرمینین اپنی اپنی زبان و تہذیب کے ساتھ یک جٹ ہوکر رہتے تھے۔ ان کے مابین کوئی تفریق نہیں تھی۔ سب ایک دوسرے کے یہاں آتے جاتے اور کھاتے پیتے۔ ان سب کے بچے ایک ساتھ مل جل کر کھیلتے۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک آرمینین بچہ اپنی ماں کو ’’ماما‘‘ کہہ کر آواز دے رہاتھا۔ چوں کہ آرمینین زبان میں ماں کے لیے ’’ماما‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے جب کہ ترکی زبان میں بچوں کے ایک خاص قسم کے کھانے کے لیے یہ مستعمل ہے۔ چناں چہ بچوں کے ساتھ مل کر اس کا مذاق بنانے لگے۔ جب ان کی والدہ نے بالکونی سے یہ منظر دیکھا تو اتر کر نیچے آئیں اور خلیل طوقار کے کان مروڑنے لگیں۔ ان کے ساتھ دیگر ترک بچوں کو بھی تنبیہ کی کہ ’خبر دار جو اپنے بھائیوں کی زبان و تہذیب کا مذاق اڑا یا۔ ادب و احترام اور تمیزنام کی کوئی چیز نہیں؟ ‘۔ اس کے بعد رات تک خلیل طوقار کو ڈانٹ پڑتی رہی۔ بظاہر یہ معمولی واقعہ ہے تاہم اس کے پیچھے تربیت کا بڑا پہلو پوشیدہے۔ اس ڈانٹ کا نتیجہ یہ ہوا کہ پھر کبھی کسی کا مذاق اڑانا تو بہت دور، خیال تک نہیں آیا۔ خلیل طوقار کی والدہ رواداری اور انسانیت کو عزیزرکھتی تھیں۔ مذہب، رنگ اور نسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک کرنا ان کو بالکل بھی پسند نہ تھا۔
زونگو لداق مشرقی ترکی کے علاقے میں بحر اسود کے کنارے پر واقع ایک چھوٹا سا شہر تھا جو کوئلے کے کانوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ چوں کہ یہ لوگ استنبول جیسے بڑے شہر سے ایک چھوٹے شہر میں اجنبی کی حیثیت سے آئے تھے۔ اس لیے یہاں بور ہونا فطری بات تھی۔ سیروتفریح کے لیے جنگل اور سمندر کے علاوہ یہاں کچھ بھی نہ تھا۔ سڑک کے کنارے بازار لگتا تھا۔ یہاں کے دکان دار اکثر باہر سے آئے ہوئے تھے۔ اس شہر اور آس پاس کے باشندے کوئلے کی کان میں کام کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے لوگ کثرت سے بیمار ہوتے تھے۔ بلکہ بہت سے لوگ مر بھی جاتے تھے۔ اس چھوٹے سے شہرکا ایک مثبت پہلو یہ تھا کہ بچوں میں تعلیمی رجحان زیادہ پایا جاتا تھا۔ چوں کہ کوئلے کی کانوں سے بچنے کا یہ سب سے آسان طریقہ تھا۔ اس زمانے میں دل بہلانے کا اور کوئی ذریعہ بھی نہ تھا۔ چناں چہ بچے چار و ناچار پڑھائی میں ہی وقت گزارتے تھے۔ اسکول کے بچوں کو سنیما ہال لے جاکر کوئلے کی کانوں میں رونماہونے والے حادثات اور ان سے بچنے کے طریقہ کار فلموں میں دکھائے جاتے تھے۔ جن میں اکثر کے والد یا رشتے دار کانوں میں کام کرتے تھے۔ ان وجوہات کی بنا پر بچوں میں تعلیمی رجحان خوب تھا خلیل طوقار پر بھی اس ماحول کا نفسیاتی اثرہوا جو ان کے حق میں بہت مفید ثابت ہوا۔
زونگو لداق میں قیام کے سات آٹھ مہینے بعد خلیل طوقار کی اسکولی زندگی کا آغاز ہوا۔ ’زونگو لداق یا یلا اوزیل ایلک اوقولو‘ نامی اسکول میں پرائمری کلاس میں ان کا داخلہ کروادیا گیا۔ (اوزیل ایلک اوقول یعنی پرائیوٹ پرائمری اسکول)بظاہر نام سے یہ پرائیوٹ اسکول تھا مگر در حقیقت یہ حکومت کے زیر نگرانی تھا۔ اس کا شمار یہاں کے مشہور تعلیمی اداروں میں ہوتا تھا۔ اسکول کی پرنسپل ’مہربان قلیچ‘ بہت سخت اور ڈسپلن کے معاملے میں قلیچ یعنی تلوار کی طرح تیز تھی۔ صفائی ستھرائی اور تعلیمی معیار کا خاص خیال رکھواتی تھی۔ ان کی سخت مزاجی سے اساتذہ اور طلبا دونوں خوف کھاتے تھے۔ بڑی مشکل سے اس اسکول میں داخلہ ملتاتھا۔خلیل طوقار کا داخلہ پرائمری میں ان کے والدکے دوست کے توسل سے ہوگیا۔
اسکولی تعلیم کے دوران ’نسرین چاوش اوغلو‘ نامی باصلاحیت خاتون کی زیر نگرانی خلیل طوقار نے اپنا پانچ سالہ تعلیمی سفر مکمل کیا۔ خلیل طوقار کے اندر بچپن سے ہی کچھ نیا کرنے کا جذبہ تھا۔ ان کے گھر میں ایک دائرۃالمعارف تھا جس پر مختلف زبانوں کے حروف تہجی لکھے ہوئے تھے۔ گھر کے ایک کونے میں اسے لے کر بیٹھ جاتے اور ان حروف کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں کے حروف سے ایک نئی زبان ایجاد کرنے کی کوشش کرتے۔ گھر میں آئے مہمان ان کا مذاق اڑاتے کہ ’ خلیل تو اپنی معشوقہ کو چپکے چپکے خط لکھنے کے لیے یہ حروف سیکھنے کی کوشش کر رہا ہے!‘۔ چوں کہ خلیل طوقار بہت شرمیلے تھے۔ اس لیے شرما کر اپنے کمرے میں بھاگ جاتے۔ مذہبی علوم سے دل چسپی کا یہ عالم تھا کہ محض گیارہ بارہ سال کی عمرمیں اپنی جیب خرچ سے بچا کر امام بخاری کی مشہور تصنیف صحیح البخاری کی مکمل جلدیں نہ صرف خریدی بلکہ نہایت ذوق و شوق سے ان کا مطالعہ کیا۔ اس عمرکے بچوں کے لیے یہ بالکل انوکھی اور حیرت افزا بات تھی۔
۵۷۹۱ء میں ابتدائی تعلیم بحسن و خوبی مکمل ہوگئی اور ثانوی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس کے لیے گھرکے قریب ہی ’فینیر‘ نامی ایک ہائی اسکول میں داخلہ کرادیا گیا۔ یہاں کی تعلیم بہت اچھی نہیں تھی مگر ان کی چھوٹی باجی یہاں پہلے سے پڑھتی تھی۔ اس لیے ان کو بھی یہیں داخل کر دیا گیا۔ اس اسکول کے پرنسپل عبدالحمید نہایت اچھے انسان اور قابل استاذ تھے۔ ترکی شعر و ادب پر ان کی گہری گرفت تھی۔ اشتراکی خیالات کے حامل ہونے کے باوجود انھوں نے کلاس میں کبھی اشتراکیت کی باتیں نہیں کی اور نہ ہی مخالفت کرنے والے طالب علم کو سزا دی۔ ۰۸۹۱ء میں ترکی میں جب مارشل لا آیا تو عبدالحمید صاحب پرنسپل کے عہدے سے برخاست کردیا گیااور ایک سمسٹر کے بعد انھیں مکمل طور پر اسکول سے باہر کردیا گیا۔ کچھ دنوں تک بے روزگاری کے عالم میں بھٹکتے رہے۔ آخر کار ایک خاتون جو زونگو لداق کے ایک اخبار کی مالکن تھیں، انھوں نے اپنے اخبار کا ایڈیٹر بنا دیا۔
عبدالحمید صاحب اسکول میں درس و تدریس کے دوران نہایت خلوص اور شوق کے ساتھ ترکی ادبیات پڑھاتے تھے۔ کلاسیکی ترکی شاعری انھیں بے حدپسندتھی ۔ ساتھ ہی عروض کے بھی عالم تھے اور نصاب میں شامل نہ ہونے کے باوجود اپنے طلبہ کو عروض سکھاتے تھے۔ چناں چہ بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ خلیل طوقار کے شاعرانہ مزاج کو جلابخشنے میں ان کا بہت اہم رول ہے۔
مڈل اسکول کے بعدہائی اسکول کا مرحلہ آپہنچا۔ چوں کہ ان کی والدہ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں اس لیے ان کا اصرار تھاکہ اسی اسکول کے ہائی اسکول والے سیکشن میں رجسٹریشن کروا دیا۔ حالاں کہ خلیل طوقار نے ڈاکٹر بننا تو دور اس فیلڈ کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ انہیں دنوں خلیل طوقار کے ماموں زادبھائی ان کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ان کو اپنے ساتھ لے کر زونگو لداق کے ٹیکنیکل ہائی اسکول کے داخلہ امتحان میں نام لکھوا دیا۔ اس وقت یہاں داخلہ بہت مشکل سے ملتا تھا۔ کیوں کہ یہاں سے فراغت کے بعد روزگار ملنا تقریبا طے ہوتاتھا۔ اس لیے یہاں داخلہ لینے والے طلبا کی بڑی بھیڑ ہوتی تھی۔ اس کے باوجود ٹیکنیکل اسکول کا امتحان انھوں نے دیا اور اچھے نمبروں سے کامیاب ہوئے۔ پھر پرانے اسکول سے رجسٹریشن کینسل کروا کر یہاں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد ٹیکنیکل ہائی اسکول میں ان کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ یہاں پڑھنے پڑھانے کا ماحول اچھا تھا۔ اساتذہ طلبا کا خاص خیال رکھتے تھے۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی کرنے والے طلبا کو سخت سزائیں ملتیں۔ اس ڈر سے خلیل طوقار بہت محنت کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیشہ اول آنے لگے اور ’تشکرنامہ‘ بھی ملنے لگا۔ ۴۸۹۱ء میں ہائی اسکول سے امتیازی نمبرات کے ساتھ فارغ ہوئے۔
اعلیٰ تعلیم اور شاعری کا آغاز
خلیل طوقار نے ہائی اسکول سے فراغت کے بعد۴۸۹۱ء میں اعلی تعلیم کے لیے یونیورسٹی کے داخلہ امتحانات میں شرکت کی۔ نتائج کے اعلان کے بعد مختلف یونیورسٹیز اور ان کے شعبے میں سے سولہ کا نام ہائی ایجوکیشن کمیشن میں دیناتھا۔ چوں کہ خلیل طوقار کے والد ریٹائر ہوکر استنبول واپس جانے والے تھے اس لیے انھوں نے صرف استنبول کی یونیورسٹیز سے متعلق شعبوں کا نام دینے کو کہا۔ ساتھ ہی استنبول سے باہر نہ جانے کی تاکید بھی کی۔ خلیل طوقار کے لیے استنبول شہر اب اجنبی بن چکا تھا۔ ایک چھوٹے سے شہر زونگولداق سے ان کے بچپن کی یادیں وابستہ ہوچکی تھیں۔ چندسال پہلے یہ اجنبی شہر کاٹتا تھا مگر آج اس کی ایک ایک چیز ان کی اپنی ہوچکی تھی اور جدائی کا تصور ہی عجیب سا لگتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ زونگو لداق سے استنبول آئے ہوئے تقریبا ۲۳ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی وہ خود کو اسی چھوٹے شہر کا سمجھتے ہیں۔
اس زمانے میں ترکی کی بہترین یونیورسٹیز استنبول میں ہی تھیں۔ خلیل طوقار کو پوری امیدتھی کہ ان کا داخلہ کسی نہ کسی یونیورسٹی میں ہوہی جائے گا۔ جب فارم بھرنے کا وقت آیا تو ان کے والد نے اپنے کسی دوست سے فارم بھرنے کو کہا۔ انھوں نے ایسے شعبوں میں فارم بھر دیا کہ ان کا نام ہی نہیں آیا۔ خلیل طوقار کی اصل خواہش ماہر آثار قدیمہ (Archeologist)بننے کی تھی۔ مگر ان کی والدہ اس کو بالکل ناپسند کرتی تھیں اور ماہرین آثار قدیمہ کو ’گورکن‘ کہتی تھیں۔ چناں چہ ہائی اسکول کے واقعے نے اس خواہش کو دفن ہی کر دیا۔ اس کے بعد ان کا دوسرا پسندیدہ موضوع تاریخ تھا اور وہ اسی شعبے میں داخلہ لینا چاہتے تھے۔ حالاں کہ اس شعبے کے لیے ان کا نمبر کافی تھا اور آسانی سے داخلہ ہوسکتا تھا۔ اس ان چاہے کورس میں ناکامی کے بعد ان کے والد ذرا بھی ناراض نہیں ہوئے ۔ خلیل طوقار چوں کہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتے تھے اور ایک سال کے لیے کہیں داخلہ بھی نہیں ہوا تھا چناں چہ انھوں نے باقر کوئے کے ایک انگلش اکیڈمی میں داخلہ لے لیا۔ اس اکیڈمی کے اساتذہ باہری ملکوں سے آئے ہوئے تھے۔ ابتدا میں ایک امریکن خاتون ٹیچرتھی لیکن چند مہینے کے بعد ان کی والدہ کی وفات ہوگئی اور وہ اپنے ملک واپس چلی گئی۔ ان کے بعد ایک اور انگریز آیا جو نہایت بد تمیز اور متکبر انسان تھا جو ترکوں کو حقیر سمجھتا تھا۔اس کی حرکتوں نے خلیل طوقار کو انگریزی سے بدظن کر دیا تھا۔ مگر والدکی ناراضگی کے پیش نظر اکیڈمی آتے جاتے رہے۔ چند مہینے بعد ایک سکھ خاتون بحیثیت استاذ لندن سے آئی۔ یہ خاتون بچپن سے ہی لندن میں مقیم اوربہت قابل تھی۔مشرقی مزاج کی حامل بہت جلد طلبا سے گھل مل گئی۔ خلیل طوقار شرمیلا ہونے کے باوجود ان کے ساتھ بے تکلف ہوگئے۔
۵۸۹۱ء میں مشرقی السنہ کے شعبے میں صرف عربی اور فارسی زبان پڑھائی جاتی تھی اور دونوں کی کلاس ایک ساتھ لگتی تھی۔ عثمانی رسم الخط سے واقفیت نے ان کے لیے فارسی زبان میں قدرے آسانیاں پیدا کی تاہم عربی رسم الخط سیکھنے میں دشواری پیش آئی۔ عربی کے اساتذہ بھی سخت مزاج تھے۔ دوسری کلاس سے ہی ’النحوالواضح‘ عربی گرامر کے طور پر پڑھانے لگے۔ گردان یاد کرنا اور عربی حکایات سمجھنا ان کے لیے بہت مشکل امر تھا۔ مگر چوں کہ اس میں بھی پاس ہونا ضروری تھا اس لیے انھوں نے کچھ سمجھ کراور کچھ بنا سمجھے پوری کتاب زبانی یاد کرلی اور امتحان میں پاس ہوگئے۔ البتہ فارسی میں انھیں کسی قسم کی دشواری پیش نہیں آئی۔
اردو سے رشتہ
خلیل طوقارجب استنبول یونیور سٹی میں داخل ہوئے۔ اسی زمانے میں پاکستان سے پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار بحیثیت اردو استاذ استنبول یونیورسٹی تشریف لائے ہوئے تھے۔چناں چہ ان کے عربی کے استاذ ذوالفقار تجار نے ان لوگوں کو اردو کے بارے میں بتایا اور ان کی کلاس میں جانے کو کہا۔ چوں کہ ہندوستانی فلموں کے توسط سے اردو زبان سے تھوڑی شناسائی تھی اور ٹوٹے پھوٹے گانے بھی یاد تھے۔ اس لیے جب اردو استاذ کی خبر ملی تو فورا ان کی کلاس میں پہنچ گئے۔ یہاں سے عربی فارسی کے ساتھ اردو بھی سیکھنے لگے۔ یہ کام مشکل ضرور تھا لیکن دیوانوں کے لیے کیا مشکل۔ خلیل طوقار نے فارسی زبان پر بہت جلد عبور حاصل کرلیا اور فارسی شاعری سے لطف اندوزہونے لگے۔
خلیل طوقار نے اپنی شاعری کا آغاز فارسی زبان میں کیا۔ حالاں کہ ان کی مادری زبان ترکی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بچپن میں بہت شرمیلے تھے چناں چہ انھوں نے شاعری کے لیے ایسی زبان کا انتخاب کیا جو کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ جب کہ اصل وجہ خلیل طوقار کو بھی بہت بعد میں سمجھ میں آئی۔ مارشل لا کے بعد ترکی کے حالات اتنے نازک ہوگئے کہ ترکی ادب کے شہ پاروں پر حکومت نے پابندی عائد کردی تھی اور پڑھنے والے کو جیل جانا پڑتا تھا۔ ناظم حکمت اور صباح الدین علی جیسے عظیم شاعر کو پڑھنا بلکہ ان کی کتابیں اپنے گھروں میں رکھنا ممنوع تھا۔ دیگر شعراوادبا جو جدید ترکی ادب کے معمار تھے ان میں کسی پر کمیونسٹ، کسی پر نیشنلسٹ اور کسی کو مذہبی قراردے کر ان کی تخلیقات و تصنیفات پڑھنا جرم قرار پایا۔ ان حالات میں پڑھنا تو در کنار کتاب رکھنا بھی بہت مشکل مرحلہ تھا۔ گھروں کی تلاشی لی جاتی اور جن کے یہاں بھی اس طرح کی کتابیں ملتیں انھیں جیل میں ڈال دیا جاتاتھا۔ خلیل طوقار کی منجھلی بہن کمیونزم کی طرف مائل تھی اس لیے ان کے گھر میں مارکس اور ٹالسٹائی جیسے کمیونسٹ مصنفوں کی کتابیں بھی تھیں۔ بڑی بہن رومانٹک کتابوں سے دل چسپی رکھتی تھی جب کہ خلیل طوقار کو مذہب اور تاریخ بہت پسند تھا۔ اس لیے ان کے گھر میں ہر طرح کی کتابیں موجود تھیں۔ چوں کہ کتابوں پر پابندیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اس لیے روز روز کوئی نہ کوئی کتاب جلادی جاتی تھی۔ ایک دن ان کی والدہ نے گھرکی ساری کتابیں جمع کر کے آگ لگادی۔ سوائے قرآن و حدیث کے ایک بھی کتاب نہیں بچی۔ حتی کہ ان کی بڑی باجی کی رومانوی کتابیں بھی اس زدمیں آگئیں جلاتے وقت جب ان سے کہاکہ اس میں سیاسی کچھ بھی نہیں اسے مت جلائیے۔توان کی والدہ نے جواب دیا ’’بیٹی چند دنوں میں یہ لوگ ملاّ نصرالدین کو بھی ممنوعہ قرار دیں گے کہ یہ ملا نصرالدین اپنے لطیفوں میں ہماری مخالفت کرتا ہے اور لوگوں کو غیرقانونی راہ میں لانے کی کوشش کرتا ہے!‘‘
مارشل لاختم ہونے کے بعد ان کتابوں سے پابندیاں ہٹادی گئیں تب انھوں نے ترکی کے معروف شعرا کو پڑھا۔ اس وقت خلیل طوقار اپنی آخری کلاس میں تھے اور فارسی شاعری کا ان پر گہرا اثر ہوچکا تھا اور فارسی میں شاعری بھی کرنے لگے تھے۔ کلاسیکی فارسی شاعری کے ساتھ ساتھ جدید فارسی شاعری کا بھی انھوں نے مطالعہ کیااور آزاد شاعری بالخصوص احمد شاملو کی شاعری انھیں بہت پسند آئی۔ پھر فارسی کے راستے اردو شاعری میں داخل ہوگئے۔
۹۸۹۱ء میں بی اے کی تعلیم مکمل ہوئی اور اسی سال انھوں نے ایم اے فارسی میں داخلہ لے لیا۔اس دوران فارسی کے ساتھ ساتھ اردو کی تعلیم بھی جاری رہی۔ نیز روزگار کی فکر بھی لاحق ہوئی۔ مگر چوں کہ خلیل طوقار بہت اچھے طالب علم تھے۔ اس لیے فارسی کے اساتذہ انھیں اپنے شعبے میں رکھنا چاہتے تھے۔ جب کہ اردو کے استاذ پروفیسر غلام حسین ذوالفقار انھیں اردو شعبے سے وابستہ کرنا چاہ رہے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے ڈین آف فیکلٹی سے لے کر وائس چانسلر تک بات کرلی۔ حالاں کہ اس کی خبر خلیل طوقار کو بعد میں لگی۔
اس دوران روزگار کی تلاش میں عثمانی آرکائیوز اور وزارت خارجہ کے امتحانات میں شامل ہوکر کامیاب بھی ہوئے۔ جب وزارت خارجہ میں فارسی زبان کی ایک سیٹ نکلی چوں کہ یہاں نوکری کرنا ہر فرد کے لیے ایک سپنا تھا۔ چناں چہ خلیل طوقار اپنے دوست افق کے ساتھ انقرہ جاکر اس امتحان میں شامل ہوگئے۔ پہلا مرحلہ فارسی کا تھا اس میں کامیاب ہونے کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے انھیں بلایا گیا۔ اس میں ترکی زبان، میتھ، جغرافیہ ، تاریخ اور موجودہ سیاسی مسائل پر مشتمل امتحان لیاگیا۔ خلیل طوقار نے میتھ کے علاوہ سارے سوالات حل کردیے۔ دس پندرہ دن کے بعد وزارت خارجہ سے ایک اور ٹیلی گراف موصول ہوا اور کامیابی کی خبردی گئی اور ساتھ ہی جوائننگ کے لیے بلایا بھی گیا۔ یہ بہت بڑی خوش خبری تھی لیکن اس خبر نے ان کی والدہ کو رنجیدہ کردیا۔ خلیل طوقار نے اپنی والدہ کے ساتھ یہ طے کیاکہ اگر انقرہ جانے سے پہلے استنبول یونیورسٹی میں کوئی جگہ آگئی تو پھر وہاں جانا کینسل۔ ان کی خوش بختی یہاں پر کام آئی اور انقرہ جانے سے ایک دن قبل شام کے وقت ان کی والدہ بازار سے گھر آتے وقت بے حد خوش تھیں۔ اخبار ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہنے لگیں ’’خلیل دیکھو، دیکھو، اخبار میں یونیورسٹی کی جانب سے اشتہار آیاہے اور شعبہ اردو کے لیے بھی آسامی موجود ہے!!!‘‘
خلیل طوقارکی ساری بدبختی یہاں پر خوش بختی میں تبدیل ہوگئی۔ ایک طرف وزارت خارجہ کی نوکری کا غم تھا تو دوسری طرف ان کی والدہ کی بے انتہا خوشی۔ پھر خلیل طوقار نے انقرہ جانا ترک کردیا ۔پھر وہ استنبول یونیورسٹی کے اسسٹنٹ کے امتحان میں شامل ہوکر کامیاب ہوئے۔ اس وقت تک یہاں اردو کا باقاعدہ شعبہ قائم نہیں ہوا تھا۔ خلیل طوقار ابھی ایم اے فارسی کے طالب علم تھے اور ان کے نگراں نظیف خوجہ تھے۔ چوں کہ یونیورسٹی قانون کے مطابق نگراں کا ترکی شہری ہونا لازمی تھا اور خلیل طوقار کو شعبہ اردو کا پہلاترک استاذ بننا تھا اس لیے ان کے مقالے کا عنوان اردو فارسی کا مشترکہ عنوان منتخب کرنا تھا۔ یہ ذمہ داری پروفیسر غلام حسین ذوالفقار کو دی گئی۔ انھوں نے ’مرزااسداللہ خاں غالب، زندگی اور آثار‘ موضوع منتخب کیا اور خلیل طوقار اس پر کام کرنے لگے۔ مگر چندمہینے بعد ہی ۰۹۹۱ء میں پروفیسر غلام حسین ذوالفقار کوپاکستان واپس جانا پڑا۔ اب خلیل طوقار دوہری مصیبت میں پھنس گئے۔ ایک ان کا اپنا مقالہ تیار کرنا اوردوم وہاں رجسٹرڈ طلبا کو اردو پڑھانا۔ تاہم انھوں نے دونوں کام بخوبی انجام دیا اور اپنے استاذ محترم سے خط و کتابت کا سلسلہ شروع کیا۔ ترکی سے شاگرد کا سوال جاتا اور پاکستان سے استاذ کا تسلی بخش جواب آتا۔ اسی درمیان خلیل طوقار کو ایک ہفتے کے لیے پاکستان جانے کا موقع ملا اور اپنے استاذ کے دولت کدے پر مہمانی کاشرف ملا۔ اس درمیان انھوں نے اپنے موضوع ’ غالب ‘سے متعلق مختلف کتابیں حاصل کیں۔ یہ ایک ہفتہ ان کی زندگی کا سب سے اہم ثابت ہوا۔ اس مدت میں اکتساب علم کے ساتھ ساتھ انھیں اپنی شریک حیات بھی مل گئی۔
خلیل طوقار نے ۲۹۹۱ء میں ایم اے مکمل کرنے کے بعد شعبہ فارسی میں پی ایچ ڈی کاآغازکیا۔ ایک سال بعد ۳۹۹۱ء میں ان کے مشفق استاذ پروفیسر غلام حسین ذوالفقار نے پی ایچ ڈی کے لیے ’’ہندوستان میں فارسی اور اردو شاعری اور بہادر شاہ ظفر کے عہد کے شعرا‘‘ بطور موضوع منتخب کیا۔ اس کام کے لیے انھوں نے اپنے استاذسے خط وکتابت کے ساتھ ساتھ انقرہ یونیورسٹی میں ڈاکٹر شوکت بولو اور پروفیسر اے بی اشرف سے بھی رہ نمانی حاصل کی۔ ۴۹۹۱ء میں پاکستانی سفارت خانے کے اصرار پر استنبول یونیورسٹی میں باقاعدہ شعبہ اردو کا آغاز ہوا اور اسی سال سے اردو تعلیم کاآغازباضابطہ طور پر ہوا۔ اب خلیل طوقار کی ذمے داری مزیدبڑھ گئی۔ کیوں کہ اس وقت تک ان کے علاوہ اردو پڑھانے والا یہاں کوئی نہ تھا۔ ایک ہفتے میں سولہ سترہ کلاسیں خلیل طوقار کو لینی پڑتی تھیں۔ پہلے صدر کے طور پر نظیف خوجہ مقررہوئے۔ ان کے ریٹائر منٹ کے بعد ڈاکٹر حسین یازیجی نے عہدۂ صدارت سنبھالا۔ خلیل طوقاردونوں محاذ پر بیک وقت کام کرتے رہے اور ۵۹۹۱ء کے آغاز میں انھوں نے اپناتحقیقی مقالہ مکمل کرلیا۔ اسی سال مقالہ جمع کرنے سے قبل خلیل طوقار نے اپنے استاذ پروفیسر غلام حسین ذوالفقار کو خط لکھ کر اُن کی بیٹی ثمینہ سے اپنا رشتہ طلب کیا۔ استاذنے اس رشتے کو فوراقبول کرلیااوراسی سال جولائی کے مہینے میں ان دونوں کی شادی ہوگئی۔خلیل طوقار کی شادی کو لے کر ان کی والدہ بہت پریشان تھیں۔ کئی سالوں سے رشتے آرہے تھے مگر یہ انکار کرجاتے اس طرح ان کی والدہ اپنی بہو کے لیے ترس کر رہ جاتیں۔ آخر ان کی ہونے والی بہو تو پاکستان میں تھی۔ جب پہلی بار خلیل طوقار نے اپنی ہونے والی شریک حیات ’ثمینہ‘کی تصویر دکھائی تو ان کی والدہ فرط خوشی سے مچل گئیں اور کہنے لگیں کہ میری بہو تو ایسی ہی ہوگی۔ در اصل خلیل طوقار کے بچپن میں فال نکالنے والی عورتیں گھوما کرتی تھیں ۔ ان کی والدہ نے بھی فال نکلوائی ۔ اس خاتون نے کہا یہ آگے چل کر بڑا آدمی بنے گا اور ایک غیرملکی لڑکی سے شادی کرے گا اور پھر اس لڑکی کی خصوصیات بھی اس نے بتائی۔ جو واقعتا صحیح ثابت ہوئی۔ اس طرح برسوں پہلے جس بہو کا انتظار تھا وہ ان کی والدہ کو مل گئی۔
شادی کے بعد انھیں کچھ مالی مشکلات کاسامناکرنا پڑا۔ کیوں کہ اسسٹنٹ کی تنخواہ استنبول شہر کے حساب سے کافی نہیں تھی۔ مگر ان کی اہلیہ کی کفایت شعاری نے سہارا دیا۔ اس وقت ان کے فارسی کے مشفق استاذپروفیسرنظیف خوجہ ریٹائر ہوگئے تھے اور ان کی جگہ شعبہ عربی کے استاذ پروفیسر احمدبے صدر شعبہ تھے۔ ادھرخلیل طوقارپی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرچکے تھے اور اسسٹنٹ پروفیسر کے امیدوارتھے۔ مگر اس سے پہلے سرکاری قانون کے مطابق ان کو فوجی ٹریننگ حاصل کرنا ضروری تھا۔چناں چہ فوجی خدمت سے فراغت کے بعد خلیل طوقار استنبول واپس آکر پھر سے فیکلٹی سے منسلک ہوگئے اور تقریبا ایک سال کے بعد ان کا تقرر اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ہوگیا۔ پھر ان کی ترقی ہوتی رہی اورصدرشعبہ بنادیے گئے۔ ۱۰۰۲ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ۶۰۰۲ء میں پروفیسر کی حیثیت سے شعبہ اردو استنبول یونیورسٹی میں اردوزبان وادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔
خلیل طوقار کی تربیت کثیر لسانی و ثقافتی ماحول میں ہوئی۔ چار پانچ سال کی عمر میں جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ باقر کوئے میں رہائش پذیرتھے۔ اس وقت وہاں مسلمان، آرتھوڈوکس عیسائی اور آرمینین سبھی ایک ساتھ مل جل کر رہتے تھے اوران سب کے بچے ایک ساتھ کھیلتے تھے۔ نیز ایک دوسرے کے گھر آنا جانا اور دکھ درد میں شامل ہونا عام بات تھی۔ ایک آرمینین خاتون خلیل طوقار کو اپنی زبان کے الفاظ یاد کراتی رہتی تھی۔ چناں چہ خلیل طوقار کو بچپن سے ہی مختلف زبان و تہذیب سے واسطہ پڑتا رہا اور ان تہذیبی عناصر کو اپنے اندر جذب کرنے کا سلیقہ بھی ملتارہا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کو بچپن سے ہی تاریخ، تہذیب اور زبان سے دل چسپی پیدا ہونے لگی۔ بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی یہ دل چسپی برصغیر کی زبان و تہذیب میں شامل ہوگئی اور پھر فارسی کے راستے اردو میں داخل ہوگئی۔ اس طرح خلیل طوقار کو اپنی پہلی اور آخری محبت ’اردو ‘ملی اور اردو کو اپنا ’خلیل‘ ملا۔ ان دونوں کی داستان محبت طویل عرصے پر محیط ہے۔ خلیل طوقار کے احساسات اور اندرون میں پیدا ہونے والے جذبات کو اردو نے وسیلہ اظہار بخشا اور خلیل نے ’اردو‘ کی بنیاد کو اپنے ملک ترکی میں مضبوط ومستحکم کیا۔ خلیل طوقار کی خدمات علمی، ادبی اور تعمیری ہر جہات کو محیط ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کو بنیادی طور پر تین حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
(الف) تخلیق
(ب)تحقیق

(ج) تراجم
خلیل طوقار کا تخلیقی سفر استنبول یونیورسٹی سے شروع ہوتاہے ۔ ۵۸۹۱ء میں ان کا داخلہ استنبول یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی میں ہوا اور بی اے سال اول سے ہی فارسی شاعری پڑھنے لگے۔ تیسرے سال تک رودکی، حافظ، سعدی اور رومی وغیرہ کو پڑھ چکے تھے۔ اس دوران شعری ذوق پروان چڑھتا رہا جو آخری سال آتے آتے شاعری کی شکل میں نمودار ہونے لگا۔ مڈل اسکول کے زمانے میں وہاں کے پرنسپل نے ترکی شاعری اور عروض پڑھا کر خلیل طوقار کا شعری وجدان بیدار کیا جو استنبول یونیورسٹی آکر شعری ذوق میں بدل گیا۔ ان پر فارسی شاعری کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ بی اے فائنل میں آتے آتے انھوں نے شاعری شروع کردی۔ چوں کہ یہ ابتدائی مرحلہ تھا بس تسکین ذوق کے لیے شاعری کررہے تھے ۔چناں چہ انھیں محفوظ کرنے کا خیال بھی نہ آیا۔ پھر جب پروفیسر غلام حسین ذوالفقار استنبول یونیورسٹی میں اردوکے استاذ بن کر آئے تو اردو زبان و ادب پڑھنے کا موقع ملا۔ اردو کی شیرینی نے انھیں جلد ہی اپنا گرویدہ بنا لیا اور پھراس زبان کو دلی احساسات و جذبات کا ترجمان بنالیا۔
اردو زبان سے ان کو بچپن ہی میں پیار ہوگیا تھا اور اسی زمانے میں یہ عہدبھی کرلیا تھا کہ اس زبان کو ضرور سیکھنا ہے۔ در اصل بچپن کے دنوں میں خلیل طوقارکے اہل خانہ اور دیگر رشتے دار ہر ہفتے کے اخیر میں فلمیں دیکھنے کے لیے سنیما ہال جاتے تھے۔ ان دنوں مہینے میں ایک دو بار ہندوستانی فلمیں ترکی ڈبنگ کے ساتھ دکھائی جاتی تھیں۔ جب کہ گانے اردو / ہندی میں ہی ہوتے تھے۔ یہ فلمیں وہ لوگ بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ ان گانوں کے بول خلیل طوقار کو اتنے پسندآتے کہ انھیں یاد کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ۔ ساتھ ہی دل میں اس زبان کے سیکھنے کی خواہش بھی شدت سے پیدا ہوتی تھی کہ ’’بڑا ہو کر ان گانوں کی زبان ضرور سیکھوں گا‘‘۔ اسی طرح بارہویں کلاس سے فراغت کے بعد اور استنبول یونیورسٹی سے پہلے باقرکوئے کے ایک انگلش اکیڈمی میں انھوں نے داخلہ لیا۔ یہاں کے اساتذہ میں ایک سکھ خاتون انگریزی پڑھانے کے لیے لندن سے آئی تھی۔ وہ انگریزی کے علاوہ اردو، ہندی اور پنجابی سے بھی واقف تھی۔ کلاس کے دوران کبھی کبھی ان زبانوں کا بھی تذکرہ کرتی رہتی۔ چناں چہ خلیل طوقار کے اندر اردو زبان و تہذیب جاننے کی مزید رغبت پیدا ہوئی۔
ان وجوہات نے اردو زبان کی محبت دل میں جمانے کا کام کیا۔ چوں کہ برصغیر کی زبان و تہذیب سے لگاؤ پہلے ہی سے تھا۔ اس لیے جب پروفیسر غلام حسین ذوالفقار اردو کے استاذ بن کر استنبول یونیورسٹی آئے تو اسباب بھی مہیا ہوگئے اور خلیل طوقار اردو زبان بھی سیکھنے لگے۔ زبان سیکھنے کے بعد انھوں نے ادب کابھی مطالعہ کیا۔میر، غالب اور اقبال کے مطالعے نے اردو شاعری کا شوق جگایا اور شعری سفر پر چل نکلے۔
خلیل طوقار نے بی اے کے بعد پروفیسر غلام حسین ذوالفقار کی نگرانی میں ’’مرزا اسداللہ خان غالب ، زندگی اور آثار‘‘ کے عنوان سے ایم اے کا مقالہ لکھا اور پھر پی ایچ ڈی کے لیے ’’ہندوستان میں فارسی اور اردو شاعری اور بہادر شاہ ظفرکے عہد کے شعرا‘‘ کو موضوع تحقیق بنایا۔ اس درمیان وہ استنبول یونیورسٹی میں اردو کے طلبا کو پڑھاتے بھی رہے ۔ چوں کہ اردوسیکھنے والے ترک طلبا کے لیے ترکی زبان میں قواعدکی اب تک کوئی خاص کتاب دستیاب نہیں تھی۔ اس لیے خلیل طوقار نے اس ضرورت کے پیش نظر ۵۹۹۱ء میں ’’اردو گرامر کی ابتدائی کتاب‘ ‘کے نام سے قواعدکی ایک کتاب لکھی ۔ یہ ان کی پہلی تصنیف ہے جو استنبول سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد اقبال کے منتخب شاعری کا اور تصوف پر مبنی ضیاء الدین نخشبی کی تصنیف ’’سلک السلوک‘‘ کا فارسی سے ترکی زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ دونوں کتابیں ۹۹۹۱ء میں استنبول سے شائع ہوئیں۔ قواعد اور شاعری کے بعد اردو افسانے کی طرف متوجہ ہوئے اور ۰۰۰۲ء میں پریم چند، منٹو اور منشایاد وغیرہ کے منتخب افسانے ’’پاک و ہندکی کہانیاں‘‘ کے نام سے پہلی بار ترکی زبان میں خلیل طوقارنے ترجمہ کرکے ترکی میں متعارف کرایا۔ ۱۰۰۲ء میں انھوں نے اقبال کی کتاب ’’Stray Reflection‘‘ کا اور۲۰۰۲ء میں ان کی فارسی شاعری ’’جاوید نامہ ‘‘ کا ترکی زبان میں ترجمہ کر کے استنبول سے شائع کیا۔ نیز ترکمانستان کے صدر سپر مراد ترکمان باشی کی کتاب ’’ روح نامہ ‘‘ کا ترجمہ اردو زبان میں کیا۔ جو ترکمانستان کی راجدھانی اشک آباد سے ۳۰۰۲ء میں شائع ہوئی ۔
خلیل طوقارنے شاعری کے ذریعے تخلیقی میدان میں بھی قدم رکھا۔ جس کا آغاز تو بہت پہلے ہوچکا تھا تاہم ابتدائی کلام کو محفوظ نہ کیا جاسکا۔ شادی کے بعدجب ان کی اہلیہ آئیں تو انھوں نے خلیل طوقار کے کلام کو محفوظ کرنا شروع کیا اور اب تک چوری چھپے انھوں نے جتنے آنسوبہائے تھے وہ سب ’’ایک قطرہ آنسو‘‘کے نام سے ۳۰۰۲ء میں بزم تخلیق ادب کراچی سے شائع ہوکر منظر عام پر آگئے۔ اس کے دیباچے میں خلیل طوقار اپنے احساسات کی کہانی اس طرح بیان کرتے ہیں ’’میں ترک ہوں۔اردو میری مادری زبان نہیں۔ نہ ہی میں ایک ایسے ماحول میں پیدا ہوکر پروان چڑھا جہاں اردو بولی جاتی ہو۔ میں نے بی اے کی تعلیم کے دوران اردو سیکھنی شروع کی…اس طرح سے میرے دل میں اردوسے محبت سی پیدا ہونے لگی اور یہ محبت زمانے کے ساتھ ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ مجھے شعر و شاعری کا شوق تھا۔ کچھ عرصہ بعداردو سے محبت اور شاعری کے شوق کی آمیزش ہوئی اور غیراختیاری طور پر میرے احساسات اردو کے روپ میں میرے قلم سے نکلنے لگے‘‘۔ ( خلیل طوقار،عرض حال دیباچہ،ایک قطرہ آنسو،بزم تخلیق ادب کراچی، ۳۰۰۲، ص۷۱)
خلیل طوقار کے احساسات کا یہ سفرجاری رہا اور ۷۰۰۲ء میں ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’آخری فریاد‘‘ کے نام سے لاہورسے شائع ہوا۔ لیکن در حقیقت آخری فریاد سے بھی ان کا شعری جذبہ ماند نہیں ہوا اور ان کاتیسراشعری مجموعہ’’پردیسی‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا۔ان کی شاعری میں حمد، نعت، غزل اور نظم سبھی شامل ہیں۔ تاہم ان کی محبوب صنف ’آزادنظم‘ ہے۔ خلیل طوقار کی شاعری شاہین صفت ہے، جو ردیف و قافیہ کی جکڑ بندیوں سے بے نیازخیال کی لامحدود وسعتوں میں پرواز کرتی نظر آتی ہے۔ اس پرواز خیالی نے انھیں اقبال کا گرویدہ بنادیا اور ان سے والہانہ عقیدت نے ’’من ترکی نمی دانم‘‘ کا شکوہ دورکرکے پیام اقبال کو زبان یار(ترکی)عطاکرہی دیا۔ نیز اقبال، ترک اور ترکی کی دو طرفہ محبت و عقیدت کو نہایت تلاش و جستجو کے بعد مستند انداز میں اپنی تحقیقی کتاب ’’اقبال اور ترک (ایک تحقیقی جائزہ) میں بیان کیاہے۔ ان کی یہ عظیم کاوش بزم اقبال لاہورسے ۴۰۰۲ء میں شائع ہوئی۔ ترکی کی عظیم ترین شخصیت صوفی مولانا جلاالدین رومی کی معروف مثنوی کے انتخاب کا ترجمہ خلیل طوقار نے ۶۰۰۲ ء میں ’’مثنوی مولانا جلاالدین رومی۔منتخب کلام‘‘ کے عنوان سے کیا۔
خلیل طوقار کے اندر تحقیق و جستجو کی پیاس اس قدر ہے کہ بجھائے نہیں بجھتی۔ تاریخ کے اوراق کھنگالنا اور قدیم دستاویز میں اپنے کام کی چیزیں تلاش کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی’’جہان اسلام (ترکی کا ایک اردو اخبار)‘‘ ہے جو ۱۱۰۲ء میں مغربی پاکستان اوردو اکیڈمی لاہور سے شائع ہوئی۔ اس تحقیق کے ذریعے خلیل طوقار نے عثمانی عہد میں استنبول سے نکلنے والے اردو اخبارات کی نشان دہی کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق ۰۸۸۱ ء میں ’’پیک اسلام‘‘ نام سے اردو کا اخبار استنبول سے جاری ہوا ۔ اس کے بعد ’’الدستور‘‘، ’’اخوت‘‘ اور پھر ’’جہان اسلام‘‘ ترتیب وار جاری ہوا۔
’’دفتر اعانہ ہند‘‘ خلیل طوقار کا ایک اور اہم تحقیقی کارنامہ ہے، جو ۵۱۰۲ء میں ادارہ تالیف و ترجمہ پنجاب یونیورسٹی سے شائع ہوئی۔ یہ کتاب دستاویزی نوعیت کی ہے ، جس میں عہد خلافت کے وقت ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے کی گئی مالی امدا کی تفصیل ہے۔ خلیل طوقار نے اردو زبان میں اس کو پیش کرکے ہند و ترکی کے قدیم ترین رشتے کو نئی جہت دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ’’ہے سودا جب سے لیلائے خلافت کا‘‘ ہے۔ یہ کتاب اردو کی ان نظموں کے انتخاب پرمشتمل ہے جن میں ترک اور ترکی کا ذکر ہوا ہے۔یہ کتاب۵۱۰۲ء میں سانجھ پبلی کیشنزلاہور سے شائع ہوئی۔ ’’اردو کا مستقبل ‘‘ خلیل طوقار کے فکر انگیز مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں برصغیرکے علاوہ اردو کی نئی بستیوں اور خاص طور سے ترکی میں اردو کو در پیش مسائل اور ان کا حل بیان کیا گیاہے۔ یہ کتاب بھی سانجھ پبلی کیشنز لاہور سے ۵۱۰۲ء میں شائع ہوئی۔
خلیل طوقار نے ترکی ادبیات کو اردو میں متعارف کرانے کی غرض سے ’’جدیدترکی شاعری‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی، جو سانجھ پبلی کیشنز لاہور سے ۹۰۰۲ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے ترکی شاعری کے معمار شعر اکے حالات قلم بندکیے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ نمونہ کلام بھی پیش کیا ہے۔ متقدمین ترک شعرا نے اپنے کلام میں عربی فارسی کے الفاظ اتنی کثرت سے استعمال کیے ہیں کہ انھیں پڑھ کر اردو کے کلاسیکی شعرا یاد آجاتے ہیں اور سوائے چند الفاظ کے ان دونوں کے مابین کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ خلیل طوقار کی یہ کتاب ترکی شاعری کو اردو سے قریب کرنے اور اہل اردو کو اس کے مزاج سے واقف کرانے کی سمت بہت اہم کوشش ہے۔
خلیل طوقار نے ترکی ادبیات کو اردو میں متعارف کرانے کے لیے ترجمے کا سہارا لیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ادب اطفال پر بھی خاص توجہ دی اور ترکی زبان سے بچوں کی کہانیاں اردو میں منتقل کرکے بہت اہم کام کیا۔ جن میں ’’ کیا آپ نے سرخ ہاتھی کودیکھا ہے؟، کہانی خریدنے والا آدمی ، ہر بچے کا ایک ستارہ ہے ،شیر پرندہ ، نازک خانم، ستاروں کا پاؤڈر ، سیب کی تتلی ،ہماری گلی کے بچے ،ننھا شرارتی اسکول میں،جب میں بڑا ہوں گا اورسرخ کلغی‘‘کے عنوان سے گیارہ مجموعے ہیں۔ یہ کتابیں ترکی وزارت تہذیب و سیاحت کے تعاون سے ملٹی میڈیا افیرز لاہور نے ۹۰۰۲-۰۱میں شائع کی ۔ یہ تمام کہانیاں بچوں کی تربیت میں معاون ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں ترکی ادبیات سے دل چسپی بھی پیدا کرتی ہیں۔ نیز ترک بچوں کی نفسیات، مزاج اور کھیل کود سے بھی انھیں واقفیت ہوتی ہے۔ چناں چہ خلیل طوقار کا یہ کام اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفردہے۔ نیز ملانصرالدین کے دل چسپ اور سبق آموز لطائف کو ’’ملانصرالدین‘‘کے نام سے ترجمہ کیا۔ یہ کتاب اردو گھر بہاول پو رسے ۴۱۰۲ء میں شائع ہوئی ۔
خلیل طوقار کا ایک اور اہم کارنامہ ’’ ہندکو گرامر ‘‘ہے۔ یہ زبان پاکستان کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے، جو خیبر پختونخوا، صوبہ پنجاب کے بعض علاقے اور آزاد کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ ہندکو زبان کی تفصیلی گرامر آج تک مرتب نہیں ہوئی تھی۔ خلیل طوقار نے پہلی باراس زبان کے گرامر کو مختلف کتابوں سے اخذ کرکے باقاعدہ کتابی شکل دیا، جسے گندھارا ہندکو بورڈ نے ۳۱۰۲ء میں شائع کیا۔ اس کا دوسر ا ایڈیشن ’’ A Practical Guide of Hindko Grammer‘‘ کے نام سے امریکہ سے۴۱۰۲ء میں شائع ہوا۔
خلیل طوقار نے تعمیری حوالے سے بھی بہت اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال استنبول یونیورسٹی کا شعبہ اردو ہے۔ جب ۴۹۹۱ء میں خلیل طوقار کاتقرر عمل میں آیا تھا اس وقت استنبول یونیورسٹی میں صرف اردو چیئر قائم تھی ۔ تاہم خلیل طوقار کی پیہم مساعی بار آور ہوئی اور یہاں باقاعدہ اردو شعبہ کا قیام عمل میں آیا اور انھیں صدر شعبہ بنایا گیا۔ نیز اسی زمانے سے استنبول یونیورسٹی میں باقاعدہ اردوکے طلباکو داخلہ ملنے لگا۔ چوں کہ اس وقت خلیل طوقار اکیلے اسسٹنٹ تھے۔ اس لیے سارے طلباکو پڑھاناان ہی کے ذمے تھا۔ ساتھ ہی ساتھ ان کاتحقیقی کام بھی جاری رہا۔ انھوں نے طلبا کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے درسی کتابیں تیارکی۔ طلبا میں اردو زبان کے تئیں بیداری پیدا کی اورشعبے کو وسعت بخشی۔ چناں چہ خلیل طوقار کی بدولت یہاں شعبہ کو خوب ترقی ملی اور کئی اساتذہ اوربی ۔اے ،ایم ۔اے کے علاوہ تحقیق کرنے والے طلبا بھی موجودہیں۔
خلیل طوقار نے اردوزبان کی ترویج و اشاعت کے لیے استنبول یونیورسٹی سے ’’ارتباط‘‘ نام کا ایک رسالہ بھی جاری کیا۔جس کے وہ مدیر اعلیٰ ہیں۔ اس رسالے کی اشاعت میں ان کی بے انتہا محبت کا عمل دخل ہے۔خلیل طوقار ’’ارتباط‘‘ کے علاوہ دوسرے ممالک سے جاری ہونے والے علمی و ادبی مجلات کی مجلس مشاورت کے بھی رکن ہیں ان میں زیادہ تر پاکستانی جامعات سے جاری ہونے والے علمی و ادبی مجلات ہیں۔خلیل طوقار کی اب تک تقریبا پچاس کتابیں اردو، ترکی اور انگریزی میں تحقیق، تخلیق اور تراجم کی صورت میں منظر عام پر آچکی ہیں۔ دنیا بھر کے مختلف رسائل و جرائد میں ایک سو پچاس سے زائد مقالات اور سیاسی و سماجی مسائل پر تقریبا دو سو کالم ان تینوں زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ترکی دائرہ معارف اسلام کے لیے بھی مقالات تحریر کیے ۔ ان کی خدمات کا یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔خلیل طوقار نے دنیا بھر میں منعقد ہونے والے کانفرنس میں ترکی کی جانب سے اردو کی نمائندگی کی ہے اور اپنے تحقیقی مقالات پیش کیے ہیں۔چناں چہ ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر ایک درجن سے زائد اعزازات و انعامات ملے۔جن میں پاکستان کا امتیازی ایوارڈ ’’ستارۂ امتیاز‘‘ خاص طور سے قابل ذکر ہے۔
غرض کہ خلیل طوقار ترکی میں مقیم اردو کے نامور محقق، شاعر، ادیب اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ اردوکے شیدائی ہیں۔ ان کی دیوانگی کا عالم یہ ہے کہ ہند و پاک سے ہزاروں میل کے فاصلے پر اردو زبان و ادب کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے ترکی اور ہند و پاک کے قدیم ترین مگر پژمرد ہ رشتے کو تازگی بخشنے میں اہم کردار ادا کیا اور اپنی تخلیقات و تصنیفات اور تراجم کے ذریعے اردو زبان کو ترک اور ترکی میں متعارف کرایا۔ نیز اردو شعر و ادب کو ترکی زبان میں اور ترکی شعر و ادب کو اردو زبان میں ترجمہ کے ذریعے قریب کیا۔ اس طرح دونوں ادبیات کے مابین تقابلی مطالعے کی راہیں ہموار ہوئیں۔ اردو زبان و ادب کی ترقی اور اس کے فروغ و استحکام میں خلیل طوقار نے جو کارنامہ انجام دیا ہے وہ کسی عام فردکے بس کی بات نہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں اور ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔