مضامین

دبستان مر شد آباد کے اردو ادب میں رام نرائن موزوںؔ کا تذکرہ

سیدہ جنیفر رضوی

سیدہ جنیفر رضوی ،سبھاش چندر بوس سینٹنیری کالج ،مرشد آباد ، بنگال میں اردو کی استاد ہیں 

 

دبستان مر شد آباد کے اردو ادب میں رام نرائن موزوںؔ کا تذکرہ

جہان ادب کے گزرے ہوئے روز و شب جو صدیوں میں ڈھل چکے ہیں آج بھی ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ، ان بیتے ہوئے لمحوں کی آغوش میں ایسی ایسی ادبی ہستیاں سانس لے رہی تھیں جن کے ادبی مشاغل کا ذکر تاریخ کے اوراق کرتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اردو شاعری کسی ایک قوم کی میراث نہیں تھی بلا تفریق مذہب و ملّت ہندو مسلم ، سکھ اور عیسائی سب مل کر گیسوئے سخن کو آراستہ کرنے میں مصروف تھے۔ اگرچہ ہندوستان کا انقلاب زدہ سیاسی ماحول اپنی عافیت سے ایک حال پر رہنے نہیں دیتا تھا۔ پھر بھی بادشاہ سے لیکر رعایا تک جن کو ذوق ِ شاعری تھا ان نا ساز گار حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے مشغلہ سخن سے جڑے ہوئے تھے اور اس طرح انہوں نے ادب میں اپنا ایک مقام بنایا جن کا ذکر تاریخ ادب میں محفوظ ہے۔
جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ اس عہد سے لے کر ہندوستان کی آزادی سے قبل تک اردو نہ ہندو تھی نہ مسلمان بلکہ یہ گنگا جمنی تہذیب کی چھائوں میں اپنی مقبولیت کے راگ الاپ رہی تھی۔ اردو کو گلے لگانے اور اردو شاعری پر جان چھڑکنے والوں میں نوابوں کے علاوہ راجہ بھی شامل تھے ان ہی راجاؤں میں ایک نام ’’راجہ رام نرائن موزوں ‘‘کا ہے۔
آپ راجا شتاب رائے جیسی علم دوست اور ادب پرور شخصیت کے ہم عصر اور رائے سرپ سنگھ دیوانہ جیسے استاذِ وقت کے حقیقی ماموں تھے۔ رائے سرپ سنگھ دیوانہ وہ شخص ہیں جن کی شاعرانہ عظمت کیلئے یہی کافی ہے کہ ان کے شاگردوں میں قلندر بخش جرات اور اسی سلسلے کے عظیم شاعر میر شیر علی افسوس جیسے مشہور زمانہ اور اساتذہ وقت گزرے ہیں۔ آپ کو ( راجہ رام نرائن موزوں) عربی ، فارسی ، اردو زبانوں اور علم حساب میں عبور حاصل تھا۔ نظم و نثر لکھنے میں ا?پ کو پوری قدرت و مہارت حاصل تھی۔ آپ نے انشاء پردازی میں بھی جوہر دکھائے ہیں بہر حال آپ کی ادبی زندگی کے بارے میں اب تک زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہو پائی ہیں؛ صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ آپ قابل قدر شاعر تھے۔ تذکرہ نوسیوں نے آپ کا ذکر بڑے احترام سے کیا ہے جس سے آپ کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مثلاً بندرا داس نے اپنے تذکرے ’’ تذکرہ خوشگو ‘‘ میں لکھا ہے۔
’’ ہندی اور فارسی میں شعر گوئی کا سلیقہ رکھتے ہیں نثر بھی بہت پاکیزہ لکھتے ہیں اکثر اوقات اپنے تخلص کی مناسبت سے اشعار بھی موزوں کرتے ہیں۔ تخلص شیخ علی حزیں نے عطا کیا تھا اور ان ہی سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ قلّت وقت کے باوجود اکثر خوب کہتے تھے۔ ‘‘
میر حسن دہلوی نے بھی لکھا ہے کہ
’’ بہت اچھے شاعر تھے ‘‘
آپ کا اسم گرامی رام نرائن اور موزوں تخلص تھا ،آپ مہا راجہ دیوان رنگ لال کے صاحبزادے تھے۔ آپ کا آبائی وطن سہسرام ، موضع کشن پور تھا۔ آپ کی تاریخ ولایت میں ہنوز پردہ ہے ،آپ تاریخ شاعری میں موزوں عظیم آبادی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں لچھمی نارائن شفیق اورنگ آبادی نے ’’ چمستان شعراء ‘‘ میں آپ کو نہ جانے کس بنا پر موزوں شاہجہاںآبادی لکھا ہے !آپ کا تعلق گرچہ بہار کے معروف دبستانِ ادب عظیم آباد(پٹنہ) سے تھا تاہم آپ کی دبستان مرشدآباد کے دربار سے بھی وابستگی رہی تاریخ ہند میں ا?پ کی شہرت نا قابل ِ فراموش ہے۔ آپ مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے بعد صوبہ بہار کے نائب ناظم ہو گئے تھے۔ اور عظیم آباد و بہار پر فرماں روائی کرتے تھے۔ رنگ لال نواب محمد علی وردی خاں مہابت جنگ ناظم بنگال ، بہار اور اڑسیہ کے معتمد دیوان تھے۔ لالہ جانکی رام نایب صوبہ بہار کے مرنے پر ۳۵۷۱ ء میں مہابت جنگ نے راجہ رام نرائن موزوں کو ان کی جگہ پر صوبے دار مقرر کیا آپ کی صوبہ داری ۳۵۷۱ ء سے ۳۶۷۱ء تک رہی۔ مہابت جنگ اور سراج الدولہ کے عہد تک انہوں نے صوبے داری کا انتظام وفاداری کے ساتھ کیا رام نرائن موزوں اپنی قابلیت اور انتظامی صلاحیت کی وجہ سے سراج الدولہ کو بہت عزیز تھے۔ سراج الدولہ کے انتقال کے بعد میر جعفر کی نظامت کے دور میں آپ نے زمانہ سازی اور ظاہر داری سے کام لیا۔
آپ (راجہ رام نرائن موزوں) کے تعلق سے اس بات پر تعجب ہے کہ آپ کی ساری زندگی مخالفین سے بر سر پیکار رہی لیکن جنگ و جدل سے فرصت پا کر آپ کب اور کیوں کر شعر تخلیق کیا کرتے تھے جب کہ تاریخ ادب گواہ ہے کہ ا?پ ریختہ تو بہت صفائی سے کیا کرتے تھے لیکن آپ بنیادی طور پر فارسی کے صاحب دیوان اور خوشگو شاعر تھے ا?پ اردو میں بھی شاعری کیا کرتے تھے لیکن اردو میں آپ کا کلام فارسی کے مقابلے میں نہیں تھا۔ آپ شیخ علی حزیں کے شاگرد تھے۔ حزیں کی شاگردی نے ا?پ کے زبان و بیان پر اتنی گرفت مضبوط کر لی کہ آپ خوب اشعار کہنے لگے؛ گرچہ زیادہ تر اشعار فارسی میں کہے۔ اردو زبان میں آپ نے کم اشعار کہے ہیں ؛لیکن وہی اشعار اردو شاعری کی دنیا میں آپ کو حیات جاوید بخشے ہوئے ہیں۔لہذا اردو کے کچھ اشعاردرج ذیل ہیں جن کو پڑھنے سے آپ کی ذہانت کا علم ہوتا ہے۔

کچھ گرانی نہیں مجھ کو اس ستم گار کے ساتھ
دل پگھل ہی جو پڑا اشکِ سبک بار کے ساتھ
ابر تو خود ہی خجالت سے ہے پانی پانی
کب مقابل ہو مرے دیدۂ خونبار کے ساتھ

آپ کے اردو اشعار کے بارے میں محققین کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ میر حسن دہلوی نے ’’تذکرہ شعرائے اردو ‘‘ میں لکھا ہے ’’ شعر ریختہ کم گفتہ، بلکہ نگفتہ،، یعنی اردو میں موزوں نے کم لکھا ہے بلکہ نہ کے برابر لکھا ہے۔ فصیح الدین بلخی نے بھی ’’ تذکرہ ہندو شعر ائے بہار ‘‘ میں لکھا ہے۔
َ’’ اردو بہت کم لکھتے تھے۔ گنتی کے صرف چند اشعار ان کی طرف منسوب ہیں ‘‘
اختر اور ینوی اپنی تحقیقی کتاب ’’ بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ : ’’ راجا رام نرائن ریختہ بھی بہت صفائی سے کہتے تھے لیکن اس زبان میں انہوں نے بہت کم شعر لکھے ہیں ‘‘لہذا محققین کے اختلافات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موزوں نے اردو میں بہت کم اشعار لکھے ہیں یہی وجہ ہے کہ قاضی عبدالودود نے اختر اور ینوی کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ تین شعر کے مصنف کیلئے ساڑھے آٹھ صفحے وقف کرنا مناسب نہ تھا۔ ‘‘دراصل اختر اور نیوی نے موزوں کا تعارف کراتے ہوئے ان کی شاعری پر صرف ڈیڑھ صفحات لکھے تھے جبکہ سات صفحات ان کی حکومت ، صوبے داری اور سیاسی حالات پر صرف کئے تھے۔ یعنی موزوں کی اصل شناخت ان کی صوبے داری ہو سکتی ہے یا ان کی فارسی شعر گوئی۔ اردو زبان میں انہیں جو شہرت حاصل ہوئی ہے وہ صرف ایک شعر کی بنا پر جو انہوں نے نواب سراج الدولہ کے مقتول ہونے کی خبر سن کر کہا تھا۔ یہ قصّہ سب سے پہلے میر حسن نے اپنے تذکرہ میں بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’ در وقتیکہ خبر شہید شدن سراج الدولہ در شیر افتا دہماں وقت للبد یہ ایں شعر می خواند ‘‘

غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانا مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گزری
کوئی رندوں سے پوچھے ایک ساقی کے نہ ہونے سے
مئے و مینا پہ کیا بیتی ہے میخانے پہ کیا گزری
کوئی تو تبصرہ یارو ! گداز شمع محفل پر
یہی سب کی زباں پر ہے کہ ویرانے پہ کیا گزری
یہ سچ ہے دل کو راہ عشق میں سمجھا لیا موزوںؔ
مگر یہ کون جانے دل کے سمجھانے پہ کیا گزری

کچھ محققین کا یہ ماننا ہے کہ یہ اشعار موزوںؔ کے نہیں ہیں بہر کیف مختلف تذکروں میں جو آپ کے اشعار پائے جاتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں
’’ دبستان شعراء ‘‘ میں ہے !

کچھ گرانی نہیں مجھ کو وہ ستم گار کے ساتھ
دل پگھل جو ہی پڑا اشک سبک بار کے ساتھ
’’ تذکرہ گلزار ابراھیم ‘‘ میں ہے !
ابر تو خود ہی خجالت سے ہے پانی پانی
کب مقابل ہو مرے دید ۂ خونبار کے ساتھ
’’ تاریخ شعرائے بہار ‘‘ میں ہے !
پھولی نہیں ہے مجھکو پتوں کی ادا ہنوز
دل کے نگیں پہ نقش ہے نام ِ خدا ہنوز

سید حسن رضا ثاقب عظیم آبادی نے اپنی کتاب ’’ عظیم آباد پٹنہ کی گزشتہ ادبی محفلیں ‘‘ میں بھی ایک شعر موزوںؔ سے منسوب کیا ہے۔

زلف و رخسار دیکھتا ہوں
کیا لیل و نہار دیکھتا ہوں

ان اشعار کے علاوہ ایک ’’دوہا‘‘ بھی آپ کے نام سے ملتا ہے جو پروفیسر حسن عسکری کو پٹنہ سیٹی کی ایک قلمی بیاض سے ملا ہے اس ’’ووہے‘‘ کی کہانی یہ ہے کہ جب میر جعفر کی معزولی کے بعد میر قاسم کو انگریزوں نے بنگال ، بہار اور اڑسیہ کی مسند نظامت پر (۴۶۔۱۶۷۱) بٹھایا۔ اس زمانے میں انگریزوں نے شاہ عالم ثانی بادشاہ سے صلح کر لی۔ مہا راجہ شتاب رائے بیچ میں پڑے اور بادشاہ یہ نفس نفیس شہر عظیم آباد تشریف لائے اور انگریزی کوٹھی جو آج گلزار باغ میں ’’سروے آفس‘‘ سے جانا جاتا ہے میں ان کی تخت نشینی کا انتظام ہوا۔ میر قاسم راجہ رام نرائن موزوںؔ کے باغ میں خیمہ زن ہوئے اور ان کے فوجیوں نے باغ کے درختوں کو نقصان پہنچانا شروع کیا تو موزوںؔ نے برجستہ ایک ہندی دوہا کہا۔

امبا امرت پھل دیت ہیں سدادیت ہی مون
نا برسنے نا ہر ملے باگ بیرئے کون

اس بیاض میں پروفیسر حسن عسکری کو چند اشعار اور ملے جن کے بارے میں اختر اورینوی نے لکھا ہے کہ یہ اشعار موزوںؔ نے اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے کہے تھے۔ بادشاہ شاہ عالم کی واپسی کے بعد میر قاسم نے رام نرائن موزوں اور راجہ شتاب رائے وغیرہ سے حساب کتاب لیا۔ شتاب رائے تو بے قصور ثابت ہو کر میر قاسم کی حکومت سے نکل گئے مگر موزوں اور ان کے بعض رفقا اسیر کر دئے گئے۔ کچھ دنوں کے بعد میر قاسم کی انگریزوں سے بھی سخت لڑائی ہوئی اور پیچیدگی و سازش نے حالات اتنے خراب کر دیئے کہ انہیں ۳۶۷۱ ء میں مونگیر سے عظیم آباد کی طرف فرار ہونا پڑا۔ اس راستے میں باڑھ کے قریب پہنچ کر انہوں نے اسیروں کو غرق دریا کر دیا یا قتل کرا دیا۔ اختر اورینوی نے’’ سیرالمتاخرین‘‘ اور ’’ریاض السالمین‘‘ کے حوالے سے لکھا ہے کہ راجہ نرائن موزوںؔ کے گلے میں ریت سے بھرا گھڑا باندھ کر انہیں گنگا میں ڈبا دیا گیا تھا۔ جس وقت رام نرائن موزوں کو گنگا میں غرق کرنے کے لئے کشتی پر بیٹھا کر لے جانے لگے تو انہوں نے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے :

موذیوں کے قول پر ہر گز نہ کیجئے اعتبار
چونک اگر مٹی ملے تو بھی لیو پیتی رہے
چادر تقدیر کی ہر گزر قو لہوتی ہیں
تا قیامت سوزن تدبیر گرستی رہے
لیبل ہے درد کو مطلب ہے کیا پروانے سے
وصل میں مر جائے یہ وہ ہجر میں جیتی رہے

’’تذکرہ صبائے گلشن‘‘ میں لکھا ہے کہ موت سے مایوسی کے عالم میں پائی مطلب کیا جب پانی کا پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا گیا تو بڑے تامل سے دیکھا اور ایک قطرہ بھی نہ پیا اور یہ شعر بے ساختہ ان کی زبان پر جاری ہوا اور پانی زمین پر گرا دیا۔

محروم رفت از تو لب ِ تشنہ حسین
اے آپ خاک شولہ ترا ابرو نما ند

یقیناً آپ کے تمام اشعار معیاری ہیں اور ’’ ادبی حیثیت ‘‘ رکھتے ہیں۔ اردو تذکروں میں آپ کو نائب ناظم صوبہ بہار ہونے کے ناطے صوبہ بہار کا شاعر قرار دے دیا گیا ہے؛ لیکن یہ درست نہیں ہے کیونکہ ان دنوں بہار کوئی الگ ریاست نہیں تھی بلکہ وہ بنگال کا ہی ایک حصّہ تھا اور نواب مرشدآباد کے تحت تھا۔ تو پھر یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ راجہ رام نرائن موزوں? دبستان مرشدآباد کے ایک اہم شاعر تھے۔
بہر حال آپ نے اردو میں شعر بہت کم کہے ہوں لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آپ فارسی کے صاحب دیوان شاعر تھے۔ اس کے علاوہ سخن سنج ، علم دوست اور شعر و ادب کو اپنے صوبے میں فروغ دینے کا جذبہ رکھنے والے شاعر تھے۔ وہ ناظم ریاست ہونے کے سبب زیادہ تر اوقات مملکت داری میں گزارتے تھے لیکن شعر و سخن سے دلچسپی کے باعث نہ صرف خود شاعری کرتے تھے بلکہ شعراء کی قدر بھی کرتے تھے۔ آپ نے گرچہ اردو اشعار بہت کم کہے ہیں مگر یہی اشعار دبستان مرشدآباد میں اردو کے غیر مسلم شعراء کی تاریخ میں آپ کو اولیت بخشتے ہیں۔ دبستان مرشدآباد کے غیر مسلم شعراء کی جب بھی تاریخ لکھی جائیگی تو وہ آپ سے ہی شروع ہو گی۔ آپ کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وقت کی تنگی کے سبب خود شعر کہنے کا موقع اگرچہ کم ملا مگر آپ نے شعر و ادب کے فروغ میں ضرور دلچسپی لی اور اپنے عہد نظامت میں شاعروں اور فنکاروں اور صناعوں کی قدر دانی میں کوئی کمی نہیں کی۔
بہر حال یہاں یہ وضاحت کر دینے کی ضرورت ہے کہ آپ بنیادی طور پر فارسی کے شاعر تھے۔ فارسی میں آپ کا مطبوعہ دیوان آج بھی موجود ہے جو ۴۸۳ صفحوں پر محیط ہے۔ آپ کی فارسی شاعری کے اسلوب اور مضامین میں مائب ، نظیری ، بیدل اور آرزو کا رنگ دکھائی دیتا ہے مثال کے طور پر آپ کے فارسی کلام کے کچھ اشعار درج ذیل ہیں :

روشن بود ہبزم خموشی بیان ما

چوں شمع سوخت نالہ ماہر زبان ما
خوں در جگر نما ند د خد نگے تو می رسد

حیف است ایں کہ تشنہ رو و میمان ما
عمرے ست بر سگان درست وقف کردہ ایم

در قسمت ہما نبود استخوان ما
از بخت نار نرسد تا بگوش یار
موزوںؔ پر است گرچہ از فغان ما
دی شب کہ کار بلبل دل آہ و نالہ بود
خان جگر بہ مردم چشم حوالہ بود

گرچہ بر روے تو چوں آئینہ حیراں گشتم
یک از عکس رخش رشک گلستاں گشتم
در چنیں فصل کہ ہر خار چمن گل گردید
بخت بدہیں کہ من از نالہ سراپاں گشتم
تا سخن ہاے من از فیض حزیں موزوںؔ شد
غزل شہرہ و محسود ہزا راں گشتم
دل خواستم کہ اشک تماشا شود نشد
مید قطرہ بود کہ دریا شود نشد
گم گشت دل بکوے تو از دستِ بیخودی
ہر چند خواستیم کہ پیدا شود نشد
دیگر کجاست چشم زبیگا نگاں مرا
یک لخط خواستیم دل از ما شود نشد
موزوں تمام عمر دریں ا?رزو گذشت
کا رام قسمتِ دل شیدا شود نشد
تا کرد سوزِ عشق بجا نم سرایتے
چوں شمع نیست گریہ مارا نہایتے
موزوںؔ بسوئے سیکدہ ہر گہ کہ۔۔۔۔
ز ماست التجا وز ساقی عنایتے

رباعی

مے نوش کہ عمر جادرانی ایں ست
خوشتر بہ ہزار کامرانی ایں ست
ہنگام گل است درئے یا راں سر مست
خوش باش دمے زندگانی ایں ست

****

Syeda Jenifar Rezvi
Email Id : syedarezvi@yahoo.com