انٹر ویوز

قاضی عبدالستار سے گفتگو

قاضی عبدالستار سے گفتگو

معروف ترقی پسند فکشن نگار پروفیسر قاضی عبدالستار 16جولائی 1930کو مچہرہٹہ، سیتا پور، اترپردیش میںایک زمیندار گھرانے، قاضی عبدالعلی کے یہاں پیدا ہوئے۔ راجا رگھوور دیال کالج سیتا پور سے 1948 میں ہائی اسکول اور 1950میں انٹر میڈیٹ کرنے کے بعد لکھنؤیونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ 1952میں بے اے آنرز اول درجے میں پاس کیا اور 1954میں ایم اے میں ٹاپ کیا۔ ایم اے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں ’’اردو شاعری میںقنوطیت ‘‘کے موضوع پر ایک بھرپور تحقیقی مقالہ لکھا جس پر انھیں پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی۔ ریسر چ کے دوران 1956میںہی آپ کا تقرر بحیثیت عارضی لیکچرر شعبہ اردو مسلم یونیورسٹی میں ہو گیا تھا۔1961سے مستقل لیکچرر ہوئے، 1967سے ریڈر اور 1980سے پروفیسر کی حیثیت سے درس و تدریس میں اپنی علمی خدمات انجام دیتے رہے اور 1993میں سبکدوش ہوگئے ۔

1936میں شروع ہونے والی ترقی پسند ادبی تحریک نے پروفیسر قاضی عبدالستار کو بہت جلد متاثر کیا جس کے نتیجے میں وہ طالب علمی کے زمانے سے ہی اس انجمن کی ادبی نشستوں اور پروگراموں میں شریک ہو نے لگے تھے۔ سید احتشام حسین اور ڈاکٹر محمد حسن ان کے خاص اساتذہ میں سے تھے۔ 1946میں ان کا پہلا افسانہ ’’اندھا ‘‘ شارب لکھنوی کی ادارت میں لکھنؤسے شائع ہونے والے رسالے ’’جواب ‘‘میں آدھا صفحے کے ادارتی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا تھا ۔حالانکہ قاضی صاحب نے اپنی ادبی زندگی کی شروعات شاعری سے کی لیکن انھوں نے بہت جلد شاعری سے اپنا رشتہ توڑ لیا  اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ انھیں بہت جلد اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ فکشن کے لیے بہت مناسب ہیں ۔پرفیسر قاضی عبدالستار کاپہلا ناول ’’ شکست کی آواز ‘‘ منظر عام آیا جو بعد میں ’’دود چراغ محفل ‘‘ اور ’’ پہلا اور آخری خط ‘‘ کے عنوانات سے بھی شائع ہوا ۔یوں تو قاضی عبدالستار نے پیتل کا گھنٹہ ،رضو باجی ،مالکن ،ٹھاکر دوارہ اور آنکھیں جیسے کئی یادگار افسانے تخلیق کیے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک ممتاز ناول نگار ہیں اور وہ ناول نگارکی حیثیت سے زیادہ مقبول اور معروف ہوئے َ۔شب گزیدہ ،مجو بھیا ،غبار شب ،بادل ،صلاح الدین ایوبی ،داراشکوہ ،غالب، حضرت جان اور خالد بن ولید ان کے مشہور ناول ہیں ۔

پروفیسر قاضی عبدالستار کو اس دوران کئی ایوارڈز اور انعامات سے بھی نوازہ گیا ۔ 1973میں پہلا غالب ایوارڈ برائے فکشن ،1974میں پدم شری، نام پتر ،نیشنل ایوارڈ ،میر ایوارڈ ،عالمی ایوارڈ، گیانیندر ایوارڈ ،شان سر سید اور اتر پردیش اردو اکادمی ایوارڈ ،بہادرشاہ ظفر ایوارڈ برائے فکشن دہلی اردو اکادمی ایوار ڈ کے علاوہ آپ کو کئی دیگرانعامات پیش کیے گئے ۔

سوال : آپ کا کہنا ہے کہ موجودہ تہذیب کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے لہٰذا اسی کے حوالے سے میرا پہلا سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج استاد اور شاگرد کے درمیان کشیدگی،ابن الوقتی اور مفاد پرستی پیدا ہو گئی ہے؟ آپ کا دور کیسا تھا ؟

جواب : پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ میرے زمانے میں میرے استاد جو تھے ،وہ بہت ریزرو اور بہت ہی نستعلیق تھے ۔مثال کے طور پر پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب،پروفیسر نورالحسن ہاشمی، پروفیسر احتشام حسین،پروفیسر آل احمد سرور، ان لوگوں تک پہنچنا ایک قیامت ہوا کرتی تھی۔ میں نے بی اے آنرس ٹاپ کیا، ایم اے میں ٹاپ کیا لیکن میرے پروفیسر نے ایک بار بھی کچھ نہیں کہا،بس یہ کہہ دیا کہ تم کو گولڈ میڈل ملا خوشی ہوئی بس۔ در اصل ان کو ہمارے وجود سے کوئی دلچسپی نہیں تھی،ان کی دلچسپی صرف یہ تھی کہ ہم بہترین لیکچر دیںجس سے طلبہ فیض یاب ہوں۔اور اس کام کو وہ اپنا فرض سمجھتے تھے کہ ان لڑکوں کے علم وفضل کو ایک سطح عطا کرنی ہے۔یہی حال نور صاحب کا تھا اور یہی حال احتشام حسین صاحب کا تھا۔ وہ ذاتی گفتگو نہیں کرتے تھے ۔وہ کبھی ڈرائنگ روم میں آپ کو پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ آئیں۔یہ تو مجھے ایک دوبار شرف حاصل ہوا کہ انھوں نے میرے ساتھ کافی پی لی کافی ہائوس میں ورنہ —اس کے مقابلہ جب میں علی گڑھ آیا تو سناٹے میں رہ گیا کہ پروفیسر رشید احمد صدیقی جیسا نام، ان کے پاس لڑکے چلے آ رہے ہیں۔میں ملنا چاہتا ہوں ۔اچھا اچھا آئیے۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ نہ ملیں۔ایک دو جملے انھوں نے مزاحیہ کہے اور پھر بات کرنے لگے۔یہ جو قربت تھی اس نے تہذیب کو بڑا نقصان پہنچایا ۔فاصلہ ضروری ہے،جس طرح ایک گاڑی کے پیچھے دوسری گاڑی چلتی ہے تو گاڑی پر لکھا ہوتا ہے ’’ کیپ ڈسٹنس‘‘۔میرا خیال ہے اسی طرح استاد کو بھی اپنے شاگروں کے ساتھ ایک ڈسٹنس رکھنا چاہیے۔ اور ان کو وقتاً فوقتاً بتانا چاہیے کہ میاں یہ جو بات آپ کر رہے ہیں یہ آپ کی تہذیب کے خلاف ہے تاکہ آپ ان کریج ہوں ۔آپ کو غصہ نہ آئے۔ سمجھ رہے ہیں نہ میری بات۔یہ ڈسٹنس کو مین ٹین رکھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔جیسا کہ ابھی میں نے دو تین مضامین پڑھے جے این یو کے بارے میں کہ استاد کے پاس ایک لڑکا ملنے آیا،چائے پلائی اور گپ کی اور سب کچھ پوچھا اور پھر کہا کہ آپ نے کچھ کام نہیں دکھایا تو لڑکے نے جواب دیا سر آپ میرے گائیڈ نہیں ہیں۔تو یہ جو بے نیازی ہے،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمیں قطعاً اپنے ریسرچ اسکالرز سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ہم اس کے کام کے تئیں دلچسپی نہیں رکھتے۔یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ آپ بالکل بری الذمہ ہو جائیں اور یہ بھی نہ ہو کہ بغیر چائے پلائے نہیں جانے دیں۔ پروفیسر ابن کنول ، سید محمد اشرف،طارق چھتاری یہ سب میرے چہیتے شاگردوں میں سے تھے لیکن جب میں بلائوں تب آپ آئیں گے۔یہ نہیں کہ بغیر بلائے سلام علیکم۔نو نو نونو؟ یہ کوئی وہ نہیں ہے۔تو میں اس تہذیب کا علمبردار ہوں۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ میری کتاب پر تبصرہ کرتے وقت سید حامد صاحب جو ہمارے وائس چانسلر تھے اور جن کا میں ہمیشہ احسان مند رہوں گا کہ جنھوں نے بغیر انٹرویو لیے ہوئے مجھے پروفیسر شپ آفر کی،انھوں نے ایک جملہ لکھا ہے کہ قاضی عبدالستار غروب ہوتی ہوئی تہذیب کے نمائندے ہیں۔مجھے اس جملہ پر فخر ہے،ناز ہے۔ اور میں جو کہہ رہا ہوں وہ یقینا غروب ہو رہی ہے لیکن کوئی ایک تو مضبوطی سے پکڑے رہے۔

سوال : آپ نے ابھی اپنے جن اساتذہ کا نام لیا وہ سب کے سب نقاد تھے لیکن باوجود اس کے آپ فکشن کی طرف آئے۔اس کی کیا وجہ تھی ؟

جواب :میں پہلے شاعر تھا اور میرا تخلص تھا صہبا مچہرٹھوی ۔ہمارے دادا کے ایک خرد تھے بابو گرچرن لال شیدا نگینوی،انھوں نے مجھے تخلص دیا تھا اور میری غزلیں وہ اتنی بناتے تھے کہ وہ ان کی معلوم ہوتی تھیں۔مشاعر ے میں جب میں پڑھتا تھا غزل پر داد مجھے ملتی تھی اور لوگ دیکھتے ان کی طرف تھے تو میں بڑی انسلٹ محسوس کرتا تھا۔جیسے ہی میں بی اے میں داخل ہوا صہبا مچہرٹھوی کو سولی پر چڑھا دیا اور میں نے سال دو سال بعد شاعری ہی چھوڑ دی۔ اس لیے کہ میرے اساتذہ نے مجھ سے کہا مثال کے طور پر سب سے پہلے مسعود حسن رضوی ادیب نے مجھ سے نہیں کہا بلکہ اپنے بیٹے پروفیسر اختر سے کہا جو پیشاور یونیورسٹی میں فارسی کے صدر شعبہ بھی رہے کہ قاضی سے تم کہو وہ تمہارے دوست بھی ہیں کہ وہ جی جان سے ناول پر لگیں۔دو کشتیوں پر سوار مت ہوں،نہیں کر پائیں گے کچھ،کیوں کہا انھوں نے مجھے نہیں معلوم۔پھر میںنے ایک ناول لکھا جب میں بی اے آنرس میں تھا 1953میں،ہاشمی صاحب کو دکھلایا لیکن مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب صاحب کو دکھلائوں،ہاشمی صاحب ذرا نرم خو،نرم مزاج تھے،نرم کلام بھی تھے،ان کے پاس میں گیا کہ سر یہ میرا ناول ہے دیکھ لیجیے آپ،اگر کسی قابل ہو تو میں شائع کرائوں یا آپ شائع کرا دیجیے۔ دوسرے دن ان کا چپراسی میرے ہاسٹل آیاکہ سر نے آپ کو یاد کیا ہے۔میں شام کو سیدھا گیا۔فوراً مجھے دیکھ کر انھوں نے کہا ’’ آئو قاضی آئو۔ پہلی بار مجھے شرف حاصل ہوا کہ انھوں نے مجھے قاضی کہا او ر آئو بھائی آئو کہا۔ فارمل نہیں تھے وہ۔مجھے بڑی خوشی ہوئی۔اچھا ناول لکھا ہے۔میں چھپوائوں گا اسے،بس میں یہ بتانے کے لیے میں تم کو یہاں بلایا ہے کہ اس میں دو ایک غلطیاں ہیں جو تم نے کی ہیں وہ تم خود درست کرو۔آپ نے ڈیگوں لکھا ہے جو لفظ دیغ ہے۔ گ نہیں ہے غ ہے ۔میں نے کہا مگر سر میں نے جو سنا وہ لکھ دیا۔ بس اسی لیے تو بتایا ہے آپ کو۔انھوں نے خود قلم نہیں لگایا بلکہ مجھ سے بولے تم خود درست کرو ۔اسی طرح ایک اور لفظ تھا جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے وہ آئوٹ آف کنٹیکس تھا ۔کوئی لفظ خوبصورت تو ضرور تھا جو انھوں نے کہا کہ یہ لفظ بہت بھاری لفظ ہے ۔

                                اس طرح میں ناول کی دنیا میں داخل ہوا۔اور آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ وہاں کے پبلشر شمس لکھنوی نے شائع کیا تھا وہ ابھی زندہ ہیں اور کئی بار مجھے کھانے پر بلا چکے ہیں۔انھوں نے مجھے تین سوروپے دیے تھے۔اس وقت سونا ایک سو چالیس روپے تولہ تھا۔آپ سوچیے کہ اس وقت وہ کتنی بڑی رقم تھی اور لیکچرر کی تنخواہ اس وقت تین سو روپے تھی تب مجھے تین سوروپے ملے تھے۔تو تین چار دن تک مجھے نشہ طاری رہا۔اس لیے نہیں کہ ناول میں نے لکھا ہے اتنی بڑی رقم مجھے ملی ہے۔بس وہیں سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ دیا۔معلوم ہے پہلا ناول شکست کی آواز جو میں نے لکھنؤ میں چھپوایا تھا یہ پوری ایک کہانی ہے،لمبی ہو جائے گی بات میں بہت ہی مختصر کر دوں۔پہلے آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ نقوش کا جو ایڈیٹر تھا طفیل وہ چھپی ہوئی چیزیں نہیں چھاپتا تھا۔وہ اتنا سخت تھا وہ کرشن چندرسے بھی یہ کہہ دیتا اگر وہ تحریر اپنے معیار کے مطابق نہیں پاتا تھا کہ کرشن جی یہ افسانہ تو آپ نے شمع کے لیے لکھا تھا غلطی سے مجھے دے دیا،میرا افسانہ کہاں ہے۔یہ تھی تہذیب۔ اور وہ سمجھ جاتے تھے کہ یہ کیا کہنا چاہتا ہے۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ قاضی تمہارا وہ ناول ٹھیک سے اشاعت نہ ہونے کی وجہ سے برباد ہو گیا۔اس میں آنسو دکھائیں، اس کا ڈسکور بہت ہی خراب بنایا ہے۔انھوں نے کہاکہ تم اسے اپنے ہاتھ سے لکھ کر لے آئو۔میں لکھ کر لے گیا انھوں نے محمد طفیل کوبھیجا مجنون گورکھپوری کے پاس اور یہ لکھا کہ یہ چھپ چکا ہے تم پڑھ لو اور اگر اس قابل ہو تو شائع کر دو۔وہی پہلا ناول تھا جو دوبارہ شائع ہوا اور جسے نقوش نے شائع کیا ’’دود چراغ محفل‘‘ کے نام سے۔دود چراغ محفل نام رکھا مجنون گورکھپوری صاحب نے قرۃ العین حیدر نے ان کو خط لکھا کہ یہ کون بزرگ ہیں ان کا جغرافیہ بھیجئے۔تو محمد طفیل نے وہ خط مجھے بھیج دیا کہ آپ بزرگ صاحب جواب دیجیے۔تو میں نے انھیں خط لکھ کر جواب دیا کہ ابھی تو میں اسٹوڈنٹ ہوں۔ اور وہ ناول آپ کو پسند آیا یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔اس کے بعد قرۃالعین حیدر سے میرا تعلق خاطر پیدا ہو گیا اور وہ ڈپارٹمنٹ آئیں جب تو انھوں نے مسعود حسن رضوی صاحب سے کہا کہ یہ قاضی عبدالستار کون ہیں۔تو میں اس وقت کلاس لے رہا تھا تو مجھے فورا انھوں نے چپراسی بھیج کر بلایا کہ کلاس ولاس چھوڑ دیجیے در اصل وہ بہت ہی بد دماغ خاتون تھیں قرۃالعین حیدر، معلوم ہے آپ کو ،ان کے لیے مشہور ہے کہ ساحر لکھنوی کی ممبئی میں ایک بار ان سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے قرۃالعین حیدر سے کہا کہ میں ساحر ہوں تو انھوں نے کہا کہ ہوگے آگے بڑھو ۔

                                ایک پروفیسر ہیں، اس وقت وہ لیکچرار تھے، انھوں نے قرۃالعین حیدر سے بات کرنی چاہی تو انھوں نے کہا کہ آپ شاعر ہیں، میں ناول نگار ہوں پھر کیا کریں گے بات کرکے۔ یہ کہنا منہ پر بہت بڑی تھی۔خیر میں آ گیا، پھر کیا موصوفہ سے گھنٹو ں باتیں کیں۔شب گزیدہ میں میں نے انھیں سے فلیپ لکھوایا۔میں رشید صاحب سے لکھوا سکتا تھا،میں نور ہاشمی صاحب سے، احتشام حسین صاحب سے،سرور صاحب سے، کسی سے بھی کہتا،خدا کی قسم وہ لکھ دیتا لیکن میں نے لکھوایا قرۃالعین حیدر سے اور انھوں نے میرے بارے میں مشہور جملہ لکھا کہ’’ قاضی عبدالستار سے بہتر ناول قاضی عبدالستار ہی لکھ سکتے ہیں‘‘۔ تو ایک ناول کا اثر یہ ہوا۔آپ کو سن کر حیرت ہوگی کہ جو میرا پہلا ناول تھا وہ سات زبانوں میںترجمہ ہوکر شائع ہوا۔بابا ناگارجن نے اس پر سیمینار کیا اور مجھے علی گڑھ کے اس سیمینار میں بلایا اور مجھے تام پتر دیا اس سیمینار میں جو میرے پا س اب بھی موجود ہے۔جب یہ ناول انھوں نے ہندی میں چھاپا تواس کا نام رکھا ’’پہلا اور آخری خط‘‘ مجھ سے اجازت لے کر چھاپ دیا اور اس کے فلیپ پر لکھا کہ ’’ہندی کے وہ لوگ جو دیہات پر لکھنا چاہتے ہیں انھیں یہ ناول ٹیکسٹ بک کی طرح پڑھنا چاہیے وغیرہ وغیرہ۔اس سے ظاہر ہے کہ میں شاعری کی طرف کیوں متوجہ ہوتا،اتنا آنر مجھے ایک ہی ناول میں مل گیا تھا۔

سوال : قاضی صاحب آپ نے تاریخی ناول بھی لکھے ہیں اور جہاں تک میرا خیال ہے عبدالحلیم شرر کے بعد اگر کسی نے تاریخی ناول لکھا ہے تو وہ آپ ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے تاریخی ناول کی طرف اپنی توجہ مرکوز کی؟ شرر کے سلسلے میں تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ 1857کے بعد ایسے حالات پیدا ہو گئے تھے کہ شرر کو مجبورا ماضی کی طرف دیکھنا پڑا،آپ کے سامنے کیا مجبوری یا ضرورت تھی۔ آپ نے تاریخی ناول کیوں لکھے ؟

جواب: میرے ساتھ کوئی مجبوری نہیں تھی۔میرا خیال تھا کہ یہ جو ناول لکھے گئے ہیں جن میں عبدالحلیم شرر وغیرہ کے ناول شامل ہیں،یہ ناول نہیں لکھ رہے تھے بلکہ یہ لوگ مسلمانوں کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے کے لیے تحریریں پیش کر رہے تھے۔اس کی بہت تعریف کی جاتی ہے میں اس ناول کا نام بھول رہا ہوں۔

سوال  : فروس بریں

جواب : نہیں !نہیں! وہ تو بہت معمولی ناول ہے،میں اس کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ ایک اور ہے خیر میں پھر نام بتا دوں گا۔سرور صاحب نے بھی اس کی تعریف کی ہے مگر وہ بھی معمولی ناول ہے۔در اصل میرا مقصد تھا کہ اردو کے پاس ایسا ناول ہونا چاہیے جیسا کہ اسکاٹ یا دوسرے ناول نگاروں نے تاریخی ناول لکھے ہیں جو اب تک اردو میں نہیں تھا۔میرے اوپر یہ نشہ سوار تھا اور میں نے لکھا اور خدا کا شکر ہے۔آپ کو سن کر حیرت ہوگی۔میرا ’’صلاح الدین ایوبی‘‘ پہلا تاریخی ناول ہے جو کہ داراشکوہ کے بعد چھپا لیکن ہے وہ میرا پہلا تاریخی ناول اور اسی ناول پر فکشن کا پہلا غالب ایوارڈ مجھے ملا جو غالب ایوارڈ کمیٹی نے دیا کہ جس کی چیئرپرسن اندرا گاندھی تھیں،وائس چیئرمین فخرالدین علی احمد تھے اور سکریٹری قاضی عبدالودود تھے۔اس وقت فخرالدین علی احمد صاحب صدر جمہوریہ نہیں بلکہ وزیر تھے۔ غالب ایوارڈ کمیٹی کے ممبران میں یوسف سہیل خاں صاحب اور بیرسٹر نور الدین صاحب شامل تھے۔یہ تینوں لوگ ایک زمانے میں آکسفورڈ میں پڑھتے تھے اور فکشن ان کی اسپیشل اسٹڈی تھی۔تو انھوں نے مجھے خط لکھا اور قاضی صاحب نے لکھا کہ متفقہ طور پر پہلا غالب فکشن ایوارڈ آپ کو دیا جارہا ہے۔تو آپ سوچیے کہ اس رات مجھے نیند آئی ہوگی؟آپ یقین مانیے عزیزم مجھے اس رات نیند نہیں آئی۔ پیسے کا مسئلہ نہیں تھا۔الحمداللہ اس کی کبھی کمزوری نہیں رہی، خدا نے مجھے دولت دے رکھی تھی،اور اب بھی دے رہا ہے اور مجھے توقع ہے کہ مستقبل میں بھی دیتا رہے گا۔آنر کی وجہ سے میں سو نہیں سکا۔اس خط میں اتنی تعریف لکھی تھی جس کا ذکر میں یہاں انکساری کی وجہ سے نہیں کر رہا ہوں۔اچھا! وہ خط میرے پاس نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ثبوت دیجیے اور مجھے ایسی بات کرنی بھی نہیں ہے۔ یہ تو چھپا ہوا موجود ہے اور ان لوگوں کی زندگی میں چھپا تھا کہ متفقہ طورپر فیصلہ ہے کہ غالب کا پہلا فکشن ایوارڈ قاضی عبدالستار کو دیا جائے۔ تو پہلے میرے تاریخی ناول کو جب یہ شرف ملا تو مجھے دوسرے تاریخی ناول لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔میں نے دوسرا تاریخی ناول دارا شکوہ لکھا۔دارا شکوہ نے ہنگامہ کر دیا۔ہندی میں اس پر خوب چھپا۔پھر مجھے غالب پر لکھنے کا شوق ہوا۔مجھے غالب پر ناز نہیں ہے بلکہ غالب کی زبان پر ناز ہے۔کوئی مائی کا لعل لکھ نہیں سکتا اس زمانے میں۔

سوال : غالب کے بارے میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ آپ سے یہ ناول لکھوایا گیا ہے؟

جواب :ہاں لکھوایا بھی گیا ہے۔لیکن میں اس کی زبان کے لیے دعویٰ کرتا ہوں۔ کوئی صاحب ایک صفحہ لکھ کر دکھا دیں مجھے۔بھائی چھاپنے کے لیے ہر آدمی موجود ہے۔پھر مجھے ناز ہے اپنے تاریخی ناول ’’خالدبن ولید‘‘پر۔ایک اوربات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ میرے چاروں ناولوں کی زبانیں الگ ہیں۔ اردو میں کوئی ایسا ادیب بتا دیجیے سب رس سے لے کر آج تک جس کے چار ناول ہوں یا چار کتابیں ہوں اور ان چاروں ناولوں کی زبان یا اسٹائل الگ الگ ہو۔میرے پڑھنے والے جانتے ہیں۔میرے دشمن نقاد بھی جانتے ہیں، میرے دوست نقاد بھی جانتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دوست نقاد لکھتے نہیں ہیں اور دشمن نقاد میرے خلاف لکھتے رہتے ہیں۔لیکن مجھے کوئی افسوس نہیں ہوتا۔اس لیے دوست کی تعریف اور دشمن کی تنقیص بے معنی ہے۔

سوال : قاضی صاحب ابھی آپ نے سیمینار میں جدیدیت،مابعد جدیدیت اور ترقی پسندی کے حوالے سے بات کی تھی، خاص طور سے یہ کہ جس وقت جدیدیت وجود میں آر ہی تھی خواہ وہ کسی بھی طریقے سے آ رہی تھی اس وقت آپ نے بہت اسٹینڈ لیا۔اس اسٹینڈ لینے کا بنیادی محور کیا تھا ؟

جواب :جی ہاں۔ایک ہی آدمی تھا علی گڑھ میںاور وہ میں تھا۔میں نے صاف طور پر کہا کہ یہ سب فراڈ ہے۔یہ صرف شہرت حاصل کرنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ ان سے کسی شخص کو ادب سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔جس افسانے کو یہ لوگ افسانہ کہہ رہے ہیں’’پھندنے‘‘وہ منٹو کا معمولی افسانہ ہے۔منٹو کے پاس بارہ(12) افسانے ہیں جو دنیا کے کسی بھی زبان کے افسانے کے مقابل رکھے جا سکتے ہیں۔منٹو اردو ادب کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے۔ پریم چند اور منٹو۔ٹیکنیک میں تو منٹو پریم چند سے بھی بڑا افسانہ نگار ثابت ہوا ہے۔آپ نے اس کی ایک کہانی لے لی پھندنے اور اپنی کہانی جوڑ دی کہ وہ بھی ایسے ہی ہے۔در اصل آپ انڈردیٹ کر رہے ہیں۔اس لیے ہم نے مخالفت کی ورنہ ہمارا کوئی مقصد نہیں تھا مخالفت کرنے کا۔ آپ کو معلوم ہے اس سیمینار میں ایک مارس جمبوصاحب تھے جو فورن سکریٹری ایمبیسی آف یونائٹیڈ اسٹیٹ تھے وہ میزبان تھے۔وہ پہلے دن رات کو ساڑھے نو بجے میرے گھرآئے اور مجھے بڑی حیرت ہوئی ان کو دیکھ کر،بڑی بھڑک دار بشرٹ پہنے ہوئے تھے اور سفید پتلون۔تو انھوں نے اپنا بیگ کھولا اور ایک قلم، گولڈ شیفرڈ کا ایک پورا سیٹ دیا کہ میں آپ کے لیے لایا ہوں۔میں نے اسے دیکھا اور کہا کہ جی جی بہت اچھا ہے۔میں نے میز پر رکھ دیا۔میں نے کافی پلائی ان کو۔انھوں نے کہا کہ آپ مجھے اپناناول’’دارا شکوہ‘‘ شائع کرنے کی اجازت دے دیجیے یہ میں’’ان کورٹ آف لا‘‘ کہہ رہا ہوں۔ اجازت دے دیجیے تو آپ کی کوٹھی وائس چانسلر کی کوٹھی سے بڑی کوٹھی ہوگی۔ آپ کی موٹر وائس چانسلر کی موٹر سے بڑی ہوگی۔یہ معمولی قالین،اتنا بڑا ادیب اور یہ سب۔تو میں نے کہا کہ ایسا ہے سامان سے ادیبوں کی عزت کا پتہ نہیں چلتا اور نہ ہی ادیبوں کی مہنگی قلم سے پتہ چلتا ہے۔ایک مصرع ہے کسی شاعر کا کہ ’’علم کی پہچان ہے زردیٔ رخصار کی‘‘ تو آپ ایسی باتیں مت کریں۔ رہ گیا یہ قلم تو وہ میں نہیں لوں گا۔ان کے جیب میں دو پنسلیں لگی تھیں تو میں نے کہا کہ میں یہ لے لوںگا۔یہ آپ کی یاد گار رہے گی۔پھر میں سیدھا سلامت اللہ خاںکے پاس گیا جو میرے معترف تھے اور مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ مر گئے بیچارے۔ پروفیسر نہیں ہو سکے ریڈر ہی رہے۔ جذبی صاحب کی طرح ان کا انتقال ہو گیا۔میں ان کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا کہ مارس جمبو نے جو کہا ہے اس سے دو گنا ہو گا لیکن آپ بک جائیں گے، اگر آپ کو منظور ہے تو آپ اجازت دے دیجیے۔آپ کے نام سے پھر بہت کچھ چھاپا جائے گا اور آپ انکار نہیں کر پائیں گے۔یہ جو آپ کی ٹیڑھ ہے، ترجھی چال،ترجھی ٹوپی،یہ سب ختم ہو جائے گی۔چوں چوں کا مرباّ بن کر رہ جائیں گے۔ ارے! اس پر میں نے کہا لعنت بھیجیے سلامت صاحب میں تو اسی طرح زندہ رہنا چاہتا ہوں اور اسی طرح مرنا چاہتا ہوں۔اور میں نے صاف جواب دے دیا۔ تین دن کا سیمینار تھا اور میں دوسرے دن ان کے گیسٹ ہائوس گیا اور مارس جمبو سے کہا کہ وہ نکلنے والے تھے میں آپ کے اس آفر کو قبول نہیں کر سکتا۔اس کو بڑی حیرت ہوئی۔اس نے ایک جملہ پھر کہا تھا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اردو میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں۔

سوال : جب ہم آپ کے معاصرین پر نظر ڈالتے ہیں تو کہیں نہ کہیں قاضی عبدالستار بالکل الگ نظر آتے ہیں ۔

جواب: الحمداللہ

سوال :حالانکہ حالات وہی تھے،ماحول وہی تھا سب کچھ وہی تھا لیکن کیا وجہ ہوئی کہ قاضی عبدالستار اپنے آپ میں بالکل منفرد اور انفرادی طور پر نمودار ہوتا ہے۔اس کی کیا وجہ تھی؟

جواب :اس کا ثبوت میری زبان ہے۔جو میرا نام لیا گیا اور چونکہ یہ بہت ہی مشہور بات ہے،اس لیے میں کہہ رہا ہوں اور میری عمر بھی ایسی ہے کہ جو مجھے معلوم ہے اسے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے کہ نہ جانے کب بلاوا آ جائے، تو میری مخالفت کی گئی،کسی نے میرا نام لیا، پروفیسر نصیر نے میرا نام لیا بہادر شاہ ظفر ایوارڈ کے لیے لیکن میرے دشمنوں نے شیلا صاحبہ سے کہا تھا کہ یہ نام مناسب نہیں ہے،اس پر دوبارہ غور کر لیجیے۔شیلادکشت نے قرۃالعین حیدر سے پوچھا کہ آپ ان کے بارے میں کیا کہتی ہیں تو انھوںنے وہی کہا جو میں آپ سے کہنے جا رہا ہوں۔تو انھوں نے کہا کہ ’’اردوادب میں کون ہے جو قاضی عبدالستار جیسی زبان لکھتا ہے۔اور ان میں میں بھی نہیں ہوں۔ بس انھوں نے فوراً میرا نام منظور کر دیا۔یہ میرا ٹریبوٹ ہے۔یہ سرٹیفکیٹ ہے میرا اور میں اس پر ناز کر تا ہوں۔اردو میں کوئی ادیب نہیں ہے جو چار اسٹائل میں لکھتا ہو لیکن الحمداللہ میں لکھتا ہوں۔کھتہر مزدور پر بھی لکھتا ہوں،تعلقہ دار اور زمیندار پر بھی لکھتا ہوں،بادشاہوں پر بھی لکھتا ہوں،فاتحوں پر بھی لکھتا ہوں اور زبان الگ الگ رکھتا ہوں اور جس کو شک ہو تجزیہ کر کے دکھا دے۔

سوال :  ایک بات اور وہ یہ کہ ناقدین کی یہ شکایت بھی ہو سکتی ہے اورتعریف بھی اور ایک صحت مند تنقید بھی ہو سکتی ہے وہ یہ کہ آپ کی جو تحریریںہیں وہ ناول ہو یا افسانہ ہو اس میں کہیں نہ کہیں جو ماضی کی زوال پذیر زندگی ہے اس کا رونا روتے ہیں، ایسا کہا جاتا ہے آخر کیوں؟

جواب : پہلی بات تو یہ کہ یہ لفظ ہی غلط ہے کہ میں رونا روتا ہوں۔میں نے تو ان کا مذاق اڑایا ہے۔آپ مجھے سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں۔ صرف ایک شخص پروفیسر کنورپال سنگھ نے ایک مضمون لکھتے ہوئے میرے بار ے میں لکھا ہے کہ ’’قاضی عبدالستار جو اپنے کرداروں کو پیش کرتے ہیں تو ان کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ ان کی غربت پر ہنسی آتی ہے نہ کہ فخر محسوس ہوتا ہے‘‘۔بابا ناگارجن نے بھی یہی لکھا جو اردو میں کسی نے نہیں لکھا۔اردو میں صرف طارق چھتاری نے ’پیتل کاگھنٹہ‘ کے سلسلے میں لکھا ہے کہ وہ مستقبل کی طرف دیکھتا ہے۔ہندی میں بھیرو پرساد گپت نے لکھا،ہندی میں باباناگارجن نے لکھا، اور یہی لوگوں نے لکھا ہے۔یہی لکھا ہے جو میں آپ کو سنا رہا ہوں۔در اصل آپ دلچسپی سے پڑھ نہیں رہے ہیں۔میرے دشمنوں کا یہ جملہ ہے کہ جو نہیں چاہتے میرا مجھے حق ملے۔ان کا پیدا کیا ہوا جملہ ہے۔آپ ناول لے کر آیئے اور نشان لگاکر لے آیئے تو میں بھی ذرا دیکھوں کہ کہاں میں روتا ہوں۔یاد رکھیے تعلقہ دار کا بیٹا کبھی نہیں روتا۔موت پر بھی نہیں روتا۔تہذیب کا ماتم تو کر سکتا ہے لیکن رو نہیںسکتا۔

سوال : ابھی تک ناول اور افسانہ نگاری کے حوالے سے بات ہو رہی تھی لیکن میں تنقید پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں کیونکہ فکشن کی تنقید کو دیکھ کر کافی افسوس ہوتا ہے کہ جس طرح سے شاعری پر توجہ دی گئی فکشن پر نہیں دی گئی۔اس کی آپ کیا وجہ سمجھتے ہیں؟

جواب :اس کی وجہ ہے۔شاعری پر مضمون لکھنا بہت آسان ہے۔ آپ تجربہ کر لیجیے۔احمد فراز کا مجموعۂ کلام نکلوائیے،تین دن میں اسے آپ ختم کر دیں گے اور اگلے تین دن میں آپ مضمون لکھ دیں گے۔میرے کتنے ناول پڑھنا پڑیں گے آپ کو،کتنے افسانے پڑھنا پڑیں گے،تین مہینے آپ کو چاہیے،اور ہوتا یہ ہے کہ اگلا ناول جب پڑھیں گے تو پچھلا بھول جائیں گے،پھر پڑھیںگے تو پھر وقت لگے گا۔تو تین مہینے تو یہ لگ گئے،پھر آپ ایک مہینہ میں مضمون لکھیے۔ پھر وہ چھپے،پھر آپ کو سال بھر بعد اطلاع ملے کہ بہت اچھا لکھا تھا۔وہاں تو تین دن میں پڑھا،تین دن میں لکھا، دھڑا دھڑ اشعار کوڈ کر رہے ہیں،کہیں کوئی لغزش نہیں ہے۔اس لیے شاعری پر زیادہ لکھا جاتا ہے۔ اس لیے شاعری پر لکھنا آسان ہے۔ایک بات تو یہ ہوئی،دوسری بات یہ ہے کہ آپ کے ٹولس وہی ہیں جو غزل کے ہیں، جو نظم کے ہیں اور انھیں ٹولس کو آپ ہمارے اوپر اپلائی کرتے ہیں۔ میں بہت ہی حقارت سے یہ بات کہتا ہوں،مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی شرمندگی نہیں ہے کہ آپ بھونسے کے ترازو سے جواہرات تولنے بیٹھے ہیں۔ہماری نسل جواہرات کا انبار ہے، آپ کا ترازو غلط ہے۔ یہ ترازو بھونسے کا ہے۔ یہ سبب ہے کہ شاعری پر زیادہ لکھا جا رہا ہے اور فکشن پر کم کیونکہ آپ کے پاس فکشن پر لکھنے کے لیے ٹولس نہیں ہیں۔

سوال : آپ کے شاگرد بھی فکشن نگار ہیں۔

جواب :جی ہاں اور مجھے اس پر فخر ہے۔

سوال :اس وقت آپ نئی نسل کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟

جواب :مجھے افسوس ہے کہ ہمارے شاگردوں کے بعد جو نسل آئی ہے،اس میں ابھی کسی نے، یا تو ابھی میری نظر سے نہیں گزرا، حالانکہ میں اپنے شاگردوں سے کہتا رہتا ہوں کہ نئے لکھنے والوںکا افسانہ پڑھو بھائی اگر لکھ رہے ہیں تو اور اگر ان کا افسانہ آپ لوگوں کو اچھا لگے تو مجھے بھی دو، دو چار ملے بھی ہیں۔ لیکن ان کو پڑھ کر مجھے علامہ اقبال کا شعر یا د آتا ہے اور خدا نخواستہ میں دل شکنی نہیں کر رہا ہوں، مجھے پوری امید ہے کہ یہ لوگ بہت جلد اچھے افسانے اور ناول لکھیں گے۔ تو اس کے لیے میں کہہ رہا ہوں کہ دو چار کہانیاں میں نے پڑھی ہیں اور بقول علامہ اقبال

 نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی

اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی

                تو یہ ہے جواب میرااور میں توقع کرتا ہوں کہ سب بہت اچھا لکھیں گے۔ یہ سب لوگ پہلی دوسری کہانی میں تھوڑی ایسا لکھ رہے تھے۔ نہ اشرف، نہ ابن کنول، نہ پیغام اور نہ طارق۔ہاں لکھتے لکھتے آیا ہے اور ہم نے ہمیشہ ہمت افزائی کی کہ اور لکھو،اور لکھو اور لکھو۔اب یہ لوگ اپنا ایک نام رکھتے ہیں،ان کی ادب میں ایک حیثیت ہے۔

سوال : ایک سوال رہ گیا تھا۔ آپ نے ابھی کہا کہ میرے چار ناول ہیں اور چاروں ناولوں کی زبانیں الگ الگ ہیں،اور میں نے جو آپ کے ناول پڑھے ہیں اس میں یہ ظاہر ہوا ہے اور جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ جب میں نے آپ کا ناول ’’حضرت جان‘‘ پڑھا تو اس میں ایک الگ قسم کا قاضی عبدالستا ر نظر آیا ہے۔حضرت جان جیسا ناول لکھنے کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟

جواب :یہ سوال آج تک کسی نے نہیں کیا اور اب آپ کر رہے ہیں تو میں آپ کو اس کا جواب دے رہا ہوں۔حیات اللہ انصاری صاحب جب راجیہ سبھا کے ممبر تھے تو ویسٹرن کورٹ میں تھے،میں ان سے ملنے جاتا تھا اور میں ان کا بہت ہی ادب و لحاظ کرتا تھا اوروہ مجھ سے کافی محبت کرتے تھے۔انھوں نے مجھ سے کہا تھا کہ اگر تم چار آنے کا ٹکٹ کانگریس کا بھردو تو میں تم کو راجیہ سبھا کا ممبر بنوا دوں۔تو میں نے کہا کہ بھئی تو پھر میں کیا کروں گا؟اردو کا کوئی مسئلہ وہاں آئے گا نہیں اور میں جو تقریر کرتا ہوں وہ ٹوٹی پھوٹی اردوزبان پر کر لیتا ہوں، میں تو سیاست جانتا ہی نہیں۔ مجھے نہیں چاہیے لہٰذا آپ اس پر مت سوچا کیجیے۔یہ میں نے ان کی محبت کی مثال دی۔ ایک روز مجھے کھانا کھلانے کے بعد جب میرے لیے گاڑی آ گئی تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ قاضی صاحب ایک نوٹس ہے ۔چونکہ ان کا انتقال ہو گیا اور اس بات کو بہت دن ہو گئے ہیں،ابھی تک میں نے جواب نہیں دیا تھا،اس سوال کا پہلی بار جواب دے رہا ہوں۔اور مرے ہوئے آدمی پر غلط بیانی میرا خیال ہے بہت گھٹیا چیز ہے جو میں نے کبھی نہیں کی۔تو اس سے آپ بالکل مطمئن رہیں کہ میں غلط بیانی نہیں کر سکتا وہ بھی حیات اللہ انصاری کے تعلق سے تو بالکل نہیں۔تو انھوں نے دس بارہ صفحے مجھے دیے کہ اسے پڑھ لیجیے گا۔ وہ پوری ایک بکھری ہوئی تحریر تھی۔ جو کچھ ہو رہا تھا دہلی میں اس کا بالکل من و عن بہت ہی بھونڈا بیان تھا۔ ظاہر ہے وہ انصاری صاحب کے قلم کا نہیں تھا۔میں تو ان کی تحریر پہچانتا ہوں، کسی نے ان کو دیا تھا۔ اور انھوں نے کہا کہ میرے پاس وقت نہیں ہے قاضی عبدالستار سے کہوں گا اگر وہ لکھ سکتے ہیں تو لکھ دیں گے۔ تو میرے پاس فون گیا تین چار روز بعد، آئی ایم ساری۔ اس زمانے میں فون وون نہیں تھا خط گیا میرے پاس کہ آپ پہلی فرصت میں سنیچر کو میرے پاس آ جائیے کیونکہ میں بہت اہم بات کہنا چاہتا ہوں،خیر میں گیا،میں سمجھ گیا تھا کہ اسی سلسلے میں بات کریں گے۔تو انھوں نے کہا کہ اس پر لکھیے آپ۔ تو میں نے کہا کہ اس پر لکھنے کے لیے منٹو کے آتش خانہ سے آگ لانی پڑے گی۔تو انصاری صاحب نے کہا کہ مجھے آپ سے یہ توقع نہیں تھی۔ مجھے آپ کی زبان سے یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر انصاری صاحب ایسی بات ہے تو میں لکھوں گا۔ اور آپ جب اسے دیکھ لیں گے تب شائع کرائوں گا۔ اور پھر میںنے پورا ناول لکھا۔ وہ ناول انھوں نے دیکھا۔ حیات اللہ انصاری نے دیکھا اور ہندی میں نمیتا سنگھ نے دیکھا۔ میں نے اس لیے دکھایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں نے کچھ زیادہ گرم تحریری کا ثبوت پیش کر دیا ہو۔ تو وہ بتائیں گی مجھے۔دونوں کا یہ بیان تھا کہ کہیں بھی نکتہ نہیں رکھا جا سکتا۔اسے من و عن شائع کرا دیجیے۔شائع ہو گیا۔ تو یہ کہانی ہے۔ یہ چیلنج تھا ایک طرح کا۔ اچھی ہندی والے بھی پوچھتے تھے، کملیشور نے ایک بار کہا کہ کیا ہمارے یہاں کوئی ایسا ناول نہیں ہے جو ہاٹ کیک کی طرح بکے۔ یہ امریکہ میں لوگ کیسے لکھتے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ بھائی ایسا ہے وہاں جو سیکس پر ناول لکھے جا رہے ہیں تو انگریزی میں اس لیے لکھے جا رہے ہیں۔ ان کو لکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی کہ ان کے یہاں سیکس آرگن کا جو نام ہے۔ وہ گھٹیا اور گالیاں نہیں ہیں۔ ہمارے یہاں آرگنس جو ہیں وہ گالیاں بن گئی ہیں۔ تو اس پر کملیشور نے کہا کہ بھائی صاحب آپ تو استعارات کے جلوس نکالتے ہیں تو کیا استعارے میں بات نہیں کہی جا سکتی۔ میں نے کہا بالکل کہی جا سکتی ہے۔ تو پھر لکھیے اور جب حیات اللہ انصاری نے میری تخلیقیت پر ٹھوکر ماری۔ اس وقت میں نے کہا کہ میں لکھوں گا اور میں نے لکھا۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے کیوں لکھا؟ تو میں نے کہا کہ میں نے اس لیے لکھا کہ میں لکھ سکتا تھا اور دوسرا کوئی اس ناول کو نہیں لکھ سکتا تھا۔

****

ماخوذ از کتاب 

ملاقاتیں ؛ ترتیب پروفیسر خواجہ اکرام الدین