انٹر ویوز

یونس اگاسکر

یونس اگاسکر سے ایک مختصر اور دلچسپ مکالمہ

تالیف حیدر

سوال:اگاسکر صاحب پہلے ہمیں یہ بتائیے کہ آپ نے اردو زبان میں تصنیف و تالیف کا کام کیوں کیا؟ کیا اس زبان سے آپ کا کوئی آبائی رشتہ ہے؟

جواب:اردو سے میرا آبائی رشتہ بس اتنا ہے کہ میرے والد اور والدہ دونوں نے اردو پڑھی تھی۔مجھ سے پہلے میرے مرحوم بھائی محمد اقبال اور چچازاد بھائی محمد یوسف جو حیات ہیں،بھیونڈی،مہاراشٹر کے رئیس ہائی اسکول تک پہنچے تھے۔ہمارے خاندان میں صرف مجھے اعلا تعلیم کی سطح تک پہنچنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ پرائمری اور ثانوی سطح تک مجھ میں بچوں کے رسالوں کھلونا،پھلواری،کلیاں کے پڑھنے کا شوق پروان چڑھ چکا تھا۔پھر ابن صفی کے جاسوسی ناولوں اور ترقی پسندوں کی فکشن نگاری نے اس شوق کو پختگی بخشی۔اسکول کے زمانے ہی سے میں کہانیاں لکھنے لگا جو اخبار انقلاب کے بچوں کے صفحے میں اور دہلی کے رسالے پھلواری میں چھپیں تو لکھنے کے شوق کو مہمیز ملی۔رئیس ہائی اسکول کی نویں جماعت میں ایک قلمی رسالہ بھی نکالا جس میں ہر تحریر میری ہی ہوتی تھی اور ایک کار ٹون بھی ہوتا تھا۔سینٹ زیویرزکالج میں طلبہ کی انجمن بزم اردو کے لیے وال پیپر بھی ترتیب دینے لگا۔ اور شعبہءاردو کے رسالے میں چھپنے کے علاوہ معاون مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔اس کے بعد لکھنے پڑھنے کا مشغلہ مسلسل جاری رہا اور کہانیوں سے زیادہ تنقیدی و تحقیقی مضامین اور مراٹھی،ہندی اور انگریزی سے ترجمہ کرنے میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوئی۔اب ترجمے کا شوق تو نہیں رہا مگر تنقیدی،تحقیقی و تاثراتی تحریروں سے اپنے شوق خامہ فرسائی کی تکمیل میں لگا رہتا ہوں۔

سوال:کیا آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ زبان ایسی ہے کہ اس میں جامعاتی سطح پہ تحقیق و تنقید کا کام ہونا چاہیے؟

جواب:جامعاتی سطح پر تحقیق و تنقید کا کام تو ہونا ہی چاہیے۔اس سلسلے میں استفسار کیوں؟یہ سلسلہ تو ہندوستان میں جامعات کے قیام سے ہی جاری ہے۔اردو میں تحقیق و تنقید کی روایت خاصی پرانی اور پختہ ہے اور ملک کی دیگر زبانوں کے مقابلے میں ناقابل اعتنا نہیں ہے۔

سوال: ہندوستان میں اردو دیوناگری یا رومن رسم خط میں لکھی جائے تو کیا اس سے اردو کو فائدہ نہیں ہوگا؟

جواب:ہندوستان میں اردو کو دیوناگری یا رومن رسم خط میں لکھنے سے انگریزی اور دیو ناگری پڑھنے والوں کا فایدہ ہوگا ۔البتہ اردو کی شناخت اور اس کے ادب کی انفرادیت مجروح ہوجائے گی۔خاص طور سے دیو ناگری میں لکھی ہر اردو تحریر کے ہندی کہلانے کا خطرہ ایک حقیقی صورت حال میں تبدیل ہوجائے گا۔

سوال:مدارس کے نصاب میں اردو زبان میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان کی لیپی تبدیل کر دی جائے تو کیا ہندوستان میں اردو کے رسم خط کے نظام کو تبدیل کیا جا سکتا ہےاور کیا آپ کو گزشتہ بیس برس میں ایسا محسوس ہوا ہے کہ ہندوستان میں اردو زبان جاننے والے ختم ہوتے جا رہے ہیں یا مدارس اسلامیہ میں اردو زبان میں جو مذہبی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں کیا اس سے اردو زبان کو کچھ فروغ نصیب ہو رہا ہے؟

جواب:مدارس کے نصاب میں شامل اردو کتابوں کی لیپی تبدیل کرکے ہندوستان میں اردو زبان کے رسم خط کو تبدیل کرنے کا فیصلہ اور اس پر عمل درآمد کون کرےگا ؟ مفروضے پر مبنی سوال کا جواب دینا مشکل ہے۔ہندوستان میں اردو زبان جاننے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔دینی مدارس کے علاوہ دنیوی علوم کی تدریس کے لیے قایم کیے جانے والے اسکولوں اور ان میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ اس کی گواہی دیتا ہے۔زبان کو فروغ تو جدیدترین سائنسی،تیکنیکی،سماجیاتی،نفسیاتی وانسانی معمولات و سرگرمیوں سے جڑے ہوئے دیگر علوم و فنون کی تعلیم و تدریس سے وابستہ ہے۔البتہ مروج و مستعمل زبان کو زندہ وجاری رکھنے میں دینی یا سیکولر کتابوں کی تدریس مفید و معاون ہںوتی ہے۔اس میں مدارس اسلامیہ کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 سوال:مدارس کے بچے اردو میں جامعاتی سطح پر بہت کمزور ہوتے ہیں ، لہذا کیا آپ کو نہیں لگتا کہ مدارس کے بچوں کو اردو کے آنرس کورس میں داخلہ نہیں دینا چاہیے؟

جواب:عام طور پرمدارس سے فارغ طلبہ کی اردودانی کا معیار کم تر اور اردو ادب سے ان کی واقفیت بہت ہی محدودہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ مولانا آزاد یا دیگر اوپن یونیورسٹیوں سے گریجویشن کر کے اعلا جامعاتی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔یہاں تک کئی ایم فل اور ڈاکٹریٹ بھی کر لیتے ہیں۔اس میں ہمارا نظام تعلیم قصوروار ہے۔ویسے اردو اسکولوں کے تعلیم یافتہ طلبہ کامعیار زبان اور ادب فہمی کی سطح عموماًپست ہی ہںوتی ہے۔ایسے میں داخلے سے قبل ان کی لیاقت کو پرکھنے کے لیے آزمائشی ٹیسٹ اور انٹرویو لینااور فیصلہ کرنا مناسب ہوگا۔

سوال: ادب اور مذہب ان دونوں سطحوں پر زبان اپنے اصطلاحاتی اور استعاراتی معیار پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ لہذا مذہبی تعلیمات کے ذریعے جس زبان کو فروغ دیا جا رہا ہے وہ اردو کے ادبی حلقوں میں مستعمل نہیں اوراردو کے ادیب اسے اردو تسلیم ہی نہیں کرتے،آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب:زبان کا استعمال زندگی کے ہر میدان میں قدم قدم پر کیا جاتا ہے۔اس میں ادب یا مذہب کی تفریق یا تخصیص ممکن نہیں۔