ادیبوں کا تعارف

ناصر ناکا گاوا

ناصر ناکا گاوا کا تعارف:جاپان

معراج الاسلام 

اردو نیٹ جاپان کے مدیر اعلیٰ، ناکاگاوا گلوبل کمپنی کے مالک، ترجمہ نگار اور سفر نامہ نویس ناصر ناکاگاوا ہیں۔ ان کا نام ناصر ہے جب کہ ناکاگاوا لفظ کا اضافہ اپنے سسرال کی نسبت سے کیا ہے اور یہ ان کے لئے باعث فخر بھی ہے۔ اس سلسلے میں وہ خود ہی تحریر کرتے ہیں: ’’ناکاگاوا ایک جاپانی لفظ ہے جس کے لفظی معنی ’’مرکزی دریا‘‘ کے ہیں۔ یہ ایک خاندانی نام ہے جو میری جاپانی اہلیہ کے والد کے نام کے ساتھ منسلک تھا۔ لہٰذا میں نے اپنی اہلیہ او ران کے والدین سے محبت و انسیت کا ثبوت دیتے ہوئے ان کے خاندانی نام کو اپنے نام کے ساتھ منسلک کردیا۔ اپنے نام کے ساتھ ناکاگاوا کا اضافہ کرکے مجھے فخر محسوس ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہ نام اب دنیا بھر میں میری الگ پہچان بن چکا ہے۔
ناصر ناکاگاوا ۳؍ ستمبر 1964ء کو کراچی شہر کے لانڈھی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم محلے کے مکتب سے ہی ہوئی۔ ابتدائی دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد سرکاری اسکول میں داخلہ لیا۔ جہاں انہوں نے امتیازی نمبر سے کامیابی حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے لئے علامہ اقبال کالج کراچی میں داخلہ لیا اور یہیں سے B.Com.کیا۔ کراچی یونیورسٹی سے M.A.in F.Comکیا۔ رسمی تعلیم کا سلسلہ یہاں سے منقطع ہوگیا۔ لیکن مطالعہ کا ذوق اور کتب بینی کا شوق جاری ر ہا۔ اور ابھی تک جاری ہے۔
کہا جاتا ہے کہ غربت بہت بری شئی ہے۔ اگر آدمی غربت سے جوجھ رہا ہو تو غیر تو غیر اپنے بھی وفاداری کا ثبوت نہیں دیتے۔ آج کی مادی دنیا میں یہ چیزیں تو عام ہیں اور شب و روز کے مشاہدے اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ ناصر ناکاگاوا کا تعلق بھی ایک غریب خاندان سے تھا۔ بھائی بہنوں کی کثرت میں اس کا نمبر چوتھا تھا۔ سات بہنیں اور تین بھائی تھے۔ لیکن کسے یہ معلوم تھا کہ لانڈھی میں ایک غریب فیملی میں پیدا ہونے والا شخص بڑا ہو کر اردو بستی کے افق پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔ والد صاحب کسی کمپنی میں ملازم تھے۔ بارہ افراد پر مشتمل خاندان میں صرف والد صاحب ہی روزگار سے وابستہ تھے۔ آمدنی اتنی زیادہ نہ تھی کہ اپنے اہل خانہ کی تمام ضروریات پوری کرتے۔ لیکن ان کی حتی الامکان یہ کوشش ہوتی تھی کہ ساری بنیادی ضرورتیں پوری کریں۔ والد صاحب صوم و صلوٰۃ کے پابند اور ایک نیک دل انسان تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی کے احسان تلے دب کر نہ رہیں اور خودداری کو اپنا نصب العین بنایا۔ ایک دانہ ناجائز اپنے حلق سے نیچے نہیں اتارتے اور نہ ہی اپنے بچوں کے حلق کے نیچے اترنے دیتے۔ غربیت بہت کچھ انسان کو سکھا دیتی ہے۔ اور تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ افلاس زدہ شخص ہی انقلاب آفریں قدم اٹھاتا ہے۔ ناصر ناکاگاوا کے معاشی حالت اگر چہ قدرے بہتر نہ تھے گھر کے افراد کا احساس زندہ تھا اور وہ مختلف کرکے اپنی بنیادی ضروریات کو بآسانی پورا کرنا چاہتے تھے۔ ناصر بھی آٹھ سال کی عمر سے گھر کے مسائل دیکھ کر کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اور کبھی کبھی اپنی والدہ کے سامنے اس کا تذکرہ بھی کرتے تو والدہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک بخوبی دیکھی جاسکتی تھی۔ لیکن والد صاحب کی سخت گیر طبیعت ا ن کی اس خواہش پر قدغن لگا دیتی تھی۔ کیوں کہ وہ خالی اوقات کو گھر کے اندر ہی گذارنے کا حکم دیتے اور حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں والد کے عتاب کے شکار ہوتے۔ مہنگائی بڑھ رہی تھی آمدنی کا تناسب ؍ فیصد اپنی جگہ منجمد تھا جس کی وجہ سے گھر کے حالات روز بروز خراب سے خراب تر ہوتے گئے اور جب حالت ناگفتہ بہ حد تک پہونچ گئی تووالد نے محلے کے ہی کسی گھر سے کچھ پیسے ادھاردے کر ناشتہ کا سامان خریدا اور اپنے اس پیارے بچے کو دے کر محلے کو گلیوں اور بازاروں میں فروخت پر لگا دیا والد صاحب جیسے ہی آفس جاتے تو یہ اس ناشتے کی فروخت کا کام شروع کردیتے۔ کچھ لوگ تو ضرورت کے تحت خریدتے اور بعض لوگ ان کی دلجوئی کی خاطر خرید لیتے تھے۔ آمدنی بڑھانے کے لئے ناشتے کی فروخت بند کرنے کا ارادہ کیا اور قائد آباد کے بس اسٹاپ پرکو لڈ ڈرنک بیچنے کا کام شروع کردیا۔ ہر آنے جانے والی بس پر بیٹھے مسافروں کو لڈڈرنک بوتل ہاتھ میں تھما دیتے۔ اس میں سے بعض لوگ اس کی قیمت ادا کردیتے اور بعض لوگ بوتل واپس کردیتے مگر کچھ ایسے بھی سنگ دل ہوتے تھے۔ جو کولڈڈرنک کی بوتل لیتے اور پیسے دئے بغیر ہی چل دیتے جس سے کہ آمدنی پر کافی فرق پڑتا۔ بسا اوقات دن کی پوری کمائی چلی جاتی تھی۔ بچپن میں اس طرح کے ظالمانہ رویے کا شکار ہونے والے اس بچے نے زندگی میں کچھ اچھا اور نیا کرنے کی ٹھان لی۔ لیکن بچپن میں اس بچے کی آمدنی سے گھر کے معاشی حالات اس حد تک سدھرتے تھے کہ اب یہ خاندان بھی ہفتہ میں ایک بار ہی سہی گوشت کی لذت سے آشنا ہو گیا تھا۔ وقت تیزی سے گذر رہا تھا اس نے کولڈڈرنک کی فروخت ختم کرکے ان ہی بسوں میں پھلوں کی فروخت شروع کردی تھی۔ وہ چلتی بسوں کے پیچھے کئی کئی میٹر تک بھاگتا۔ کئی دفعہ فروخت شدہ پھلوں کے پیسے لینے کے لئے او رکئی دفعہ اپنے پھل واپس لینے کے لئے ۔اس طرح ہر مشقت حالات ان کے تعلیمی سلسلے کو منقطع نہیں کرسکے۔ کیوں کہ جو شخص کچھ کرنے کا عزم مصمم کرلیں تو مشکلات اس کے لئے رکاوٹ نہیں ہوتیں بلکہ وہ ان مشکلات میں بھی اپنے لئے کوئی ایک سبیل نکال لیتا ہے۔
لیکن ان تمام طرح کی اشیاء کی فروخت کے بعد بھی معاشی حالت اتنے بہتر نہیں ہوئے تھے کہ وہ اپنے تعلیمی سلسلے کو بآسانی اور سکون کے ساتھ تکمیل کو پہنچاتے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کو انٹر اور بی کام میں ٹیوشن کی ضرورت پیش آئی تو فیس کا مسئلہ رو نما ہوا لیکن اس کا حل اس طور پر نکالا کہ وہ خود پچاس روپئے ماہانہ ٹیوشن پڑھنے پھر اسی شام اپنے ہم جماعت تین دوستوں کو سو روپئے میں ٹیوشن پڑھاتے۔ اس طرح ان کو پچاس روپئے کی آمدنی بھی ہوجاتی تھی۔ بی۔ کام کرنے کے بعد ان کو ایک جاپانی کمپنی میں اچھی ملازمت مل گئی تھی۔ لیکن اب بھی ان کے سروں پر ذمہ داریوں کا پہاڑ تھا کیوں کہ سات بہنوں کی شادی کرانا اور گھر بنوانا وغیرہ اہم ذمہ داری بھرے کام تھے۔ لیکن معاشی حالات ایسے نہ تھے کہ وہ والد صاحب کے ساتھ مل کر بھی یہ کام کرسکتے۔ پھر ا ن کو جاپانی کمپنی کے ذریعہ ہی ان کو جاپان آنے کا موقعہ ملا اور یہا ںپر پوری لگن اور محنت سے کام کیا اور جاپان نے بھی ان کی محنتوں کے ساتھ انصاف کیا کیوں کہ جاپان بھی ان ممالک کی فہرست میں آتا ہے جہاں حق دار کے حقوق ادا کئے جاتے ہیں او رکسی کے ساتھ ظلم و زیادتی اور نا انصافی نہیں ہوتی ہے۔ جاپان میں شب و روز محنت کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے بحسن و خوبی اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیاوالدین کو حج کی عظیم سعادت سے بھی بہرہ ور فرمادیا۔ اور ان کی زندگی بدل کر رکھ دیا مگر افسوں کہ جلد ہی ماں داغ مفارفت دے گئیں۔ آج وہ جاپان میں بہترین مقام پر فائز ہیں۔ آج ان کوجاپان کی شہریت بھی میسر ہے۔ جب وہ جاپان میں کسی کمپنی میں ملازمت کررہے تھے تو دوران ملازمت ان کی آنکھ کسی جاپانی دو شیزہ کے ساتھ آنکھ چار ہوئی اور انھیں کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوگئے۔ محسن پاکستان کے نام سے معروف عظیم سائنس داں ڈاکٹر عبد القدیر خان تحریر کرتے ہیں:
’’ناصر ناکاگاوا ایک ہونہار پاکستانی ہیں جو تقریباً 27برسوں سے جاپان میں قیام پذیر ہیں اوررایک خوبصورت اور گڑیا نما جاپانی خاتون کی زلف کا شکار ہو کر اس سے شادی کرکے مستقبل یہی جاپان میں رہائش پذیر ہیں۔ اور جاپانی شہری بھی بن چکے ہیں اور بیگم کے فیملی کے نام کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا ہے یہ بیگم اور ان کے والدین کے لئے اعلیٰ ایثار کا ثبوت ہے۔‘‘
اس وقت ناصر کے دو بیٹے ہیں پہلے بیٹے کا نام عادل جو جاپان کی عظیم یونیورسٹی میجی یونیورسٹی سے گریجویشن کی تعلیم حاصل کی۔ اور اس وقت صوبۂ سائتا ما کے گورنر ہاؤس میں بطور سول افسر ملازم ہے۔ اس کی عمر ۲۳ سال ہے۔ دوسرے بیٹے کا نام شارخ ہے۔ یہ اس وقت جاپان کی واسیلا یونیورسٹی میں سال دوم کا طالب علم ہے۔
اگر ناصر ناکاگاوا کے تعلیمی سلسلے پر نگاہ ڈالے تو ہمیں یہ دکھائی دیتا ہے کہ ان کا تعلق بطور مضمون کبھی بھی اردو سے نہیں رہا ہے۔ لیکن اردو زبان سے ان کی دلچسپی بچپن سے ہی تھی وہ مشاہرین ادب کی تخلیقات کو بچپن سے ہی زیر مطالعہ لاتے رہے ہیں۔ ایک تحریری سوال ’’آپ کا تعلیمی بیک گراؤنڈ اردو نہیں رہا ہے۔ لیکن اردو کے حوالے سے آپ کی خدمات لائق تحسین ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ کے جواب میں تحریر کرتے ہیں۔ بلا شبہ میں نے اردو کو بطور اختیاری مضمون کبھی بھی نہیں پڑھا۔ لیکن مجھے اردو ادب سے دلچسپی ضرور رہی تھی۔ زمانہ طالب علمی سے ہی میں نے مشاہیر ادب کے ادب پارے بڑھ لیتے تھے۔ میں اردو کے اخبارات و رسائل باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ کراچی سے شائع ہونے والا ہفت روزہ تکبیر، ماہنامہ جاسوسی اور سپنس میرے پسندیدہ رسائل میں تھے۔ جنہیں باقاعدگی سے پڑھتا رہا ہوں۔ ادب پڑھنے والے کو کسی حد تک ادب لکھنے میں بھی دلچسپی ہوہی جاتی ہے۔ میں بھی اپنے پسندیدہ رسائل میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ جاپان آکر یہ شوق مزید پروان چڑھا۔ اسی دوران جب انٹر نیٹ پر اردو اخبارات کا آغاز ہوا تو میں بھی نیٹ پر لکھنے لگا۔ اور رفتہ رفتہ میں نے اردو ادب لکھنے اور پڑھنے والے احباب کے ایک حلقہ کو اردو نیٹ میں جاپان کے پلیٹ فارم پر یکجا کرلیا۔ اور آج اردو نیٹ جاپان پر دنیا بھر سے اردو لکھنے والے اپنی تحریریں، خبریں اور رپورٹس شائع کرواتے ہیں۔‘‘
اردو پر کامل دسترس رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ جاپانی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے ہیں۔ جاپانی زبان بھی دنیا کی سخت ترین زبانوں میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر اس کا رسم الخط ہے۔ ہم بر صغیر میں رہنے والوں کے لئے تو انتہائی سخت ترین ہے۔ ان تمام ہر سختیوں کے باوجود ناصرنے اس میں ایسی مہارت حاصل کی ہے کہ جب وہ کسی جاپانی کے سامنے جاپانی زبان بولیں تو اس کو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے کہ یہ شخص جاپانی یہ ہے غیر جاپانی ۔ عرفان صدیقی ایک جگہ تحریر کرتے ہیں:
’’اسے جاپانی لکھنے اور پڑھنے پر عبور حاصل ہے۔ جب کہ جاپانی زبان ایسے روانی سے بولتاہے کہ کوئی جاپانی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس کا مدمقابل کوئی غیر ملکی شہری ہے۔ وہ جاپانی عدالتوں میں بطور مترجم خدمات انجام دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جاپان کی پولیس، امیگریشن، وکلا اور دیگر عدالتی، سیاسی اور سماجی شخصیات سے بہترین تعلقات ہیں۔‘‘
ان کی دور کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ دیس بنا پردیس۔ دنیا میری نظر میں۔ تیسری کتاب زیر طبع ہے تا دم تحریر اس کا نام تجویز نہیں کیا گیا تھا اور سماجی رابطے کی سائٹ facebookپر لفظ ’’د‘‘ سے اس کے نام کی تجویز کی گذارش کی گئی تھی۔ ان کی کتابیں جب منظر عام پر آئیں تو اہل علم و دانش کے حلقوں میں بے پناہ قبولیت کی سند حاصل کی۔ اس کا اندازہ ہر دو کتاب شامل تبصروں سے لگایا جاسکتا ہے ۔ اسکے علاوہ کچھ ادبی تنظیموں کے صدر اور ممبر کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ جاپان انٹر نیشنل جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ جاپان میں مقیم غیر ملکیوں خصوصاً پاکستانیوں کو جاپانی زبان کی رسم تعلیم بھی رضا کا رانہ دیتے ہیں۔ مشاعرے اور ادبی نشستیں منعقد کراتے ہیں۔ اگر اس طرح کی سرگرمیاں کسی دوسرے شحص یا تنظیم کے ذریعہ انعقاد پذیر ہوتی ہیں تو ان کے مشورے کی بہت ہی قدر کی جاتی ہے۔ اور ان سر گرمیوں میں وہ اپنا فعال کردار(Active Role)انجام دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔