ادیبوں کا تعارف

سید اقبال حیدر

سید اقبال حیدرؔ ایک تعارف

شہباز رضا

جرمنی میںبنیادی طورپر ’جرمن زبان ‘بولی جاتی ہے ۔تاہم تارکین وطن کی مساعی سے اردوکا بھی ایک بڑاحلقہ تیار ہوچکاہے جو سید اقبالؔ حیدر جیسے چند محب اردوکے دم سے قائم ہوا۔وہ فکرمعاش کی تلاش میںپاکستان سے ہجرت کرکے جرمنی پہنچے اورروزگار کے ساتھ ساتھ اردوکی خدمت میںبھی مصروف رہے ۔چنانچہ اردونشر واشاعت کاسلسلہ بھی ان تارکین وطن نے شروع کیا۔
جرمنی میںاردوزبان بولی کی سطح سے اوپر اٹھ کر ادبی حیثیت اختیارکرچکی ہے ۔چنانچہ نشرواشاعت کی تاریخ بھی کم وبیش تیس سال پرانی ہوچکی ہے۔اسّی کی دہائی سے مختلف رسائل و جرائد بھی وہاںسے مسلسل شائع ہو رہے ہیں۔ لیکن اس وقت کمپیوٹر عام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خود کتابت کرتے ،ان صفحات کی فوٹوکاپیاںکرتے پھر اسے جریدے کی شکل دے کر اپنے اپنے شہروںکی سڑکوںپرتقسیم کرتے ۔تاہم وسائل کی کمی اوراشاعت کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اشاعت جاری نہ رہ سکی۔گزشتہ کئی برسوںمیںجرمنی سے اردوکے متعدد جرائدکااجراہوا۔جن میںماہنامہـــ’ حقیقت‘، ’نصرت‘، ’صدائے پاکستان‘، ’نیاسویرا‘، ’جمہوریت‘، ’اردودنیا‘، ’ جدید ادب‘، ’گفتگو‘، ’پیغام نجات‘، ’دستک‘، ’ ذوالفقار‘ اور’جذبہ‘ قابل ذکر ہیں۔
جرمنی میںاردوبولنے اورپڑھنے والوںکی تعدادکم نہیں ہے۔اردو کے لیے ادبی محفلوںاورانٹرنیٹ کے ذریعے کام ہورہاہے ۔مگر کئی غیر جرمن اقلیتوںکی زبانوںکی طرح اردوکواسکولوںکے نصاب میںشامل کرانے میںابھی کامیابی نہیںمل سکی ہے۔بلکہ دیکھاجائے تواس کے لیے کوشش ہی نہیںکی گئی ،حالانکہ اس کے امکانات موجود ہیں۔
جرمنی کی پانچ جامعات میںاردوکی تعلیم ہورہی ہے اور ان میں سے صرف ہیڈل برگ یونیورسٹی میںمختصرمدتی کورسسزکے ساتھ ایم اے کی سطح تک اردوتعلیم کی سہولت موجود ہے۔جبکہ دیگر چاریونیورسٹیزمیںہندی زبان کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اردوایک ذیلی مضمون کے طورپر پڑھائی جارہی ہے۔برصغیر کی زبانوںمیںجرمنی میںاردوکے مقابلے ہندی پڑھنے کارجحان زیادہ ہے۔
جرمنی میںجو لوگ اردوزبان وادب کی خدمت کر رہے ہیںان میںاقبالؔ حیدر کانام نمایاں نظر آتاہے۔سید اقبالؔ حیدر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوںکی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ادبی ،ثقافتی و دینی سرگرمیوںکومنظم کرنے اوراسے بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میںمصروف ہیں۔
سید اقبالؔ حیدر جرمنی میںاپنے 35سالہ قیام کے دورانPIA. اوردیگر ائیر لائنس سے بھی وابستہ رہے ۔نیز فی الحال’’پاک حیدری ایسوسی ایشن‘‘فرینکفرٹ کے جنرل سکریٹری ہیںاور اتحاد بین المسلمین کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جرمنی میںمنفرد اندازمیںاعلی معیارکی ادبی تقریبات منعقد کروانے پرانہیں بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہورہی ہے اوربرصغیر ہندوپاک ،یوروپ اورشمالی امریکہ میںہونے والے مشاعروںاورادبی محفلوںمیں وہ شرکت کرتے ہیںاوراپناکلام پیش کرتے ہیں۔
سید اقبالؔ حیدر زندگی کی قربتوں کے شاعر ہیں، ان کی غزل کی دلکشی کا راز یہ ہے کہ وہ غزل کے مزاج داں ہیں۔ بدی کی نیکی پر بالادستی، اعتبار اور اعتماد کے بدلے قول وقرار، حسب نسب کی بے توقیری ، انسانی رشتوں کا استحصال اور سچ کی نایابی ان کی غزل کا تانا بانا بن جاتے ہیں۔ان کی شاعری جدید لب ولہجے کی مکمل عکاس ہے۔
سید اقبالؔ حیدر بنیادی طور پر شاعر ہیں ، ان کے کئی شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں ۔ ا ن کے مجموعوں کی کل تعداد نو ہے ۔ انہوں نے مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ہے۔ جن میں غزل ، مرثیہ ، حمد ،نعت ،منقبت، سلام، مسدس وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے نظم میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ وہ بحیثیت صحافی بھی اردو ادب کی خدمت کرتے رہے ہیں اور اب بھی مستقل یہ کام جاری ہے۔ ان کی صحافتی خدمات میں ’’قلم سے کالم تک‘‘ بڑی اہمیت رکھتی ہے جو ان کے مختلف اردو اخبارات میںشائع کالم کا مجموعہ ہے ۔نیز وہ مستقل کالم نگار کی حیثیت سے ’’عالمی اخبار‘‘ سے بھی وابستہ ہیں، جو آن لائن اخباروں میں کافی شہرت رکھتا ہے۔یہ اخبار برطانیہ ، آسٹریلیا، کنیڈا، امریکہ، سویڈن، پاکستان وغیرہ سے مستقل شائع ہو رہا ہے۔
سید اقبالؔ حیدر نے جرمنی میں کئی ادبی کارنامے انجام دیے، ان میں ’’فرشی مشاعرے ‘‘ کی روایت بڑی شہرت رکھتی ہے ، جو علامہ اقبال کی یاد میں دریائے نیکرہائیڈل برگ کے کنارے منعقد ہوئی ،جسے جرمنی میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس مشاعرے میں جرمنی کے مشہور شعرا کے علاوہ یورپ کے مشہور صحافی و شاعر انجم بلوچستانی ، ناروے سے معروف شاعرہ صدف مرزا اور کینڈا سے عالمی شہرت یافتہ ادیب سید تقی عابدی نے خاص طور پر شرکت کی ۔
سیدا قبالؔ حید ر اردو کی نئی بستیوں میں ایک انفرادی مقام رکھتے ہیں،و ہ تقریباً گزشتہ ۳۵؍ سالوںسے جرمنی میں مسلسل اردو زبان وادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں ، ان میں خاص طور سے ان کی شعری خدمات کافی اہمیت رکھتی ہیں۔میرے علم کے مطابق اب تک ان کی شاعری کے حوالے سے کوئی باضابطہ کام نہیں ہوا ہے ۔ البتہ ان پر چند مقالات و مضامین ضرور لکھے گئے ہیں۔سید اقبال حیدر جرمنی کی سر زمیں پر اردو زبان و ادب کے فروغ میں بے بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ٓ اس میں مزید اضافہ کریں ۔سوانٰجی خاکہ کو شامل؛ ہوتا

سید اقبال حیدر ؔ کی تصانیف ایک نظر میں
(۱) حیدر ،سیداقبالؔ ، اسلام اور حکومت، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز
(۲) حیدر ،سیداقبالؔ ، الہام، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز
(۳) حیدر ،سیداقبالؔ ، امید سحر ، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز،۲۰۰۷
(۴) حیدر ،سیداقبالؔ ، بے آب زمینیں، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز
(۵) حیدر ،سیداقبالؔ ، کوثر و سلسبیل ، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز، ۲۰۰۹
(۶) حیدر ،سیداقبالؔ ، قلم سے کالم تک ، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز
(۷) حیدر ،سیداقبالؔ ، لؤلؤومرجان، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز
(۸) حیدر ،سیداقبالؔ ، معرکہ حق وباطل ، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز، ۲۰۰۹
(۹) حیدر ،سیداقبالؔ ، میرے دل کے آس پاس ، ریٹی گن روڈ، لاہور، اظہار سنز پرنٹرز

محمد شہباز رضا ریسرچ اسکالر ،ہندستانی زبانوں کا مرکز،
جواہر لال نہرو یونی ور سیٹی ،نئی دہلی