کتابوں پرتبصرے

گلزار صوفیائے نقش بند

نام کتاب:ـ ’’گلزار صوفیائے نقش بند‘‘
مرتبین: علامہ محمد ابو صالح قادری شمسی
علامہ محمد عقیل رومانی مصباحی
علامہ مفتی محمد انور عال مصباحی
ناشر : محمودالاولیا اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن
دار العلوم فیض اکبری ،لونی شریف ،مندرا کچھ،گجرات(انڈیا)
سن اشاعت: 14 اکتوبر2017ء
صفحات: 736۔
مبصر: محمد ثناء اللہ مصباحی،ریسرچ اسکالر جے این یو ،نئی دہلی67۔

زیر نظر کتاب ’’گلزار صوفیائے نقش بند‘‘مشر ب نقشبندیہ کے عمائدین و اکابرین اور اسلاف و اخلاف کا ایک جامع تذکرہ ہے ،جو علامہ محمد ابو صالح قادری شمسی ،علامہ محمد عقیل رومانی مصباحی اور علامہ مفتی محمد انور عالم مصباحی صاحبان کی مشترکہ کوششِ مشکور کا ثمرہ ہے۔جسے کتابی صورت میں مزین کرکے عام قارئین تک فیض رسانی کی غرض سے منظر عام پر لانے کی سعادت کا سہرا محمودا لاولیا اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن ،دار العلوم فیض اکبری لونی شریف ،کچھ گجرات کے ذمہ داروں کے سر جاتاہے۔ اس تالیفِ جلیل میں مصنفین نے سلسلہء نقشبندیہ کے بزرگوں کے احوال و کوائف ،دینی و ملّی خدمات وکرامات اور اقوال و معمولات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔عہد قدیم سے ہی ہندوستان صوفیوں ،سنتوں کا مرجع و منبع رہا ہے جہاں دیگر سلاسل و مشارب کے بزرگوں نے اپنے پیغام کی ترویج و تشہیر کا کام انجام دیا وہیں سلسلہء نقشبندیہ کے متعدد بزرگوں نے بھی مختلف عہد میں سلسلہء نقشبندیہ کی ترویج و توسیع کیں۔دنیا کے چار بڑے مشربوں :چشتیہ ،قادریہ ،سہروردیہ اور نقشبندیہ میں سلسلہ نقشبندیہ اپنی تاریخی قدامت ،صدیقی نسبت ،بڑے بڑے اسلاف کی عظمت و کرامات اور ان کی دینی و ملّی خدمات ،مخصوص اوراد و اذکار اور بعض دیگر خصوصیات کی وجہ سے ایک با برکت سلسلہ ہے۔اس سلسلے کے نسبتی شجرہ میں ایک طرف وجہ وجود کائنات کے یارِغار صحابی رسول سیدنا حضر ت صدیق اکبر اس کے روح کارواں ہیں تو دوسری طرف عشق رسول سے سرشار دیوانہ وار حضرت اویس قرنی اور اولاد رسول سیدنا غوث پاک رضوان اللہ تعالی والرضوان اس نیر تاباں کے کھیون ہار ہیں ۔صحابی رسول اور تابعین صحابہ،تبع تابعین اور جید علما اور پاک صفات بزرگوں کی نسبت نے نقشبندیہ مشرب کو ممتاز مقام عطا کیا ہے ۔انہیں ممتاز بزرگوں کی سوانح نگاری اور ان کی زندگی کے واقعات اور زندگی کے نشیب و فراز کو مولفین نے بڑے ہی سادہ سلیس ادبی چاشنی سے لبریز دل پذیر اسلوب میں زمانی اعتبار سے عہد بہ عہد سلسلہء نقشبندیہ کے بزرگوں کی تاریخ مرتب کرنے کی ایک کامیاب اور قابل تعریف سعی کی ہیں۔
معنوی اعتبار سے مجموع طور پر کتاب تین حصوں میں منقسم ہے:پہلے حصہ میں وجہ وجود کائنات ،تصوف کے منبع و ماوی اور نیر اعظم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات با برکات کا ذکر جمیل کے ساتھ دو صحابی رسول سیدنا صدیق اکبر اور سیدنا سلمان فارسی رضوان اللہ تعالی علیہم کے علاوہ دو تابعین حضرت سیدنا قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیق و حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضوان اللہ تعالی علیہم کی حیات مبارکہ کا بیان ہے۔اس طرح کتاب کے اولین حصے میں سیرت نگاری کے بہترین نمونے ملتے ہیں ۔سیرت نگاری ایک مشکل فن ہے لیکن مولفینِ کتاب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے اہم گوشوں کو جس محتاط اسلوب میں بیان کیا ہے اس سے مرتبین کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑتا ہے ۔حضور کی ولادتِ با سعادت سے پیشتر اہل مکہ کی سماجی و معاشی صورت حال کا تاریخی پس منظر ،ولادت ِ طیبہ کی والہانہ انداز میں منظر کشی اور خصوصاًحضور کے اخلاق حسنہ کا تذکرہ بڑے ہی دل پذیر انداز میں کیا گیا ہے۔مرتبین کی اسلوب نگارش قاری کو اول تا آخر اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ خانقاہ نقشبندیہ کے مشائخ کبار کے تذکرے پر مشتمل ہے ۔یہ حصہ نسبتاً کافی طویل ہے اس میں کل اٹھائیس مشائخ نقشبندیہ کا بھر پور حالات زندگی کا بیان ہے ،جن میں حضرت شیخ ابو یزید طیفور بن عیسی بسطامی قدس سرہٗ،حضرت خواجہ عبد الخالق غجدوانی قدس سرہٗ،حضرت خواجہ محمد بابا سماسی قدس سرہٗ،خواجہء خواجگان سید محمد بہاء الدین نقشبند بخاری قدس سرہٗ،حضرت خواجہ محمد باقی باللہ قدس سرہٗ اور حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی قدس سرہٗ کی شخصیات تاریخی اہمیت کی حامل ہیں کیوں کہ مختلف عہد میں سلسلہٗ نقشبندیہ انہیں ذوات سے منسوب ہوکر مختلف ناموں سے اس سلسلے کو پکارا جاتا رہا۔
’’یہ مبارک سلسلہ مختلف ادوار میں مختلف اسماء سے منسوب رہا۔حضرت سیدنا
ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے حضرت سلطان العارفین تک ’’صدیقیہ‘‘
کہلایا۔حضرت سلطان العارفین با یزید بسطامی قدس سرہٗ سے حضرت خواجہ
عبد الخالق رضی اللہ تعالی عنہ تک ’’طیفوریہ ‘‘ کہلایا۔حضرت غجدوانی رحمۃ اللہ
علیہ سے خواجہ بہاء الدین نقش بند تک ــ’’خواجگانیہ‘‘کہلایا۔اور حضرت خواجہ نقش
بند علیہ الرحمہ سے حضرت مجدد الف ثانی تک ’’نقشبندیہ‘‘ سے جا نا گیا اور اب
حضرت مجدد الف ثانی قدس سرہٗ سے منسوب ہوکر’’ مجددیہ‘‘ کے نام سے موسوم
ہے ۔ ــ‘‘(ص 392۔)
اس طرح کتاب کا یہ حصہ 883ء سے 1625ء تک کے مشائخ نقشبندیہ کے تذکروں پر مشتمل ہے۔تقریباً ان نو صدیوں کے دوران سلسلہء نقشبندیہ بسطام و ایران ،بخارا و سمرقند کی سرزمین کو فیض یاب کرتے سر زمین ہندوستان میں اس سلسلے کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔جہاں حضرت خواجہ محمد باقی باللہ قدس سرہٗ نے نقشبندیہ مشرب کی اساس و بنیاد قائم کی تو حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی نے اپنی علمی موشگافیوں اور متصوفانہ سرگرمیوں سے اس خانقاہ کی توسیع کا کا م انجام دیا۔شاید یہی وجہ ہے کہ آج نہ صرف بر صغیر بلکہ پوری دنیا میں سلسلہء نقشبندیہ کی شناخت و امتیاز انہیں دو بزرگوں کی ذات و صفات سے قائم و دائم ہے۔
کتاب کا تیسرا ور آخری حصہ خانقاہ عالیہ قادریہ نقشبندیہ مجددیہ لونی شریف کے مشائخ اور بزرگوں کے احوال زندگی اور دعوتی خدمات پر مشتمل ہے۔لونی شریف کا یہ سادات خاندان بغداد معلی سے ہجرت فرماکر بدایوں یوپی،راوی پنجاب،باڑمیر راجستھان اور پھر وہاںسے لونی علاقہ کچھ گجرات کی سکونت اختیار کی اور اس سرزمین کو مستقلاً اپنی دعوت و تبلیغ کا مستقر قرار دیا ۔کتاب کے مطابق اس خاندان کے مورث اعلاتاج العارفین محمود سرخ پوش عرف سرخ شہید علیہ الرحمۃ و الرضوان سب سے پہلے بغداد سے ہجرت کرکے ہندوستان کے صوبہ یوپی کے بدایوں کی سکونت اختیار کی کئی پشتوں کی دینی و دعوتی خدمات کے بعد یہ خاندان پنجاب منتقل ہوااور پنجاب راوی کے اطراف و اکناف میں روحانی فیض رسانی کے بعد مرشد کی ہدایات کے مطابق ایک بار پھر دین و مشرب کی خاطر اس خاندان نے ہجرت کی مشقتیں برداشت کی۔ اس دفعہ باڑ میر راجستھان کی سرزمین کو فیض یاب کیا اور بالآخریہاں سے لونی کچھ علاقہ گجرات کو اپنی دعوت و تبلیغ کا مرکز قرار دیا ۔تب سے آج تک اس خاندان کے مشائخ و بزرگ دینی و ملّی خدمات میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔
ترتیب و تالیف اور اسلوب و مواد کے اعتبار سے یہ کتاب ایک تاریخی دستاویز ہے۔موضوع و مواد کی مناسبت سے قرآنی آیات اور احادیث کریمہ سے استشہاد کتاب کی وقعت و استفادیت اور معنویت کو دوبالا بناتی ہیں۔مزید برآں قرآنی آیتوں کے مستند تراجم کتاب کو وثوق و اعتبار کا درجہ عطا کرتے ہیں۔کتاب کا ہر صفحہ اہل اللہ کے عشق و مستی ،کیف وسرور اور جذب وسلوک میں ڈوبی حیات مبارکہ کی ایسی دل کش تصویر وں کا ایسا مرقع ہے جو مطالعہ سے تعلق رکھتا ہے۔پوری کتاب بشمول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نگاری سینتیس صوفیائے نقشبند کے تذکرے پر محیط ہے۔ہر صاحب تذکرہ کے حالات زندگی کا بیان انفرادی اور مستقل باب کی حیثیت رکھتا ہے ۔اصل موضوع سوانح نگاری اور حالات زندگی کو بیان کرنے سے پہلے مولفین نے مناسب و موزوں تمہیدی گفتگو کے ذریعہ متعلقہ بزرگ کے احوال و خدمات کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہیں۔مرتبین کتاب نے سوانح نگاری کے سلسلے میں اختلاف ِروایات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا ہے ۔صاحب تذکرہ کی جائے پیدائش ،تاریخ وفات ،اسماء ،سلسلہء خلافت سے متعلق مختلف روایات کو موقع کی مناسبت سے بڑے ہی واضح انداز میں قارئین کے سامنے پیش کردیا ہے۔ بوقت ضرورت تصوف و تصرف سے متعلق دقائق مباحث اور علمی موشگافیوں سے کتاب کے صفحات کو مزین کیا گیا ہے اور آیات و آحادیث کے ضروری حوالوں سے کتاب کو مدلّل و مبرہن بنایا گیا ہے جس کے مطالعہ سے قاری کے دل میں تصوف سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ان تمام مسائل و مباحث کو بیان کرنے میں مولفین نے جس اسلوب نگارش کا سہارا لیا ہے اس کی سادگی و سلاست ،ایجاز و اختصار جیسے اوصاف کی وجہ سے عبارت میں ایک قسم کی ادبیت اور دل کشی پیدا ہوگئی ہے جس کے سبب عام قاری کے علاوہ ذوق اد ب رکھنے والے قاری کے لیے بھی دل چسپی کے سامان مہیا کردیا گیا ہے۔کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جا بجا تصوف سے متعلق فارسی اشعارمع اردوترجمے کی اس قدر پیوند کاری کی گئی ہے کہ اس سے متعلقہ مبحث کی وضاحت و صراحت اور تصوف کے متعدد مباحث اور اسرار ورموز کے در واہو تے ہیں۔تاہم مشائخ کے کرامات و تصرفات کا ذکر کرتے دلائل پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی شاید اس لیے کہ کرامات ہوتے ہی ہیں خرق عادت ۔ تاریخ ولادت و وفات کے باب میں ہجری سنن کے ساتھ عیسوی سنن بھی مذکور ہیں البتہ دیگر واقعات نگاری کے سلسلے میں ہجری سنین کے ساتھ عیسوی سنین کا نہ ہونا آج کے قاری کے لیے ایک بار گراں امر ہے ۔میرے خیال سے واقعات نگاری میں ہجری سنن کے ساتھ عیسوی سنن کاذکر بھی لازمی طور پرہونا چاہئے کیوں کہ اب یہی عام طور پر رائج ہے۔یہاں میں ایک نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ کتاب میں مشائخ کی تذکرہ نویسی کے سلسلے میں متعلقہ عہد کی معاشی و سیاسی، علمی و سماجی صورت حال کے بیان سے چشم پوشی کی گئی ہے ۔شاید یہ اس لیے کہ ابھی ہمارے یہاں اس کا رواج نہیں ہے زیادہ تر تذکرہ نویسوں نے صاحب تذکرہ کی ذات وصفات اور کرامات و تصرفات پر ہی اکتفا کیا ۔جب کہ اسے رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تذکرے کی افادیت مزید دو بالا ہوجائے کیوں کہ اس سے متعلقہ عہد کی سیاسی وسماجی ،علمی و معاشی حالات کے ساتھ مکمل تصویر قاری کے ذہنوں میں منقش ہو سکے ۔اردو کتابوں میں املا کی غلطیاں عام طور پر پائی جاتی ہے لیکن اس کتاب کے مطالعے کے بعد مجھے حیرانی ہوئی کہ عام روش کے بر خلاف کتاب مذکور املائی غلطیوں سے پاک ہے ۔سر ورق دیدہ زیب 736 ء صفحات پر محیط کل اڑتیس صوفیائے کبار کی ذات و شخصیات کے احوال وکوائف پر مشتمل ایک منفرد اور جامع تذکرہ ہے ،جس کی اہمیت و افادیت تذکرہ نگاری کی روایت میں عموماً اور سلسلہء نقشبندیہ کی تاریخ اور تذکرہ نگاری کے باب میں خصوصاًمسلم ہے۔اندرونِ کتاب میعاری صفحات،کتابت کی عمدہ تزئین کاری اور متعلقہ صاحب تذکرہ بزرگ کے مرقدوں کی رنگین تصاویر کتاب کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں ۔امید ہے کہ تصوف سے دل چسپی رکھنے والے قاری کے علاوہ عام قاری بھی اسے ہاتھ ہاتھ لیں گیاور دعا ہے کہ اللہ اس کاوش جلیل کو قبولیت عام اور شہرت دوام عطا فرمائے۔
٭٭٭