ادیبوں کا تعارف

عنایت حسین عیدنؔ۔ موریشس

عنایت حسین عیدنؔ۔ موریشس

تحریر : محمد ثنا ءاللہ 

عنایت حسین عیدنؔ کو اگر ماریشس کابابائے اردو کہا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ ان کی اردو خدمات ہمہ جہت اور ہمہ گیر ہیں۔ وہ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار اور ڈراما نگار بھی ہیں۔ اردو زبان و ادب کے فروغ و ترقی میں انہوں نے جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ماریشس میں اردو زبان و ادب کے حوالے سے عنایت حسین عیدن کی شخصیت ایک انجمن کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوںنے جہاں ایک طرف مختلف اصناف ادب میں ادب پارے تخلیق کر کے ماریشس میں ادبی تخلیق کی بنیاد ڈالی وہیں دوسری طرف لکھنے والوں کا ایک حلقہ تیار کیا۔ انھوں نے نووارد قلم کاروں کی رہنمائی و سرپرستی فرما کر اردو زبان و ادب کی توسیع و اشاعت کا کام انجام دیا۔ عنایت حسین عیدن نے اپنی فکری اور انتظامی صلاحیتوں کی بدولت جزیرہ میں اردو فروغ کے لیے جس لائحہ عمل کو تیار کیا تھا اس کے نتیجے میں ماریشس کا چمنستان اردو آج بھی گل گلزار ہے۔ اردو کی نئی بستیوں میں ماریشس کی انفرادی شناخت اور پہچان انھیں کے بدولت ہے۔
عنایت حسین عیدن کی ولادت 20نومبر 1943 کو تریلوے، ماریشس کے ایک متوسط خاندان میں ہوئی۔ ان کے والدین زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ ان کے آباؤ اجداد صوبۂ یوپی کے ضلع اعظم گڑھ سہولی گاؤںسے ہجرت کر کے انیسویں صدی کے نصف میں ماریشس پہنچے تھے۔ گھر میں پوربی اور اردو بولنے کا رواج تھا۔ ان کی والدہ تا حیات اپنے بچوں سے اردو میں ہی بات کرتی رہی۔ والد محترم نے چوتھی جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی۔ عنایت حسین اپنے پانچ بھائیوں اور پانچ بہنوں میں سب سے بڑے ہیں۔ عنایت حسین کی تعلیم و تربیت اولاً مکتبوں میں ہوئی۔ گھر کا ماحول دینی اور مذہبی تھا اس لیے انھیں بھی پہلے دینی درسگاہوں میں بھیجا گیا جہاں قرآن و احادیث کی تعلیم مکمل کی۔ موصوف نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے ’’مہیشور ناتھ ایڈد اسکول‘‘ سے اور ابتدائی اردو کی تعلیم مرحوم شوکت علی امام دین سے حاصل کی۔ کھیل کود اور سیر و تفریح سے عنایت حسین کو فطری لگاؤ تھا۔ وہ ایک اچھے فٹ بالر تھے۔ سی پی ای کے امتحان کے زمانے میں فٹ بال کھیلنے کی وجہ سے ان کا ایک پیر ٹوٹ گیا تھا اس سے تعلیم متاثر ہوئی اور پہلی بار سی پی ای کے امتحان میں عنایت حسین ناکام ہوگئے۔ لیکن دوسری دفعہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوئے۔ سینئر کیمبریج کورس میں بطور اختیاری مضمون اردو کا مطالعہ کیا۔ اس وقت ایچ ایس سی یعنی ہائیر سکنڈری سرٹیفکیٹ کی سطح پر ماریشس میں اردو کی تدریس نہیں تھی۔ اس لیے انھوں نے انگریزی و فرنچ ادب اور تاریخ کے مضامین کے ساتھ ایچ ایس سی 1960میں پاس کیا۔ ایس سی اور ایچ ایس سی دونوں کی تعلیم پلین دے پاپائی کے Neo College سے مکمل کی تھی۔ایچ ایس سی کی تعلیم مکمل ہونے کے دو سال بعد 1962 ء میں بحیثیت استاد اسی کالج میں تقرری ہوئی جہاں وہ ریاضی، انگریزی اور فرنچ ادب پڑھاتے تھے۔
ساٹھ کی دہائی کے ماریشس میں کئی طرح کی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس دور میں مختلف سیاسی و سماجی تحریکیں چلائی گئیں۔ باسو دیو وشنو دیال نے ہندوؤں کی مذہبی اور تہذیبی وراثت کی حفاظت کے لیے ’’جن آندولن‘‘ تحریک قائم کی۔ دوسری طرف لیبر پارٹی کے ممبران آزادی کی تحریک چلا رہے تھے۔ غرض کہ ہندستانی تہذیب و ثقافت کی بازیافت کے لیے متعدد ہند نژاد رہنما کوشاں تھے۔ رابندرناتھ ٹیگور کی جشن صد سالہ منائی گئی۔ تمل والوں نے ’’ٹیرووافر‘‘ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں نے علامہ اقبال کی طرف توجہ دی اور اس پر مختلف قسم کے پروگرام ہونے لگے۔ عنایت حسین عیدن اسی تحریک سے متاثر ہو کر ہندستان میں اردو ادب کی تعلیم کے مقصد سے علی گڑھ تشریف لائے جہاں سے انھوں نے بی۔ اے اردو آنرس اور ایم۔ اے اردو کی اعلا تعلیم مکمل کر کے 1970 ء میں اپنے وطن واپس لوٹے۔
اپنے پانچ سالہ علی گڑھ قیام کے دوران عنایت حسین نے اردو زبان وادب، شعر و سخن اور تاریخ و ثقافت کا عمیق مطالعہ کیا۔ انکی یہ خوش نصیبی ہی تھی کہ انھیں ڈاکٹر اطہر پرویز، خورشید الاسلام، شہریارؔ، معین ا حسن جذبیؔ، خلیل الرحمن اعظمیؔ اور آل احمد سرورؔ جیسے جید اساتذہ سے شعر و سخن اور تنقید و تحقیق جیسے مضامین پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ ایم۔ اے کے دوران انہیں آل احمد سرور ؔسے مغربی تنقید، معین ا حسن جذبی ؔسے غزل اور خلیل الرحمن اعظمی ؔسے مشرقی تنقید پڑھنے کا موقع ملا۔ ان اساتذۂ فن کی صحبت میں عنایت حسین عیدن کا ادبی ذوق مزید نکھر کر سامنے آیا۔ وہ اپنے اساتذہ کے محبوب اور قریب تر تھے۔ اپنی محنت و مشقت سے انھوں نے بھی اپنے اساتذہ پر اچھے اثرات قائم کیے۔ عنایت حسین عیدن ذہین و فطین اور ایک ہونہار طالب علم تھے۔ وہ یونیورسٹی کیمپس کے شعری و ادبی اور تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں میں دل چسپی دکھاتے۔ ان میں شرکت کرتے اور حصہ لیتے۔ انھیں اوصاف و خصوصیات کی بنیاد پر انھیں 1969ء میں علی گڑھ میگزین کے مدیر کے اعزاز سے سرفراز کیا گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی غیر ملکی طالب علم کو میگزین کا مدیر بنایا گیا۔ علی گڑھ میگزین ایک معیاری رسالہ ہے۔ عنایت حسین عیدن نے اپنی ادارت میں علی گڑھ کے شعرا پر مبنی ایک خصوصی شمارہ شائع کیا تھا جس کی خوب پذیرائی ہوئی تھی۔ یہ اپنے آپ میں ایک اہم کام تھا۔قیام ہندستان کے دوران عنایت حسین عیدن نے اردو کے بڑے بڑے ادبا و شعرا اور نقادوں سے ملاقات کی۔ ان سے شعر و ادب سے متعلق استفادے کیے۔ گلناز جومن اپنے مقالے میں رقم طراز ہیں:
’’عنایت حسین عیدن کو ڈاکٹر خورشید الاسلام کے ساتھ لغت کے سلسلے میں Oxford جانے اور پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا موقع ملا تھا۔ پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا شوق تو تھا لیکن انھوں نے دونوں کے لیے منع کیا اور اپنے والدین کی خدمت کرنے کے لیے 1970ء میں اپنے وطن لوٹ آئے۔‘‘1؎
اردو زبان و ادب میں بی اے آنرس اور ایم۔ اے کی ڈگریوں کے علاوہ عنایت حسین عیدن نے Shorthand Typing کی سند Certificate in Telgu، Diploma in German Language اور لندن یونیورسٹی سے Diploma in Education بھی حاصل کی تھی۔
1970 ء میںعنایت حسین عیدن اپنی تعلیم مکمل کر کے ماریشس واپس لوٹے جہاں پہلے سے ہی ڈاکٹر اطہر پرویز اردو زبان کے فروغ و ترقی میں سرگرم عمل تھے۔ وہ ٹیچر ٹریننگ کالج سے منسلک تھے، جہاں زیر تربیت اساتذہ کو درس دیتے۔ عنایت حسین اپنے استاد اطہر پرویز سے ملاقات کی تو انھوں نے ایک لائبریری کھولنے کا ارادہ ظاہر کیا جس پر عنایت حسین نے اپنے استاد کو لائبریری کے بجائے ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کی تجویز پیش کی جس میں لائبریری بھی ہو ۔ ڈاکٹر اطہر پرویز کو یہ تجویز پسند آئی پھر دونوں نے مل کر سر عبدالرزاق اور دیگر مسلم رہنماؤں کے تعاون سے 18اکتوبر 1970 ء کو The National Urdu Institute کی بنیاد رکھی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ماریشس کا یہ واحد اردو ادارہ تھا جو بعد میں اردو کے فروغ و ترقی کے لیے میل کا پتھرثابت ہوا۔ عنایت حسین عیدن اس کے سیکریٹری نامزد ہوئے اور رضاکارانہ طور پر اس ادارے میں درس و تدریس کا کام انجام دینے لگے۔ تقریباً تیس سالوں تک بطور سیکریٹری اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔ اس ادارے کو عنایت حسین عیدن نے اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔ یہیں پر انھوں نے جامعہ اردو علی گڑھ کے ابتدائی ،ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کے امتحانات کے طلبا و طالبات کی رہنمائی کی غرض سے جامعہ اردو ایگزام بورڈ قائم کیا اور ’’انجمن ادب اردو‘‘ کی بنیاد رکھ کر تمام نووارد قلمکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جہاں لوگ ماہ میں ایک بار اکٹھا ہوتے، اپنی اپنی تخلیقات پیش کرتے اس پر تبصرے کیے جاتے اور عنایت حسین عیدن خود نئے تخلیق کاروں کی اصلاح کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اس طرح لکھنے والوں کا ایک حلقہ تیار ہوا۔
27جون 1972 ء میں عنایت حسین عیدن کا تقرر بحیثیت ایجوکیشن آفیسر ٹیچر ٹریننگ کالج میں ہوا۔ یہاں وہ زیر تربیت اساتذہ کو اردو زبان و ادب کا درس دیتے تھے۔ 1975 ء میں قاسم ہیرا کی رفاقت میں اردو کری کولم (Curriculum) کی ترتیب و تدوین کا کام انجام دیا۔ 1974 ء میں جب ثانوی اسکولوں میں اردو تدریس کی ابتدا ہوئی تو وزیر تعلیم نے قاسم ہیرا اور عنایت حسین کو بلایا اور پوچھا کہ ثانوی اسکول میں کون پڑھائے گا۔ دونوں نے خوشی خوشی یہ ذمہ داری قبول کر لی۔ عنایت حسین عیدن رائل کالج پورٹ لوئیس میں اردو پڑھاتے تھے۔ 1978 ء میںجب قاسم ہیرا کی بحیثیت ایڈوائزرمہاتماگاندھی انسٹی ٹیوٹ میں تقرری ہوئی تو ثانوی اسکولوں میں اردو کی تدریس کی پوری ذمہ داری عنایت حسین عیدن کے ذمے دے دیا گیا۔ 1980 ء میں Mauritius College of Education سے بطور ٹرینر اور دو سال بعد 1982 ء میں مہاتماگاندھی انسٹی ٹیوٹ سے بطور لکچرار وابستہ ہوئے اور یہیں سے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر 2003 ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ عنایت حسین عیدن نے اپنی عملی زندگی میں پیشۂ معلمی کو اختیار کیا اور سبکدوش ہوجانے کے بعد بھی آج اسی پیشۂ معلمی سے وابستہ ہیں۔ آج بھی وہ رضاکارانہ طور پر بلا کسی معاوضہ کے پی جی سی ای کے طلبا کو پڑھاتے ہیں۔
عنایت حسین عیدن 1972 ء میں ریحانہ کے ساتھ رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ محترمہ ریحانہ بھی خود پرائمری اسکول میں اردو ٹیچر ہیں۔ 1968 ء میں ملازمت اختیارکی تھی اور 2010 ء میں سینئر نگراں کی حیثیت سے ملازمت سے سبکدوش ہوئی۔ ان کی اردو زبان بڑی شستہ اور شائستہ ہے ان سے بات کرتے ہوئے احساس نہیں ہوتا کہ ایک غیر ملکی سے اردو میں گفتگو کر رہے ہیں۔ ان کی متعدد اردو خدمات کے اعتراف میں انھیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔ عنایت حسین کی دو اولادندیم اور ظہیر ہیں۔ یہ دونوں بھی اچھی اردو جانتے ہیں۔ پیشے سے دونوں طبیب ہیں۔
عنایت حسین عیدنؔ ایک کہنہ مشق ادیب، محقق اور متعدد کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ ان کے درجنوں سے زائد تحقیقی و تنقیدی مضامین دنیا کے معروف رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد سیمیناروں اور کانفرنسوں میں وہ شرکت کر چکے ہیں۔ تاریخی اور زمانی اعتبار سے عنایت حسین کی سب سے پہلی تحریر 20 جون 1968 ء کو بہادر شاہ ظفر پر ایک طویل مضمون بعنوان Le Roi Poets شائع ہواتھا۔ عمر خیام پر ان کا مضمون اسی سن میں منظر عام پر آیا۔ 1970 ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ پر انھوں نے ایک تفصیلی مضمون لکھا تھا جو جامعہ میگزین میں شائع بھی ہوا تھا مضمون کا عنوان تھا Muslim Educational Institutes of India: Jamia Millia Islamia ۔ سرسید پر بھی ان کا ایک مبسوط مضمون ہے۔ اخترشیرانیؔ، شہریارؔ اور مجازؔ جیسے شعرا و ادبا پر ان کے تحقیقی و تنقیدی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔ قومی آواز جو پاکستان کا اخبار ہے اس میں ان کا نہایت عمدہ اور تحقیقی مضمون بعنوان ’’ماریشس کے تارکین وطن شائع ہوا تھا اور 2003 ء میں پاکستان کے ہفت روزہ اخبار The Pakistan Post میں ایک طویل مضمون ’’اقبال اور ماریشس‘‘ شائع ہوا تھا۔مذکورہ بالا تحقیقی و تنقیدی مضامین سے متعلق گلنار جومن رقم طراز ہیں:
’’وہ تحقیق کاروں یا فن کاروں کی تفہیم و تقویم میں نہ تو طرفداری سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی تنگ نظری کو راہ دیتے ہیں۔ ان کے نقطۂ نظر متوازن ہے۔ کبھی کبھی وہ انگریزی ادب کا بھی حوالہ دیتے ہیں۔ ان کے تحقیقی مضامین اور کتاب میں رنگین بیانی نہیں ہے۔ وہ مختلف حقائق کا بیان کرتے ہیں۔ان کی توضیح و تشریح کرتے ہیں اور آخر میں ساری باتوں کو سمیٹ کر کسی ایک مقام پر لے آتے ہیں اور تمام دلائل کی روشنی میں اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ ان کے فن کو فطری، جاندار، حقیقی، دلکش، سنجیدہ، مدلل اور ان کی شخصیت کا آئینہ دار اسلوب مان سکتے ہیں‘‘۔2؎
عنایت حسین عیدن متعدد قومی اور بین الاقوامی سیمیناروںاور کانفرنس اور ورکشاپ میں شرکت کر کے مختلف موضوعات پر مقالے پڑھ چکے ہیں۔ سب سے پہلے 1974 ء میں حکومت ہند کی دعوت پر انھوں نے اردو زبان و ادب کی تدریس کے سلسلہ میں نئی دہلی کے تعلیمی اداروں کا دورہ کیا تھا۔ اکتوبر 1982 ء کو یونیورسٹی آف ماریشس میں زبانوں پر ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا تھا جس میں انھوں نے اپنا مقالہ بعنوان ’’ماریشس میں اردو کا مقام‘‘ پیش کیا تھا۔ 1989 ء نئی دہلی میں ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں ’’غدر کے بعد مسلمان اور غدر کے بعد ماریشس میں مسلمانوں کی آمد‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پڑھا تھا۔ جنوری 1994 ء کو میسور کے Central Institute of Indian Language میں Maintenance of Indian Language پر ایک کانفرنس ہوئی تھی جس میں موصوف نے اپنا مقالہ بعنوان: Maintenance of Urdu in Mauritius with reference to the Bilingual Situation پڑھا تھا۔ 30 اکتوبر تا پہلی نومبر 2014 ء کو دہلی میں قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کا سہ روزہ سیمینار منعقد ہوا تھا۔سیمینار کا موضوع تھا: ’’اکیسویں صدی میں اردو کا سماجی و ثقافتی فروغ‘‘۔ اس وقت کے ڈائریکٹر استاد محترم پروفیسر خواجہ اکرام الدین صاحب نے پوری دنیا سے اردو کے دانشوروں اور شعرا و ادبا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا۔ ماریشس سے شرکت کرنے والے مندوبین میں عنایت حسین عیدن بھی تھے۔ انھوں نے ماریشس میں ’’الیکٹرونک میڈیا اور اردو‘‘ کے عنوان سے اپنا پرمغز مقالہ پیش کیا تھا۔
عنایت حسین عیدن عالمی شہرت یافتہ ادیب اور دانشورہیں۔ فرانس اور ہندوپاک کے بڑے بڑے شعرا و ادبا سے ان کے ذاتی مراسم ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان سے تبادلۂ خیال کرتے رہتے ہیں۔ ادبی محفلوں اور مجلسوں میں عنایت حسین عیدن کی رائے کو فوقیت دی جاتی ہے۔ عنایت حسین عیدن چھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کی اردو خدمات متنوع اور اس کا دائرہ وسیع و عریض ہے۔ یوں تو عنایت حسین عیدن زمانۂ طالب علمی ہی سے کچھ نہ کچھ لکھتے رہے ہیں۔ جب 1974 ء میں ’’انجمن ادب اردو ‘‘کی بنیاد رکھی اور اردو انسٹی ٹیوٹ سے ادبی رسالہ ’’جستجو‘‘ جاری کیا تو اس رسالے کے لیے ڈرامے، افسانے اور مضامین مسلسل لکھتے رہے اور دوسروں کو بھی لکھنے پر آمادہ کرتے رہے۔ لیکن حیدرآباد کے رسالہ ’’شگوفہ‘‘ میں ان کا پہلا انشائیہ ’’بریانی‘‘ 1992 ء میں شائع ہوا تھا۔ ماریشس کے ماحول و فضا کے مطابق ڈراما نگاری یہاں کے قلم کاروں کی پسندیدہ صنف ہے۔ فیسٹیول کی ضرورتوں کے مدنظر عنایت حسین عیدن نے بھی اچھی خاصی تعداد میں ڈرامے تحریرکیے ہیں۔ ان کے ڈراموں کا پہلا مجموعہ ’’زندہ گزٹ‘‘ کے نام سے پہلی مرتبہ مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ نے 1990 ء کو کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس میں کل چھ یکبابی ڈرامے: زندہ گزٹ، شادی کا جوڑا، ضمیر، چپراسی، میں کھیت نہیں جاؤں اور نیا ایگریمنٹ کے زیر عنوان شامل ہیں۔ زبان و بیان، قصہ و پلاٹ، اسلوب و کردار ہر اعتبار سے یہ ڈرامے دل چسپ اور کامیاب ہیں۔ تقریباً سبھی ڈرامے فیسٹول میں پیش کیے جا چکے ہیں اور بیشتر کو انعامات بھی ملے ہیں۔ ان ڈراموں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اردو فیسٹیول میں پیش کرنے کی غرض سے تحریر کیے گئے ہیں۔ ڈراما نگار نے مقامی فن کاروں کی کوتاہیوں اور اسٹیج کی ضروریات و لوازمات کو مد نظر رکھا ہے۔ ڈرامے سے متعلق ارسطو کے نظریہ ’’وحدت ثلاثہ‘‘ کا ڈراما نگار نے بھرپور خیال رکھا ہے۔ ان کے ڈراموں میں وحدت مقام، وحدت زمان اور وحدت عمل کی شرط پائی جاتی ہیں۔ ڈراما نگار ان ڈراموں سے متعلق خود لکھتے ہیں:
’’ان یک بابی ڈراموں میں میری کوشش یہی رہی ہے کہ کردار اسی طرح اردو بولے جو ماریشس میں بولی جاتی ہے۔ اس لیے آپ کو کئی جگہوں پر مقامی لفظوں کا استعمال نظر آئے گا۔‘‘3؎
عنایت حسین عیدن کے تجربات و مشاہدات کا دائرہ وسیع ہے۔ فن سے متعلق ان کا مطالعہ بھی گہرا ہے۔ سماجی شعور ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ انھیں اوصاف و خصوصیات کی وجہ سے وہ ایک کامیاب فنکار ہیں۔ قاسم ہیرا عنایت حسین کے ڈراموں کے موضوعات سے متعلق اپنے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں:
’’وہ کہیں سرکاری اور نجی شعبوں کے کرم چاریوں کی آرام طلبی اور کام چوری کا پردہ فاش کرتے ہیں تو کہیں شادی کے موقعوں پر جھوٹی اور کھوکھلی نمائش اور فضول خرچی پر چوٹ کرتے ہیں یا تو پھر گھر گھر کی خبر رکھنے والے افواہ فروش ’’زندہ گزٹ‘‘ کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔‘‘
عنایت حسین عیدن کی دوسری تصنیف Urdu Studies in Mauritius ہے جو اگست 2006 ء میں شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں ہے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ اس میں عنایت حسین عیدن کے وہ تنقیدی و تحقیقی مقالات و مضامین شامل ہیں جو انھوں نے مختلف مواقع پر تحریر کیے ہیں۔ یہ دراصل ماریشس کی اردو زبان کی تاریخ ہے۔ اس میں شامل مقالات کے عنوان کچھ اس طرح ہیں:
1- Development of the teaching of Urdu in the primary schools
in Mauritius.
2- Maintenance of Urdu in Mauritius
3- The Place of Urdu in Mauritius
4- Urdu Diaspora
5- Urdu and Islam in Mauritius
6- Books of the Early days
7- The National Urdu Institute: My own experience
8- Sir Abdul Razack Mohammed
9- Mr Abdullah Ahmad Abdullah: A benefactor for Urdu
10- A Valuable Urdu Manuscript
ان دس مضامین کے مطالعہ سے ماریشس میں اردو تدریس کی تاریخ اور کمیت وکیفیت کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے۔ دراصل مصنف کو اس کمی کا شدت سے احساس تھا تحقیقی مقالات تحریر کرتے وقت حوالہ و مصادر کی کتب کمیاب تھی۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے لیے انھوں نے یہ کتاب تصنیف کی۔ ان مقالات کا مطالعہ کرنے سے عنایت حسین عیدن کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کا بھی اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ کس باریک بینی اور مختلف سماجی و سیاسی اور تاریخی حوالوں سے اپنی بات مدلل طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ وہ کوئی بھی بات ہواؤں میں نہیں کرتے، پختہ ثبوت ملنے پر ہی وہ کچھ بھی تحریر کرتے ہیں۔ یہ کتاب تحقیق کے طلبا و اساتذہ دونوں کے لیے یکساں مفید ہیں۔ ڈاکٹر پی ٹیرو ملچٹی (Dr P. Tiroumalechetty) پیش لفظ میں رقم طراز ہیں:
“Urdu studies in Mauritius” provides an intellectual scrutiny directed towards understanding the development of Urdu language in Mauritius and those who were behind such development. Through chapter entitled “An important Urdu manuscript” and “Books of the early days” the author provides the readers with a wealth of information on the study of Urdu during the indenture and post indenture periods substantial references are provided in the body of the text to lead the reader to further studies and investigation.”5
عنایت حسین عیدن کی تیسری تصنیف ’’Mir Taqi Mir’s Ghazals: an Introduction‘‘ (میر تقی میر کی غزلیں: ایک تعارف) ہے۔ یہ کتاب بھی انگریزی زبان میں ہے۔ مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ کا ایک پروجیکٹ ’’The Idea of Indian Literature‘‘ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ تصنیف کا مقصد اردو زبان و ادب سے ان لوگوں کو متعارف کرانا ہے جو اس سے ناواقف ہیں۔ مصنف کے لیے یہ پروجیکٹ کافی مشکل تھا کیونکہ اردو غزلوں کا انگریزی میں ترجمہ کرنا ایک د شوار کن کام ہے۔ دونوں زبانیں تہذیبی اور لسانی اعتبار سے مختلف ہیں۔ موصوف نے عام قاری کو میرؔ کی اردو غزل سے محظوظ ہونے کا موقع دیا ہے۔ انھوں نے اشعار کا ترجمہ کرتے وقت اصل جذبات اور خیالات کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی ہے۔
عنایت حسین عیدن کی چوتھی تخلیق ناول ’’اپنی زمین‘‘ ہے۔ یہ ماریشس کا پہلا اردو ناول ہے۔ 2011ء میں منظر عام پر آیا۔ دہائیوں کی تاریخ و تہذیب پر مشتمل یہ ایک دستاویزی ناول ہے۔ اس کی تخلیق میں عنایت حسین عیدن نے برسوں محنت کی ہیں۔ انھوں نے ماریشس کے نیشنل آرکائیو، لائبریریوں میں موجود دستاویزات اور دیگر تاریخی شواہد کی روشنی میں صدیوں پر مشتمل گرمٹیا مزدوروں کے احوال و کوائف کو ناول کی ہیئت میں پیش کیا ہے۔ ناول نگار خود رقم طراز ہیں:
’’مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ ماریشس کے ہندستانی تارکین وطن کے آرکائیو سے راقم نے استفادہ کر کے یہ ناول لکھا ہے۔ اس لیے یہ ناول محض فکشن نہیں ہے بلکہ فکشن کے ساتھ دستاویزی حقائق بھی خلط ملط کر دی گئی ہیں۔ تاریخی سچائیوں اور ان کے گرد بنے ہوئے افسانوی تانے بانے نے بظاہر اسے ایک مکمل فکشن کا رنگ دے دیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیر نظر ناول مشرقی یوپی اور بہار کے پس ماندہ اور مفلوک الحال تارکین وطن پر مبنی ایک مختلف انداز کا بیانیہ ہے۔‘‘ 6؎
32 ابواب اور 400 صفحات پر مشتمل یہ ایک ضخیم ناول ہے۔ قصہ و پلاٹ، کردار نگاری، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور زبان و اسلوب ہر اعتبار سے یہ ایک فنی شاہکار ہے۔ 25فروری 2011 ء کو غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی میں ناول کے رسم اجرا کے موقع سے علی احمد فاطمی نے اپنا تاثر پیش کرتے ہوئے کہا تھا:
’’ناول میں مہاجرین کی اپنی شناخت برقرار رکھنے کی جو جدوجہد ہے و ہ قابل مطالعہ ہے۔ آسان زبان میں لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور اسی سہل زبان کو پورے ناول میں برقرار رکھنا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے۔‘‘7؎
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر حمیداللہ بھٹ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا:
’’مصنف نے بڑی کامیابی کے ساتھ اتنے کرداروں کی تخلیق کی اور پلاٹ میں ہر ایک کی اہمیت برابر ہے۔‘‘8؎
پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے کہا تھا؛
’’میں نے ہی مصنف کو تحریک دلائی تھی اور پورا مسودہ پڑھا تھا۔ مصنف کو ناول نگاری کا فن آتا ہے۔ اردو ادب میں ناول ’’اپنی زمین ‘‘نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔‘‘9؎
عنایت حسین عیدن کی پانچویں تخلیقی تصنیف (چھوٹا بنگلہ نہیں بلکہ ایک۔۔۔) ہے ۔ یہ ان کے افسانوںں کا مجموعہ ہے جسے اسٹار پبلی کیشنز پرائیوٹ لمیٹڈ نے 2014میںشائع کیا۔ اس مجموعے میں عنایت حسین کے کل دس افسانے شامل ہیں۔
1۔ چھوٹا بنگلہ نہیں بلکہ ایک۔۔۔
2۔ ہمارا بھی زمانہ تھا
3۔ آئی پوڈ
4۔ کریم چچا
5۔ لاوارث قبر
6۔ مدرسہ
7۔ نئی گاڑی
8۔ ناجوخالہ
9۔ نایاب تحفہ
10۔ روزہ
مذکورہ بالا افسانوں کے عنوانات سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ افسانہ نگار نے زندگی کے عام موضوعات کو اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔ ان افسانوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ عنایت حسین عیدن کو افسانہ نگاری کا فن خوب آتاہے۔ کہانی بیان کرنے کا ہنر انہیں معلوم ہے۔ اس مجموعے میں شامل افسانے ماریشس کے مخصوص ماحول وحالات اور وہاں کے سماجی پس منظر میں لکھے گئے ہیں۔ لاوارث قبر کے علاوہ سبھی افسانوں کا پس منظر ماریشس ہی ہے۔لاوارث قبر میں فرانسیسی منظر نامہ ہے۔ افسانہ نگار نے اسے فرانس کے قیام کے دوران ہی لکھا تھا۔ بایں وجہ اس افسانے کی کہانی کا پس منظر فرانس ہے۔ عنایت حسین عیدن طالب علمی کے زمانے سے ہی افسانہ لکھنے لگے تھے۔ علی گڑھ کی تعلیم کے دوران مشہور افسانہ نگار قاضی عبدالستار سے انہوں نے فن افسانہ کا درس لیا تھا۔ وہ افسانے لکھنے کے لیے عنایت حسین کو اکساتے بھی تھے۔ انہیں کی تحریک پر عنایت حسین عیدن نے اپنا پہلا افسانہ ’’میراث‘‘ کے زیر عنوان لکھا تھا جسے بغرض اصلاح قاضی عبدالستار کو دکھایا بھی تھا۔ عنایت حسین عیدنؔ خود لکھتے ہیں:
’’ایک بار میں نے بڑی ہمت کرکے ان کو اپنا ایک افسانہ دکھایا تھا جس کا عنوان تھا ’’میراث‘‘ انہوں نے افسانے کی خامیاں اور خوبیاں بتائیں جن سے مجھے بہت فائدہ پہنچا انہوں نے مجھے لکھتے رہنے کی تاکید کی اور ساتھ ہی ساتھ اس پر بھی زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ افسانے پڑھتارہوں ۔ ان کی ہمت افزائی سے افسانے لکھنا جاری رکھا۔‘‘10؎
مجموعے میں شامل افسانوں کا تنقیدی وتجزیاتی مطالعہ متعلقہ باب میں پیش کیاجائے گا۔
عنایت حسین عیدن کی چھٹی تخلیق ناول ’’یہ میرا چمن ہے میرا چمن…‘‘ ہے۔ تعلیم کے سلسلے میں قیام علی گڑھ کی شب وروز کو ناسٹلوجیا کی صورت میں ناول نگار نے اپنی یادشتوں اور ملفوظات کو ناول کی شکل میں بیان کیاہے۔ ان دنوں کی یادوں کو جس خوش اسلوبی کے ساتھ عنایت حسین عیدن نے بیان کیاہے اس سے علی گڑھ کا وہ عہد اور تہذیب وثقافت کی تصاویر ہمارے ذہن ودماغ میں منقش ہوجاتے ہیں۔ ناول کے مطالعہ سے ہم تھوڑی دیر کے لیے علی گڑھ کی گلیوں، کینٹن اور ڈھابوں کی سیر کرلیتے ہیں۔ ناول نگار نے ناول میں جزئیات نگاری کے ذریعہ ایک کے بعد دوسرے واقعات کو جس قدر پلاٹ میں پیرویاہے وہ قابل داد ہے۔ کردار نگاری، قصہ وپلاٹ، زبان وبیان اور منظر کشی کے اعتبار سے یہ ناول ایک فنی شاہکار ہے۔ ضخامت کے اعتبار سے نال 15ابواب اور ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ ’’یہ میرا چمن ہے میراچمن…‘‘ عنایت حسین کا دوسراناول ہے۔2014ء میں اسٹار پبلی کیشنز سے شائع ہوا تھا۔ یہ ناول ماریشس کے اردو ادب کا ایک اہم فنی شاہکار تو ہے ہی ساتھ ہی اردو ناول نگاری کی روایت میں بھی ایک عظیم اضافہ ہے۔ برصغیر ہندوپاک میں بھی اسے قدر کی نظر سے دیکھاگیاہے۔
عنایت حسین عیدن حالیہ دنوں اردو درس وتدریس کے علاوہ ایک تحقیقی تصنیف میں مصروف ہے۔ اپنے اساتذہ خلیل الرحمن اعظمی، اطہر پرویز، خورشید الاسلام اور معین احسن جذبی کی سوانح اور ادبی خدمت پر انگریزی میں ایک کتاب تصنیف کررہے ہیں۔ اس کا مقصد غیر اردوداں طبقہ کو اردوکے ادبا وشعرا سے متعارف کراناہے۔
آخر میں ان لفظوں کے ساتھ کہ عنایت حسین عیدن کا سایہ تادیر ہم پر قائم ودائم رہے تاکہ آنے والے دنوں میں وہ مزید زبان وادب کی خدمت کرسکے۔ اللہ انہیں صحت وسلامت عطا فرمائے۔