شاعری

غزل 

غزل 

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ 

چاہتوں کے تخت پر ہم کو بٹھایا ،شکریہ
اور بٹھا کر پھر نظر سے بھی گرایا ،شکریہ

تھا بڑا ہی شوق جس کو قربتوں کا کل تلک
راستہ بھی ہجر کا اس نے دکھایا، شکریہ

ڈھونڈتا تھا عکس اپنا میرے خال و خد میں جو
آج مٹی میں مجھے اس نے ملایا شکریہ

روشنی کہہ کر دھوئیں میں مجھ کو اس نے گم کیا
دل لگی ، دل کی لگی کو ہی بنایا ،شکریہ

میری اک مسکان پر قربان ہوتا تھا کبھی
پھر اسی سنگ دل نے ہی مجھ کو رلایا ،شکریہ

سامنے دریا کی صورت میں ہے جو صحرا قبول
زندگی جو رنگ بھی تو نے دکھایا، شکریہ

اک تمہاری ہی وفا پر مان تھا شاہین کو
سنگ سب سے پہلے تم نے ہی اٹھایا، شکریہ

About the author

admin

Add Comment

Click here to post a comment