مضامین

جنوبی ہندوستان کے مشہور رقص

جنوبی ہندوستان کے مشہور رقص

 محمد ثنا ءاللہ ، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی

ُ            ترسیل و ابلاغ اور اظہار کا جانا مانا ذریعہ زبان اور الفاظ ہیں،لیکن زبان کی ابتدا سے پہلے گویاآواز سے الفاظ تک کے سفر میں ابلاغ و اظہار کا اہم ذریعہ اشارے،کنایے،رموز و تلمیحات کو مانا جاتا ہے۔اشاروں و کنایوں نے بھی ارتقا کے کئی منازل طے کی ہیں۔جب ان رموز و تلمیحات میں مناسبت پیدا ہوئی تو توازن اور ردم نے جنم لیااور اشاروں ،کنایوں میں موجود یہ توازن ا ور ردم بڑھتے بڑھتے رقص کی شکل اختیار کرتا گیا۔مصوری کے رنگ و عکس ،موسیقی سے سروتال اور شاعری سے نغمگی لے کرانہیں انسانی تاثرات و جذبات کے ذریعہ سے پیش کیا جائے تو رقص کی شکل بنتی ہے۔بقول اقبالؔ:

                                                            رنگ ہو یا خشت و سنگ،چنگ ہو یا حرف و صوت

                                                            معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود

                                                            قطرہ خون جگر سِل کو بناتا ہے دل

                                                            خونِ جگر سے صدا سوز و سرورو سرود

            رقص ابلاغ و اظہار کی حسین اور قدیم ترین شکل ہے۔رقص نہ صرف فطری فن وہنر کی تمثال سازی کرتا ہے بلکہ یہ فطرت انسانی کی پیچیدہ احساسات وجذبات کی نقش نگاری بھی کرتا ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رقص وجود و تہذیب کا ملاپ ہے۔،ماہئیت ہے،عرق ہے،نچوڑہے۔

            رقص کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی کہ خود انسانی تاریخ ۔فنون لطیفہ میں رقص ایک قدیم فن ہے ۔رقص کو ہندوستان میں کئی اعتبار سے اہمیت حاصل ہے۔یہاں کے دیوی دیوتاؤں کا رقص سے بڑا گہرا تعلق تھا۔یہاں کے مندروں میں رقص ہوتا تھا ۔بھجن گائے جاتے تھے۔رقص و نغمہ سے دیوتاؤں کو خوش کیا جاتا تھااور یہ پرانی قدریں ،روایتیں آج بھی ہندوؤں میں رائج ہیں۔مختلف بادشاہوں و امرا ؤں نے اس فن کی سرپرستی و آبیاری کیں۔مسلمان جب ہندوستان آئے تو کلاسیکی رقص کی اور بھی ترقی ہوئی۔ہندوستان کے مسلمان بادشاہوں اور عوام میں رقص و سرود کا شوق رہاہے۔بلکہ دیگر فنون لطیفہ کے ساتھ یہاں کے رقص کو نئی آہنگ سے آشنا کرانے والے مسلمان ہی تھے۔مغل حکمرانوں نے دل کھول کر اپنے درباروں میں فن کاروں کی حوصلہ افزائی اور فن کی سرپرستی فرمائی۔

            بھرت ناٹیم:

            ہندوستان کے کلاسیکی رقصوں میں بھرت ناٹیم ایک قدیم ترین رقص ہے۔جس کی اصل اور بنیادی اصولوں کا پتہ بھرت منی کے ــ’’ناٹیہ شاستر‘‘ میں ملتا ہے۔بھرت ناٹیم کو اگر چہ ہندوستان کے قومی رقص کا درجہ حاصل ہے لیکن اس کا تعلق جنوبی ہندوستان کے صوبے تامل ناڈو اور کرناٹک سے ہے۔بھرت ناٹیم کا لفظی مطلب ہے وہ رقص جو بھارت یا بھرت منی کے اصولوں کے مطابق ہو۔اس رقص میں ہاتھوں کے اشاروں کو کہانی کے اظہار یا پھر موسم ،مویشی اور مقامات و واقعات کے بارے میں بتانے کے لیے بطور زبان استعمال کیا جاتا ہے۔اس میں رقاص مختلف انسانی جذبات و احساسات کے اظہار و ابلاغ کی غرض سے تن کی و حرکت وعمل اور نین کی آؤ بھاؤکا خوب خوب سہارا لیتا  ہے۔بھرٹ ناٹیم سنسکرت زبان کا لفظ ہے اس کے ابتدائی چار حروف نہایت ہی معنی خیز ہیں :پہلا حرف :بھا سے بھاؤ یعنی احساس و جذبہ،دوسر: را سے راگ یعنی موسیقی ،تیسرا: تا سے تال یعنی سر اور چوتھے حرف :ناٹیم کا مطلب ڈراما ہے۔اس طرح بھرت ناٹیم جذبہ واحساس ،سرود و موسیقی ،سر و تال اور ڈراما کا مرکب و نتیجہ ہے۔گویا موسیقی ،رقص اور ناٹک جیسے تخلیقی و پرفارمنگ آرٹ کے باہم ملاپ سے بھرت ناٹیم کا جنم ہوتا ہے۔جنوبی ہندستان میں بھرت ناٹیم کو Sadir اور Dasiattamکے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔داسی آٹم کے معنی ہیں ’’دیوداسیوں کا رقص‘‘یہ دیوداسیاں دراصل وہ جوان لڑکیاں ہوتی تھی جنہیں ان کے والدین بھکتی کے نام پر مندروں میں دان کردیتے تھے۔روایتوں کے مطابق ان دیو داسیوں کی شادی دیوتاؤں سے کرائی جاتی تھی۔یہ دیو داسیاں صحن مندر میں دیوتاؤں کے سامنے سپردگی کے جذبے سے معمور ہوکر خود کو سپرد کردیتیںاور رقص وسرود کے ذریعہ دیوتاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کرتیں۔بھرت ناٹیم میں ہندوستانی کلاسیکی رقص کے تینوں پہلو ’’نِرت‘‘،’’نرتیہ‘‘اور ’’ناٹک‘‘یعنی رقص،تاثرات اور ڈراما دیکھنے کو ملتا ہے۔

            بھرت ناٹیم میں دراوڑی اور آریائی تہذیب و ثقافت کی خوب صورت آمیزش ہے۔ اس رقص میں شیو کی ادائیں اور نٹ راج کے ڈمرو کے آہنگ کو بخوبی دیکھا اور سنا جاسکتاہے۔شروع میں اسے صرف عورتوں کا رقص تصور کیا جاتا تھا لیکن بدلتے حالات اور جدید تقاضوں کے مطابق  اس رقص میں مرد کی بھی شمولیت ہوئی۔مردو عورت کی وحدت نے اس رقص کو مزید جمال وکمال عطاکیا ۔بھرت ناٹیم میں دائیں جانب مرد کا جلال و جمال یعنی ٹانڈو اور دوسری جانب عورت کی خصوصیات نزاکت ونرمی یعنی لاسیہ کا مظاہرہ ہوتا ہے۔دونوں کی جذباتی کیفیتوں کی وحدت ایک دل چسپ اور اچھے بھرت ناٹیم کے وجود میں آنے کا سبب بنتی ہے۔

            الّارپو(Allarippu)سلّو کوٹس (Sollo kuttus)کو بھرت ناٹیم کی دو اہم خصوصیات تسلیم کی جاتی ہیں۔الّا رپوبھرت ناٹیم کا وہ آغازی دور ہوتا ہے جس میں ناظرین کو خالص رقص کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔روایتی طور پر اس میںکسی قسم کے جذبات و تاثرات کا اظہارہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پس منظر میں کوئی کہانی بیان کی جاتی ہے۔الّارپو تلگو زبان کے لفظ ALARIMPUسے بنا ہے جس کے معنی ہیں ’’پھولوں سے سجانا‘‘ رقص کرنے والوں کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ اسٹیج کے درمیان برہما موجود رہتے ہیں۔آغاز رقص میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ فن کار بکھرے ہوئے پھولوں کو اپنے دیوتا کے لیے جمع کر رہا ہے۔یہیں سے اس بات کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے کہ آئندہ رقص کی نوعیت وکیفیت کیا ہوگی ۔رقص کے اسی حصے سے ناظرین کی دل چسپی بڑھنے لگتی ہے۔رقاص دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتاہے اور آہستہ آہستہ ایک جذباتی اور تاثراتی رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔سلّو کٹس بھرت ناٹیم کا ایک لازمی جز ہے۔ایک خاص آہنگ کے ذریعہ رقص کی دھمک کے ساتھ بول سنائے جاتے ہیںحرکت و دھمک کو ان کے آہنگ کے مطابق بول عطا کیے جاتے ہیں۔گویا یہ بول رقص کی حرکت اور دھمک کی علامت ہیں۔وہ آوازیں جو فن کار کے پاؤں کے دھمک سے ابھرتی ہیںاس کی نمائندگی بول کے آہنگ سے کی جاتی ہے۔

            کتھا کلی:

            جنوبی ہندوستان میں کرالا کی سرزمین کئی کلاسیکی رقص وسرود کی جائے پیدائش ہے۔مثلاً ۔۔۔۔۔ان میں سے کتھا کلی کی اساطیری اہمیت اور تاریخی قدامت کواعتبار کا درجہ حاصل ہے۔ کتھا کلی جنوبی ہند کے عہد عتیق کے متنوع مذہبی ڈرامائی اصناف کی آمیزش سے تیار ایک رزمیہ رقص ہے۔اس میں رقاص مختلف مدارؤں کی مدد سے اور جسم کے و حرکت و عمل اور ہاتھ پاؤں کے اشاروں سے انسانی جذبات کے مختلف کیفیتوں کا اظہار کرتاہے۔اس رقص میں چہروں کے تاثرات کے ساتھ ہاتھوں کی مدراؤں کی بھی اہمیت ہے۔لیکن یہاں مدراؤں کی کوئی علیحدہ شناخت نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ مدرائیں من جملہ عمل رقص کا حصہ ہیں۔اس رقص کے مجموعی حرکت سے ہی مدراؤں کی معنوی پہلواجاگر ہوتے ہیں۔بھرت ناٹیم کی طرح کتھا کلی میں بھی نرت،نرتیہ اور ناٹیہ یعنی خالص رقص ،تاثرات اور ڈرامائی عناصر کے امتزاج ایک جلوہ بن جاتا ہے۔موسیقی اس کا لازمی جز ہے۔ رقص کا آہنگ موسیقی کے آہنگ سے جذب ہوجاتا ہے۔آہنگ و دھن دونوں کی وحدت اس رقص کو جمالیاتی کیفیتوں کے عروج پر لا کھڑا کرتی ہے۔کتھا کلی سنسکرت کے دو لفظوں کتھا اور کلی سے مل کر بنا ہے ۔کتھا کامطلب ہے داستان ،کہانی اور کلی کا مفہوم ہے فن اور اظہار فن اس طرح کتھا کلی کا مطلب ہو اساطیری داستانوں اور کہانیوں کے اظہار کا فن ۔چوں کہ کتھا کلی میں ہندوستانی اسطوری کہانیوں کو بنیاد بناکر ہی موسیقی کی مدد سے رقص کا پیکر عطا کیا جاتا ہے اس لیے اس تخلیقی آرٹ کو کتھا کلی کے نام سے منسوب کیا جانے لگا۔

کتھا کلی میں فن کاروںکے لباس و زیورات ناٹیہ شاستر کے اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔اس رقص کے کرداروں کو مختلف ناموں سے پکارا بھی جاتا ہے ۔۔۔

کتھا کلی میں کرداروں کے لباس و پوشاک گرچہ بہت زیادہ مختلف نہیں ہوتے تاہم کہانی کے کرداروں کو بنیاد بناکر انہیں مخصوص وضع و قطع اور مختلف آرائش و زیبائش کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تاکہ کرداروں کی شناخت ان کے مخصوص لبا س اور سج سجاوٹ کی وجہ سے بآسانی ہوسکے۔یوں تو کتھا کلی کی جڑیں ناٹیہ شاسترا سے جا ملتی ہیں تاہم فن کی حیثیت سے اس کی ابتدا اولاًکرلا کے ہندو مندروں میں ہوئی اور عہد بہ عہد لوک ناچوں کے شانہ بہ شانہ ارتقا کے کئی منازل طے کرکے موجودہ صورت میں جنوبی ہندوستان کا مقبول عام رقص ہے۔

بھرت ناٹیہ کا آغاز و ارتقا چوں کہ شاہی درباروں میں ہوااس لیے اداکاری ،آہنگ و دھن اور ملبوسات سبھی میں نزاکت ونرمی ہوتی ہے۔لیکن کتھا کلی میں نرمی و نزاکت کی بجائے مردانہ جاہ و جلال اور شان وشوکت جیسے اوصاف ہوتے ہیں۔کتھا کلی میں اصل مدرائیں ہوتی ہیں مدراؤں کا استعمال جس طرح سے اس میں کیا جاتا ہے وہ کسی اور رقص میں نہیں کیا جاتا۔اس میں مختلف قسم کے انسانی احساسات وجذبات اور ذہنی کیفیات کا اظہار جسم کی متحرک کیفیتوں اور چہروں کے تاثرات سے ہوتا ہے۔ کتھا کلی میں صرف ہاتھ کے بے شمار معنی خیز اشارے اور کنایے ہیںجسم کے کسی بھی حصے کی ذرا سی حرکت سے مدرا بدل جاتی ہے۔      پاؤں کی حرکت وعمل ،پاؤں کو کم تھکانے کی خواہش اور کسی بھی جانب آزادانہ حرکت کی آزادی اس رقص کی بنیادی خصوصیات ہیں۔جن کا گہرا رشتہ جنگ اور جنگ کے طور طریقوں ،تربیتوں سے ہے۔رفتہ رفتہ آریوں کی بہت سی کہانیاں اس رقص میں شامل ہوئیں۔مہابھارت ،رامائین ،شیو پران اور بھگوت پران کی کہانیاں اس رقص میں پیش ہونے لگیں۔موسیقی جو گاتے ہیں رقاص انہیں رقص میں پیش کرتے ہیں۔رومانی فضاؤں کی تشکیل کے ساتھ یہ رقص خطر ناک خونی جنگی مناظر کو بھی پیش کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خواتین فن کار اس رقص میں کم ہی حصہ لیتی ہیں۔کتھا کلی کے فن کار مختلف قسم کے رنگوں سے میک اپ بناکر رنگ برنگے ملبوسات زیب تن ہوکرجب اسٹیج پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ناظرین حیرت زدہ ہوکر انہیں دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ کتھا کلی کی انہیں خصوصیات کی وجہ سے معروف آفاقی شاعر رابندر ناتھ ٹیگور نے کتھا کلی رقص کو خوب سراہا تھا۔

کتھا کلی میں نین ابھینے  یعنی آنکھوں کے اشاروں ،تاثرات اور ڈرامائی عمل کو بہت زیادہ اہم مانا جاتا ہے۔مختلف انسانی جذبات و احساسات کا اظہار و ابلاغ کا کام نگاہوں کی حرکت وعمل سے انجام دیا جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہاتھوں کی حرکتوں اور آنکھوں کے عمل کے خوب صورت امتزاج سے اس رقص کی جمالیات سامنے آتی ہے۔اس رقص میں آنکھوں کی آٹھ آدائیں اور نگاہوں کی نو حرکتیں مکھ ابھینے کی بنیاد بنتی ہیں۔رسوں کے اعلا ترین اظہار کے لیے کتھا کلی کا فن نہایت موزوںہے۔کتھا کلی میں یوں تو کئی سو مدرائیں ہیںلیکن فن کاروں نے چوبیس مدراؤں میں ان تمام مدراؤں کا رس نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔اس رقص کے ذریعہ کائنات کی بنیادی طاقت کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔کتھا کلی نے رقص کو ڈراما بنا دیا ہے۔ایسا ڈراما جو اپنی پیچیدگیوں کا حسن رکھتا ہے۔یہ رقص جمال و جلال کے اظہار کا ایک انوکھا فن ہے۔

            موہنی آٹم

             موہنی آٹم کرالا کا کلاسیکی سولو رقص ہے۔جو کتھا کلی کے نسوانی پہلو لاسیہ اور ٹانڈو پر مبنی ہوتا ہے۔یہ رقص دھیمی رفتار کے ساتھ آہستہ آہستہ پر جوش انجام کی طرف بڑھتا ہے۔اس رقص کے ذریعہ دیوتاؤں کی فتح کو اساطیری انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔روایتی طور پر اس میں عورتیں ہی فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔وشنو نے موہنی کی صورت اختیار کی تھی اور چوں کہ موہنی عورت کے حسن و جمال کی علامت ہے۔اس لیے اس میں رومانوی فضاؤں کا غلبہ ہوتا ہے۔ کرلا کا یہ عوامی رقص اپنی رومانوی عناصر اور نسوانی تاثرات کی فن کارانہ اظہار کی وجہ سے ہی مقبول و معروف ہے۔اس کی آہنگ و دھمک میں نرمی اور گداز ہے۔ہاتھوں کے معنی خیز حرکت وعمل ،آنکھوں کے معنوی تاثرات،اور نگہ و ابرو کے تہہ دار اشارے،عورت کے خوب صور ت وجود،اور لذت آمیز جسم  اس رقص کو پر کشش بناتے ہیں۔شاعرو موسیقار دونوں نے اپنے تخلیقی ہنر سے اس رقص کو عروج و کمال عطا کیا ہے۔نغمہ و آہنگ کی دھمک ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

کوراوانجی(Kuravanji)

            کوراوانجی جنوبی ہندستان کے صوبہ ٹامل ناڈو کا ایک مشہور عوامی رقص ہے۔کہا جاتا ہے بھگوت میلا ہی کی طرح کوراوانجی کابھی دائرہ ٹامل ناڈو سے باہر اندھرا پردیش تک پھیلا ہے۔لفظ کورا کا مفہوم ہے قبیلہ ٓاندھرا پردیش کاایک ایسا قبیلہ جو خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتا ہے اور اس قبیلے کی عورتیں مسقبل کے اشارے اور پیشن گوئیاںکرتیں ۔انجی کا مطلب ہے روایتی رقص اس طرح کوراونجی کا مفہوم ہے خانہ بدوش قبیلے کی روایتی رقص ۔جنوبی ہندوستان کی جوان لڑکیوں کا یہ محبوب ترین رقص ہے۔شیو کے لڑکے سبرامنیا اور خوب صور ت دوشیزہ ولّی(valli) کی محبت کی داستان اس رقص کے اہم موضوعات ہیں۔اس میں ولّی کو رقاصہ کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔اس کہانی میں گنیش بھی اایک اہم کردار ہیںجو سبرامنیا کو پیار کی راہ میں ہر موڑ پر مدد کرتا ہے۔جنوبی ہند کے پہاڑی علاقوں میں یہ رقص مقبول رہا ہے ان علاقوں کے مردوں اور عورتوں نے سانپ کے کھیل تماشا دیکھاتے ہوئے مختلف علاقوںمیں اس رقص کو مقبول بنایا۔شدت اس رقص کی بڑی خصوصیت ہے۔جذبات کی شدت رقاص کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور اس کا پورا وجود حد درجہ متحرک ہوتا ہے۔

            کوراوانجی کی ابتدا سے متعلق یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ سترہویں صدی میں اس رقص کا آغاز ہوا۔اس رقص کا سرپرست اعلا راجا چولا تھا جس نے  تنجور میںکوراونجی میڈائی کے نام سے اس رقص کے لیے ایک بہت بڑا پلیٹ فام کی تعمیر کروائی تھی۔اس زمانے میں کوراوانجی کے مظاہرے مندروں میں ہوتے تھے لیکن بعد میں دیوداسیوں کو مندر میں فن کے مظاہرے سے منع کر دیے جانے کی وجہ سے اس فن کی نمائش بھی روک دی گئی ۔اب کوراوانجی کے مختلف فارم ملتے ہیںان میں thirukkutrala kuravanjiاپنی شاعرانہ خصوصیات کی وجہviralimalai kuravanjiاپنی موسیقی ،azhagar kuravanji ،thirumalai kuravanjiوغیرہ آہنگ اور شاعری کی دلآویز امتزاج کی وجہ سے معروف و مقبول ہے۔

            کچّی پوڑی

            کچّی پوڑی صوبہ آندھرا پریش کا معروف عوامی رقص ہے۔اس رقص شیلی کی ابتدا دِیوی تعلقہ کے کچّی پوڑی گاؤں سے ہوئی اور اسی نسبت سے اس طرز رقص کا نام کچی پوڑی پڑگیا۔روایتی طور پر اس میں صرف مردفن کار ہی ہوتے تھے اور وہ بھی براہمن خاندان کے مرد۔یہ براہمن خاندان کچّی پوڑی کے بھاگوت تھالو کہلاتے تھے۔ 1502ء کے آس پاس کچّی پوڑی کے بھاگوت تھالو براہمنوں کی پہلی رقص ٹولی تشکیل دی گئی ۔ان کی کارکردگی دیوتاؤں کو نذر کیا جاتا تھا ۔مروجہ کتھاؤں کے مطابق کچّی پوڑی رقص کی دریافت و بازیافت سِدھیندر نامی ایک صوفی سنت نے کی تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رقص انہیں کی وجدان کا کرشمہ ہے ۔گزشتہ پانچ صدیوں سے پندرہ براہمن خاندانوں نے کچّی پوڑی کی روایت کو آگے بڑھا یا ہے۔کچّی پوڑی رقص کے استاد ویدانتم لکچھمی نرائن،چنتا کرشنا مورتی اور تادے پلّی پِیرایا نے خواتین کی شمولیت کے ذریعہ اس رقص کو حسن وجمال عطا کیا ۔اس رقص کا مظاہرہ خاص روایتی انداز میں ہوتا ہے۔پوجا ارپنا اور مشعل روشن ہونے کے بعد فن کار اسٹیج پر رونما ہوتے ہیں اور موسیقی و دھن کے ساتھ خاص لَے میں فن کا ر اپنا تعارف پیش کرتا ہے۔فن کاروں کے تعارف اور موڈ سیٹ ہوجانے کے بعد اصل رقص کا آغاز ہوتا ہے۔کچّی پوڑی پر کرشن بھکتی کے اثرات نمایاں ہیں۔کرشن کو وشنو کا اوتار تصور کیا جاتا ہے لہذا وشنو سے متعلق کئی واقعات کچّی پوڑی میں شامل ہوئے۔فن کاروں نے کچّی پوڑی کی بہتر پیش کش کی غرض سے

 جہاں گیتوں ،نغموں اور موسیقی کا سہارا لیا وہیں ڈرامائی پہلوؤں کو بھی اہمیت دیں۔اس رقص کو ’’اوپرا‘‘ کی شکل میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔’’کرشن لیلا ترنگنی‘‘نرائن یانی کی تخلیق’’گیتا گوبند‘‘رمیّہ شاستری کی شاہکار ’’(Gollakapam)اور تھیاگ راج کی فنی تخلیق ــ’’رقص اور نغمے‘‘ نے کچّی پوڑی کو مقبول عام اور شہرتِ دوام عطا کیا۔

            لکچھمی نرائن شاستری،سَوپرسندری،راجا اور راھا ریڈی،یامنی کرشنا مورتی،یامنی ریڈی اور کوشلیا ریڈی وغیر ہ فن کاروں اور ماہرین نے کچّی پوڑی کو زندہ رکھنے اور اسے جمالیاتی صورت عطا کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔

            یکش گان

            جنوبی ہندوستان کے مختلف طرز کے رقصوں میں یکش گان بھی ایک ڈرامائی رقص ہے۔کرناٹک اور اس کے اطراف و اکناف میں یہ رقص بے حد مقبول و معروف ہے۔موسیقی ،مکالمے ،منفرد آرائش و زیبائش اور اسٹیج کے انوکھے پن کی وجہ سے یہ ایک علیحدہ شناخت کی روایتی رقص ہے۔کرناٹک میں دو قسم کے یکش گان ہوتے ہیں:مجلیسی یکش گان اور ڈرامائی رقص یکش گان۔مجلیسی یکش گان میں فن کار لباس و پوشاک پر زیادہ زور نہیں دیتے ہیں۔اس میں عام طور پر فن کار مہا پنڈت اور اور پرانوں کے عالم و دانشور ہی ہوتے ہیں یہ سب مل کر اپنی اپنی علمی صلاحیتوں اور فن کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔سب سے پہلے کسی ایک مقام پہ سارے دانشور جمع ہوتے ہیں ان میں ایک نیتا بنتا ہے اور رامائن ،مہابھارت یا بھگوت گیتا کاکوئی حوالہ و سیاق دیا جاتاہے اور پھر یکش گان کا باقاعدہ آغاز ہوتا ہے۔اس کے بعد ہر ایک کو اپنے کردار کے مطابق شعری یا نثری اسلوب میں کیے گئے سوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے۔در اصل یہ ایک طرح سے حاضر جوابی کا امتحان ہے۔فن کار جب سوالوں کے مطابق جواب نہیں دے پاتے تو انہیںشکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہمارے یہاںاس کی مثال سوال و جواب والے قوالی کی روایت دی جاسکتی ہے۔جب کہ ڈرامائی یکش گان رقص میں فن کار کے ملبوسات رنگین اور موسیقی و نغمگی کی دھمک پر ہی اپنا کرتب دیکھاتے ہیں۔اس میں فن کار کتھا کلی کے مختلف تکنیکوں کا سہارا لیتا ہے اور لاسیہ و ٹانڈو کے امتزاج سے اس رقص کو دل چسپ اور پر کشش بنایا جاتاہے۔یکش گان ڈراما اور رقص کا ایک ایسا مرکب ہے جس میں ہندؤں کے دیو مالائی کرداروں اور ان کردار کے واقعات کو موسیقی و آہنگ کی مدد سے بڑے ہی خوب صورت انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔