مضامین

فہیم اختر :بحیثیت افسانہ نگار

مہوش نور

ریسرچ اسکالر ،جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی

Email: mahwashjnu10@gmail.com

فہیم اختر :بحیثیت افسانہ نگار

اردو کی نئی بستیوں میں اردو کے متعدد اصناف پر تحقیقی ،تنقیدی اورتخلیقی کام ہورہے ہیں،تخلیقی اصناف میں افسانے کو اولیت حاصل ہے۔متعددادبانے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے اورمزید یہ سلسلہ جاری ہے۔ان میں ایک اہم اورمنفردنام فہیم اختر کا ہے جو بیک وقت افسانہ نگار اورکالم نگار ہیں۔فہیم اختر سماجی کارکن کے طور پر برطانیہ میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ فہیم اختر’دماغی چوٹ‘کے ہسپتال میں بطوررجسٹرڈسوشل ورکرہیں۔موصوف فی الحال Royal Hospital for Neuro-disability ہسپتال میں خدمات انجام دیتے ہیں۔

فہیم اخترکی پیدائش ۱۹۶۶ میں ہندوستان کے مشہورومعروف شہر کلکتہ میں ہوئی۔اللہ نے نوبھائی اور بہن سے نوازاہے۔موصوف کی شریک حیات ہما سید ہیں جو کہ آ ئی ٹی پرو فیشنل اور پراجیکٹ منیجر ہیں  ۔موصوف کو اللہ نے ایک بیٹی کی شکل میں عظیم رحمت سے نوازا جس کا نام زارہ فہیم ہے۔فہیم اخترکے والد محترم صوفی جمیل اخترمرحوم ایک صوفی پیروکار تھے۔ان کی سماجی اورمعاشرتی خدمات کا ایک زمانہ قائل رہاہے۔ان کی صوفیانہ شخصیت آج بھی خاص وعام کے لیے قابل تقلید ہے ۔

فہیم اخترنے۱۹۸۸ میں مولانا آزاد کالج کلکتہ سے بی اے (آنرز)کیا اور ۱۹۹۱ میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔ ۲۰۰۵ میں لندن بارو آف مرٹن نے اچھی کارگردگی کی بنا پر سوشل ورک کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اسپانسر کیا۔ London Borough of Merton  نے فہیم اختر کی سماجی خدمات کوسراہتے ہوئے ایک سند یافتہ سماجی کارکن کے طور پردنیا کے سامنے متعارف کروایا۔

فہیم اختر۱۹۸۷ میں مولانا آزاد کالج کلکتہ کے جنرل سیکر یٹری منتخب ہوئے اس سے پہلے وہ اسٹوڈنٹس یونین کے   ثقافتی سیکریٹری بھی منتخب ہوئے تھے اور اسی سال کالج نے ڈائمنڈ جوبلی منایا تھا ۔فہیم اختر ۱۹۹۳میں برطانیہ چلے گیے۔برطانیہ میں موصوف کو سوشل سروس ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے کا موقع ملا تب سے وہ برطانیہ میں رجسٹر ڈ سماجی کارکن کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔برطانیہ آنے کے بعد سٹی یونیور سٹی لندن، اوپن یونیورسٹی برطانیہ اور کنگسٹن یونیورسٹی سرے سوشل ورک میں ٹریننگ اور ڈگریاں حاصل کیں اور آخر کار اسی کو اپنی ذریعہ معاش بھی بنا لیا۔

فہیم اخترنے بہت سے پروجیکٹ اور انسانی زندگی کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیا ہے جن میں بے گھر افراد،اعصابی بیماری ،نا بالغ بچوں کے جرائم ،بچوں کو اپنانا ،ضعیف ،بے یارومددگار اور ذہنی طورپرپریشان افرادخاص طورپر قابل ذکرہیں۔ فہیم اختر کو London Borough of Merton لندن بارو آف مرٹن کی طرف سے انسانی خدمات اورمعاشرہ میں منفردکام کرنے کی وجہ سے ۲۰۱۱ میں Civic Awarad ایوارڈ سے نوازاگیا تھا۔فہیم اخترکے نمایاں کارنامے کو دیکھتے ہوئے ۲۰۱۲میں ملکہ الزبتھ ۲ نے تاج پوشی کے ڈائمنڈ جوبلی  پروگرام میں مدعو کیا۔اس پروگرام میں ملکہ کے سامنے ان کا تعارف پیش کیاگیا تھا،جو یقینا ہم سب ہندوستانیوں کے لیے قابل رشک اورقابل فخربات ہے۔

فہیم  اختر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ’’ ایک گریزاں لمحہ ‘‘، ۲۰۱۴ میں شائع ہوچکا ہے۔ لندن کے مشہورومعروف ثقافتی سینٹر ’نہرو کلچر سینٹر ‘میں اس افسانوی مجموعے کے اعزاز میں ایک پروگرام کا انعقادکیاگیا  تھاجس میں ’ایک گریزاں لمحہ‘کی رسم رونمائی بی بی سی کے معروف سرکردہ براڈکاسٹر رضا علی عابدی کے ہاتھوں ہوئی۔ اس کے بعد دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے  فہیم اخترکی ادبی اورسماجی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیاتھا۔ فہیم اختر ہر اتوار کو ’اخبار مشرق‘ کلکتہ ،روزنامہ ’دنیا پاکستان‘ ، ’کاروان‘ ناروے ، میں’’لندن کی ڈائری ‘‘کے نام سے مسلسل ۲۰۱۳سے کالم لکھ رہے ہیں۔ ۲۰۱۸ میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کے ہاتھوں کالم کا مجموعہ ’لندن کی ڈائری‘ کا اجراعمل میں آیاتھا۔

فہیم اخترنے پوری دنیا میں منعقدہونے والے ادبی اورسماجی سیمینار،کانفرنس میں شریک ہوکراپنی فہم وفراست اورفہیم نوازی سے اردوکی خدمت کی ہے۔ان ممالک میں خاص طورپر ترکی،پورپ اورہندوستان کی مختلف ریاستیں ہیں ۔British Muslim Association of Merton برطانیہ کے مسلمانوں کا اپنی تنظیم ہے۔موصوف اس ایسوسی ایشن کے پہلے منتخب چیرمین رہ چکے ہیں۔ St.Luke کرکٹ کلب کے کپتان اورعلی کرکٹ کلب لندن کے چیرمین بھی رہ چکے ہیں۔یہ وہی ٹیم ہے جنھوں نےSurrey League میں حصہ لیاتھا۔ فہیم اخترومبلڈن لیبر پارٹی کے وائس چیرمین اور انجمن فروغ اردو برطانیہ کے ۲۰۰۶ سے ۲۰۰۸کے درمیان جنرل سیکریٹر ی کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ فہیم ا خترموجودہ وقت میں’ صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی‘ کلکتہ ، ’الحمد ایجوکیشنل آرگنائزیشن ‘کلکتہ اور ’پہلا قدم ‘ہوڑہ کے سر پرست ہیں۔

۲۰۰۷ میں فہیم اخترنے صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی، کلکتہ کی بنیاد ڈالی تھی۔اس کی بنیادی وجہ اردو کا فروغ اور تعلیمی نظام میں بہتری کی کوشش ہے۔ یہ سو سائٹی متعدد تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ اردو زبان کو فروغ دیا جا سکے۔ ساتھ ہی ثقافتی اور تعلیمی نظام میں عصرحاضر کی ضرورتوں کے ساتھ تعلیم کے لیے غریب ونادارلوگوں کی کفالت کی جاسکے۔ صوفی جمیل اختر لیٹریری سوسائٹی کی طرف سے’ صوفی جمیل اختر  میموریل ایوارڈ‘ کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔اس کے لیے اردوادب کے نامورشخصیا ت منتخب کیے جاتے ہیں جنہوں نے اردوادب میں کارہائے نمایاںانجام دیا ہو۔ اس ایوارڈ کو معروف اردو مصنفین جن میں شمس الرحمٰن فاروقی ، مجتبٰی حسین ، ملک زادہ منظور حسین ، احمد سعید ملیح آبادی ،علقمہ شبلی، انیس رفیع ، عزیز برنی، ڈاکٹر خلیل طوقاراور پروفیسر خواجہ محمداکرام الدین شامل ہیں ۔

فہیم اختر کا ایک خاص آفاقی خیال ہے جو عام وخاص سب کے لیے برابر ہے :

“Change your habit otherwise habit will change you”

’’ اپنی عادت کو بدلیے ورنہ عادت آپ کوبدل دے گی ‘‘

 ہندوستان اردو زبان کا گہوراہ ہے۔ اردو زبان یہیں پیدا ہوئی، پلی ، بڑھی اور پروان چڑھی۔ یہاں کے ادیبوں اور شاعروں نے اس کی نشو و نما میں اپنا تن من دھن قربان کیا ۔ اردو کے تاریخی پنوں پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو کا ایک دور ایسا بھی تھا جب اس کا دائرہ صرف ہندوستان تک ہی محدود تھا۔ کہاجاتا ہے کہ ہر زبان کے ساتھ ایک تہذیب جڑی ہوتی ہے اور وہ زبان و تہذیب دونوں ساتھ ساتھ اپنی ترقی کی منزلیں طے کرتی ہیں۔ ہندوستان نے بھی ایک اردو تہذیب و ثقافت اور اردو سماج کو جنم دیا جو بہت ہی کم عرصے میں اپنی خوبیوں کی وجہ سے نہ صرف پورے ہندوستان میں بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں مشہور و مقبول ہوگئی۔ ہندوستان کے اندر اپنی ایک مخصوص شناخت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ممالک میں بھی اپنا وجود مستحکم کرچکی ہے۔ ان ممالک میں اردو کا وجودان مہاجروں کے دم سے قائم ہوا جو تلاش معاش میں سرگرداں ہند و پاک سے نکل کر امریکہ ، افریقہ اور یورپ کی سرحدوں میں داخل ہوگئے اور اپنے ساتھ زبان و تہذیب کو بھی لے گئے۔ تلاش معاش اور روشن مستقبل نے ان اردو والوں کو ہجرت کرنے پر مجبورکردیا۔ اس طرح اردو زبان مشرق سے نکل کر مغرب کی رنگین دنیا میں داخل ہوگئی اور اس کے اندر اتنی وسعتیں پیدا ہوگئیں کہ برطانیہ، لندن، جرمنی اور امریکہ وغیرہ جیسے مغربی ممالک میں بھی اس کے بولنے اور سمجھنے والے کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ان ممالک میں کئی ایسی بستیاں آباد ہوچکی ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کو اردو لکھنا پڑھنا بڑے شوق سے سکھاتے ہیں۔ کیوں کہ ان ممالک میں اپنی تہذیب و ثقافت سے جڑے رہنے کا واحد ذریعہ زبان ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا جاتا ہے اور یہاں کے لوگ بڑے ذوق و شوق سے مہنگے ٹکٹ خرید کر مشاعرے میں شرکت کرتے ہیں اور اس شیریں زبان کی شاعری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ بسا اوقات مشرقی لباس پہن کر مشاعرے میں لوگ شامل ہوتے ہیں اور مہمانوں کی خاطر مدارات کرتے ہیں۔گھروں پر ادبی نشستوں اور دعوتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اردو کے رسائل و اخبارات بھی شائع ہوتے ہیں۔ ان ممالک کی مشہور یونیورسٹیز میںاردو کے مراکز قائم ہیں جن میں اعلی تعلیم کے لیے ایم اے اور پی ایچ ڈی کا باضابطہ بندو بست ہے ۔ متعدد تحقیقی کام ہورہے ہیںاور ہرسال درجنوں کتابیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ برطانیہ ، آسٹریلیا، امریکہ اور جرمنی کی بڑی یونیورسٹیز میں اردو شعبے دنیا بھر کی بڑی زبانوں کے ہم پلہ ہیں۔ڈنمارک دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں مہاجرین کے لیے ایک بہت بڑی لائبریری موجود ہے۔ جس میں مختلف زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو کے شعبے موجود ہیں۔لندن، امریکہ ، فرانس، ناروے اور سویڈن کے تعلیمی مراکز میں بھی اردو زبان کے فروغ کے لیے برسوں سے کام ہورہا ہے اور اردو زبان اپنی ارتقائی منزل کی طرف گامزن ہے۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان بستیوں میں لندن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے جہاں اردو والوں کی بڑی تعدادنہ صرف موجودہے بلکہ بڑے شوق سے اردو سیکھتے ہیں، لکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔ یہاں کے شاعروں اور ادیبوں نے اردو کی ہر صنف مثلا افسانہ، ناول، ڈراما، شاعری، سفرنامہ اور کالم وغیرہ پر طبع آزمائی کی ہے۔ یعنی اردو ادب کی کوئی بھی ایسی صنف نہیں جس پر ادیبوں نے اپنی تخلیقات نہ پیش کی ہوں۔ ان کی تخلیقات میں ہجرت کا کرب، تلاش معاش کی دشواریوں، سماجی برائیوں، یاد وطن، شناخت کا مسئلہ، عورتوں کے مسائل، دہشت گردی کے مسائل، عہد حاضر کا کرب، انتشار و اضطراب وغیرہ جیسے موضوعات کو پیش کیا گیا ہے۔ ان تخلیق کاروں میں فہیم اخترمنفردموضوعات اور اسلوب کی وجہ سے انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔

فہیم اخترکا خاص میدان افسانہ نگاری ہے۔اس وقت اردو کی نئی بستیوں میں اردو افسانہ لکھنے والوں میں فہیم اختر کا نام بھی اپنے افسانوں کی وجہ سے نمایاں ہے۔ان کے افسانے خیالوں کی دنیا کی سیر نہیں کراتے بلکہ زندگی کی حقیقتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ فہیم اختر نے بہت سارے موضوعات پر افسانے لکھے ہیں۔فہیم اختر اپنے افسانوں کے لیے انہیں موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جو ان کے تجربات و مشاہدات کا حصہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے  ہمیں حقیقی زندگی کے پیچ و خم سے روشناس کراتے ہیں۔ اس لیے ان کا قلم کبھی انسانوں کی بے حسی، تو کبھی حکمرانوں کے ظلم و ستم، انسانی نفسیات اور انسانی رشتوں کے نشیب و فراز کی داستان بیان کرنے لگتاہے۔ کبھی مغربی تہذیب کو اپنے طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔ انہیں خوبیوں کی وجہ سے ان کے افسانوں میں سانس لینے والے کردار ہمارے سماج اور معاشرے کے ہی کردار نظر آتے ہیں۔ فہیم اختر معاصر افسانہ نگاروں کی روش سے بالکل ہٹ کر اپنی کہانیوں کا تانابانا بنتے ہیں۔ایڈگر ایلن پو نے ایک کامیاب افسانے کے لیے جو شرطیں لازمی قرار دی تھیں ان پر فہیم اخترکے افسانے کھرے اترتے ہیں۔بقول قیصر شمیم :

’’ ایڈگر ایلن پو (Adgar Allen Poe)جیسے ادیب انگریزی میں افسانے کے لیے جن شرائط کو لازمی سمجھتے تھے ان میں وحدت مکاں، وحدت زماں اور وحدت تاثر کی پابندی کے ساتھ ساتھ افسانے میں ابتدا ارتقا(پلاٹ)، نقطہ عروج (کلائمکس) اور خاتمہ کی پابندی شامل تھی۔ مزید یہ قید بھی تھی کہ مختصر افسانے میں زندگی کے صرف ایک پہلو یا کسی ایک صورت حال کی ترجمانی کی جائے جس کے لیے کرداروں کی تعداد تین چار سے زیادہ نہ ہواور یہ خیال بھی رکھا جائے کہ زیادہ سے زیادہ تیس منٹ میں افسانہ پڑھاجاسکے۔ فہیم اختر نے مختصر افسانے کے اسی روایتی تصور کو قبول کیا ہے اور اپنے افسانوں میں تمام لازمی شرائط پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘(1)

ادب میں ان کی دل چسپی یا رجحان طالب علمی کے زمانے سے ہی تھا۔ 1993ء میں ہی انھوں نے اپنا پہلا مضمون ’’نیا افق‘‘ کے نام سے لکھا۔ جسے لوگوں نے بہت پسند کیا اور سراہا بھی اور اس مضمون کو آل انڈیا ریڈیو سے نشر بھی کیا گیا۔ اسی زمانے میں روزی کی تلاش میں ہجرت کرکے لندن چلے گئے۔ افسانہ نگاری ان کا شوق تھاجو کہ شروع ہی سے رہا ہے۔یہ ان کا شوق اور اردو زبان سے محبت اور دل چسپی کا نتیجہ ان کا افسانوی مجموعہ ’’ایک گریزاں لمحہ‘‘ ہے جو 2016میں منظر عام پر آیا۔ انھیں اردو زبان، مشرقی تہذیب اور اپنے وطن سے کتنی محبت ہے اس کا اندازہ’ایک گریزاں لمحہ‘جو کہ ان کا افسانوی مجموعہ ہے، سے لگایا جاسکتا ہے۔’ایک گریزاں لمحہ‘ جو 159 صفحات پر مشتمل ہے،ان میں 20افسانے شامل ہیں۔

ان کا افسانہ ’’ایک گریزاں لمحہ‘‘ محبت جیسے نازک جذبات پر مبنی ہے۔ اس افسانے میں راج جوکہ ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے اور عظمی جس کا تعلق لاہور سے ہے دو ہی کردار ہیں۔دونوں لندن کے دو الگ الگ دفتروں میں کام کرتے ہیں۔ مگر ان دونوں کو اپنے اپنے دفتر جانے کے لیے آدھا راستہ الگ الگ ٹرینوں سے طے کرنا پڑتا ہے اور بقیہ سفر کلفیم جنکشن سے دونوں کو روز ایک ہی ٹرین سے طے کرنا پڑتا ہے۔اس وجہ ہے کہ ان دونوں کا روز آمنا سامنا ہونا ایک فطری بات ہے، حسن اتفاق دیکھیے کہ دونوں ایک ہی کمپارٹ منٹ میں سفر کرتے ہیں۔ ٹرین ایک، کمپارٹ منٹ ایک۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں باتیں ہوتیں۔ اسی طرح ایک ماہ گزرگئے۔ دونوں ایک دوسرے کو دیکھتے اور گھورتے رہتے۔ اس پورے ایک مہینے میں دونوں  ایک دوسرے سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں جٹا پارہے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی ان کی رگوں میں مشرقیت رچی بسی ہوئی تھی جو ان کو مغرب کی طرح بے باکی سے محبت کا اظہار کرنے سے روک رہی تھی۔ ایک دن راج نے عظمی سے بات کرنے کا مصمم ارادہ کرلیاکہ آج کچھ بھی ہو میں اس لڑکی سے بات کرہی کر دم لوں گا۔چناںچہ گفتگو کا آغاز بہت ہی مہذب اور شائستہ انداز میں ہوتا ہے۔ ابھی گفتگو کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ ٹرین پلیٹ فارم پر لگ جاتی ہے۔عظمی تیزی سے ٹرین میں چڑھ جاتی ہے۔ ٹرین اپنی منزل کی جانب روانہ ہوجاتی ہے۔ اتنی جلد بازی میں وہ ایک دوسرے کا ایڈریس لیے بغیر ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں۔ راج کو عظمی سے بچھڑنے کا جو غم تھا وہ الگ، لیکن راج کو اس بات سے زیادہ تکلیف تھی کہ اس کے پاس عظمی سے رابطہ کرنے کے لیے کوئی ذریعہ ہی نہیں تھا۔نہ ای میل اور نہ ہی دیگر ٹکنالوجی جس کے ذریعے عظمی سے رابطے کی کوئی صورت نکل پاتی۔

افسانے کا کلائمکس نیا اور چونکا دینے والا ہے۔ اس افسانے میں جہاں راج اور عظمی کی جذباتی محرومیوں کو اجاگر کیا گیا ہے وہیں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آج کل کی مشینی زندگی میں ٹکنالوجی بہت اہمیت رکھتی ہے خاص طور پر ای میل ۔ای میل جیسی سہولت نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔پلک جھپکتے ہی پوری دنیا میں ای میل کے ذریعے اپنے پیغامات کو پہنچایا جاسکتا ہے۔سوشل کے ساتھ ای میل فردواحدکے لیے بھی بہت بڑی سہولت ہے ۔اس دورمیں ان سب سے محرومی گویا خودکو تاریکی کی طرف دھکیلنا ہے۔انسانی زندگی اپنے آپ میں کسی قدر پریشان ہوجاتی ہے کہ ای میل جیسی سہولیات کیسے محروم رہ سکتے ہیں۔ک۔ افسانے کا آخری حصہ ملاحظہ ہو جس میں افسانہ نگار نے ای میل کے ساتھ جدید آلات کی اہمیت کی طرف اشارہ کیاہے:

’’۔۔۔۔ وہ ان بھاگتے ہوئے چند لمحوں میں اپنے بیگ سے کچھ نکالنا چاہتی تھی کہ ٹرین کی جنبش نے اس کی ای میل والی ان کہی بات کے رابطہ کو منقطع کردیا۔ میں اس وقت بہت کچھ کہنا اور سننا چاہتا تھا لیکن پلیٹ فارم پر کھڑا میں اس کی بھاگتی ٹرین کا صرف آنکھوں سے تعاقب کرتارہا۔ ٹرین میرے منظرنامے سے غائب ہوچکی تھی اور سوچتا رہ گیا۔ کاش میں آج اس تیز رفتار جدید ٹکنالوجی کے ای میل کو اپنی روایتی زندگی کے ایک گریزاں لمحہ میں مقید کر سکتا‘‘( 2)

فہیم اخترکا دوسرا اور منفرد افسانہ ’’وندے ماترم‘‘ جو ہنگامی موضوع پر مبنی ہے۔ اس افسانے میں ہندوستان کے دو بڑے فسادات کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلا بابری مسجد اور دوسرا 1980 ء کا فساد۔ اس میں افسانہ نگار نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ حکومت کس طرح سیاست کی روٹی سیکنے میں ہمہ وقت مشغول ومگن رہتی ہے۔سیاست کی گندگی پالیسی، عوام کے لیے لیے گیے غیرمناسب فیصلے اور اقدامات،جن سے غیرانسانی واقعات رونماہوتے رہتے ہیںان میں فسادات کو اولیت حاصل ہے۔فسادات سے عام لوگوں پر کیا اثر پڑتا ہے، کتنی بری طرح سے وہ اسٹریس، ڈپریشن ، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر وغیرہ کے شکار ہوجاتے ہیں۔جس کے لیے حکومت اور سیاست دان ذمہ دارہیں۔لیکن ہمارے حکمراں یہ کب سوچتے ہیں۔ انھیں تو بس ووٹ چاہیے ، کسی کا خون بہاکر ملے، کسی خاص طبقے کو جلا کر ملے، بچوں کو یتیم کر کے ملے، عورتوں کو بیوہ کی چادر اوڑھا کر ملے، کسی کی بیٹی اور بہن کی عزت تار تار کر کے ملے۔ ان ظالم اور سفاک حکمرانوں کو اگر کچھ دکھتا ہے، اگر ان کے دل میں کسی سے محبت کا شگوفہ بھی پھوٹتا ہے تو صرف اور صرف کرسی کے لیے۔ اور کرسی ملنے کے بعد وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ انسانوں کے حکمراں ہیں۔ انسانوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ جانوروں پر بھی لوگ رحم کرتے ہیں۔ لیکن انسان تو جانور سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔ ماں باپ کے سامنے ہی ان کی اولاد کا سر تن سے جدا کردیاجاتاہے۔ پھر بھی اس دنیاوی عدالت میں ان قاتلوں کے لیے کوئی قانون نہیں۔ قانون ہے بھی تو مظلوموں، معصوموں اور بے گناہوں کے لیے۔یہ ایک ایسی بوڑھی عورت کی کہانی ہے ’جو وندے ماترم‘ سنتی ہے تو اس پر ہیجانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ سلاخیں بھی ہیں تو معصوموں کے لیے۔ ظلم کی اس دنیا میں مجرم کھلے عام گھوم رہے ہیںاور مظلوم سلاخوں کے پیچھے اپنی بے گناہی ثابت ہونے کا اور ناکردہ گناہوں سے رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس افسانے میں پولیس آفیسرس کے چہرے کو بھی بے نقاب کیا گیا ہے۔ ان کا کام ہے لوگوں کو بچانا اور ان کی مدد کرنا۔ لیکن موجودہ دور میں یہ لوگ بھی سرکار کے تلوے چاٹتے ہیں اور ان کی جی حضوری کرتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہمہ وقت چند سکوں کی خاطراپنے شکم میں جہنم کی آگ ڈالتے رہتے ہیں۔

بقول فضا ابن فیضیؔ:

حق بات کی تائید کروں تو مجرم

حالات پر تنقید کروں تو مجرم

تم جرم کی تخلیق کروتو معصوم

میں جرم کی تردیدکروں تو مجرم

’’وندے ماترم‘‘ بابری مسجد اور 1980ء کے فسادات پر لکھا گیا ایک بہترین افسانہ ہے۔ اس افسانے میں کئی کردار ہیں۔ اماں، چمپا، ببن میاں اور ان کے علاوہ اور بھی ضمنی کردار ہیں۔ اماں کا مرکزی کردار ہے۔ اماں جس محلے میں رہتی ہیں وہ پورا محلہ ان کو اماں کہہ کر بلاتا ہے۔ چمپا اور ببن میاں ان کے پڑوسی ہیں۔ چمپا اماں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ چمپا کا تعلق سماج کے پس ماندہ طبقے سے ہے۔ اس کا شوہر کچھ عرصہ پہلے نچلی ذات کے ریزرویشن کی تحریک میں پولیس فائرنگ میں مارا گیا تھا۔محلے کے سارے لوگ آپس میں مل جل کر رہتے تھے۔ ایک صبح اماں کو بڑی بے چینی ہورہی تھی۔ ان کو ایسا لگ رہا تھا جیسے آج کوئی ان ہونی ہونے والی ہے، کچھ ایسا جیسے آج سب کچھ برباد ہوجائے گا۔ دوپہر کے وقت پتا چلا کہ وشو ہندو پریشدنے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ چاروں طرف ہنگامہ ،قتل و غارت گری ، لوٹ کھسوٹ مچی ہو ئی تھی ۔ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے ۔ چاروں طرف ہنگامہ تھا اور فضا وندے ماترم کے نعروں سے گونج رہی تھی ۔ ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’ہر طرف انتقام کی آگ تیزی سے پھیلنے لگی ، پاس کے دال باڑہ سے ایک گیروے کپڑے پہنے ، ترشول لیے وندے ماترم کا نعرہ بلند کر تے ہو ئے کچھ لوگوں کا ایک گروہ آگے بڑھنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد سارا ماحول نفرت کے شعلوں کی لپیٹ میں تھا ۔ ہر جانب ایک کہرام برپا تھا ۔ ‘‘(3)

اس خونی ماحول نے امّاں کے ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ وہ چیخنے چلانے لگیں اور نڈھال ہو گئیں پھر ایک دم خاموش ہو گئیں ۔ وہ بہت خوف زدہ لگ رہی تھیں ۔ جب امّاں تھوڑا سنبھلی تو ببن میاں کے بیٹے رشید خان نے پوچھا کہ وندے ماترم سنتے ہی آپ اتنی خوف زدہ کیوں ہو گئیں تھیں ؟ امّاں نے رشید کو بتا یا کہ 1980ء کے فساد میں ان کے بچوں اور شوہر کو مار دیا گیا تھا ۔ یہ لو گ وندے ماترم کا نعرہ لگاتے ہوئے میرے دونوں بچوں کو میری آنکھوں کے سامنے ذبح کر دیے ۔ میرے میاں گھر پر نہیں تھے وہ کام پہ چلے گیے تھے ۔ ان کا کچھ بھی پتا نہیں چل رہا تھا ۔ میں نے کہاں کہاں نہیں تلاش کیا، پولیس تھانے کے چکر لگائی ایک امید ہی تھی کہ وہ زندہ ضرور ہوں گے۔ پھر ایک دن پولیس والا آیا کہنے لگا کہ آپ کے شوہر کی لاش مل گئی ہے ۔ شناخت کے لیے آپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا ۔ میں اس کے ساتھ چل پڑی ۔ وہ میرے شوہر کی ہی لاش تھی ، آدھی جلی ہوئی ۔ بس تب سے لے کر آج تک جب وندے ماترم کی آواز سنتی ہوں تو وہ سارے مناظر میری آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگتے ہیں ۔ اس افسانے کا اختتامیہ حصہ کافی دردناک ہے جس میں ایک بیوی اور ماں کا کرب ہے تو دوسری طرف پولیس کی بے حیائی، بے غیرتی اور بے حسی ۔ اقتباس دیکھیے:

’’جب وہاں پہونچی تو دیکھا وہ میرے شوہر کی ہی لاش تھی ۔ لاش آدھی جلی ہوئی بھی تھی ۔ میں رونا چاہ رہی تھی مگر ظالموں نے میرے آنسوئوں کو بھی چھین لیا تھا ۔ میں نے ایک لمحے کے لیے حولدار سے کہا ، کاش تم مجھے اسی دن مار ڈالتے تو آج یہ منحوس دن نہ دیکھ پاتی۔

حولدار نے مسکراتے ہو ئے طنز سے کہا ۔ بڑھیا تو گھر جا اور اپنے اللہ کو یاد کر ،۔۔۔۔۔۔اب جب بھی میں وندے ماترم کا شور سنتی ہوں بیٹا؛تو میری آنکھوں کے سامنے بس وہی ہولناک منظر گھومنے لگتا ہے ۔ اور پھر انسانوں کی شکلیں خوںخوار ، جنگلی جانوروں کے بھیس میں میرے گھر میں وندے ماترم کے منتر کا شور مچاتی نظر آنے لگتی ہیں ۔‘‘ (4 )

فہیم اختر کا ایک کامیاب افسانہ’’کتے کی موت‘‘ہے۔ اس افسانے کو اگرانسانی نقطۂ نظر سے دیکھا جا ئے تو یقینایہ افسانہ انسانیت کی روح کو مضطرب کر دیتا ہے ۔ اس افسانے کا موضوع کوئی سیاسی ، جنسی یا طبقاتی استحصال نہیں بلکہ اس افسانے کا موضوع مشرق اور مغرب کے بیچ کا وہ فرق ہے جو افسانہ نگار کو اخلاقی اور تہذیبی سطح پر نظر آتا ہے ۔ اس فرق کو بیان کر نے کے لیے انہوں نے ’’کتے کی موت‘‘جیسا افسانہ نہایت ہنر مندی کے ساتھ تخلیق کیاہے۔ مگر افسانے کے اختتامیہ حصے میں انہوں نے مغربی تہذیب کو جس طرح طنز کا نشانہ بنا یا ہے اس میں ’رڑیارڈ کپلنگ‘ کی بازگشت سنائی دیتی ہے :

The west is west.The east is east

The twin can never meet.

اس افسانے کا مرکزی کردار ڈیوڈ ہے جس کے ارد گرد کہانی گھومتی ہے ۔ ڈیوڈ کی عمر 65سال سے کچھ زیادہ ہے ۔ وہ اپنی رٹائرڈ زندگی کو اپاہجوں کی طرح نہیں گزارنا چاہتاتھا ۔ اس لیے اس نے ضعیف لوگوں کے مکان کلب میں ایک معمولی سی ملازمت کر لی ۔ بوڑھوں کو لانے اور لے جانے کا کا م ڈیوڈ کے ہی ذمہ ہے ۔ اور وہ اپنے اس کام سے بہت خوش ہے ۔ اپنی فرصت کے اوقات کو گزارنے کے لیے لوگوں کو اپنی لچھے دار باتوں میں پھنسا لیتا اور جیسے ہی ڈیوڈ کو محسوس ہوتا کہ اس کے کا م کا وقت ہو گیا ہے وہ فوراً بات چیت بند کر کے اپنے کلب کی طرف چلا جا تا ۔ ڈیوڈ اور افسانہ نگار آپس میں دوست ہیں ۔ فرصت کے لمحات میں ملنا جلنا ہوتا ہے اچانک ڈیوڈ کا فی دنوں سے نظر نہیں آیا تو افسانہ نگار احوال دریافت کرنے کی غرض سے اس کے گھر چلا جا تا ہے : تب اسے پتا چلتاہے کہ اس کا کتا مر گیا ہے ۔ وہاں کامنظر افسانہ نگار اس طرح بیا ن کرتا ہے:

’’میں نے تیزی سے نزدیک آکر ڈیوڈ سے مخاطب ہونے کی کوش کی لیکن وہ اپنے اطراف کے ذی روح ماحول سے بے نیاز ہو کر ایک مردہ جانور کے سانحہ پر بے بس کھڑا خاموش آنسو بہا رہا تھا ۔ میرا ناطقہ سر بگریباں تھا کہ مرنے والے کے عزادار کی خدمت میں کس قسم کے تعزیتی جملے ادا کروں ۔ لا چار میں حیرت و حسرت کا مارا خاموشی سے ڈیوڈ کی خاموش صف ماتم میں شامل ہوگیا ۔‘‘(5)

ڈیوڈ کے کتے کی موت اور ڈیوڈ کو اس کتے سے اتنی شدید محبت دیکھ کر کہانی کار کو اچانک چنو میاں کی یاد آ جا تی ہے ۔ چنو کو دیکھتے ہی کتے جان بچا کر بھاگ کھڑے ہو تے تھے ۔ چنو کے پاس گوشت کی دکان ہے ۔ تازہ گوشت کی مہک سے کتے اس کی دکان کے چکر کا ٹنے شروع کر دیتے لیکن انہیں گوشت کی ایک بوٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ اوپر سے چنو کا موٹا ڈنڈا جو عذاب بن کر کتوں پر نازل ہوتا تھا ۔ ایک طرف کتوں سے اتنا پیار اوردوسری طرف اتنی نفرت ۔ اس رد عمل سے کہانی کا ر نفسیاتی پیچ و خم میں الجھا ہوتا ہے کہ اچانک سے ڈیوڈ کی ماں کی موت کی خبر ملتی ہے ۔ کہانی کار پس و پیش میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ ماں کی موت ڈیوڈ کے لیے بہت پریشان کن خبر ہوگی کیونکہ وہ اتنا حساس ہے کہ کتے کی موت کو برداشت نہیں کر سکا تھا ۔ اس لیے ڈیوڈ کو کیسے یہ خبر دی جا ئے ۔ ایک اقتباس دیکھیے :

’’میری آواز میں تاسف کے ناقابل اظہار جذبات کا ایک درد ابھر آیا ۔

ڈیوڈ! پلیز ، آئی ایم سوری ۔ مجھے کل ہی تمہاری ماں کی موت کی خبر معلوم ہو ئی ۔

’اوہ ہاں ، مائی مدر۔۔۔۔۔۔۔۔۔،

’تم ۔ تم ٹھیک تو ہو ،

’’ اوہ یس۔ وہ بوڑھی تھی یار ، ڈونٹ وری!

ڈیوڈ یہ کہہ کر ہنستے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا ۔(6)

ڈیوڈ کا رد عمل ماں کی موت پر کس قدر تعجب خیز تھا ۔ جو شخص ایک کتے کی موت پر آنسو بہا بہا کر پریشان ہو رہا تھا وہی شخص ماں کی موت پر کتنا پرسکون ہے ۔ گویا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس دنیامیں متعدد ڈیوڈ ایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کے سامنے والدین ، دوست احباب، رشتہ دار، ان کی ہمدردی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی وہ صرف خود کے لیے جیتے ہیں ۔ ڈیوڈ کے صرف ایک جملے نے کہانی کار کی مشرقیت کو تڑپا دیا اور یہی وہ تڑپ ہے جس نے فہیم اختر سے ’’کتے کی موت‘‘ جیسا کامیاب اور نایاب افسانہ لکھوا دیا ۔

’’خواب کا ایک انجانہ رشتہ‘‘ بھی ’’ایک گریزاں لمحہ‘‘ کی طرح ایک محبت کی داستان ہے ۔ ایک خاموش محبت کی داستان جس میں ایک عاشق اپنے محبوب سے اپنی محبت کا اظہار کیے بنا اکیلے ہی اس آگ میں جلتا ہے ۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک حسین و جمیل ترکش لڑکی نادیاہے ۔ زیر تجزیہ افسانے میں ایک ایسے کلب کا ذکر کیا گیا ہے جو معذور لوگوں کے لیے چلا یا جا تا تھا ۔ اس کلب میں نادیا ملازمت کرتی ہے ۔ کلب میں جو بھی رونق، رنگینی اور خوبصورتی ہے سب اس کے وجود سے ہے ۔ نادیا ایک شادی شدہ عورت ہے اور اس کے دو پیارے پیارے بچے بھی ہیں ۔ کلب ہر روز آباد رہتا ۔ نادیا کو دیکھنے کے لیے لوگ بیتاب رہتے ، اسی لیے اس کے دیدار کے لیے روز چلے آتے ۔ وہ جس دن کلب نہیں جا تی اس دن کلب کی رونق بڑی ہلکی نظر آتی ۔ کوئی چہل پہل کوئی حرکت نہیں ، چاروں طرف ویرانی اور اداسی نظر آتی ۔ کیونکہ اس کے بغیر کلب میں نہ کسی کا جی لگتا اور نہ ہی کلب خوبصورت نظر آتا ۔ پھر اچانک جب کلب کے لوگوں کو پتا چلتا ہے کہ نادیا کا طلاق ہو گیا ہے تو لوگوں کو دکھ اور افسوس ہونے کے بجا ئے خوشی ہو رہی تھی کیو ں کہ ان کو اپنی ہوس کی تکمیل ہوتی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس سلسلے میں ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’دوسرے دن کا م پر یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ نادیا کا طلاق ہو گیا ہے افسوس تو کجا سب اپنی چہ مگوئیوں میںمشغول ہو گیے ۔ بیچاری نا دیا پر کیا بیتی ہو گی اس کی قطعاً کسی کو فکر نہیں تھی ۔ فکر تھی تو ایک ہی بات کی تھی کہ کسی طریقے سے نادیا جیسی سنہری مچھلی کو اپنے جا ل میںپھانس لیا جا ئے ۔‘‘(7)

پر اگلے ہی پل جب ان کو معلوم ہوتا ہے کہ نادیا نے ملا زمت سے استعفیٰ دے دیا ہے تو ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے ۔ نادیا کے استعفیٰ دینے کے بعد وہ کلب ویران رہنے لگا اور ایک دن ڈائریکٹر کی طرف سے کلب بند کر نے کاحکم صادر ہوا ۔ نادیا افسانے میں اول تا آخر ایک خوبصورت پھول کی ما نند نظر آئی جس کے چاروں طرف کلب کے ممبر بھنوروں کی طرح اس کے ارد گرد منڈلا تے ہو ئے نظر آتے ہیں ۔ کلب ممبر میں صرف کرن ہی ایک ایسا تھا جوان لوگوں سے ، ان کی سوچ سے بالکل الگ تھا وہ نادیا کا صرف ایک سچا دوست ہی نہیں بلکہ ایک سچا اور خاموش عاشق تھا ۔ اس نے بڑی خاموشی سے اپنی محبت کی دنیا آباد کر رکھی تھی ، یہی وجہ ہے کہ جب نا دیا استعفیٰ دیتی ہے تو سب سے زیادہ ٹھیس اسی کو لگتی ہے ۔ اور کرن اپنی خاموش محبت کو ’’ خواب کا ایک انجانا رشتہ ‘‘ کہہ کر اپنے دل کو سمجھا تا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس افسانے کا آخری حصہ ملاحظہ کیجیے:

’’ کرن خلا میں گھورتے ہو ئے ایک عجیب سوچ کے تانے بانے بننے لگا ، خدا نے نا دیا جیسی خوبصورتی کو انسانی روپ میں کس لیے تخلیق کیا ؟ وہ کھلے آسمان کے نیچے زمین پر عرصۂ حیات کو تنگ محسوس کر رہا تھا ۔ اس کی آنکھیں نا دیا کے شنا سا چہرے کو دل کی گہرا ئیوں میں اتار رہی تھی۔ شاید وہ اس کی آنکھوں میں خواب کا ایک انجانا رشتہ تھی ۔‘‘(8)

ان افسانوں کے علاوہ بیوٹی پارلر ، سرکل لا ئن ، دیو دا سی ، ڈرو بیل ، گئو ماتا، تشنگی، پیاسی ندی ، ٹوٹے بندھن ، آخری سفر، درگا مہتر، گواہی ، لال کرسی ، رکشہ والا، سروپ سنگھ، رشتوں کا درد، کالی پتلون بھی اپنے منفردموضوعات اور انوکھی پیش کش کی وجہ سے بہت اہم ہیں ۔

افسانے میں جو واقعات بیان کیے جا تے ہیں ان کو سیکو ینس میں پیش کرنا ہی پلاٹ ہے ۔ واقعات کی ترتیب و تنظیم کچھ اس طرح ہونی چا ہئے کہ ایک واقعہ کے بعد جب دوسرا واقعہ پیش آئے تو ہمارا ذہن قبول کر ے کہ ہاں بالکل ایسا ہی ہو نا چاہئے تھا ۔ ایسے ہی پلاٹ کو مربوط پلاٹ کہا جا تا ہے ۔ فہیم اختر نے پلاٹ کی تعمیر و تشکیل میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے ۔ فہیم اختر کے افسانوں کے پلاٹ کے متعلق مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ پلاٹ کی تشکیل بہت اہتمام سے کرتے ہیں ۔ بہت ہی محنت اور غور و فکر کر نے کے بعد اپنے افسانے کا پلاٹ تیار کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں کے بیشتر پلاٹ ایسے ہیں جن میں ربط و تسلسل ہوتا ہے ۔ فہیم اختر افسانوں میں واقعات کی ترتیب اس طرح اور اس سلیقے سے کرتے ہیں کہ واقعات زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک کے بعد ایک جڑے ہو ئے نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر کتے کی موت ، وندے ماترم وغیرہ افسانوں کے پلاٹ بہت عمدہ ہیں ۔ ان افسانوں میں پیش آنے والے واقعات آپس میں اس طرح جڑے ہیں کہ قاری کو کہیں پر بھی ان واقعات کا تسلسل و ربط ٹوٹتا محسوس ہی نہیں ہوتا ۔فہیم اختر کی کہانیوں کے پلاٹ سے متعلق قیصر شمیم رقمطراز ہیں :

’’خواب کا ایک انجانا رشتہ ‘‘میں بھی فہیم اختر نے پلاٹ کے تانے بانے بننے میں فن کا رانہ جا بکدستی کا ثبوت دیا ہے ۔اور افسانے کو فطری نقطۂ عروج تک پہو نچا کر خاتمہ اس طرح پیش کر نے کی کوشش کی ہے کہ وہ زبردستی کی پیوند کاری کی بجائے پلاٹ کا لا زمی حصہ نظر آئے۔ــ‘‘(9)

کردار نگاری فکشن کا ایک اہم جز ہے کیونکہ انہیں کرداروں کے ذریعہ ہم اپنے جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔ کردار ، ناولوں اور کہانیوں کی روح ہوتے ہیں، انہیں کے ذریعہ کہانی آگے بڑھتی ہے اور انہیں کرداروں کی وجہ سے کہانیوں کے پلاٹ میں ربط و تسلسل بھی قائم ہوتا ہے ۔ کہانیوں میں پیش کیے جانے والے کردار ہماری اصل زندگی سے مماثلت رکھتے ہوں ، ان کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہو ، وہ ہماری طرح چلتے پھرتے نظر آئیں اور حالات کے مطابق ان میں تبدیلیاں بھی ہوں ۔ ان باتوں سے واضح ہے کہ کردار متحرک ہونے چا ہئے کہ جس سے وہ کہانیوں اورقصوں میں جان ڈال سکیں ۔ مختصر یہ کہ قاری کرداروں میں کوئی اجنبیت محسوس نہ کرے بلکہ جب وہ کسی کردار کو پڑھے تو اسے محسوس ہو کہ وہ کردار بھی اسی کے سماج کا ایک حصہ ہے یعنی وہ کردار ہم جیسے چلتے پھرتے انسان ہیں ۔ ایسا بھی نہیںہو نا چاہئے کہ جو کردار کہانی میں پیش کیا جا رہا ہے وہ صرف اچھا ئیوں کا مجموعہ ہو بلکہ اس میں اچھا ئیاں اور برائیاں دونوں ہونی چاہئے۔ فہیم اختر کے افسانوں کا جائزہ اگر ہم کردار نگاری کے حوالے سے کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں کردار نگاری پر بھی مکمل دسترس حاصل ہے ۔ ان کے کرداروں کو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے ہم ان سے مل چکے ہیں ، جیسے یہ ہمارے بیچ ہی سانس لے رہے ہوں ۔ فہیم اختر کے کرداروں میں راج، عظمیٰ، ڈیوڈ ، امّاں، نادیا ، دیوداسی، ہریا وغیرہ ایسے کردار ہیں جو ہمارے سماج کا حصہ ہیں جو ہمارے سماج کے اندر پنپ رہی تلخ حقیقتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اور یہ سارے کردار کہانی کار کے تجربات اور مشاہدات کی بھر پور عکاسی کرتے ہیں۔

کردار کی طرح مکالمے کو بھی فکشن میں ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔ کیونکہ مکالمہ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے کردار کے احساسات ، جذبات ، اضطرابات، ذہنی کشمکش کا اندازہ لگایاجاسکتا ہے ، مکالمے ہی کرداروں کے اندر موجود خوبیوں ،خامیوں اور حقیقت سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں ۔ فہیم اختر نے سیدھے سادھے اور خوبصورت الفاظ سے مزین مکالموں سے اپنے افسانوں میں حسن اور لطافت پیدا کیا ہے ۔ ان کے مکالمے چھوٹے چھوٹے ہو تے ہیں پر دل پر اثر کرتے ہیں ۔ روز مرہ کی زندگی اورزندگی کے نشیب و فراز کو پیش کرنے میں بڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ ’’وندے ماترم‘‘ افسانے میں ایک جگہ فہیم اختر نے فسادات سے متاثر لوگوں میں وحشت کو مکالمہ کے ذریعہ بڑے دردناک انداز میں پیش کیا ہے ۔ مثال کے طور پریہ اقتباس دیکھیے:

’’ہاں ہاں امّاں! کچھ اسلام دشمنوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا ہے ۔

’تو۔۔۔ تو کیا پھر خون خرابہ ہوگا ۔ پھر ہم پر کوئی قیامت ٹوٹے گی ، رحم کر میرے مولا رحم کر ۔۔۔۔

ارے کم بختوں یہ کیا کر رہے ہو۔ اللہ ان دشمنوں کو غارت کرے ۔۔۔۔‘

’ارے خدا ان ظالموں کو کوئی چپ کرائے ۔ خدا کے واسطے وندے ماترم کا نام مت لو ۔ ارے کو ئی تو انہیں چپ کرائے

۔۔۔۔۔۔ تم پہ خدا کی مار پڑے کمینوں! بند کرو بند کرو یہ وندے ماترم کی رٹ‘ ہا ئے ہائے میں مر جائوں گی اللہ تمہیں غارت کر ے ۔‘‘ (10)

          افسانہ ’’کتے کی موت‘‘ سے ایک مکالمہ ملاحظہ ہو ۔ جو بہت چھوٹا جملہ ہے لیکن اس ایک چھوٹے جملے نے ہی کردار کی بے غیرتی اور بے حسی کو اجاگر کر دیا ہے ۔ جسے اپنے کتے کے گزر جانے کا صدمہ تو ہے لیکن ماں جیسی عظیم ہستی ، نعمت اور خدا کے تحفے سے محروم ہوجا نے کا کوئی غم کوئی ملال نہیں ۔ اس ایک چھوٹے جملے نے جہاں کردار کے اندر موجود برائی کو واضح کیا ہے وہیں مغربی تہذیب سے بھی روشناس کراتاہے:

’’ڈیوڈ پلیز، آئی ایم سوری ، مجھے کل ہی تمہاری ماں کی موت کی خبر معلوم ہوئی۔‘‘

’’اوہ ہاں ، مائی مدر۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

تم ۔تم ٹھیک تو ہو ؟‘‘

’’ اوہ یس ۔ وہ بوڑھی تھی یار، don’t Worry‘‘

ڈیوڈ یہ کہہ کر ہنستے ہو ئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔(11)

          فہیم اختر کی زبان نہایت ہی صاف، آسان ، سادہ اور عام فہم ہے اور ایک صاف چشمے کی طرح رواں دواںہے جو کہیں رکتا نہیں بلکہ ایک ہی لَے میں بہتا چلا جا تا ہے ۔ ان کا افسانہ دلکش لفظوں کا مجموعہ ہے ۔ اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہیں انگریزی الفاظ کا بھی سہارا لیا ہے ۔ وہ لفظوں کی تراش خراش اس طرح کرتے ہیں جیسے کوئی جوہری ہیرے کو تراش کر خوبصورت انگوٹھی بنا تا ہے ۔ انہوں نے اپنی تحریروں کو تشبیہوں ، استعاروں اور محاوروں سے بھی سجا یا ہے ۔ یہ تمام چیزیں ان کی تحریر کے حسن کو دوبالا کرتی ہیں ، ان کا تحریری حسن تب اور بڑھ جاتا ہے جب وہ طنز یہ لہجہ شامل کر دیتے ہیں ۔ فہیم اختر کے زبان و بیان سے متعلق ایک اقتباس ملاحظہ کریں:

’’آخر ایک دن نادیا کام پر واپس آگئی ۔ تمام ممبران کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ پورا ماحول دیوالی کی طرح چراغاں ہو گیا ۔ گویا ویرانے میں بہار آگئی ہو۔ ڈیوڈ جو ہر وقت منھ لٹکائے بیٹھا رہتا تھا آج وہ بھی پھرتی سے ایک کونے سے دوسرے کونے اس طرح بھاگتا نظر آیا جیسے شتر مرغ دیوانہ وار کسی کا تعاقب کر رہا ہو۔ جیمز بھی نادیا کے آس پاس منڈلا رہا تھا ۔ طلاق کے بارے میں افسوس ظاہر کرتا پھر شاطرانہ تسلی دیتا کہ ’اب تم آزاد ہو کچھ بھی کرو تمہیں کون روک سکتا ہے ‘ کرن نادیا کے پاس بیٹھا طرح طرح کے موضوعات پر گفتگو کرنے کی کوشش کر تا رہا ۔ مگر بیچاری نادیا ایک کونے میں بیٹھی سارے ماحول سے بے نیاز فائل کے اوراق پلٹ کر اپنا وقت کاٹتی رہی ۔‘‘(12)

          غرض کہ فہیم اختر کے افسانے موجودہ صورت حال پر مبنی ہیں ۔ وہ ایک اجنبی شہر میں رہ کر بھی اپنی زبان ، اپنی تہذیب، اپنے معاشرہ اور اپنے مذہب سے کس قدر جڑے ہوئے ہیں اس بات کا اندازہ ان کے افسانوں سے لگا یا جا سکتا ہے ۔ فہیم اختر کی یہ تحریر آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔ ان کی کہانیاں ہمیں خیالی دنیا کی سیر نہیں کراتیں بلکہ حقیقت کی نگری میں لے جا کر ہمیں انسانوں کا اصل چہرہ دکھا تی ہیں ۔ آج کل انسان اتنا ڈرا اور سہما ہوا زندگی گزار رہا ہے کہ اس کا اثر فہیم اختر کے کرداروں میں بھی دکھا ئی دیتا ہے۔ وہ خواب اور ڈر کے درمیان اپنی زندگی گزار رہا ہے ۔ ان کے تحریر کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ بہت پر تصنع انداز میں گفتگو نہیں کرتے وہ قاری تک اپنی بات پہو نچانے کے لیے اسی زبان کا استعمال کرتے ہیں جس میں قاری ان کی بات کو بخوبی سمجھ سکے ۔ بقول امجد علی بھٹی (پاکستان):

’’ فہیم اختر کے افسانوں کے کردار خواب اور خوف کے درمیان زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ۔۔ فہیم اختر کا سماجی شعور بڑا توانا ہے ۔ وہ اپنے ارد گرد اور موجودہ عہد کے حالات اور تقاضوں سے پوری طرح باخبر ہیں ۔ ان کا ذہن اور ان کی روح گرزے ہو ئے دنوں میں سانس لیتے ہو ئے محسوس ہوتے ہیں ۔ ان کی تحریر کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ انہوں نے کہیں بھی یہ شعوری کوشش نہیں کی کہ عالمانہ انداز میں پر تصنع انداز گفتگو اختیار کیا جا ئے ۔ وہ اپنے قاری سے اس کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور وہی کچھ بیان کرتے ہیں ۔ جو قاری پڑھنا چاہتا ہے ۔‘‘(13)

          علاوہ ازیں انسانی نفسیات کو انہوں نے اپنے افسانوں میں جس طرح پیش کیا ہے وہ تعریف کے قابل ہے ۔ ان کی تحریر کو پڑھنے کے بعد قاری یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ فن کی ایسی پرکھ ، ایسا تخلیقی ذہن فہیم اختر کا ہی ہو سکتا ہے ۔

ایک گریزاں لمحہ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ، پہلی کاوش ہے اور ان کی اس پہلی کاوش نے ہی ان کو اردو ادب میں ایک اہم مقام عطا کر دیا ہے۔ فہیم اختر کو لکھنے کا شوق اور اردو زبان سے محبت جتنی ہے امید ہے کہ ان کی اور بھی تخلیقات منظر عام پر آئیں گی ۔ فہیم اختر کی پہلی اورکامیاب کاوش پر میں انہیں مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ اللہ کرے زور قلم اور بھی زیادہ ۔۔

وہ اردو کا مسافر ہے یہی پہچان ہے اس کی

جدھر سے بھی گزرتا ہے سلیقہ چھوڑ جاتاہے

حواشی:

1۔ایک گریزاں لمحہ، فہیم اختر اوران کے تین افسانے،قیصر شمیم، ص 16

2۔ایک گریزاں لمحہ،ایک گریزاں لمحہ، ص 29

3۔ایک گریزاں لمحہ، وندے ماترم، ص 87

4۔ایک گریزاں لمحہ، وندے ماترم، ص 90

5۔ایک گریزاں لمحہ، کتے کی موت، ص 68

6۔ایک گریزاں لمحہ، کتے کی موت، ص 70

7۔ایک گریزاں لمحہ، خواب کا ایک انجانا رشتہ ، ص 120

8۔ایک گریزاں لمحہ، خواب کا ایک انجانا رشتہ ، ص 123

9۔ایک گریزاں لمحہ، فہیم اختر اوران کے تین افسانے،قیصر شمیم، ص 19

10۔ایک گریزاں لمحہ، وندے ماترم، ص 87

11۔ ایک گریزاں لمحہ، کتے کی موت، ص 70

12۔ ایک گریزاں لمحہ، خواب کا ایک انجانا رشتہ ، ص 121

13۔ایک گریزاں لمحہ، فہیم اختر کی افسانہ نگاری، امجدعلی بھٹی، ص13