کتابوں پرتبصرے

الہام عشق

نام کتاب :  الہام عشق

مبصر:پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین

مہجری شاعری کی توانا آواز ۔مایا حیدر

 جرمنی میں مقیم مایا حیدر کے فن کا تعلق صنف غزل سے ہے،جو ایک مقبول اور ہر دلعزیز صنف سخن ہے۔ اس کے عقب میںجدوجہد کی ایک طویل تاریخ ہے ۔رد و قبول غزل کا مقدررہا ہے لیکن موجودہ صورتحال ان معنوں میں حوصلہ افزا ہے کہ غزل اب بڑی حد تک موافقت کی فضا میں سانس لے رہی ہے۔بلکہ بڑی حد تک یہ اردو ادب کی سفیر بن گئی ہے اور اس کی وساطت سے عام لوگ اردو زبان کی چاشنی اور اس کے رس بھائو کو سمجھنے لگے ہیں۔سفیر ان معنوں میں کہ یہ نہ صرف اردو سے محبت کرنے والے اردو حلقے کی مشامِ جاں کو معطر کررہی ہے بلکہ ہندستان کی بیشتر زبان و ادب میں اس کے تیور کے چرچے ہیں اور بعض زبانوں میں اس کے نقشِ پا کا تتبع بھی کیا جارہا ہے؛ حیرت ہوتی ہے کہ انگیزی جیسی متمول اور عالمی زبان میں بھی ہماری غزل کی دھمک سنائی دے رہی ہے۔  غزل مایا حیدرکے قابل اعتنا فنی تعامل کا ایک توانا حوالہ ہے۔

دوسرا قابل توجہ امر مہجری ادب اور ان سے متعلق فنکاروں کا ہے۔ہجرت ازل سے انسان کا مقدر ہے ۔مہاجرت وسیلۂ ظفر بھی ہے۔اعلا مقاصد کے لیے مہاجرت نبی محترم صلعم کی سنت بھی ہے ۔اس حوالے سے وہ احباب جو اپنوں کو چھوڑ کر کہیں دور جابسے ہیں ہماری خصوصی توجہ کا مستحق ہیں۔مہاجرت کا تصور محض اشیائے ضروریات کے ساتھ ہجرت تک محدود نہیں بلکہ مہاجر کے ساتھ ان کا اپنا رہن سہن، تہذیب وتمدن، ذہن اور فکر و احساس، خاص طور پر ان کے ہمراہ ان  کی زبان اور ان کا ادب بھی اجنبی دیار میں منتقل ہوجاتا ہے اور مرورِ ایام کے ساتھ دیارِ غیر میں بھی اپنی خو بو پھیلانا شروع کردیتا ہے۔ مقامِ مسرت ہے کہ پردیس میں بھی ہمارے اپنوں کی بدولت ایک قابلِ لحاظ شعری و نثری سرمایہ اردو ادب کا حصہ بن رہا ہے۔یہ نئی اردو بستیاں دیارِ غیر میں  حقیقی معنوں میں ہمارے زبان اور ادب کی سفارت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔اردو ادب کے ان سفرا کے مابین غزل کے حوالے سے مایا حیدرایک توانا آواز ہیں،جو بڑی تیزی سے اجنبی دیار میں مشرق کی خوشبو بکھیر رہی ہیں اور ادب نواز طبقہ کو ملتفت کررہی ہیں۔

مایا حیدر اپنے وطن سے دور برلن ،جرمن میں مقیم ہیں اوراردو زبان سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔بلکہ درست بات تو یہ ہے کہ جرمنی میں بھی وہ تمام تر مشرقی بانکپن کے ساتھ زندہ ہیں۔خوش قسمتی سے مایا حیدر کا نیا مستقر جرمن میں اردو بولنے،سمجھنے اور پڑھنے لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد  مقیم ہے۔ شہر برلن، دریائے مائین کے کنارے آباد تجارتی شہر فرینکفرٹ اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ اردو کے لیے بڑا زرخیز ہے۔ علامہ اقبال کے شہرکی ہائڈل برگ یونیورسٹی، ائر فورٹ اور ہمبرگ یونیورسٹی میں اردو کی تعلیم کے ساتھ تحقیق اور تالیف کے بھی شعبے بھی فعال ہیں۔اس طرح  جرمنی ایک لسانی مرکز کے طور پر مایا حیدر کے ادبی ذوق و شوق کی آبیاری کررہا ہے۔

غزل داخلی احساس و جذبات کی ترجمان ہے۔مایا حیدر نے اپنے ایک شعر میں اس کی تفسیر یوں بیان کی ہے:

اب تو مایاؔ بھی ہے شامل سفر میں روشنی کے

ورنہ ممکن کہاں تھی غزل سنانی اس کی

مایا کے غزلیہ تصور یا بنت کا ماخذ وہ روشنی ہے ،جس کی خود مایا حیدر ہم سفر ہیں۔روشنی مایا صاحبہ کی داخلی نظام کا استعارہ بھی ہے ،جس کی مدد سے وہ اپنے کعبۂ دل کے نہاخانوں میں اترتی ہیں اور وہاں کے عالم کو غزلوں میں پروتی چلی جاتی ہیں۔ مایا کی غزل روایت ، داخلی کائنات اور عصری حسیت کا سنگم ہے۔روایت ان معنوں میں کہ ان کے یہاں وفا، جفا، خواب، نیند سے گریزاں آنکھیں وغیرہ خالص روایتی غزلیہ زبان اور تلازمات کا ایک متوازن نظام موجود ہے:

وفا کا قحط پڑا ہے جہاں میں اے دل اب

ڈھونڈ لائیں کہیں سے دوست پرانے والے

۔۔۔۔

ہم میں جو کچھ ہے مایاؔ ہے اس کا

خود کو اس کی جفا پہ چھوڑ دیا

مایاحیدر غزل کو خالص تغزل کے سیاق میں دیکھنے اور برتنے کی بھی قائل ہیں۔ ان کے یہاں اس کا تصور توانائی کے ساتھ موجود ہے بلکہ رنگِ تغزل کے سبب ان کی غزلوں میں ایک خاص نوعیت کی کلاسکیت بھی در آتی ہے۔:

اب گلوں کو نہ لگایا کرے بالوں میں کوئی

خزاں کی نذر ہوئے ، پھول اگانے والے

۔۔۔۔

گو کہ اب یاد نہیں رہتے بہت کام ہمیں

بھولنے دیتا نہیں دل، وہ نشانی اس کی

اس کی تدبیر ہر اک کارگر بہت تھی مگر

جان لیوا تھی بہت شوخ بیانی اس کی

آج تک دل کفِ افسوس ملتا رہتا ہے

ہائے اس وقت کیوں نہ بات تھی مانی اس کی

گلوں کو بالوں میں لگانے کا مشرقی تصور، محبوب کی نشانی سے ہمہ دم روح میں تازگی، اس کی شوخ بیانی اور اس کی بات نہ ماننے کی بھول میں جو کسک ہے وہ بنیادی طور پر غزل کی جائے اماں ہے۔تغزل یہیں سانسیں لیتا ہے اور یہیں سے تازگی کے چشمے ابلتے ہیں۔خوشی کا پہلو یہ ہے کہ مایا کی غزلیں مشرقیت کے اس توانااحساس سے بے گانہ نہیں بلکہ ان کی غزلوں میں اس بالیدہ احساس کا بھر پور تحفظ موجود ہے۔اس طرح غزلیہ روایت کی پاسداری مایا حیدرکے فن کا نشانِ امتیاز ہے اور ان کی غزلوں میںبڑی حد تک وجہ کشش بھی۔

غزل کی ابھری ہوئی اپنی کلاسکی پک ڈنڈی پر قدم بڑھاتی ہوئی مایا بڑی کامیابی سے زمانے کی روش کو تیکھی نظروں سے بھی دیکھتے ہوئے چلتی ہے اور اپنے مخصوص انداز میں روشِ زمانہ کو غزلیہ اشعار کے پیکر میں ڈھال دیتی ہیں:

میں اپنے بچے سے نظریں نہیں ملا پائی

جب سے دیکھے ہیں بچے کوڑا اٹھانے والے

اب دلاسے ہیں بکتے غرض کی دکانوں پر

کتنے نایاب ہوئے آس بندھانے والے

مایاحیدر تازہ دم فن کار ہیں۔غزل کا قدیم کلاسیکی سرمایہ ان کے نزدیک ماضی بعید کی لایعنی کھتونی نہیں بلکہ بیش بہادولت ہے،جس سے وہ حال کے سفر پر گامزن ہیں۔نئی اور پرانی قدروں کے توازن کے ساتھ جاری ان کا یہ غزلیہ سفر اپنے اندر خوش آئند سفر کی بشارت رکھتا ہے۔