مضامین

اردوکی نئی بستیوں میں اداروں اور تنظیموں کی خدمات

محمد رکن الدین
ریسرچ اسکالر، جواہرلعل نہرویونیورسٹی، نئی دہلی
Email: ruknu786@gmail.com
Mobile No : +91-9891765225

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردوکی نئی بستیوں میں اداروں اور تنظیموں کی خدمات

اردوکی نئی بستیوں کا نام زبان پر آتے ہی قارئین کے ذہن کچھ سوالات کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں کہ آخر یہ کون سی اصطلاح ہے؟ اس کی وضاحت کے لیے یہ ضروری ہے کہ برصغیر کے علاوہ اردوجہاں جہاںبولی، سمجھی اورلکھی جاتی ہے ان تمام علاقوں اور ممالک کو اردوکی نئی بستیاں کہتے ہیں۔ادبی خیالات وافکاراور ادبی ہم آہنگی کے لیے ادبی اداروں اورتنظیموں کا قیام ایک ناگزیر عمل ہے۔ ادب عالیہ کی ترویج واشاعت میں ادبی اداروں کا رول کتنا اہم رہاہے اس سے ہم اچھی طرح واقف ہیں۔عالمی ،ملکی ،ریاستی اورعلاقائی ادبی صورت حال پر مکمل آگہی کے لیے ادبی ادارے سب سے مضبوط اور مستحکم ذرائع ہیں۔
اردو ادب کے فروغ میں ادبی ادارے ابتداہی سے کافی معاون ہیں۔ چناں چہ ہندوستان کی گلیوں اور محلوں میں قائم شدہ اداروںنے اردوزبان وادب اور اردو تہذیب کے فروغ میں کتنا نمایاں کردار اداکیا ہے۔ اس سے ہر ذی شعور افرادبحسن و خوبی واقف ہے۔ہندوستان میں قائم شدہ ادارے ایک زمانے تک ادب اورتدریس کے لیے مواد فراہم کرتے رہے ہیں۔اردو جب اس کونپل پودے کی طرح اپنی وسعت بڑھا رہی تھی جو سخت محنت اور جتن کے بعد لہلانے والی صورت اختیارکرتی ہے ،ٹھیک اسی وقت اردو میں موجودبے شمار ادارے اس زبان میں موجود فن پاروں کو مختلف چوپالوں میں من تھن کرکے ایک عالمی ادب کے شانہ بشانہ کھڑاکرنے میں مصروف تھے۔ان تمام کوششوں نے متعدد تجربات سے اردوکو مالا مال کیا،ان کی مجموعی کوششیں اردوکو فروغ میں دینے میں معاون ومدگار رہیں۔
اردوکی نئی بستیاں اپنی گوں نا گوں خصوصیات اور علمی وادبی کارنامے سے برصغیر کو اپنی طرف متوجہ کررہی ہیں۔ان بستیوں میں بہت تیز رفتار نہ سہی لیکن مضبوط طریقے سے اردو ترقی کی جانب گامزن ہے۔ اس ترقی ورفتا ر میں انفرادی و اجتماعی دونوں کاوشیں اردو کے لیے خوش آئند ہیں۔اردو کی نئی بستیوں میں ادبی ادارے کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے امجد مرزا امجد لکھتے ہیں:
’’ لندن پورے برطانیہ میں ادب کا سب سے بڑا مرکز ہے اور بے شمار تنظیمیں رات دن ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں ۔چند ایک ایسی ادبی تنظیمیں بھی ہیں جو ماہانہ ادبی محفلوںکا انعقاد کرتی ہیں اور کئی برسوں سے مسلسل بڑی پابندی اور کامیابی کے ساتھ یہ فرض نبھا رہی ہیں۔کسی زمانے میں تو حکومت کی کافی گرانٹ بھی مل جاتی تھی مگر آج کل حکومت کی جانب سے بہت ہی کم تعاون مہیا ہے لہذا اکثر تنظیمیں ختم ہوگئیں یا سال میں ایک دو بار مشاعروں کااہتمام کرتی ہیں۔دوسرے شہروں میں جہاں ’’اپنے ‘‘لوگوں کی خاصی تعداد ہے مگر وہاں ادبی سرگرمیاں بہت کم پائی جاتی ہیں۔ گو شعرا وادبا گاہے بگاہے اپنی تخلیقات کو کتابی شکل دے کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں‘‘۔( برطانیہ کے ادبی مشاہیر ، امجدمرزا امجد ص ۱۰)
امجد مرزا امجد چوں کہ خود کافی سالوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ ان کے مشاہدات ہمیں وہاں کی ادبی صورت حال سے آگاہی کراتا ہے۔برطانیہ جو کہ قدیم زمانے سے علم وادب اور خاص طور پر متعدد تہذیبوں کی آماجگاہ رہا ہے وہاں اردو زبان و ادب سے منسلک اداروں کی کمیابی خوش آئند قدم نہیں ہے۔تاہم برطانیہ میں موجود ہ عہد کی بات کریں تو تین روزنامے، چار ہفتہ وار، چھہ ماہنامے، چار سہ ماہی پابندی سے شائع ہورہے ہیں۔ برطانیہ میں اردو کے فروغ میں ادبی انجمنوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ادبی انجمنوں میں ’’اردو مجلس‘‘ جس کی بنیاد سر عبدالقادر نے ڈالی تھی۔ اس کے زیر اہتمام ہر ماہ ادبی نشست منعقد ہوتی تھی جس میں لندن میں مقیم اردو کے ادیب وشاعر شرکت کرتے تھے۔ ۱۹۴۷ میں چودھری اکبر خان نے لندن میں ’’بزم تفریح‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۷۲ میں راجہ صاحب محمود آباد کی صدارت میں ’’کل برطانیہ انجمن ترقی اردو‘‘ تشکیل پذیر ہوئی۔ ۱۹۸۱میں ’’اردو مرکز‘‘ وجود میں آیا۔ ۱۹۸۳ میں’’ فیض اکادمی‘‘ وجود میں آئی اور جولائی ۱۹۸۴ کو دوروزہ انٹرنیشنل سیمینار لندن یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد کیا گیا ۔ اس سیمینار کا موضوع فیض احمد فیض شخصیت اور شاعر تھا۔ فروری ۲۰۰۰ میں اردو ٹرسٹ نے دوروزہ ’’عالمی اردو کانفرنس‘‘ منعقد کی جوکہ برطانیہ میں اردو زبان کے فروغ کے سلسلے میں پہلی کانفرنس تھی۔ جس کا موضوع ’’اردو برصغیر سے باہر یا اردو اپنی نئی بستیوں میں‘‘ تھا۔اس کانفرنس میں تقریباً ۷۲ مندوبین نے ہندوپاک کے علاوہ اردو کی نئی بستیوں سے شرکت کی۔ جن میں خاص طور پر ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز لندن سے، ڈاکٹر مارک ،پراگ سے، ڈاکٹر آلینڈ یزولیر،پیرس سے، ڈاکٹر لامیلا واسیلیوا، ماسکوسے، ڈاکٹرخلیل طوقار، استنبول سے اور صدارت کی حیثیت سے ڈاکٹر جمیل جالبی، کراچی ، پاکستان سے قابل ذکر ہیں۔ اس کانفرنس کے بعد ’’یورپین اردور ائٹرسوسائٹی‘‘ کے زیر نگرانی ماہنامہ ’’پرواز‘‘ اپریل ۲۰۰۱سے جاری ہوا اس کے بعد ۲۰۰۳میں ’’یورپین اردو رائٹر لندن‘‘کا قیام عمل میں آیا ۔موجودہ وقت میںبرطانیہ کے بڑے شہروں میں متعدد اردو ادارے اور تنظیمیں متحرک وفعال ہیں جن میں ’ مسلم ھینڈس، نوٹنگھم‘،’ یورک شائرادبی فورم، بریڈ فورڈ‘، ’ بزم ادب، شیفلڈ‘،’خزینۂ شعرو ادب ، مانچسٹر‘،’اقبال اکیڈمی، برمنگھم‘،’ فیض کلچر فاؤنڈیشن، لندن‘وغیرہ۔ یہ تمام ادبی و ثقافتی گروپ برطانیہ کے متعدد شہروں میں پچھلے کئی سالوں سے ’’اہل قلم‘‘ کے نام سے ایک اہم ادبی اجتماع کرتے ہیں ۔ اس اجتماع میں پوری دنیا سے اردو دانشوراور اسکالر شرکت کرتے ہیںاور اردو کی عالمی صورت حال پر تبادلہ ٔ خیال کیا جاتا ہے۔ اردوزبان و ادب میں پوری دنیامیں کیا کچھ ہورہا ہے؟ اور دیا رغیر میں اپنی تہذیبی زبان کی آبیاری کیسے کی جائے؟،ان سب امور پر ایک جامع اور مبسوط خاکہ تیار کرکے عملی طور پر برتنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ برطانیہ کے ساتھ ساتھ دیگر اردو کی نئی بستیوں میں اردو کے فروغ کے لیے اخبارات، رسائل، ٹی وی اور ریڈیو جیسے اہم میڈیم موجود ہیں۔ ان بستیوں میں اردو کے کئی ٹی وی چینل اور ریڈیو پروگرام دن رات چل رہے ہیں۔
اردو کی نئی بستیوں میں امریکہ کئی وجہوں سے قابل ذکر ہے۔ امریکہ کی حیثیت موجودہ وقت میں سب سے زیادہ طاقت ور ملک کی ہے۔ جدید آلات وٹکنالوجی پر گرفت نے تمام ممالک کو امریکہ کا گرویدہ بنادیا ہے۔ امریکہ ایک وسیع وعریض ملک ہے جو چار Time Zoneپر پھیلاہواہے اس کے بڑے شہروں میں نیویارک، شکاگو، لاس اینجلس، ہوسٹن، واشنگٹن، سان فرانسسکو، میامی وغیرہ قابل ذکر ہیں جن میں اردو بولنے والے کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اور تقریبا ہر شہر میں درجنوں تنظیمیں موجود ہیں جو گاہے بہ گاہے کوئی اردو پروگرام یا نجی ادبی نشست منعقد کراتے رہتے ہیں۔ موجود ہ دور میں امریکہ میں تقریباً ۳۰ کروڑ آبادی ہے۔ ان میں سے ۸۲ فیصد انگریزی میںبات کرتے ہیں اور ۱۱ فیصد ہسپانوی میں بولتے ہیں۔ اردو بولنے والوں کی تعداد ۲۶ سے ۳۰ لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے امریکہ میں بولی جانے والی زبانوںمیں اردو تیرہویں (۱۳) نمبرپر ہے۔ اردو بولنے والوں کی کثیر تعداد نیویارک اور شکاگو میں مقیم ہیں جہاں کچھ بازاروں کی بے شمار دکانوں میں اردو بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں اردو ہندی بولنے والے لوگوں کی آمد بیسویں صدی کے آغاز میں بتائی جاتی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس نئی دنیا میں ریلوے لائنز اور شجر کاری پر کام کرنے کے لیے مزدوروں کی ضروت تھی۔ چناں چہ امریکہ جانے والوں میں چند گنے چنے لوگ مشرقی پنجاب سے آئے تھے اور یہ تمام کیلیفورنیا کی سرسبز وادیوں میں آباد ہوگیے۔ اس طرح آنے جانے کا یہ سلسلہ ۱۹۱۸تک جاری رہا اور پھر مکمل منقطع ہوگیا کیوں کہ اس سال ایشیا کے لوگوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی لگادی گئی۔ ۱۹۶۵میں نیا امیگریشن ایکٹ پاس ہوا جس کے تحت وہ پابندی ہٹادی گئی اور ایشائی لوگوں کی امریکہ آمد دوبارہ شروع ہوگئی جو ۲۰۰۱ تک بتدریج بڑھتی چلی گئی۔ ۹؍ ۱۱/ ۲۰۰۱ کے واقعہ کے بعد ہجرت کا یہ سلسلہ قدرے کم ہوگیا اور نوجوان طبقے کے لیے امریکہ آنادشوار ہوگیا۔
امریکہ میں اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے سب سے مؤثر ذرائع میں ادبی تنظیمیں سرفہرست ہیں۔ ان میں عبدالرحمان عبدکی تنظیم ’’اردو انجمن ‘‘جوکہ نیویارک میں ہے جس کی بنیاد ۱۹۶۸ میں رکھی گئی ،سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ حلقہ فن وادب (نیویارک)، نیویارک اردو انجمن، اردو مراکز لاس اینجلس، علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن، کاروانِ فکر وفن(نیویارک) ظفر زیدی میموریل کلچرل سوسائٹی (نیویارک)، خیبر سوسائٹی (نیویارک)، بزم سخن(کیلیفورنیا)، ایسوسی ایشن آف پاکستانی فزیشینز آف نارتھ امریکہ (شکاگو) وغیرہ ہیں،ان میں سے چند تنظیمیں بہت فعال اور متحرک ہیں۔ امریکہ میں سرکاری سطح پر اردو کی کوئی تنظیم وفاقی، ریاستی یا شہری سطح پر نہیں ہے۔ جو اردو تنظیمیں ہیں وہ اپنے ذاتی وسائل اور اردو زبان وادب سے خاص دل چسپی کی وجہ سے کام کررہی ہیں۔ امریکہ کی یونیورسیٹیوں میں جو اردو زبان وادب پر کام ہورہاہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ پھر بھی ایک تنظیم بہت متحرک وفعال ہے اور یہ تنظیم ’’ایسوی ایشن آف پاکستانی فزیشینز آف نارتھ امریکہ(شکاگو) (APPNA) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے زیر نگرانی اردو زبان وادب کا کارواں رواں دواں ہے۔ مختلف ادبی نشست، کانفرنس اور مذاکرے اس تنظیم کیتحت اب تک ہوچکے ہیں اور اب نئی نسل پردارومدار ہے کہ وہ اپنی تہذیبی وثقافتی زبان کو کس قدر فروغ دے پاتے ہیں۔
اردو ادب کی صورت حال امریکہ سے بہتر کینیڈا میں ہے۔ کینیڈا میں اردو کی تاریخ کا پہلا شمع ۱۹۶۴ میں دسمبر کی ایک شام پروفیسر عزیز احمد نے ٹورنٹو کے ایک بیسمنٹ میں روشن کیا ،جہاں وہ اپنے عزیز واقارب کے ساتھ سکونت پذیر تھے۔ انہوںنے پروفیسر علی طیب کی صدارت میں پہلا باضابطہ مشاعرہ کروایا ’’یہ کینیڈا کی برفیلی زمینوں میں اردو کی شمع کی پہلی بو تھی جس نے اس کی آمد اور استقرار کا اعلان کیا‘‘ حیدرآباد کی عظیم شخصیت پروفیسر عزیز احمد اردو کے نامورناول نگار اور اسلامی تاریخ کے جید عالم تھے۔ انہوں نے کچھ عرصہ ٹورنٹو یونیورسٹی میں تاریخ اسلام کی تدریس کی تھی لیکن اہل کینیڈا اور باذوق اردو زبان وادب کے دل دادہ ان سے زیادہ دن مستفید نہیں ہوسکے۔ ۱۹۷۸کی ایک شام فیض احمد فیض کے اعزاز میں ایک مشاعرہ ٹورنٹو میں منعقد ہوا اس میں ایک خوب صورت اور جامع تقریر عزیز احمد نے کی ، اس کے چند دن بعد ہی وہ اس دنیا سے رخصت فرماگیے۔
اردو کی نئی بستیوں میں خصوصاً اردو زبان وادب کی شناخت مشاعروں کی وجہ سے ہے اور ساتھ ہی اردو زبان وادب کے ارتقا میں ادبی اداروں ، انجمنوں، کانفرسز، سیمینار، مجالس اور تقاریب، مہمان اساتذہ اور شعرا کے ساتھ مخصوص محافل، مقامی ادیبوں کی تخلیقات اور ان کی تقاریب اجرا، مقامی سالانہ مشاعرے، انمول اور نادر کتابوں کی نمائش، اردو اخبارات، ریڈیو اور ٹی وی پر ہفتہ وار اردو پروگرام معاون ثابت ہورہے ہیں۔ کینیڈا میں بین الاقوامی مشاعروں کا باضابطہ آغاز حفظ الکبیر قریشی نے کیا۔ کینیڈا میں اردوزبان و تہذیب کے چند مؤسسین میں قریشی صاحب کا نام سرفہرست ہے۔انہوںنے اپنی انجمن اردو کے زیر اہتمام ۱۹۸۰میں ایک مشاعرہ کروایا جس میں ہندوپاک کے نامور شعرا وادبا نے شرکت کی۔ کینیڈا میں مختلف تنظیموں کی نگرانی میںمختلف عناوین پر متعدد کامیاب سیمینار ہوچکے ہیں۔ ان میں عالمی جوش سیمینار، عالمی غالب سیمینار، عالمی میر سیمینار اور عالمی انیس سمینار قابل ذکر ہیں۔ ان سیمیناروں کے علاوہ بھی بہت ساری ادبی کانفرسز کینیڈا میں منعقد کی جاتی ہیں جن میں اردو ادب کے جید عالم ودانشور کو انعامات واعزازات سے نوازا جاتا ہے۔ ان تنظیموں کے علاوہ کینیڈا میں اردو ادب کے دل دادوں کے پاس اپنی ذاتی لائبریریاں ہیں، شائقین حضرات ان لائبریروں سے برابر استفادہ کرتے رہتے ہیں اور گاہے بہ گاہے ان لائبریریوں میں بھی ادبی نشست کا اہتمام کیاجاتاہے۔ کینیڈا کے مختلف شہروں میں اردو زبان روزمرہ کی زندگیوں میں استعمال کی جاتی ہے لیکن شہر ٹورنٹو کو کئی جہتوں سے کینیڈا کے دیگر شہروں کے مقابل اردو زبان وادب کے فروغ میں اولیت حاصل ہے چناں چہ مناسب معلوم ہوتاہے کہ کینیڈا کی ادبی صورت حال پر روشنی ڈالی جائے۔
کینیڈا میں اردو کا پہلا رسالہ ’’صہبا‘‘ حفظ الکبیر قریشی نے شائع کیا۔ یہ رسالہ ۱۹۶۸میں پہلی دفعہ منظر عام پر آیا۔ اس کے بعد پاکیزہ ،الہلال، امروز، پیغامبر اور ملاقات نے صحافت کی دنیا میں قدم رکھا۔ ان ہفتہ واروں میںسے اب صرف پاکیزہ باقی ہے۔ پاکیزہ کو پچھلے تیس سال سے صبیح الدین منصور پابندی سے شائع کررہے ہیں۔ ٹورنٹو میں اگر اردو روزناموں اور جرائد کا تجزیہ کریں تو اندازہ ہوتاہے کہ گزشتہ پندرہ، بیس سالوں میں شہر ٹورنٹو رسائل وجرائد کا مرکز بن چکاہے۔ موجودہ عہد میںپاکیزہ کے علاوہ پاکستان اسٹار، اردو ٹائمز، عوام، کارواں، اخبار پاکستان، سنڈے ٹائمز، پاکستان ٹائمز، اسٹرن نیوز، صداقت، آفاق، پاکستان پوسٹ، ٹورنٹو ٹائمزوغیرہ اردو کے اخبارات ہیں جو پابندی کے ساتھ ہرہفتہ شائع ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ روزنامے بھی ہیںجن میں بیشتر اخبارات آن لائن بھی دستیاب ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اخبار اردو ٹائمز ہے۔ جو ایک ساتھ ٹورنٹو، مانڑیال، شکاگو، نیویارک اور لاس اینجلس سے شائع ہوتا ہے۔ اردو میں ریڈیو پروگرام صدائے پاکستان، ریڈیو پاکستان، ساز آواز، ریڈیو کا کارواں اور سن شائن کے ناموں سے ہرہفتہ مختلف دنوں اور اوقات میں اپنی نشریات پیش کرتے ہیں۔ ٹی وی کے پروگراموں میں وژن آف پاکستان، دل دل پاکستان، نام سے اردو میں ہفتہ وار پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’سرساگر‘‘ اور ATNجن کے پروگرام چوبیس گھنٹے جاری رہتے ہیں۔ مشہور شاعر اور صحافی تسلیم الہی زلفی اور اشفاق حسین پیش کر تے ہیں۔’’سر ساگر‘‘سکھوں کا پنجابی چینل ہے پھر بھی اس میں زلفی صاحب ہر روز چار گھنٹے اردو کے معیاری پروگراموں کا اہتمام کرتے ہیں۔ATNپر اشفاق حسین مجالس، تقاریر، مشاعرے، گفتگو اور ڈرامے پیش کرتے ہیں۔ٹورنٹو کی ان صحافتی سرگرمیوں سے کچھ عرصہ قبل دوسہ ماہی اردو رسائل ٹورنٹو اور ٹوواسے نکالے گیے تھے وہ اشفاق حسین کا ’’اردو انٹر نیشنل‘‘اور ولی عالم شاہین کا UrduCanadaتھے۔
سرزمین کینیڈا میں محبان اردو کافی تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں ایک اہم نام ڈاکٹر ساجدہ علوی کا ہے، جنہوںنے کینیڈا کی تاریخ میں پہلی بار کینیڈا اور کیوبک کی مشہور ترین یونیورسٹی میگل Megillمیںاردو چیئر (Urdu Chair) کا قیام کروایا جس کی وجہ سے اردو بحیثیت اختیار ی مضمون پڑھنے کا باقاعدہ انتظام کیا گیا۔ اردو کی نئی بستیوں کی اہم اور منفرد نظم نگار شاعرہ نسیم سید نے جب کنگسٹن میں سکونت اختیار کی تو کینیڈا کے تاریخی شہر میں اردو کی شمع مزید روشن ہوگئی۔ انہوںنے کنگسٹن میں کامیاب مشاعروں کے علاوہ ایک بین الاقوامی اور بین اللسانی سیمینار منعقد کروایا جس کا موضوع Impact of Ethinc Writers on Canadain Cultureتھا۔اس میں روسی، فرانسیسی، چینی، انگریزی اور دیگر زبانوں کے مصنفین نے شرکت کی۔ کینیڈا کے مغربی صوبوں کے تقریباً ہر بڑے شہر میں اردو سے شغف رکھنے والے افراد نے انجمنیں قائم کیں اور ٹورنٹو کی طرح وینک کوور، کالگری، ایڈمنٹن، ریجائنا، سسکاٹون، ونی پیگ میں کامیاب اردو کی محفلیں منعقد ہوئیں۔ ۱۹۸۰ تک مانڑیال کینیڈا کا سب سے بڑا اور اہم شہر تصور کیاجاتاتھا۔ اگرچہ وہاں ابتدائی زمانے سے اردو سے شغف رکھنے والے مہاجر دیگر شہروں کی بہ نسبت کم تعداد میں آئے پھر بھی اس شہر کی ادبی شخصیات نے اردو کی ترویج اور فروغ کے لیے یونیورسٹی کی سطح پر سب سے زیادہ کام کیا ان میں ڈاکٹر ساجدہ علوی کا نام سرفہرست ہے۔ مانڑیال میں دوسری اہم اور فعال شخصیات میں علی عباس حسنی، عقیلہ کیانی، فاروق حسن، ڈاکٹر محمد ذکی مرحوم، ڈاکٹر مطلوب حسین۔ شفیق علوی ،فرزانہ حسین ،کرامت ،رشیدہ مرزااوررفعت نور کے اسماء اہم ہیں۔ جن کی جدوجہد کی بدولت مانڑیال میں اردو کی سرگرمیوں کا سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔
سنڈیری شہر میں عبدالقوی ضیا مرحوم کی اردو خدمات قابل تحسین ہیں۔ اوٹووا(Ottawa)کینیڈا کا خوب صورت دارالخلافہ ہے۔ اٹووا شہر کی نامور ادبی شخصیات میں ولی عالم شاہین، ڈاکٹر نصرت یار خان، ابرار الحسن، سید افتخار حیدر، معین اشرف(مرحوم)، ڈاکٹر افتخار نسیم، روشن شرما اور حمیرہ انصاری کے نام اہم ہیں۔ ان کے علاوہ ونی پیگ(Winnipeg) کی مشہور شاعرہ عرفانہ عزیز، ونڈسر(Windsor)میں اردو شعروادب کے محقق اور نامور شاعر عروج اختر زیدی اور کیوبک(Quebec) شہر میں ڈاکٹر عبدالقیوم لودھی کے ادبی کارنامے قابل ذکر ہیں۔
ٹورنٹو میں اردو کی فعال انجمنوں میں رائٹر فورم، غالب اکادمی، اردو انٹرنیشنل، کینیڈین اردو رائٹرز فورم، انجمن تحفظ اردو، گہوارہ ٔ ادب، بزم فانوس اوربزم خلش وغیرہ اردو کی خدمات میں مصروف ہیں۔ کینیڈا کے معتبر اور شہرت یافتہ نثرنگاروں کی طویل فہرست ہے۔ ظاہر ہے ان تمام پر علیحدہ علیحدہ گفتگو کرنا اس مختصر مضمون میں ممکن نہیں اس لیے صرف ان کے اسما کے ذکر پر اکتفا کیاجاتاہے۔ کینیڈا کے شہرت یافتہ نثرنگاروں میں ڈاکٹر شان الحق حقی، ڈاکٹر سید تقی عابدی، اکرام بریلوی، ڈاکٹر خالد سہیل، جناب سلطان جمیل نسیم، محترمہ شکیلہ رفیق، جناب تسلیم الٰہی زلفی، ڈاکٹر مظفر اقبال، رضاء الجبار، بیدابخت، رحیم انجان، جاوید دانش، حفیظ الکبیر قریشی اور افتخار حیدر وغیرہ ہیں۔ مذکورہ تمام نثر نگارمختلف اصناف ادب کے ماہر اور صاحب کتاب ہیںجن کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کینیڈا میں اردو زبان وادب کا مستقبل بہت تابناک ہے مگر شرط یہ ہے کہ نئی نسل بھی اپنی مادری اور تہذیبی زبان یعنی اردو زبان وادب سے اپنا رشتہ اسی جذبے کے ساتھ قائم رکھے ورنہ آئندہ کچھ سالوں میں جب بزرگ ادیب و شاعر اس دنیا سے رخصت ہوجائیں گے تب نئی نسل کی بے توجہی اور بے رغبتی اردو زبان وادب کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
یورپ کا ایک اہم حصہ جرمنی ہے۔ جرمنی میں اردو ادب کے فروغ کے لیے متعدد شخصیات کوشاں ہیں۔ جرمنی میں ہائڈل برگ یونیورسٹی کا شعبۂ اردو اپنی منفرد خدمات کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اردو کی اہم شخصیات نے ہائڈل برگ کے شعبۂ اردو کے کارنامے کو سراہا ہے۔میونخ یونیورسٹی سے علامہ اقبال کی یادیں وابستہ ہیں۔ انہیں کی وجہ سے اردوداں افراد اس یونیورسٹی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔برلن میں ’’ بزم ادب‘‘ گزشتہ پچیس سالوں سے اردو کے فروغ کے لیے کام کررہی ہے۔ موجودہ وقت میں بزم ادب ،برلن کے جنرل سیکریٹری جناب سرور غزالی صاحب ہیں۔سرور غزالی متنوع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بیک وقت افسانہ نگار، ناول نگار، کالم نگار اور شاعر ہیں۔ نرم لب ولہجے کے مالک خلیق اور ملنسار سرور غزالی کاایک ناول اوردو افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ناول’’ دوسری ہجرت‘‘نے اردوناول، خاص کر اردو کی نئی بستیوں کے ناولوں میں ایک منفردحیثیت رکھتی ہے۔افسانوی مجموعے’’ بکھرے پتے اور ’’ بھیگے پل‘‘ اپنے مختلف موضوعات کی وجہ سے پہلے ہی دانشوروں سے داد وصول کرچکے ہیں۔ان کے علاوہ شعری تخلیقات اور تنقیدی مضامین بھی قابل توجہ ہیں۔سرور غزالی برلن میں ایک ایف ایم ریڈیو’’دیسی دھوم ‘‘ کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔ جلد ہی انہیں برلن کی ہمبولڈٹ یونیورسٹی(Humboldt Univesrsity )میں درس و تدریس کے لیے دعوت دی گئی تھی جو یقینا ان کی اردو زبان وادب سے محبت اور لگاؤ کا ثمرہ ہے۔ جرمنی کا مشہور ومعروف شہر فرینکفرٹ بھی اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے مشہور ومعروف ہے۔ فرینکفرٹ میںمقیم جناب سید اقبال حیدرعرصہ دراز سے مقیم ہیں اور وہاں کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔یورپ میں اردو زبان وتہذیب کو زندہ رکھنے میں سید اقبال حیدر کا نام سر فہرست ہے۔ اردو سے ان کا پیشہ وارانہ کوئی تعلق نہیںہے لیکن انھوں نے اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے حلقہ ٔ ادب ،جرمنی اور ہیومن ویلفئیر ایسوسی ایشن جیسی ادبی اور سماجی تنظیمیں قائم کیں۔ ان تنظیموں کے زیر اہتما م فرینکفرٹ میں سیکڑوں ادبی جلسے ، سیمینار اور مشاعرے منعقد ہوئے ۔ برصغیر کے تقریباً تمام بڑے ادیب وشاعر ان کے پروگرام میں شرکت کرچکے ہیں۔یوم اقبال کے موقع پر کئی سال سے دریائے نیکر، ہائیڈل برگ کے کنارے فرشی مشاعرے کا انعقادبھی کرتے ہیں۔ یوروپ کی دیگر ادبی و علمی تنظیموں کے مابین رشتے استوار کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔سید اقبال حیدر ایک کہنہ مشق شاعر ، ادیب اور کالم نگار ہیں۔انھوں نے برصغیر کے علاوہ کئی ممالک میں یوروپ کی نمائندگی بھی کی ہے۔ حال ہی میں20 مئی 2018میں’’ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن‘‘ نے ان کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں ’’ مہجری اردو ایوارڈ‘‘ سے انھیں نوازاتھا۔
یوروپ کے دیگر ممالک میں بھی اردو شعروادب کی صورت حال بہتر ہے بلکہ ان ممالک میں بھی نثری و شعری اصناف میں تخلیق سامنے آرہے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح یورپ میں بھی مقیم اردو کے ادبا اور شعرا اپنے تخلیقی اظہار کے لیے شاعری کی جانب ہی زیادہ متوجہ ہیں۔ ہندوپاک کے شعرا کی طرح وہاں مقیم شعرابھی کسی قدر کم نہیں۔ ان میں اہم اور معتبر شخصیات آفتاب حسین(آسٹریلیا)، افضل عباس (ناروے)، فیصل ہاشمی(ناروے)، جمیل الرحمن جمیل (ہالینڈ)، جمشید مسرور(ناروے)، ناصر نظامی (ہالینڈ)، جمیل احسن (سویڈن)، احسان سہگل(ہالینڈ)، راجا یوسف اور طاہر مجید(جرمنی)، ارشد اقبال آرش(اٹلی)، مسعود منور(ناروے)، نصر ملک اور ترغیب بلند نقوی (ڈنمارک) وغیرہ اپنی شعری خصوصیات کی بنیاد پر اردو کے منفرد شاعروں میں شمار کیے جاسکتے ہیں اور دیار غیر میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ہندوپاک کا پڑوسی اور ایشیا کا ایک طاقت ورملک چین ہے جو مختلف جدید صنعت وحرفت کی ایجادات میں بہت آگے ہے۔ یہاں بھی اردو زبان کا فروغ ہورہاہے۔ مختلف سرکاری اسکولوں میں اردو زبان کی تدریس و تعلیم ہورہی ہے۔ عالیہ امام جوکہ Languages Instituteاور پیکنگ یونیورسٹی(Peking University) میں اردو زبان کے استادکی حیثیت سے معلمی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ انہیں چین کے سابق وزیر اعظم چواین لائی سے اردو میں انٹرویو لینے کا اعزاز حاصل ہے ۔ آج چین میں خصوصاً پیکنگ میں ۱۲ انسٹی ٹیوٹ ایسے ہیں جہاں پرائمری سے لے کر ہائی اسکول تک اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ۲۰۰۵کے اعداد وشمار کے مطابق مذکورہ درس گاہ میں معلمی کے فرائض انجام دینے والوں کی تعداد ۷۸ کے قریب تھی جو انہیں اداروں کے سند یافتہ ہیں۔ مسٹر چوا ی جن کی عرفیت انتخاب عالم ہے وہ اردو کے بہترین شاعر ہیں ان کا کلام ’’انتخاب عالم‘‘ کے نام سے شائع ہوچکاہے۔ پیکنگ میں ۲۰۰۱کے اعداد وشمار کے مطابق یونیورسٹی سمیت ۴۵ ادارے ایسے ہیں جہاں اردو زبان کی تعلیم بحسن وخوبی انجام دی جاتی ہے۔ جن میں تقریبا ۲۰۰ طلبا وطالبات زیر تعلیم ہیں۔ ۸۶۵مڈل اسکول میں سائنس کے ساتھ ساتھ اردو زبان کی بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ شنگھائی چین کا سب سے بڑا صنعتی مرکز ہے۔ وہاں پرائمری سطح پر دس (۱۰) اسکولوں میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔ سنکیانگ صوبے میں ۲۲ اسکولوں میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے۔
اسکولی تعلیم کے علاوہ ’’چائنا ریڈیو انٹرنیشنل‘‘ تقریباً پچھلے ۴۰ سال سے قائم ہے۔ اس طویل عرصے میں دنیا میں بے پناہ تبدیلیاں رونماہوئیں لیکن اردو سروس کا رشتہ سامعین سے جوں کا توں بحال ہے، جن کی تعداداد لاکھوں کے قریب ہے۔ اردو کی مقبولیت کے پیش نظر ایک اردو اخبار اور رسالہ ’’نوائے دوستی‘‘ کے نام سے نکلتاہے جس کے چیف ایڈیٹر لوشنین، منیجنگ ایڈیٹر مہوش چائو اور ایڈیٹر نوراحمد چوہان ہیں۔ یہ اخبار چین کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی زندگی سے اردو دنیا کو متعارف کرانے میں ایک اہم کردار ادا کررہاہے۔
اردو زبان کی تعلیم وتدریس کا انتظام سوئٹزرلینڈ میں بھی ہے۔ ’’برن‘‘ (Bern)میں موجودہ وقت میں غالبا تین اسکول ایسے ہیں جہاں اردو زبان پڑھائی جاتی ہے۔ ۲۰۰۵ کے سروے کے مطابق برن میں اکبر صاحب اور ان کی بیوی ایرنیا اردو اسکول کی سرپرستی کرتے تھے۔ سوئٹزرلینڈ کی Ursula Rohleenنامی ایک خاتون ہیں جنہوںنے ہندوستان میں احتشام حسین اور آل احمد سرور کی زیرنگرانی اردو کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوںنے رسوا ؔکے ناول ’’امرائو جان ادا‘‘ کا ترجمہ انگریزی، جرمن اور سوئس زبانوں میں کیاہے۔
خلیجی ممالک میں اردو شعروادب کا مطالعہ ہمیں یہ باور کراتاہے کہ ان ممالک میں شعروسخن سب سے مقبول ہے۔ خلیجی ممالک مثلاً دوبئی، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ودیگر جزائر میں شعروسخن کی مجلسیں برابر منعقد کی جاتی ہیں لیکن دیگر اصناف میں ان ملکوں میں بہت زیادہ کام نہیں ہوا۔ دوحہ اور قطر کے ساتھ دوبئی میں ہر سال ایک عالمی مشاعرے کا انعقاد کیاجاتاہے جن میں ہندوپاک کے علاوہ اردو کی نئی بستیوں کے معروف ومشہور شعرا شرکت کرتے ہیں۔ان اجتماعی مشاعروں سے یقینا اردو زبان کا فروغ ہورہاہے۔ بلاشبہ ان محفلوں، مجلسوں، مشاعروں، مذاکروں اور تقریبات نے اردو زبان کو خلیجی ممالک میں بہت فروغ دیا ہے۔ اردو ادب کی ترقی میں سب سے زیادہ خلیجی ممالک میں علمی وادبی درس گاہوں نے اہم رول ادا کیاہے۔ خلیجی ممالک میں درجنوں تعلیمی ادارے قائم ہوچکے ہیںجن میں کم سے کم تقریباً پچاس ہزار طلبا وطالبات جدید علوم کے ساتھ اردو کی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں جن میں امتحانات کا سلسلہ پاکستان کے فیڈرل بورڈ، علامہ اقبان اوپن یونیورسٹی اسلام آباد، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے ساتھ جڑا ہواہے۔ خلیج کونسل کا منبع سعودی عرب ہے۔ یہاں کی مشہور درس گاہ ’’جامعہ ملک السعود‘‘ میں اردو اختیاری زبان کے طور پر پڑھائی جاتی ہے جہاں سعودی باشندے بھی اردو سے آشنا اور مستفید ہورہے ہیں۔ اردو زبان کی ترقی میں خلیجی ممالک میں اردو صحافت کا بھی اہم رول ہے۔
ابتدا میں برصغیر کی خبروں کو اردو میں شائع کرنے کے بعد کئی اخبارات نے ایک سے زائد اردو صفحات باقاعدہ اشاعت میں شامل کرکے اس خطے میں اردو کی بہت خدمت کی ہے۔ خلیجی ممالک سے شائع ہونے والے چند اردو اخبارات کی نشاندہی ضروری ہے تاکہ اردو صحافت کی مقبولیت کا اندازہ لگایاجاسکے۔ کویت ٹائمز، صوت الخلیج، عرب ٹائمز، گلف ٹائمز(قطر)، المدینہ اردو(سعودی عرب)، اردو نیوز اور الریاض ڈیلی کے نام نمایاں ہیں۔ خلیجی ممالک میں پرنٹ میڈیا کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا بھی اردو زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ خلیجی ممالک میں تجارتی پیشے سے جڑے افراد اپنے ملک اور وطن کے متعلق خبروں کے لیے آل انڈیا ریڈیو، ریڈیو پاکستان، ریڈیو سلیون، بی بی سی، وائس آف جرمنی اور وائس آف امریکا کی نشریات کافی شوق سے سنتے ہیں۔ لیکن شارجہ ٹی وی کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ جب سے اس میں اردو نشریات کا آغاز ہواہے یہ چینل خلیجی ممالک کا سب سے مقبول اور پسندیدہ ٹی وی چینل بن گیاہے جس کی پیروی میں خلیجی ممالک کے کئی ٹی وی چینل اردونشریات کا دورانیہ بڑھارہے ہیں۔ اردو زبان وتہذیب کے حامل سفارت کارنے بھی اردو کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔ سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات اور بحرین وغیرہ کی نامور شخصیات نے بھی اردو فہمی اور اردو شناسی میں ایک نئے باب کا اضافہ کیاہے۔ خلیجی ممالک میں غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق اردو دوسری بڑی زبان کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ تقریباً دوملین افراد اس وقت خلیج میں اردو زبان کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جن میں ہندوپاک کے علاوہ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، برما، مصر، سوڈان، فلپائن، جاپان، اور ماریشس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ سعودی عرب میں مقامات مقدسہ کی سیروتفریح، حج و عمرہ کے لیے سالانہ لاکھوں ہندوستانی وپاکستانی جاتے ہیں جن کے لیے سعودی حکومت نے مختلف اردو ذرائع ابلاغ کا بندوبست کیاہے تاکہ ان زائرین کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان بندوبست میں خواب سے بیدار ہونے سے لے کر خواب غفلت تک کے تمام امور کا خیال رکھا گیاہے۔ ظاہر ہے اس سے اردو زبان کی اہمیت کے ساتھ ساتھ حکومت کی دل چسپی کا بھی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ خانہ کعبہ کے خطبات کے اردو ترجمے کا بھی اہتمام کیاگیاہے۔ خلیجی ممالک میں بھی اردو کی مختلف تنظیمیں انفرادی اور اجتماعی طورپر موجود ہیں جن سے اردو زبان کی ترقی ہورہی ہے۔ چند ادبی انجمنوں کا نام درج ذیل ہے۔
بزم سخن(بحرین)، الثقافہ(کویت)، بزم اردو، پاک بزم سخن اور پاکستان آرٹس کونسل (قطر)، بمبئی کلب مجلس فروغ اردو(متحدہ عرب امارات)، بزم ادب، پاک اردو سوسائٹی، امارات اردو سوسائٹی، بزم شعروادب، آرٹس پروموشن بیورو، پاک امارات فرینڈ شپ(سعودی عرب)، بزم ادب، بزم اقبال، پاکستان کلچرل گروپ، بزم علم وفن، خاوی لٹریری سرکل، دائرہ ادب جدہ، بزم اردو دمام(سعودی عرب) ان تمام انجمنوں کے زیر اہتمام بہت ہی کامیاب ادبی سرگرمیاں اور مشاعرے منعقد کیے گیے ہیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔
روس میں بھی اردو زبان کا مستقبل تابناک ہے۔ وہاں بھی غیر سرکاری تنظیمیں اردو زبان کے حوالے سے بہتر طور پر کام کررہی ہیں۔ آسٹریلیا موجودہ دور میں اردو زبان وادب کے سلسلے میں بہت اہم ہے۔یہاں مختلف اصناف سخن میں ادب تخلیق کیا جارہا ہے۔ غزل، نظم، آزادنظم، افسانہ وغیرہ بڑی تعداد میں سامنے آرہے ہیں۔ پرنٹ والیکٹرانک میڈیا اپنی ذمہ داری بخوبی نبھارہے ہیں۔ آسٹریلیا کی صحافتی وادبی شخصیات اپنی زبان و تہذیب کے فروغ کے لیے نہایت سنجیدہ ہیں۔ دیار غیر میں وطن عزیز کی یاد، بچپن کی گلیاں اورہجرت کے کرب میں خوب صورت نثران مقامات میں موجود افسانہ نگار تخلیق کررہے ہیں۔ مجموعی طور پر دیار غیر میں برصغیر کے نثر نگاراپنی کہانیوں میں وطن کی محبت اور اپنی تہذیب وتمدن کی نمایاں خصوصیات بیان کررہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک، مشرقی ممالک سے بالکل مختلف ہیں۔ زبان، تہذیب وتمدن کا بہت زبردست ٹکرائو ہے۔ اس کے باوجود برصغیر کے قلم کار اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر آئندہ نسل کے لیے ناصحانہ تحریریں لکھ رہے ہیں تاکہ وہ لوگ اپنی تہذیب وثقافت سے جڑے رہیں۔ اردو کی نئی بستیوں میں اخباری صحافت نے اردو زبان کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ صابر ارشاد نعمانی کی درج ذیل تحریر سے اس کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتاہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ہندوستان کی آزادی کے بعد انگلستان میں مہاجروں کی یلغار کا سلسلہ شروع ہوا۔1960تک صرف پاکستان سے آئے ہوئے حضرات کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی تھی۔ ان میں کشمیراداس ہے کے مصنف، جناب محمود ہاشمی بھی تھے۔ یہاں آتے ہی انھیں کشمیر اداس ہے، کا ماحول ان پاکستانیوں میں سسکتا جھلکتاہوا محسوس ہوا۔ وہ مہاجرین بے چین وبے قرار تھے۔ اور ایک کس مپرسی کے ماحول میں جکڑے ہوئے تھے۔ ایک طرف تو انگریزی زبان سے ناواقفیت، دوسری طرف وطن کی خبروں کی تشنگی ان ناگزیر حالات نے مجبور کیا اور محمود ہاشمی نے تدریس کے پیشے کو بالائے طاق رکھ کر ایک ہفتہ واراخبار نکالنا شروع کیا۔ جب ارادہ مصمم ہوتاہے، مالی مشکلات کافور ہوجاتی ہیں۔ جیسے ہی لوگوں کو معلوم ہواکہ لندن میں
ایک اخبار شائع ہونے جارہاہے، مطلوبہ رقم بہم پہنچادی گئیں۔ اور18پریل 1961سے ہفت روزہ ’مشرق‘ کا آغاز ہوا۔ یہ اخبار سماجی، تجارتی، تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کا سرگم بن گیا جس سے اردو زبان کو فیض پہنچا۔ ’مشرق‘ کی اشاعت سے یورپ میں اردو زبان کی تعلیم وترویج کا دور بھی شروع ہوگیا کیونکہ یہ یورپ کا پہلا اردو کا ہفت روزہ تھا، جو ملکی خبروں کی وجہ سے یورپ کے حدود اربعہ میں اس کی تکریم اور
مقبولیت عام ہوگئی۔ اگر مشرق کو کسی وجہ سے مارکیٹ میں پہنچنے میں تاخیر ہوجاتی تو اس کے قارئین میں بے چینی کی لہر دوڑ جاتی کیونکہ ’مشرق‘ یورپ کے طول عرض میں اردو داں حضرات میں باہمی رابطے اور افہام وتفہیم کی ایک کڑی یا زنجیر کی حیثیت اختیار کرگیا تھا۔‘‘(اردو کی نئی بستیاں، گوپی چند نارنگ،ص ۶۴)
مذکورہ اقتباس سے اردو زبان وادب کی ترقی میں صحافت کی خدمات کو واضح کیاگیا ہے۔ مذکورہ اقتباس سے مغربی ممالک میں اردو اخبارات کے لیے اہل ذوق حضرات کے کشادہ دلی کا بھی اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ کس طرح برصغیر کے لوگ اپنی زبان کے تحفظ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اردو کی نئی بستیوں میں تقریبا ًتمام بستیوں کی یہی صورت حال ہے کہ اہل ثروت اپنے ذاتی مال ودولت سے زبان وتہذیب کی حفاظت میں لگے ہوئے ہیں اور اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔